Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

ابتدائی حالات

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

حضورﺭﺿ کا سراپا

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

اخلاق حمیدہ

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

نسبت فیضان

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ  کی جامعیت

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

تعلیم و تربیت

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

نظر تاج الاولیاء

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

حیوانات پر تاج الاولیاءکی حکومت

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

طے الارض

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

 انیک روپ میں ایک

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

زندگی عطا کرنا

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

بہ یک نظر دیوانگی

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

امراض کا سلب کرنا

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

احکام شاہی

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

احترام شریعت

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

والیان ریاست اور شہنشاہ ہفت اقلیم

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

مثالی زبان

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

سیاست عالم

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

علات اور وصال کی پیسنگوئی

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ کی شعر و شاعری

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

سرکار تاج الاولیاءکی محبت و شفقت

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

اولاد عطا کرنا

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization
   
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization
   
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

 

تعلیم و تزکیہ 

ایک روز فرمایاکہ نفس کی اصلا ح کے بغیر اعمال کی اصلاح ناممکن ہے۔ اہل شریعت اصلاح اعمال کا تو اہتمام کرتے ہیں،اصلاح ِ نفس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ۔ نفس کی جڑ کامل کی تلوار کے بغیر نہیں کٹتی ۔ بابا کے دربار میں بظاہر اذکارو اشغال اور اوراد وظائف معمول بہ نہیںتھے مگر ہر شخص کی تربیت ِ باطنی اور تزکیہ ? نفس کا بڑا اہتمام تھا ۔ کسی کو حکم تھا کہ وہ کھانا چھور دے کسی کو ترک خواب کا حکم تھا،کسی کو ترک کلام کا حکم تھا، کسی کو گوشہ نشینی کا حکم تھا۔ غرضیکہ ہر شخص کو اس کے مناسب حال حکم ملا ہوا تھا اور وہ اس پر عمل پیرا ہو کر فائز المرام ہوتا تھا ۔ یہ سب امور اہل ِ ظاہر کی نظر میں خلاف ِ شرع معلوم ہوتے تھے ، وہ یہ اعتراض کرتے تھے کہ کھانا ، پینا، سونا، عوام سے ملنا جلنا شرعاً جائز ہیں تو ان کو منع کرنا مخالفِ شرع ہوگا، مگر وہ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ ۔ ہر چہ گیرد علتی علت شود کفر گیر د کا ملے ِ ملت شود جس طرح طبیب حاذق کسی مریض کو مباح اور جائز چیزوں سے پرہیز کا حکم دیا کرتا ہے، بالکل اسی طرح طبیب روحانی بھی سالک کے امراض باطنی کا علاج جائز امور کی ممانعت سے کر سکتا ہے- پھر ترک غذا کیا ہے؟ الجوع طعام الانبیاء (بھوک نبیوں کا کھانا ہے) الجوع مخ العبادة (بھوک عبادت کا مغز ہے) ابیت عند ربی فھو یطعمنی ویسقنی (میں اپنے رب کے پاس شب باش ہوتا ہوں وہ مجھے خوب کھلاتا پلاتا ہے) ۔ ترک خواب فتھجد بہ نا فلة لک ( رات کو جاگ یہ تیرے لئے ذریعہ قرب ہے) کی تکمیل ہے- تتجانی جنوبھم عن المضاجح ( ان کے پہلو نرم بستروں سے الگ ہو جاتے ہیں یعنی جاگ اٹھتے ہیں) کی تعمیل ہے- ترک کلام من سکت سلم (جو چپ رہا سلامت رہا ) کی تعمیل ہے۔ عزلت نشینی السلامة فی الوحدة ( سلامتی تنہائی میں ہے) کی تعمیل ہے

 

ہوا بول رہی ہے

ایک روز فرمایا کہ بابا کے دربار میں کسی کو کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہین تھی ۔بگیر عرض و معروض کے سب کو جواب مل جاتا تھا- مریدین کے خطرات سے بھی حضورﺭﺿ با خبر تھے مگر نہایت لطیف انداز میں تنبیہ ہو تی تھی- مثلا ًجس زمانہ میں ہمارا کھانا حکماً بند تھا، چائے پیتے پیتے مدت ہو گئی تھی، جی چاہا کہ اجازت مل جائے تو نمک مرچ کی بھاجی اور ترکاری کھائیں- یہ خیال لے کر حاضر دربار ہوئے تو بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ اس وقت ایک ایسے مکان میں رونق افر وز تھے جس میں ہوا تیزی سے آ رہی تھی- ہم جیسے ہی حاضر ہوئے بابا ﺭﺿ نے فرمایا ہوا بول رہی ہے ہم فورا سمجھ گئے کہ مرچ، نمک کھانے کی خواہش جو پیدا ہوئی ہے، یہ ہوائے نفس کی آواز ہے- وفھی النفس عن الھوی فان الجنة ھی الماوے ط افرایت من اتخذ الھہ ھو لمول میں مستغفر ہوئے اور پھر کبھی اس قسم کی خواہش کو دل میں نہ آنے دیا-

 اپور

خیر و شر

ایک روز فرمایا برائی ہو یا بھلائی، ہزاروں پردوں میں ہر مذہب و ملت کے ہر خیال کے لوگ آتے تھے، مختلف عقائد و خیالات مختلف اعمال و احوال کے افراد وہاں جمع ہوتے تھے مگر وہاں ہر شخص خواہ وہ کسی خیا ل یا عقیدہ کا آدمی ہو، بابا کی خدمت میں حاضر ہو کر فیضیاب ہوتا، شاد کام با مراد واپس جاتا- ہر شخص یہی سمجھتا کہ بابا میرے ہیں- بابا کا یہ عالم تھا کہ نہ اچھوں سے اختلاط نہ بروں سے اجتناب ، بلا امتیاز ہر خاص و عام پر یکساں نوازش - ایک شخص نے رات بھر ذکر و شغل ، عبادت و مناجات میں گذاری، دوسراشام کو چادر تان کر سویا تو صبح کو اٹھا- دونوں بابا کی خدمت اقدس میں قدمبوس ہوئے نہ اس سے خوش نہ اس سے ناخوش ، دونوںکو اچھے رہتے ہیں فرمادیا کرتے - یہ دیکھ کر ہمیں خطرہ ہوا کہ یہاں کسی کی برائی بھلائی پر بابا کی نظر نہیں ہے- صبح کو یہ خطرہ دل میں لئے ہوئے حاضر ہو کر قدمبوس ہوئے تو بابا نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی- ? فمن یعمل مثقال ذرة خیرا یرہ ومن یعمل مثقال ذرة شرایرہ? -

 اپور

خطرات

ﺭﺿ اللہ کی یاد میں انسان دل لگانے کی جتنی کوشش کرتا ہے طرح طرح کے خیال اور وسوسے پیدا ہوتے ہیں، ان کو اصطلاح میں خطرات کہتے ہیں - یہ خطرات یکسوئی اور حضوری قلب میں مانع ہوتے ہیں، اور چو نکہ سالک کا مقصود اللہ کی یاد میں یکسوئی اور بارگاہ حق میں حضوری ہے، اس لئے جب دل میں خطرات کا ہجوم ہوتا ہے تو یاد الہی سے انس ہونے کے بجائے وحشت ہونے لگتی ہے، اس مرحلہ سے بغیر شیخ کامل کی مدد کے سالک کا نکلنا دشوار ہے- مدت العمر ریاضت شاقہ اور مجاہدات کثیرہ کے باوجود قلب خطرات سے خالی نہیں ہوتا اور حضور قلب پر ہی دارومدار عبادت ہے، یہاں تک کہ:- ?لا صلوة الا بحضور القلب? اگر چہ اس کے معنی صاف و صریح یہ ہیں کہ نماز بغیر حضور قلبی کے نہیں ہوتی، مگر حضور قلب کے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی- بہر حال نماز بالکل ادانہ ہونا یا نا مکمل ادا ہونا دونوں صورتیں ہی پسندیدہ نہیں اور یہ دونوں صورتیں قلبی غیر حاضری کا نتیجہ ہیں - اللہ اس سے محفوظ رکھے-

 اپور

تیرے دم کا ظہور

دربار تاج الاولیائﺭﺿ میں ایک سالک نے خطرات کی شکایت پیش کی ارشاد ہوا :- ?ارے یہ سب تیرے ہی دم کا ظہور ہے? جاننے والے جان سکتے ہیں کہ اس ایک جملہ میں بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ نے کتنے وسیع مضمون کو سمیٹ کر کوزہ میں دریا کو بند کر دیا ہے- نفس کلیہ کی طرف متوجہ کرنے کا کتنا حسین انداز اختیار فرمایا گیا ہے-

 اپور

پنجرہ میں کبوتر

ایک دوسرے سالک حاضر خدمت ہوئے، ان کے قلب میں خطرات کا ہجوم تھا ارشاد ہوا- ?ارے ! بپنجرے سے کبوتروں کو اڑا دے ? قلب انسان کو پنجرے سے اور خطرات کو کبوتروں سے جو مثال دی گئی ہے، یہ مثال صورتوں کے کشف پر مبنی ہے- پھر اس ارشاد کے ساتھ سالک کو وہ قوت بھی عطا فرمائی جاتی تھی کہ عمل پیرا ہو کر فائز المرام ہو- خلاصہ ارشاد یہ ہے کہ ذکر الہی سے خطرات دور ہو جاتے ہیں -

 اپور

تعلیم ایثار

ایک بار کسی مرید نے حضرت قبلہ و کعبہ بابا یوسف شاہ تاجی ﺭﺿ کی خدمت میں روپیے پیش کئے تا کہ کچھ مٹھائی حضور کی خدمت مں پیش کی جائے، پھول پیش کئے جائیں - حضور بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ چونکہ کسی چیز کو کبھی ہاتھ نہ لگاتے تھے بلکہ حاضرین پر تقسیم فرمادیتے تھے، حضرت قبلہ و کعبہ نے اس روپیے کی مٹھائی اپنے پیر بھائیوںکے مشورے سے منگوا کر ان کو کھلائی، خود کھائی، فرماتے تھے کہ اس کے بعد جب ہم حاضر خدمت ہوئے تو حضورﺭﺿ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:- ? یوثرون علی انفسھم و لو کان بھم خصامہ ? (وہ لوگ اپنے نفسوں پر ایثار کرتے ہیں اگر چہ خود ضرورت مند کیوں نہ ہوں)

 اپور

ایثار کی تعلیم

ایک روز حضرت مولانا عبدالکریم شاہ صاحب تاجیﺭﺿ اور چند تاجی بھائی ایک جامن کے درخت کے سائے میںبیٹھے مصروف گفتگو تھے ۔اسی راستے سے ایک شخص کچھ مٹھائی لے کر حضور میں پیش کرنے جا رہا تھا- ان لوگوں نے اسے روکا اور مٹھائی اس سے لے کر سب نے کھائی- سب کا خیال یہ تھا کہ حضور بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ تو کھاتے پیتے نہیں- وہاں پر بھی ہم جیسے لوگ ہی کھائیں گے جب وہ لوگ مٹھائی کھا چکے تو فورا ہی سرکار کا اس طرف گزر ہوا - وہاں رک کر سرکار نے فرمایا - یوثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصہ وہ لوگ اپنے نفسوں پر ایثار کرتے ہیں گر چہ خود ضرورت مند کیوں نہ ہوں- یہ سب بھائی بے حد شرمندہ و نادم ہوئے- قربان ، مبلغ دین متین کی اسم تعلم کے جن کے ہمراہ ایک پلٹن ہوتی تھی- ان لوگوں کو سبق بھی دیا اور پردہ پوشی بھی فرمائی -

 اپور

اللہ ہی اللہ ہے

حضور بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ نے منشی جمال الدین صاحب کو فرمایا - بقول مولینا روم علیہ الرحمة ؛ چیست توحید اللہ آموختن خویشتن راپیش واحد سوختن تو مباش اصلا کمال ایں است و بس رو در و گم شو وصال ایں است و بس خدا کی توحید کا علم حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنی ہستی کو ہستی حق میں فنا کردو ، تم اور تمھاری ہستی کی ساری نسبتیں بالکل فنا ہو جائیں گی، اسی کا نام کمال ہے- اپنے وجود سے گذر کر وجود حق میں روپوش ہو جاؤ، اسی کا نام وصال ہے-

 اپور

ہم سے کم کسی کو نہیں سمجھتے

ایک روز فرمایا، ہمارے ایک پیر بھائی تھے، وہ جنگلات میں ملازم تھے- انھیں یہ زعم تھا کہ میں بابﺭﺿ کا بچہ ہوں اس لئے اعلی افسران کو وہ خاطر میں نہیں لاتے تھے، اس وجہ سے اعلی افسران ان سے نا خوش تھے اوران کو علیحدہ کرنے کی فکر میں تھے- جب انھوں نے یہ سنا کہ میرے خلاف کاروائی ہونے والی ہے تو بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کی خدمت میں حاضر ہوئے جیسے ہی قدم بوس ہوئے حضور ﺭﺿ نے فرمایا : ? ہم سے کم کسی کو نہیں سمجھتے? یہ صاحب متنبہہ ہوئے اور اپنا انداز بالکل تبدیل کر دیا، بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ جیسی تو نہیں مگر پھر بھی افسروں کی بہت کچھ تعظیم و توقیر کرنے لگے- افسروں کو اس روش سے تعجب ہوا، سبب دریافت کیا تو اپنی سر گذشت سنائی اور بابا ﺭﺿ کا ارشاد سنایا کہ? ہم سے کسی کو کم نہیں سمجھتے? یہ سن کر افسروں کو بھی بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ سے محبت و عقیدت پیدا ہوئی اور حاضر دربار ہونے کی سعادت حاصل کی-

 اپور

 یک در گیر

بڑے دادا تاج الاولیاء اپنے بچوں کی تربیت خود ہی فرماتے تھے اور کسی بزرگ کی طرف اپنے کسی بچے کو متوجہ نہیں ہونے دیتے تھے، جس کی تربیت آپ کو ملحوظ ہوتی تھی- چنانچہ حضرت بابا یوسف شاہ تاجی ﺭﺿ فرماتے تھے کہ ایک دفعہ اجمیر شریف کے عرس میں ہم نے ناگپور سے اجمیر شریف جانے کا ارادہ کیا اور حصول اجازت کی غرض سے حضرت بابا ﺭﺿ کی خدمت میں حاضر ہوئے- ہمیں دیکھتے ہی خود بابا نے ہمیں ڈانٹ دیا- ?معین الدین تیرا باپ لگتا ہے? ہم متنبہ ہوئے اور ارادہ منسوخ کر دیا- جملہ مشائخ طریقت اس مسئلہ میں متفق ہیں کہ وہ مرید جو اپنے پیر کے سوا کسی اور طرف متوجہ ہوتا ہے وہ طلب میں صادق نہیں ، ہمیشہ محروم اور ناکامیاب رہتا ہے- اس لئے ابتدائے طلب میں مرید کو ہر طرف سے توجہ ہٹا کر صرف پیر ہی کو مرکز توجہ بنانا لازم ہے- ہم نے ابتدائے طلب کی شرط اس لئے عائد کی ہے کہ مبتدی زیر تربیت ہوتا ہے اور شیخ کی آغوش تربیت میں جاتا رہتا ہے اگر وہ جگہ جگہ مارا مارا پھرے تو کہیں کا بھی نہ رہے گا- البتہ منتہی جو اپنے سلوک میں پختہ ہو چکا ہے اس کو دوسروں کی صحبت سے ضرر نہیں ہوتا-

 اپور

 کتا مار کر لا

اکثر مشائخ و صوفیاءحاضر دربار ہو کر طالب دعا ہوتے تھے- حضورﺭﺿ ان کی تعلیم، تلقین فرماتے، ان کی باطنی کیفیات پر ان کو متنبہ فرماتے - چنانچہ ایک شیخ طریقت حاضر دربار ہوئے اور عرض کیا کہ حضور دعافرمائیں تا کہ میری روحانیت میں ترقی ہو - حضور ﺭﺿ نے فرمایا: آپ ﷺ نے فرمایا : الدنیا جیفة و طالبھا کلاب (دنیا مردار ہے اور اس کے طالب کتے ہیں) دوسرے حدیث مبارکہ میں آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: طالب الدنیا مونث و طالب العقبی محنث و طالب المولی مذکر (دنیا کا طالب عورت ہے، آخرت کا طالب مخنث ہے، اللہ کا طالب مرد ہے) حضور بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کے ارشاد کا مطلب ان احادیث کی روشنی میں یہ ہے کہ ترقی روحانی کی خواہش بھی اللہ کی راہ میں اسی طرح حجاب بن جاتی ہے جس طرح دنیاوی خواہشیں حجاب ہو جاتی ہیں- دنیا اور آخرت کی خواہشوں کو فنا کر دینا دونوں کو کھا جاتا ہے - مرد ان خدا کی غذا صرف مشاہدہ جمال حق ہے - خواہش بقائے نفس کی دلیل ہے اور نفس کی مثال کتے کی سی ہے نفس کو مارنے کا مطلب یہ ہے کہ ادنی اور خسیس صفات کو ترک کیا جائے-

 اپور

 طلب کی کتاب

ایک اور شیخ طریقت حاضر دربار ہوئے، عرض کیا کہ مجھے اپنا جیسا بنا لیجئے - حضور ﺭﺿ نے جواب میں فرمایا : ?طلب کی کتاب لے کر ؤ بنا دیں گے? حضور ﺭﺿ کا ارشاد حق ہے ، سچی طلب ہو تو سب کچھ ملتا ہے حضور ﺭﺿ نے جہاں سوا لاکھ اولیاءاللہ بنائے ہیں وہاں طالبوں کے صدق حال پر بھی ہر آن نظر رہتی تھی- آپ کا طرز عمل ایک طرف یہ تھا کہ دریائے فیض ہر وقت جاری تھا کم نخواہد گشت دریا زیں کرم از کرم دریا نگرود بیش و کم روم ﺭﺿ (دریا کا اس کرم سے کوئی نقصان نہیں ہوتا، بخشش سے دریا میں کوئی کمی نہیں ہوتی) دوسری طرف دیکھ بھال کا یہ عالم تھا: دائما و ارم کرم بر جائے او جائمہ ہر کس برم بالائے او رومﺭﺿ (میں ہمیشہ بخشش حسب موقعہ کرتا ہوں، ہر شخص کا کپڑا اس کے قد کے موافق بیونتا کرتا ہوں)

 اپور

 خدا پر احسان

ایک روز فرمایا کہ حاضرین دربار میں علمائ، فضلاء، امراءسب ہی قسم کے لوگ ہوتے، ان میں وہ لوگ بھی تھے جو اپنی جائدادیں، ملازمتیں اور بڑے بڑے کاروبار چھوڑ کر صرف حاضر دربار ہوتے رہنے کو سرمایہ دارین سمجھتے تھے، منزل تسلیم و رضاءکی دشوار گذار گھاٹیوں سے گذرتے ہوئے کبھی کبھی یاد ماضی آ کر عیش رفتہ کی یاد دہانی ہو جاتی - ایک روز آپس میں ذکر چھڑ گیا- کوئی کہتا میں ساری جائیداد چھوڑ کر بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ کی خدمت میں ہوں- اس لئے میرا درجہ بڑا ہے کوئی کہتا میں اپنا چلتا ہوا کاروبار چھوڑ آیا ہوں - اس لئے میرا مقام بڑا ہو گا - ہر ایک نے اپنے اپنے ترک کی اہمیت جتلائی، گویا بلا واسطہ ایک نے دوسرے پر اپنی فوقیت ظاہر کی اور بالواسطہ بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ پر احسان خدمت کا اظہار کیا- حضور بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ محل کے اندر سے بر آمد ہوئے اور اس مقام پر تشریف لائے جہاں یہ باتیں ہو رہی تھیں ان لوگوں کے پاس آ کر یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی ?یمنون علیک ان اسلمو ا ، قبل لا تمنو اعلی اسلام مکم بل اللہ یمن علیکم ? نبی ﷺ ! تم اپنے اسلام لانے کا احسان مجھ پر نہ رکھو- یہ تو اللہ کا تم پر احسان ہے کہ تم کو ایمان کی طرف رہنمائی فرمائی، سامعین کو بہت تنبیہ ہوئی -

 اپور

 رزق کے ادب کی تعلیم

ایک روز سرکار لنگر خانہ کی طرف تشریف لے جا رہے تھے راستہ میں چاول کے چند دانے زمین پر پڑے ہوئے دیکھے آپ وہاں رک گئے اور تمام چاول چن کر اپنی ہتھیلی پر رکھ کر دوسرے ہاتھ سے صاف کر کے نوش فرمالئے- بعد میں پیشانی پر ہاتھ پھیر کر فرمایا : ?یہ تاج الدین ﺭﺿ کے پسینہ کی کمائی کا پیسہ ہے?

 اپور

وظائف کی تعلیم

جناب فرید الدین فضا بیان کرتے ہیں، کہ موضع ببول کھیڑا میں ایک روز حضور بڑے دادا تاج الاولیاء رونق افروز تھے، دس بجے شب کے قریب حضور کی طبعیت استراحت کی طرف مائل ہوئی، خدام نے فرش بچھایا ، تکیہ رکھا، آپ لیٹ گئے اور خدام نے چادر اوڑھا دی، صرف دو خادم رہ گئے، گؤں والوں کو بھی خادموں نے ہٹا دیا، میں جاگتا رہا، بمشکل آدھ گھنٹے آرام فرمایا ہو گا آپ نے مجھ سے فرمایا: ?حضرت! بیڑی نہیں پلاتے? میں اس زمانہ میں بیڑی کا عادی نہیں تھا مگر پان، بیڑی اور ناس ہمیشہ ساتھ رکھتا تھاکیونکہ یہ تینوں چیزیں آپ کبھی کبھی طلب فرمایا کرتے تھے میں نے بیڑی جلا کر پیش کر دی آپ نے دو تین کش لگا کر بیڑی پھینک دی-

 اپور

 تلاوت

اس کے بعد قرآن شریف کی تلاوت شروع کر دی، قرآن کے کسی ایک مقام سے آپ چار پانچ آیتیں پڑھتے اور اس کے بعد اللہ اکبر اللہ اکبر لا الا اللہ، اللہ اکبر اللہ اکبر و للہ الحمد- پھر کسی مقام سے چار پانچ آیات تلاوت فرماتے، پھر اسی تکبیر مبارک کی تکرار فرماتے غرضیکہ اسی طرح تین چار مقامات سے چار چار پانچ پانچ آیات آپ نے پڑھیں اور تکبیر کی تکرار فرمائی پڑھنے کا انداز اتنا دل کش، موثر اور پر کیف تھا کہ مجھے تن بدن کا ہوش نہ تھا- یہی محویت اور ربودگی طاری تھی کہ وہ آیات بھی مجھے یاد نہ رہیں آج تک وہ سرور و کیف میری روح میں موجود ہے لیکن الفاظ بیان سے قاصر ہوں، میں اس کیفیت کو ظاہر کر ہی نہیں کر سکتا- تلاوت ختم کرنے کے بعد آپ نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ? اب حضرت قرآن تم سنؤ? ارشاد عالی سن کر جیسے مجھے ہوش آگیا، میں نے سورہ مزمل شریف کی تلاوت شروع کر دی جب میں اس آیت پر پہنچا ؛ ?رب المشرق و المغرب لا الہ الا ھو فا تخذہ وکیلا ہ? تو آپ نے فرمایا، ? بس حضرت تم بھی پڑھو ہم بھی یہی پڑھتے ہیں اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ اللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد ? چنانچہ میں نے تکبیر پڑھی ۔

 اپور

کیا گھاس کاٹ رہا ہے؟

کراچی میں ایک صاحب موجود ہیں۔ ان کا نام ظاہر کرنے کی اجازت نہیں۔ ان کو سرکار نے ؛?رب المشرق و المغرب لا الہ الا ھو فا تخذہ وکیلا ہ?کے ورد کا حکم دیا ایک روز ورد کے دوران ان پر غنودگی طاری ہوئی ۔ اسی وقت سرکار نے ان کا سر پکڑ کر ہلایا اور فرمایا: ? کیسا پڑھ رہا ہے ؟ کیا گھاس کاٹ رہا ہے؟ ? کراچی میں ایک اور قدیم خادم کو الم نشرح پڑھنے کا حکم دیا۔

 اپور

تاکید

درود شریف میں محمد ﷺ کے پہلے میم پر دونوںلب محبت سے کھولنے اور بند کر کے پھر کھولنے کی تعلیم بھی دی۔ اسم ذات کی ہرایک کو تاکید فرمائی ( اللہ اللہ کرتے اچھے رہتے ) خصوصی طور پر مجھ غلام کو ( قاضی امجد علی ) اس کی بہت زیادہ تاکید کی ۔ ایک روز مجھ سے فرمایا: ? جمعہ کی نماز میں سب کچھ ہے ?۔

 اپور

لال کتاب پڑھتے

حضرت عبد العزیز صاحبﺭﺿ عرف نانا میاں ایک روز سرکار ﺭﺿ کی خدمت میں حاضر تھے۔ سرکارﺭﺿ نے حکم دیا ? لال کتاب پڑھتے ? یہ ناخواندہ تھے۔ سرکار کے حکم سے کلام پاک کھولا تو خود بخود پڑھنے لگے ۔ حکم کی تاثیر یہ ہوئی کہ آپ ایک ماہ میں بچوں کو مکمل کلام پاک پڑھا دیتے تھے۔ سینکڑوں حضرات آپ سے مستفیض ہوئے ۔

 اپور

نسخہ کیمیاء

 تلسی کے پتے

(سید امجد علی شاہ تاجی ) میرے ماموں صاحب نے کیمیا گری کے شوق میںکافی روپیہ برباد کیا تھا۔ ایک دن کسی فقیر سے ملاقات ہوئی ۔ فقیر نے کہا کہ دو سوبرس کے پرانے مکان کی دیوار پر ایک خوردرو بوٹی ہوتی ہے۔ فقیر نے اس کی شناخت بتاتے ہوئے کہا اس بوٹی سے شنجرف کا کشتہ باوزن ہو جاتا ہے۔ جو کہ تانبے کو رنگتا ہے۔ یہ اپنے گاﺅں سے ناگپور آئے اور پرانے مکان پر شناخت شدہ فقیر کی بتائی ہوئی بوٹی حاصل کی۔ اور ارادہ کیا حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ قبلہ کی ملاقات کے بعد بھٹی لگائیں تاکہ ان کی دعا کی برکت سے ہم کامیاب ہوجائیں۔ چنانچہ شکر درہ حضورﺭﺿ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت حضورﺭﺿ تانگہ میں سوار ہو کر باہر تشریف لے جارہے تھے گلے میں پھولوں کا گجرہ تھا جس میں تلسی کے پتے لگے ہوئے تھے۔ حضورﺭﺿ نے اس میں سے ایک پتہ نکال کر ماموں کو دے دیا ۔ اس پتے کو لیکر واپس ہوئے اور حاصل کردہ بوٹی کے لگدے میں حضورﺭﺿ کے دیئے ہوئے تلسی کے پتے کو بھی شریک کر دیا اور لگدے کے درمیان ایک ماشہ شنجرف کی ڈالی رکھ کر دو اپلوں کی آگ دیدی آگ سرد ہونے کے بعد بھٹی کھولی تو پڑتال کا کشتہ بازون تیار تھا۔ یہ بہت خوش ہوئے اوراسے فوراً باریک پیس کر ایک پڑیا باندھی ۔اور تانبہ گلا کر اس میںپڑیا کو جھونک دیا۔ جب موس کھولی تو سونا تیار تھا ۔ بازار لے جا کر فروخت کیا اس کے بعد ہر چند کوشش کی لیکن اس بوٹی سے شنجرف کا کشتہ تیا ر نہ ہو سکااور نہ پھر کبھی ایسا اتفاق ہو اکہ حضورﺭﺿ تلسی کا پتہ دیتے۔ اصنام دبی زبا ن سے یہ کہتے ہیں۔ وہ چاہے تو پتھر بھی خدا ہوتا ہے ۔ یہ واقعہ جناب سیٹھ عبد الرزاق صاحب فروٹ مرچنٹ ناگپور نے ٢٦ اپریل ۹۴۹۱ءکو سنایا ۔ سیٹھ رزاق صاحب بابا ﺭﺿ کے بے حد عقید ت مند ہیں آپ نے دربار کے تعمیری کام میں بھی حصہ لیا۔

 اپور

بہت دن میلا کھایا

کانپور سے ایک کیمیا گر سرکار باباصاحب ﺭﺿ کی خدمت میں کیمیا بنانے کا نسخہ حاصل کرنے کے لئے حاضر ہوا۔کئی دنوں تک سرکار بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ سے اپنا مدعا عرض کرتا رہا یہاں تک کہ چار ماہ گزر گئے ۔ تنگ آکر ایک روز مدعا زبان پر لے آیا اور ساتھ ہی سرکار سے یہ بھی عرض کیا کہ دال چاول کھاتے ، کھاتے تھک گیا ہوں۔ سرکار ﺭﺿ نے فرمایا: ? جس لنگر خانہ کی تو بات کرتا ہے۔ اس لنگر خانہ سے ہم بھی کھاتے ہیں۔ ? چنانچہ وہ خاموش ہو گیا۔ اس طرح اس کی سرکار ﺭﺿ اصلاح فرماتے رہے۔ پھر چند دنوں بعد ایک روز بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ محمد بیگ صاحب بٹن والے کے مکان میں تشریف فرماتھے کیمیا گر بھی یہاں پہنچ گیا ۔ اور موقعہ پا کر حضور بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ سے عرض کیا سرکار میرے لئے اب کیا حکم ہے۔ جواب میں آپ ﺭﺿ نے فرمایا: ? بابو بہت میلا کھایا تھا ۔ اس کی صفائی ہوگئی۔ اب صرف دال روٹی ملے گی ۔ جاکو آﺅ ۔ ? مطلب یہ کہ تم نے غلط کام کر کے رزق حاصل کیا جو حرام رزق تھا۔ یہاں اس کی صفائی ہوگئی ۔ اب رزق حلال ملے گا۔ اس طرح سرکار نے اپنی خدمت میںرکھ کر اس کیمیا گر کی اصلاح کی ۔

 اپور

غلاظت کھانا

ایک روز فرمایا کہ فقرو توکل اور عزلت کی منازل سے جن دنوں (بابا یوسف شاہ تاجی) ہم گزررہے تھے تو شکردرہ میں ایک درویش سے راہ و رسم پیدا ہوگئی ۔ وہ رفتہ رفتہ ہم سے مانوس ہوگئے ۔ وہ کیمیا جانتے تھے ہم کو بتلا دیا۔ ہم نے سوچا اگربڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ اجازت دیدیں تو اپنی ضروریات بلا مشقت پورا کرنے کا یہ اچھا ذریعہ ہے۔ ہم طلب ِ اجازت کی نیت سے حاضر ہوئے، تو ہم کو دیکھتے ہی فرمایا: ?غلاظت کھا نا چاہتے ہو۔?

 اپور

طمانچہ اور تعلیم

تعلیم کے سلسلہ میں ، میں (امجد علی تاجی) اپنے ذاتی واقعہ سے ہی شروع کرتا ہوں جھانسی سے ایک شیخ حضورﺭﺿ کی خدمت میں شکردرہ تشریف لائے اور میرے پاس ٹھہرے ۔ ہم دونوں ہر وقت تصوف کا ذکر کرتے تھے ۔ ایک روز میں نے جھانسی والے شاہ صاحب سے دریافت کیا کہ کوئی آسان طریقہ اس گھاٹی پر عبور حاصل کرنے کا بتلائیںانہوں نے ایک عمل بتلا یا اور فرمایا کہ اسے قبرستان میں کرنا پڑتا ہے۔ مجھے بے حد شوق تھا۔ ان کا بتایا ہوا عمل کرنے کے لئے قبرستان جانے لگا۔ تیسرے روز عمل کے دوران حضور بابا ﺭﺿ کی آواز میرے کان میںآنے لگی ۔ میں قبرستان سے اٹھ گیا ۔ اور حضورﺭﺿ کی آواز کی جانب تالاب کے کنارے چلنے لگا۔ جب میں اپنے پرانے جھونپڑے کے قریب پہنچا تو حضورﺭﺿ آم کے درخت کے نیچے تشریف فرما تھے۔ اس وقت رات کے تین بجے تھے۔ جیسے ہی میں قریب پہنچا بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ نے فرمایا : ? کیوں رے کون بولا بڑے بڑے پہاڑاں کھودنے کو یہ ماچس لے ? فرما کر مجھے ماچس مرحمت فرمائی اور فرمایا : ?کاہے کورے ادھرادھر ڈھونڈتا ہے ? ۔ اس کے علاوہ اور بھی کچھ فرمایا ۔ جو میں سمجھ نہ سکا ۔ میں نے دل ہی دل میں عرض کی حضورﺭﺿ میں سمجھ نہ سکا۔ کہ آپ کیا فرمارہے ہیں۔ یہ میرے دل میں آنا ہی تھا کہ حضور نے مجھے زور سے طمانچہ رسید کیا ۔ اور غصہ میںفرمایا ? ذہن چراتا ہے ? ۔ اور ایک صاحب کے کندھے سے شال لیکر اس کے دوسرے میرے ہاتھ میں عنایت کئے اور دوسری طرف کو دو،سرے اپنے ہاتھ میں پکڑ کر فرمایا بچھایہ ہے دوکان ۔ حضورنے ماچس عنایت فرما کر بڑے لطیف انداز سے تعلیم دی ۔ یعنی جس طرح ماچس میں روشنی موجود ہے ۔ اسی طرح خود تیرے اندر اللہ کا نور موجود ہے۔ اللہ کو پاس رکھ کر ادھر اُدھر کیا ڈھونڈتا ہے۔ اس کو اپنے اندر تلاش کر۔ بزرگوں کے سمجھانے کے طریقہ عجیب ہوتے ہیں۔

 اپور

 نوے دن صرف چائے

 قاضی سید امجد علی شاہ صاحب تاجیﺭﺿ فرماتے ہیں

ایک مرتبہ حسب معمول سرکار کی خدمت میں حاضر ہوا جیسے ہی قدمبوسی کی سرکار نے فرمایا: ? بہت کھانے لگارے،آج سے تیرا کھانا بند، چائے پیتے اچھے رہتے ?۔ اجازت کے بعد جب اپنی جھونپڑی میں پہنچا تو اہلیہ سے کہا کہ ایک کیتلی چائے بنا لو۔ چنانچہ اہلیہ نے اسی وقت چائے بنادی ۔ جسے میں صبح سے شام تک بار بار پیتا رہا۔ شام میں خوف کی وجہ سے حاضری نہیں دی۔ صبح حسب معمول حاضر ہوا ۔ جیسے ہی قدموں میں سر رکھا سرکار نے فرمایا: ?ہم نہ کہتے تھے بہت کھانے لگا ہے۔ صبح سے شام تک چائے پینے کے لئے کب کہا تھا صرف تین پیالی تین وقت کا لی چائے پیتے اچھے رہتے ۔ اس کے علاوہ کچھ کھاتے اور نہ پیتے ? اس پر سرکار نے (۰۹) نوے دن عمل کرایا ۔ اس مجاہد ے کے دوران میرے آقا نے بے حد نوازا۔ اسی طرح ایک رات تقریباً ۳ بجے میرے آقا نے حکم فرمایا : ?حضرت ندی پار کر جاﺅ۔? ندی کا پاٹ بہت وسیع تھا ۔ندی ، نالوںسے میں ہمیشہ دور ہی رہا۔ اس لئے مجھے تیرنا بھی نہیں آتا تھا۔ حکم کی تعمیل میں اس اندھیری رات میں ندی میں اتر گیا اور دھیرے دھیرے چل کرندی پا ر کر لی ۔ اماں صاحبہﺭﺿ کی خدمت میں حاضری دیکر جب لوٹ کر آیا تو سرکار کو کنارے پر پایا آپ نے فرمایا حضرت جہا ں ہوا خارج ہور ہی تھی ہم موجود تھے مجھے یاد آگیا ندی کے درمیاں ریاح خارج ہوئی تھی۔ فوراً قدمبوس ہوا۔

 اپور

 تثلیث کی حقیقت

میرے پیر بھائی جناب منشی جمال الدین صاحب مرحوم ایک مرتبہ بغرض قدمبوسی حضورﺭﺿ میں حاضر ہوئے۔ حضورﺭﺿ نے ان کی طرف اشارہ کر کے مجھے فرمایا۔ ?د یکھو جی تثلیث پرست آئے ? ٍ مولاناذہین شاہ صاحب یوسفی تاجی ﺭﺿ کی تصنیف تاج الاولیاءﺭﺿ ﺭﺿ سے مختصر تشریح پیش قارئین ہے۔وہ فرماتے ہیں۔ مریدین کی باطنی کیفیات گویا حضور ﺭﺿ کے پیش نظر رہا کرتی تھیں ۔ سرکارنے منشی جمال الدین صاحب ﺭﺿ کو دیکھ کر فرمایا۔ ?دیکھو جی یہ تثلیث پرست آئے?۔ اس چھوٹے سے جملہ میںجہاںتنبیہ موجود ہے۔ وہاں توحید کی تعلیم و تلقین بھی موجود ہے۔ حضور ﺭﺿ کے اس چھوٹے سے جملہ میں حقائق و معارف کے خزانہ چھپے ہوئے ہیں۔ جانے سو پائے ۔عام فہم معنی یہ ہیں کہ اسلام کا پہلا رکن لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے یہ کلمہ ? توحیدکہلاتا ہے، حالانکہ اس میں اللہ اور رسول کااقرار شامل ہے۔ اس لحاظ سے یہ کلمہ ? کلمہ? تثلیث اور کلمہ? دوئی ہوا۔ خدا اور رسول کے دو وجود کلمہ گو کے ذہن میں موجود ہوتے ہیں۔ تیسرا وجود کلمہ گو کے ذہن میں خود اپنا ہوتا ہے۔ یہی وہ تثلیث ہے جس میں وہ غیر شعوری طور پر مبتلا رہتا ہے۔ حضور بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ نے منشی جمال الدین کوفرمایا۔بقول مولیناٰ روم علیہ الرحمتہ ۔ چیست توحید ِخدا آموختن خویشتن را پیش واحد آموختن تو مباش اصلاح کمال این است و بس رودر گم شو وصول این است و بس (خدا کی توحید کا علم حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنی ہستی کو ہستی حق میں فنا کردو ۔ تم اور تمہاری ہستی کی ساری نسبتیں بالکل فنا ہو جائیں گی۔ اسی کا نام کمال ہے۔ اپنے وجود سے گزر کر وجود ِ حق میں روپوش ہو جاﺅ،اسی کا نام وصول ہے)

 اپور

 ماں کی خدمت کا سبق

فرید صاحب نے ایم۔ ایل ۔ٹی ۔ پاس کرنے کے بعد فروری ١٩٢٥ءکو حیدر آباد دکن میں پروفیسری کے لئے درخواست دی تھی ، ملاقات کے لئے طلب کیا گیا تو وہ بابا ﺭﺿ کی خدمت میں اجازت کے لئے حاضر ہوئے فرمایا : ?نہیںجاتے?۔ انھوں نے عرض کیا ۔ انجمن ہائی اسکول میں تنخواہ بہت کم ہے ، صرف ۰۵۲ روپیہ ملتے ہیں ، وہاں کئی گناہ زیادہ تنخواہ ملے گی۔ فرمایا : ?بوڑھی اماں کی دیکھ بھال پھر کون کرے گا؟ میں نے عرض کیا: ? حضور تنخواہ زیادہ ملے گی تو نوکررکھ لوں گا۔ ? فرمایا : ?بڑا ضدی ہے ، نہیں مانتا ۔ اچھا مجھے مٹی دیکر چلے جانا تجھ سے بڑا کام لینا ہے۔ ?

 اپور

کولھو کے بیل

ایک روز فرمایا کہ ایک دن شکردرہ میں حضور ﺭﺿ کے حکم سے ایک مولوی وعظ میں علماءکی تعریف فرما رہے تھے، حضور ﺭﺿ نے فرمایا: ?نکو علماءکولھو کے بیل رے ۔? مطلب بیان فرمایا کہ: ? ان کی گرم رفتاری ایک دائرہ میں محدود ہے۔ یہ علماءظاہر کولھو کے بیل کی طرح ہیں میلوں چلنے کے بعد بھی جگہ کی جگہ رہتے ہیں۔ ?

 اپور

سید محمد رفیع صاحب

مرحوم و مغضور قصبہ ایرایان سادات ضلع فتحپور یوپی کے رہنے والے تھے۔ ایک مرتبہ موصوف کو حضرت تاج الاولیاءﺭﺿ کی خدمت میںایک مقدمہ کی فتحیابی کے سلسلہ میں حاضری کا موقعہ حاصل ہوا۔ جب حضرت کے سامنے پیش ہوئے تو دل میں مقدمات کے سلسلہ میں سوالات تھے کہ حضرت نے ایک نظر اٹھا کر دیکھا ، اس کے بعد زمین میں کچھ لکھا۔ اس کے بعد فرمایا تمہارا کام ہو گیا اب تم جاسکتے ہو۔

 اپور

سلا م کا جواب

لیکن دل میں اشتیاق تھا کہ صحبت سے کچھ فیض یاب ہوں لہذا چند دنوں کے لئے رک گئے ، وطن کے چند لوگوں نے حضرت ﺭﺿ کی خدمت میں سلام کہلا یا تھا، چنانچہ اپنے دل میں ہر ایک کی طرف سے سلام پیش کرتے رہے، اور حضرت تاج الاولیاءﺭﺿ نے ہر ایک کا جواب وعلیکم السلام کر کے دیا ۔ اس کے بعد تاج الاولیاءﺭﺿ گشت میںجنگل کی طرف چل دیئے ۔ آپ کے ساتھ مجمع تھا وہ سب احتراما ً برہنہ پاتھے ، جنگل میں کہیں کہیں بند کٹیا بنی ہوئی تھیں ،آپ وہاں پہنچ کر توجہ فرماتے ۔ایک ایسی کٹیا تھی جس میں ایک مائی صاحبہ تھی آپ اندر تشریف لے گئے۔ حافظ صاحب پابندِ شریعت تھے، خیال ہو اکہ ایک مرد کو عورت کے پاس تنہائی میںنہ جانا چاہیے۔

 اپور

فسادی آدمی

معاً حضور ﺭﺿ واپس لوٹے اور حافظ صاحب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔ ?اس کونکالویہ فسادی ، یہ فسادی آدمی ہے، اس کوبھگاﺅ۔? پھر حضورﺭﺿ جنگل کی طرف چل دیئے، حافظ صاحب بہت پشیماں ہوئے، معافی چاہنے کے لئے ہجوم سے دور دور چلتے رہے۔ ایک جگہ خود حضورل ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ?بابا اللہ اللہ کرنا ، نہ کوئی مرد دیکھنا نہ عورت دیکھنا ?۔ حافظ صاحب نے قدمبوسی کی اور سمجھ لیا کہ معافی ہوگئی۔ واپسی کا ارادہ کر لیا ۔ حافظ صاحب کا وصال ۳۲ جنوری ۹۵۹۱ ئ کو بمقام دادو سندھ ہوا آپ وہاں مدفون ہوئے ۔ وقت وصال عمر ۰۸ سال تھی۔

 اپور

رزق حلال کی تلقین

سرکار تاج الاولیاءﺭﺿ نے اپنے بچوں کو ( مریدین ، خلفاء، فیض یافتہ حضرات) اورعام حضرات کو بھی رزق حلال کی خصوصی طور پر تاکید فرمائی۔ حقیقت یہی ہے کہ حلال روزی ہی سے دل میں پاکی پیدا ہوتی ہے۔ ( کلو من طیبات ما رزقنکم) حضرت ابراہیم بن ادھم ﺭﺿ سے ایک سائل نے دریافت کیا۔ اسم اعظم کیا ہے۔ آپ نے فرمایا ?حلال رزق کھاﺅ۔ پھر جو کچھ پڑھو گے وہی اسم اعظم ہے۔?

 اپور

دست سوال دراز کرنا

دست سوال دراز کرنے کو بھی آپ نے سختی سے منع فرمایا ۔ ہزاروں مفلس نادار حاضر ہوتے مگر آپ ان کے سوال کرنے سے پہلے ایسے انتظامات فرما دیتے کہ وہ مالا مال ہو جاتے اور اپنے اپنے مقامات کو لوٹ جاتے۔ ایک صاحب سائل بن کر معہ بیوی بچوں کے حضور ﺭﺿ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے دل میں یہ خیال تھا کہ بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کی خدمت میں ہزاروں افراد کا اجتماع ہوتا ہے ایک ایک پیسہ بھی خیرات دیں گے ۔ تو اچھا گزارہ ہو جائیگا۔ لیکن حضورﺭﺿ کو یہ کب گوارہ تھا۔ آپ نے ان کو تخم پنواڑ عطا کئے اور فرمایا: ? اس کی چائے فروخت کیا کرو۔? چند ہی روز میں اللہ کا فضل ہو گیا ۔ ان کی مفلسی دور ہو گئی ۔

 اپور

 مانگ کر نہیں پہنتے

حضرت قاضی بابا امجد علی شاہ صاحب ﺭﺿ کی بمبئی سے طلبی ہوئی تو وہ اپنے کسی دوست کے سفید کپڑے پہن کر سرکار کی خدمت میںپہنچے ۔ جب قدمبوس ہوئے تو سرکار ﺭﺿ نے فرمایا: ?حضرت ! مانگ کر نہیں پہنتے ? اندازہ کیجئے اس شہنشاہ کی تعلیم کا جو اپنے بچوں کی قدم قدم پر رہبری فرماتا تھا۔

 اپور

سود

خدائے رام پکا سود خوار تھا ۔ سوروپے کے کئی سو روپے وصول کرتا تھا ،واکی شریف میں حضور ﺭﺿ کے سامنے آیا تو خاردار لکڑی سے خوب پیٹااور فرمایا : ?بڑا ظالم ہے، مخلوق کو ستاتا ہے ،سود کھاتا ہے?۔ پھر فرمایا: ?سود چھوڑدے ورنہ جہنم میں جائے گا۔ اس پر یہ اثر ہواکہ دنیا چھوڑ کر وہیں بیٹھ گیا، عمر بھر حاضردربار رہا ۔ مولیٰنا نجم الدین اس کے ہم وطن تھے ۔

 اپور

نشہ سے پرہیز

حضرت یوسف شاہ تاجی نے ایک روز فرمایا،بابا کا ارشاد ہے: ? ہمارے بچے نشہ نہیں کرتے ? آپ کی نظر جس کسی پرپڑی ،مستی کی حقیقت کھل گئی۔ مست ِ مے بیدار گردونیم شب مستِ ساقی رو زِ محشر یا مداد

 اپور

علم لدنی

حضرت محمد یوسف شاہ تاجی فرماتے تھے کہ ایک دن بابا نے ہمارے سر پر ہلکے سے ایک طمانچہ رسید کیا۔اس کا معاً یہ اثر ہو اکہ علوم و معارف کے چشمے دل و دماغ سے ابلنے لگے قرآن کے اسرار و معارف خود بخود منکشف ہوگئے۔

 اپور

 ناجائز رقم کی نذر قبول نہیں کی

ناگپورکو توالی کے منشی عبد الرحمٰن صاحبکو ایک روز رشوت میں کافی رقم ملی ۔ اس خوشی میں وہ کچھ مٹھائی لے کر سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کی خدمت حاضر ہو ا اور وہ مٹھائی سرکار کے سامنے رکھی لیکن سرکار نے اسے ہاتھ نہیں لگا یا۔منشی جی ادب سے کھڑے رہے۔ اور دل میںکہتے رہے کہ سرکار قبول کر لیں ۔لیکن سرکار نے ان کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔ اسی دوران ایک شخص نے آپ کی خدمت میں جوار کی روٹی پیش کی جو اس نے خصوصی طورپر اپنے گھر سے سرکارﺭﺿ کے لئے پکوا کر لایا تھا۔ حضورﺭﺿ نے اسے اپنے قریب بلا کر فرمایا: ?یہ رزق حلا ل ہے اسے ہم کھائیں گے?۔ حضور ﺭﺿ نے ایک ٹکڑا توڑ کر نوش فرمایا۔اور منشی جی کی طرف مخاطب ہوکرفرمایا: ? رشوت کی کمائی سے دین دنیا دونوںخراب ہوتے ہیں جی ? اس طرح سرکار نے منشی جی کی اصلاح فرمائی۔

 اپور

ہاتھ پیر کاٹ دیئے جائیں گے

اندور میں چاند خاں نامی ایک صاحب کا قیام تھا۔ یہ حضرت معاشی طو رپر پریشان تھے۔ بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ کی کرامات کی شہرت سن کر یہ بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کی خدمت میںواکی شریف حاضر ہوئے ۔پریشان حال تو تھے ہی ، سرکار کی خدمت میں زائرین کا اجتماع دیکھ کر سوچا کہ یہاںلوگوں کے سامنے طبلہ بجا کر باباصاحبﺭﺿ کی شان میں کچھ پڑھتا رہوں گا تو یہ سب حضرات کچھ نہ کچھ دے ہی دیں گے۔ چنانچہ طبلہ کمر سے باندھ کر گانا سنانے لگے ۔ سرکار ان کے قریب تشریف لائے اور ان کی کمرسے طبلہ کھول کر فرمایا: ?بابو تمہاری نیت بھیگ مانگنے کی ہے ۔ طبلہ کو لوبان لگا کر ر کھ دو یہ تمہارا کام نہیں ۔اگر تم نے یہ کام کیا تو بڑے صاحب (اللہ میاں ) کاحکم ہے کہ تمہارے ہاتھ پیر کاٹ دیئے جائیںگے۔? چنانچہ چاندخانصاحب نے اسی وقت طبلہ توڑ دیا اور سرکا ر کی خدمت میںرہنے لگے۔ ایک روز سرکار نے انہیں ایک جھاڑو عطا کی اور فرمایا: ? حضرت ! جاروب کشی کیا کرو ۔ہم تمہارے ساتھ ہیں ? چنانچہ چاند خان صاحبﺭﺿ تاحیات جاروب کشی کرتے رہے ۔ میرے آقا نے اس طرح انہیں نوازا ۔

 اپور

توحید مکمل

مولوی محمداسمٰعیل خان صاحب جن کو حضور بڑے بھائی کہہ کرمخاطب کرتے تھے فرماتے ہیں۔ ایک روز سرکار کی خدمت میں ایک ہندو سادھو ایک تار لئے حاضر ہوا۔سرکار نے دور سے ہی دیکھ کر خان صاحب سے فرمایا دیکھو بڑے بھائی بڑاولی اللہ آرہا ہے۔ وہ سادھو الا اللہ، الا اللہ کے نعرے لگا تا ہوا سرکار کے قریب پہنچا سرکار اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ جیسے ہی سرکار کے سامنے آکر اس نے نعرہ لگایا ۔ آپ نے اسے ایک چانٹا رسید کیا اور فرمایا: ? جس کے نام کے بغیر توحید مکمل نہیں ہوتی اس کو بھول گیا ۔ بڑا للہ والابنتا ہے۔ فلاں مندر میںکسی بچہ سے پانچ روپیہ لیکربھاگا۔ فلاں جگہ سے ایک گائے چرا کر بیچ دی یہ سب بھول گیا ۔? وہ بہت نادم ہوا۔ بے حد پریشانی کے عالم میں آیا تھا۔ گاتابہت اچھا تھا۔ سرکار نے اسے روک لیا۔ اور اس کو ایمانکی دولت سے مالا مال فرمادیا۔

 اپور

 ایفائے نذر

الہ آباد کی ایک طوائف حاضرِخدمت ہوئی ، اس کی ماں نے درخواست کی،بابا میں اپنی بچی کو گانے بجانے کی زندگی سے بچانا چاہتی ہوںمگر معاشی تنگی سے مجبور ہوں،دعا کیجئے کسی اچھی جگہ اس کا ٹھکانہ ہو جائے ۔ آپ نے فرمایا: ? بڑے آدمی سے نکاح ہو جاتا ہے ، بہت خوش رہتی ہیں، لڑکاپیدا ہوتا ہے تو اپنے بابا کے دربار میں حاضر ہو کر نیاز کرتی ہوں غریبوںکو کھانا کھلاتی ہیں۔? حضورﺭﺿ کا ارشادحرف بحرف پورا ہوا، ایک بڑے آدمی سے نکاح ہو گیا ، بڑے کرو فر سے زندگی بسر ہونے لگی، نویں مہینے لڑکا پیدا ہوا ، بڑی دھوم دھام سے عقیقہ ہوا، نیاز کا کھانا پکایا گیا، غریبوں کوخوب کھلایا گیا ، خود نے کھایا اسی وقت سے پیٹ میں درد شروع ہوا، ہزار علاج معالجہ کیا گیا ،افاقہ نہ ہوا بلکہ زیادتی ہوتی رہی ،مرغ ِبسمل کی طرح رات دن تڑپتی ، کسی کروٹ چین نہ آتا، سوکھ کر کانٹا ہو گئی ۔حکیم حیران ، ڈاکٹر پریشان ،جان نکلتی ہے نہ آرام آتاہے، کامل ایک سال کے بعدجب امید زیست منقطع ہوئی ، ایک رات آنکھ لگی یا غفلت طاری ہوئی ، کیا دیکھتی ہے کہ بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ تشریف لائے اور فرما رہے ہیں: ? کیوں فقیر سے دھوکا اور بے وفائی کی نذر پوری کرنے کو حاضر دربار نہیں ہوئی ۔ ? خیال آیا، واقعی غلطی ہوئی ،بچہ کی کم عمری کی وجہ سے میں نے جان کرناگپور جاناملتوی کردیا تھا اورنیاز گھر پر کر دی تھی۔ اپنی غلطی پر پشیمان ہوئی ، ہر چند سفر کے لائق نہ تھی، مگر ناگپور روانگی کا ارادہ کیا پیٹ کا درد موقوف ہو گیا، ناگپور پہنچی تو اچھی خاصی طبیعت بحال ہو چکی تھی، بابا ﺭﺿ کی خدمت میںحاضر ہوئی تو حضور ﺭﺿ نے وہی الفاظ دہرائے جو خواب میں فرما رہے تھے۔ ?کیوں فقیر سے یہ دھوکا اور یہ بے وفائی کی ، نذر پوری کرنے حاضِر دربار نہیں ہوئی۔? اس نے پاﺅں میں سر رکھ کر معافی چاہی، آپ نے دعائیں دیں، قصور معاف کر دیا ۔ ان اللہ ھوالتواب الرحیم

 اپور

 پتہ بچھو

ایک طوائف قدمبوسی کرنا چاہتی تھی، آپ نے ایک درخت کا پتہ ، جو سامنے پڑا تھا اس کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ۔ ? اس کو سجدہ کرو،یہ تمھارا معبود ہے۔ ? جب اس نے پتہ پر سجدہ کرنا چاہا تو پتہ بچھو کی صورت بن کر ڈنک مارنے لگا طوائف نے ڈر کے مارے سر اٹھالیا،دیکھتی ہے بچھو نہیں ہے پتہ ہے ۔آپ نے پھر فرمایا : ?اپنے معبود کوسجدہ کرو ? اس نے سجدہ کرنا چاہا تو پتہ نہیں تھا ، بچھو تھا ، بڑی دیر تک یہی کیفیت رہی ۔ آخر اس نے گناہوں سے توبہ کی اور ہدایت قبول کی ، نکاح کر لیا ۔ گر تو سنگِ خارہ مر مر شوی چوں بصاحبدل رسی گوہر شوی

 اپور

 زنا سے منع

طوائف بکثرت حاضرِدربار ہوتی تھیں ، بظاہر یہ امر ظاہر بینوں پرگراں گزرتا تھا، مگر حالات سے با خبر لوگوں کو معلوم تھا کہ شاید ہی کوئی طوائف ایسی ہو جو حاضر ہوئی ہو او راس کی زندگی نہ بدل گئی ہو۔ دنیا طلبی کی غرض سے آنے والے دنیاوی اغراض میں کامیاب ہوتے ہوتے خود بخود طالب ِ دین بن جاتے تھے اور اپنے صدق و اخلاص کی بدولت ولایت کے مراتب طے کرتے ، آپ کے حکم سے لوگوں کی تقدیریں بدل جاتی تھیں۔ طوائفوں کو مختلف انداز میں حکم دیا جاتا تھا۔ کبھی فرماتے : ?اماں ! سواری کے لئے ایک گھوڑا پسند کر لو ? کبھی فرماتے : ?زیادہ کیلے نہیں کھاتے?۔

 اپور

بڑے نجاس

ایک دن طوائفوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ?حضرت یہ لوگ بڑے نجاس ہیں ?۔

 اپور

 اورادواشغال

شغل ِ میت

حضرت بابا یوسف شاہ تاجی علیہ الرحمة فرماتے تھے کہ بابا ﺭﺿ نے ہمیں کنوئیں میں بٹھا کر یوسف نام رکھا ، وہاں ہمیں شغل ِ میت تعلیم کیا۔ یہی شغلِ حضرت نے مجھے بھی تعلیم فرمایا تھا اور بابا فرید الدین کریم بابا تاجی مولف تاج مراری کو میں نے یہ شغل حسب الحکم بمقام نادوتی ریاست جے پور بتلایا تھا۔

 اپور

 اسم اللہ ہو

حضور بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ پنے بچوں کو مختلف اور ادواشغال تعلیم فرماتے تھے۔ مہاراجہ صاحب قرولی کے گروہ کو اسم اللہ ہو تعلیم فرمایا تھا۔

 اپور

بانسری کی آواز

نانامیاں کو حضورﺭﺿ نے ایک بانسری دیتے ہوئے فرمایا : ? اس کی آواز سے جی لگاﺅ ? بشنو ازچوں حکایت می کند و ز جدائی ہا شکایت می کند شغل ِ

 اپور

پاس انفاس

آپ کا ارشاد تھا؛ ? اللہ اللہ کرتے،اچھے رہتے ? ۔ بہت سے مریدوں کو شغل ِ پاس انفاس کا حکم تھا ۔ کم کھا نا ، کم بولنا ،ہر طالب ِحق کے لئے آپ کے یہاں لازم تھا۔ بعض اور اردو اشغال تبرکاً تحریر ہیں کیونکہ یہ چیزیں بغیر اجازت شیخ کامل نافع نہیں ۔ حضور کی نشست اسم محمد ﷺ کا طغرا تھی ، محمد مشرب فقراءنشست و برخاست میں اس امر کا اہتمام خاص رکھتے ہیں جو آپ کا معمول تھا۔

 اپور

قرآن کی عطا

چونکہ میں (امجد علی)گیارہ سال کی عمر سے سرکار کی خدمت میں رہا ۔ اس زمانہ میں حضرت مولانا نجم الدین شاہ صاحب جن پر بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ کا خاص کرم تھا۔ بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کے فیض یافتہ حضرات کے ساتھ ان کا تذکرہ اگلے صفحات میں ہو گا۔ آپ عالم با عمل تھے ۔ میں نے ان سے تعلیم حاصل کرنا شروع کی انہوں نے عربی کا قاعدہ پڑھایا تھا۔ ایک روز میںسرکارﺭﺿ کی قدمبوسی کے لئے حسب معمول حاضر ہوا ۔ اس وقت سرکارﺭﺿ نے ایک افغانی صاحب کو حکم فرمایا: ?کتاب لاﺅ وہ دوڑ کر قرآن شریف لے آئے ۔ ? جیسے ہی میں قدمبوس ہوا ۔ سرکار ﺭﺿ نے فرمایا: ? کیا وقت ہے میں نے عرض کیا ،مغرب کا وقت ہے ۔? تب حضورﺭﺿ نے میرا دامن اپنے ہاتھ سے پھیلایا اور قرآن شریف کھول کر میرے دامن میں رکھا ۔ کھلے ہوئے کلام پاک میں کچھ پیسے ،کچھ چھوارے اور کنگھی رکھ کر فرمایا: ? اسکو لے جاﺅ کسی کو نہ دینا۔? خادم حکم پاتے ہی اپنی قیام گاہ کی طرف روانہ ہوگیا۔ اپنے جھونپڑے میں پہنچ کر پیسے ، چھوارے اور کنگھی نکال کر ایک صندوق میں محفوظ کر ہی رہا تھا کہ میرے برابر کے جھونپڑے سے آواز دیکر بلایا جارہا تھا۔ اس جھونپڑے میں ماٹی ملے شاہ صاحب ﺭﺿ کا قیام تھا۔ یہ بھی سرکار کے فیض یافتہ حضرات میںشمار کئے جاتے تھے ۔ ان کے ہمراہ ایک بزرگ اخوند صاحب قاری جو نقاب پوش تھے ان کا بھی قیام اسی جھونپڑے میں تھا۔ مجھے اخوند صاحبﺭﺿ نے ہی آواز دی تھی کہ ? سرکار نے جو قرآن عطا کیا ہے اس کو لیکر آﺅ ?۔میں ان چیزوں کو صندوق میں رکھ کر قرآن شریف لیکر اخوند صاحب ﺭﺿ کی خدمت میں پہنچا انہوں نے میرا قرآن شریف کھول کر مجھے دیا اور اپنا کلام پاک کھول کر مندرجہ ذیل دعا پڑھنی شروع کی۔ ربنا ال تواخذ نا ان نسینا او اخطانا ، ربنا الاتحمل علینا اصرا کما حملة اس دعا کو پڑھ کر مجھے حکم دیا ?پڑھو? میں قرآن پاک ایسا پڑھنے لگا جیسے پورا قرآن میں نے باقاعدہ پڑھا ہو۔لیکن جب تک پڑھتا رہا رقت رہی اورقاری صاحب بھی روتے رہے۔ سرکار کا کلام پاک عطا کرنے کاراز اب سمجھ میں آگیا۔

 اپور

 تکمیل النفس

حضرت بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ نے نماز ، روزہ، حج، زکٰوة کے ساتھ ساتھ ذکر پر خصو صی طور پر زور دیا ہے اصل میں ذکر ہی مقصود تکمیل نفس ہے۔ واذکراسم ربک کی تشریح شیخ اکبر محی الدین ابن عربیﺭﺿ نے یوں فرمائی: ? واذکراسم ربک الذی ھو انت ای اعرف نفسک واذ کر ھاولاتساھا نینساک اللہ واجتھد لتحصل کما لھا بعد معرِفة ِحقیقتھا ئ۔ ? یعنی آپ اپنے رب کا ذکر کریں اور وہ آپ ہی میں ہے ، یعنی اپنے نفس کو پہچانیں اسے یاد کریں اور نہ بھلائیں ۔ ورنہ خدا آپ کو بھلا دے گا اور حقیقت نفس کو پہنچاننے کے بعد اس کےلئے تحصیل کمال کی جدو جہد فرمائیں ۔ خدا تعالیٰ نفس انسانی کا عین ہے کہ اس نے ہمیں خبر دی ہے۔ وانفسکم افلاتبصرون اوریہ خوشخبری سنائی سزیہم ایاتنا فی انفسہم الخ ( ہم ان کو اپنی نشانیاں انہی کے نفسوںمیں دکھائیں گے۔) آقائے نامدار حضور ﷺ نے فرمایا۔ من عرف نفسہ فقد عرف ربہ جس نے خود کو پہنچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا ۔ پس عرفان نفس عین عرفان حق ہے ،ذکر نفس عین ذکر حق ہے۔ نسیان ِنفس عین نسیان حق ہے ۔ کلام پاک میں اس کی صراحت کی گئی ہے۔ لا تکونو اکالذین نسو اللہ فانساھم انفسھم (سورة حشر) اے ایمان والو تم ان لوگوں جیسے نہ بنو ۔ جنہوں نے خدا کو بھلادیا ، تو اللہ نے ان سے ان کے نفسوں کو بھلا دیا ۔

 اپور

 کیفیات ِ باطنی پر اطلاع ?دیکھو جی ، یہ تثلیث پرست آئے?

فقیر اور امیر میںیہ فرق ہے کہ فقیر بے سرو سامانی سے کام کرتا ہے اور امیر سازو سامان کیساتھ ۔ امیر سازوسامان کا محتاج ہے اور فقیر لا احتیاج ۔ سازو مان سے شاہد تم یہ سمجھوکہ بغیر سازو سامان کے کوئی کام نہیں ہو سکتا ۔ یہ تمہاری سخت غلطی ہو گی ۔ فقیر بطور خود مرکز ہے سازو سامان کا دل چاہئے۔ہمت چاہیے۔ استقلال اور ثابت قدمی چاہیے ۔ یہ اصل سرمایہ ہے جو فقیر کو قدرتی طور پر نصیب ہے۔ اس واسطے اسے کسی ظاہری سازو سامان کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی ۔ذرا اپنے دل کے اندر گھس کر دیکھو تو معلوم ہو گاکہ صحیح سازو سامان کہاں سے آتے ہیں کونسی طاقت ہے جو انہیں پیدا کرتی ہے اور کونسی قوت ہے جو ان کو اپنے تابع رکھتی ہے اس کا صر ف ایک ہی جواب ہے کہ وہ انسان کا د ل ہے۔ دل بے صبر کو اللہ سمجھے ہوا باعث یہی ناکامیوںکا امیر صاحب ِسامان ہے اور فقیر صاحب دل ہے دل اگر درست ہے تو سب کچھ درست ہے دل اگر کھوٹا ہے تو دنیا کا تمام سازو سامان بیکار ہے۔ جنہوں نے اپنے دل کو اپاہج بنا لیا نکما کرلیا اور بے مصروف ٹھہرا لیا تو وہ کوڑی کے کام کا بھی نہیں ۔ دل وار فتہ نے کیا خوب سمجھ پائی ہے اس کے ہر ظلم کو اپنی ہی تمنا سمجھا تعریف تو اس شخص کی ہے جو بے سرو سامانی کے باوجود اپنے ارد گرد اپنی دنیا کو خوبصورت بناتا ہے ۔ جس کا پیدا کرنیوالا خالق(برہما) ہے جس کا اہتمام کرنیوالا اور پالن پوشن (پرورش ) کرنیوالا (وشنو) ہے اور جس کا ملنگھار کرنیوالا جس کو اپنی ذات میں محو کرنیوالا جیو ( آدم) ہے۔ ایساشخص قابلِ تعریف ہی نہیں بلکہ مرد ہے۔ دل اگر قابو میں نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ۔ ایسے بزدل سے کچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔ بزدل میں بھی دل ہے مگر خالی و کمزور۔ میرا دل لیکے تو دل سے نکل جائے نہو گا یہ تو اے ظالم نہوگا صاحبِ دل کا دل طاقتور ہوتا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ اس صاحب دل میں طاقت کہاں سے آتی ہے ایک منشی ہاتھ میں قلم لیکر لکھنے لگ جاتا ہے۔نہایت ہی خوشخط لکھتا ہے۔ دیکھنے والے بھی تعریف کرتے ہیں ۔ مگر قلم خود نہیں لکھتا بلکہ لکھنے والا کوئی اور ہے۔ لالہ بھگوان سہانے صاحب تحصیلدار ایک روز کہنے لگے خوشنویس آدمی سر کنڈے سے نہایت خوبصورت تحریر لکھ کر دکھا سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہ طاقت قلم میں نہیں بلکہ کسی اور کی ہے تم کہو گے کہ یہ طاقت لکھنے والے کے ہاتھ میں ہے جو قلم کو اپنی انگلیوں کی گرفت کے ماتحت کرلیتا ہے ۔ قطعہ ہر شاخ میں ہے شگوفہ کاری ثمرہ ہے قلم کا حمد باری پانچ انگلیوں میں یہ حرف ِ زن ہے۔ یعنی کہ مطیع پنجتن ﺭﺿ ہے۔ لو قلم کی تعریف کی حد ہو چکی کمزور لکڑی پانچ انگلیوں کی پنجے کی گرفت میں آکر اپنی خو ش روانی کا تماشہ دکھاتی ہے۔ ابھی تک تو قلم کی تعریف تھی اب پانچ انگلیوں کی تعریف ہوگی۔ اب یہ پانچ انگلیوں والا پنجہ کس کے ماتحت ہے۔ سن لو یہ ہاتھ کے ماتحت ہے۔ تین صورتیں دکھائی گئیں ۔ قلم انگلیوں والا پنجہ اور ہاتھ ۔ ذرا آگے بڑھو۔ یہ ہاتھ کس کے اختیار میں ہے۔ یا بطور خود آزاد ہے۔ یا یہ کسی کا دست نگر غور کرنے پر پتہ لگا کہ یہ دل کا محتاج ہے دل اگر نہ چاہے تو ہاتھ کبھی قلم کو نہ اٹھائیگا دل کے اندر اگر تحریر کا خیال نہ آتا تو تم خود جانتے ہو بے جان سرکنڈا کیا کام کر سکتا ہے۔ یہ دل ہی تو ہے جو ہر کام پر قادر ہے اور قادر ہو سکتا ہے۔ تین چھوڑ چوتھا پدونھا ست نام ست گردگتی چنھا ان اناڑیوں سے کوئی پوچھے کہ وہ کونسے تین پد ہیں جو چھوڑے گئے اور وہ کونسا چوتھا پد ہے جس کی شناخت اور شناسائی کی ہدایت کی ہے ۔ قلم گیا ۔ ہاتھ گیا دل گیا۔ تینوں چھوٹ گئے ۔ جس چوتھے پد کے پہچان کی ہدایت کی گئی وہ کیا ہے ۔ وہ صر ف تمھاری آتما ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پندھ بھی چھوٹ جائے ۔ برہمانڈ اور پر بر ہمانڈ بھی چھوٹ جائے۔ منزل بہ منزل راستوں کو طے کرتے ہوئے چوتھے پد کی طرف چلے جاﺅ اور اس میں جا کر محویت اور جذبیت کا درجہ حاصل کرو ۔ا س کا نام ستھ ہے ۔ ستھ کہتے ہیں ، ہستی کو اور ستھ مطلقیت کو جب مطلقیت کا درجہ آجاتا ہے ۔ اس وقت یہ تینوں تر لوکیاں خود بخود چھوٹ جاتی ہیں اوراصلی ہستی اور اصلی حقیقت کے اندر سالک گم ہو جاتا ہے۔ سدیھم ایتنا فی الافاق وفی الانفس قطعہ خود اپنی ہی ذات سے محبت کیجئے جتنا ممکن ہو اپنی عزت کیجئے ٍ مجموعہ ایات الہٰی ہے یہی قرآن وجود کی تلاوت کیجئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جسم ، دل ، روح ، تینو ں کی نظر سے اپنی ہستی کو مٹا دے تو صرف مطلقیت باقی رہ جائے گی۔ اس میں مٹ جائے اور گم ہو جائے تو اس کا نام وصال ِ حق یا کیولیہ پرم پد اور نردان ہے ۔ تثلیث کی حقیقت واضح کر دی گئی ہے ۔ تاکہ منزل ِ فقراءپر چلنے والے غافل نہ رہیں۔

 اپور

 

 

فہرست

  1. ہوا بول رہی ہے

  2. خیر و شر

  3. خطرات

  4. تیرے دم کا ظہور

  5. پنجرہ میں کبوتر

  6. تعلیم ایثار

  7. ایثار کی تعلیم

  8. اللہ ہی اللہ ہے

  9. ہم سے کم کسی کو نہیں سمجھتے

  10.  یک در گیر

  11. کتا مار کر لا

  12. طلب کی کتاب

  13. خدا پر احسان

  14. رزق کے ادب کی تعلیم

  15. وظائف کی تعلیم

  16. تلاوت

  17. کیا گھاس کاٹ رہا ہے

  18. تاکید

  19. لال کتاب پڑھتے

  20. تلسی کے پتے

  21. بہت دن میلا کھایا

  22. غلاظت کھانا

  23. طمانچہ اور تعلیم

  24. نوے دن صرف چائے

  25. تثلیث کی حقیقت

  26. ماں کی خدمت کا سبق

  27. کولھو کے بیل

  28. سید محمد رفیع صاحب

  29. سلا م کا جواب

  30. فسادی آدمی

  31. رزق حلال کی تلقین

  32. دست سوال دراز کرنا

  33. مانگ کر نہیں پہنتے

  34. سود

  35. نشہ سے پرہیز

  36. علم لدنی

  37. ناجائز رقم کی نذر قبول نہیں کی

  38. ہاتھ پیر کاٹ دیئے جائیں گے

  39. توحید مکمل

  40. ایفائے نذر

  41. پتہ بچھو

  42. زنا سے منع

  43. بڑے نجاس

  44. شغل میت

  45. اسم اللہ ہو

  46. بانسری کی آواز

  47. پاس انفاس

  48. قرآن کی عطا

  49. تکمیل النفس

  50. کیفیات ِ باطنی پر اطلاع

 
 

جملہ حقوق بحق © ٢٠٠١ - ٢٠٠۷ امہ تاجیہ® ٹرسٹ
ہر قسم کے جملہ حقوق محفوظ ہیں-

اصول براۓ اخفائے راز - اصول براۓ جملہ حقوق

تریک و تخلیق برعایہ
باحصول اطلاعات و معلومات ربط کیجئے
webmaster@TajBaba.com