|
اپور
۳- خاصاحب عبدالرحمن خان تاجی کا بڑا لڑکا رشید الرحمن حضور کے سامنے کھیل رہا تھا بالکل گود کا بچہ تھا حضور اسے پیار سے دیکھ رہے تھے اس معصوم نے حضور کے بالکل قریب پیشاب کر دیا- خدام ناراض ہو کر کہنے لگے- اٹھؤ اس بچے کو آپ لوگ چھوٹے بچوں کو کیوں ساتھ لاتے ہیں- پاکی ناپاکی کا خیال نہیں رکھتے حضور سن کر خدام کی طرف متوجہ ہوئے اور ڈانٹ کر فرمایا رہنے دے رے آدمی کا بچہ ہے مطلب یہ ہے کہ محبت میں سب جائز ہے -
اپور
علی الدین صاحب ہاشمی سپرنٹنڈنت کھارو اسٹیٹ سینٹرل انڈیا سید ظفر حسین صاحب جو سرکار کے بہت چہیتے غلام تھے ان کے بہت گہرے دوست تھے- سرکار میں اکثر چھٹی لے کر حاضر ہوا کرتے تھے- اور حکیم ﺭﺿ صاحب کے مہمان ہوتے ایک روزگار نجہ کھیک میں حکیم صاحب، علی الدین صاحب حرمزجی صاحب کی چوری کی دوکان پر بیٹھے ہوئے تھے- علی الدین صاحب نے شکایتہ یہ جملے کہے کہ باوا صاحب ﺭﺿ اب ہمیں جلدی جلدی نہیں بلاتے کبھی دیدار بھی نہیں دیتے- یہ کہنا ختم ہوا تھا کہ سرکار نے اپنا تانگہ دکان کے سمانے رکوا دیا اور اتر کر علی الدین صاحب کی گردن تھام کر فرمایا ?تاج الدین کی لگی ہوئی سیاہی نہیں چھوٹتی- یہ فرما کر علی الدین صاحب پر یہ ثابت کر دیا کہ ہم تمہاری یاد کے ساتھ ہیں -
اپور
ایک روز سرکار کو ایک غلام نہ باوا کہہ کر مخاطب فرمایا- میرے آقا کے قربان، فرماتے ہیں ?میں تو تیری ماں ہوں رے? حقیقت یہی ہے مؤں سے زیادہ سرکار نے اپنے بچوں سے محبت فرمائی ہے-
اپور
احمد خان صاحب اکولے والوں کو سرکار نے واکی شریف کے اسپتال میں ٹھہرایا تھا- وہاں ان کو رات میں انگلی (سیاہ قسم کا بڑا بچھو) نے ڈنگ مار دیا- اس بچھو میں بے حد زہر ہوتا ہے- اس کے اثر سے خان صاحب کو بے حد تکلیف تھی- اور کافی پسینہ آ رہا تھا کوئی علاج کارگرنہ ہوا تب حضور کو اطلاع دی گئی میں اس رہبر پر قربان، خان صاحب کی محبت میں آپ کو جلال آگیا- اپنی چادر مبارک کو آسمان کی طرف تان کر فرمایا ? بیلاں بہت ستاتے ہیں? یاد رکھنا میرا نام تاج الدین ہے ! آج سے کسی نے میرے کسی بھی بچے کو چھیڑا تو تختہ زمین الٹ دوں گا? خان صاحب کا زہر تو سرکار کو خبر پہنچتے ہی اتر گیا تھا- اس روز کے بعد سے آج تک سانپ ، بچھو، یا کسی زہریلے جانور نے کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی-
اپور
واکی شریف میں جہاں پلنگ مبارک رکھا ہے- وہاں شیر اکثر حاضر ہو کر سلامی دیتا ہے- لیکن کبھی کسی کو غرا کر بھی نہیں دیکھتا- واکی شریف کے میدان میں بندر کافی تعداد میں ہوتے ہیں لیکن عرس واکی شریف کے دوران تےن ،چار روز بند ر بالکل غائب رہتے ہیں - واکی کے ششماہی عرس میں بھی بہت بڑا اجتماع ہوتا ہے جس میں عورتیں اور بچوں کی بھی کافی تعداد ہوتی ہے وہاں بندر کسی کو پریشان نہیں کرتے اس کے باوجود بچے اور عورتیں کہیں ان کو دیکھ کر ڈر اور خوف محسوس نہ کریں اس لئے وہ خود کہیں اور چلے جاتے ہیں- اللہ کے ولی کی یہ شان آج بھی دیکھی جا سکتی ہے-
اپور
سرکار تاج الاولیاءکے خدمت میں چند پٹھان حاضر ہوئے - ان لوگوں کو پھانسی کا حکم ہو چکا تھا- اپیل کرنا چاہتے تھے- سرکار سے دعاءکے لئے مرض کئے- سرکار نے فرمایا ?رولی میں ہمارے سجادہ سے دعا ءکرؤ? یہ لوگ ردولی شریف حضرت شاہ حیات احمد صاحب ﺭﺿ ردولی شریف کی گدی کے سجادہ نشین گورنمنٹ آف انڈیا کی طرف سے خان بہادر اور آنیری مجسٹریٹ ہونے کے علاوہ بہت بڑے جاگیرد ار بھی تھے- یہ لوگ جس وقت شاہ صاحب ﺭﺿ کی خدمت میں پہنچے شاہ صاحب ﺭﺿ تاش کھیلنے میں ایسے مصروف تھے کہ ان حضرات کی جانب کوئی توجہ نہ دی- یہ لوگ تھوڑ ی دیر انتظار کے بعد بد گمان ہو کر پھرناگپور سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء کی خدمت میں پہنچے- سرکار نے جلال میں فرمایا ?ہمارا سجادہ چاہے تاش کھیلے? کچھ بھی کرے تم کون ہو تے ہو؟ اگر پھانسی سے بچانا ہے تو اسی سے دعاءکرؤ - یہ لوگ تو بے حد پریشان تھے دوبارہ رد ولی شریف شاہ صاحب ﺭﺿ کی خدمت میں پہنچے - اس مرتبہ شاہ صاحب ﺭﺿ ﺭﺿ نے ان لوگوں سے دریافت کیا - تم لوگ پہلے بھی آئے تھے- اور بغیر کچھ بات بتائے چلے گئے- کیا معاملہ ہے- بتؤ ان لوگوں نے اپنے مقدمہ کی تفصیل معہ حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کے حکم کے بیان کی اور یہ عرض کیا کہ اب صرف آپ کی دعا کی ضرورت ہے- سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کے جملہ سن کر شاہ صاحب ﺭﺿ پر ایک خاص کیفیت طری ہوئی آپ نے دو رکعت نماز شکرانہ ادا کر کے بہت دیر تک روتے ہوئے سجدہ میں سر رکھ کر دعا کی- سجدہ سے سر اٹھا کر ان لوگوں سے فرمایا ?جاؤ تمہارا بھی کام ہو گیا اور میرا بھی کام ہو گیا-?
اپور
راوی حضرت یوسف شاہ تاجی
ایک روز فرمایا حضور بڑے دادا تاج الاولیاء کبھی کبھی مزاح بھی فرمایا کرتے تھے-
ایک صاحب نے شکایت کی کہ حضور تک رسائی ہونا امر دشوار ہے، کوئی تدبیر بتائیے، ارشاد ہوا:-
?حضرت بیلوں سے سلام کرتے ہیں اور آجاتے ہیں?
وہ بےچارے جہاں کہیں شکردرہ کے آس پاس بیلوں کو دیکھتے ان سے سلام کرتے پھر بھی حاضری کا موقعہ نہ ملتا مجبورا انھوں نے حضور کے ارشاد کا مطلب ہم سے پوچھا، ہم ن کہا مطلب یہ ہے کہ ان پہلوانوں سے جو دربانی کرتے ہیں سلام کیا کرو، انھوں نے اس پر عمل کیا اور حاضری میں کامیاب ہو گئے-
اپور
ایک روز فرمایا کہ بڑے دادا تاج الاولیاء حاضر و غائب اپنے بچوں کے محافظ و نگراں ہیں، مشکلات میں حاجت روائی پریشانیوں میں عقدہ کشائی آپ کی عادت خصوصی ہے جو مافوق العادات صورتوں میں ظاہر ہوتی رہتی ہے -
اپور
بڑے دادا تاج الاولیاء اپنے بچوں پر نہایت مہربان و شفیق تھے، آپ کا قو ہم بڑھ کر اس کی آنکھیں نکال لیتے ہیں، یہاں دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں (کلمہ دانی بیچ والی سے ) بڑے دادا تاج الاولیاء نے اشارہ فرمایا
دست پیراز غائبان کوتاہ نیست
دست اوجز قبضئہ اللہ نیست
اپور
شرف الحق صاحب ایم اے اور ایل ٹی کے امتحانات کے شرف الحق اس جز کو سن کر بہت مغموم ہوئے اور پڑھائی سے طبعیت بالکل اچٹ گئی امتحانات قریب تھے کہ حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء قبلہ کو خواب میں دیکھا کہ انھیں گود میں بچوں کی طرح بہلا رہے ہیں اور فرمارہے ہیں :-
?بیٹا غم نہیں کرتے ، دنیا فانی ہے- دیکھو میں بھی نہیں رہا سب کا حشر یہی ہونا ہے،
اپنا دھیان اور توجہ پوری پوری پڑھائی میں لگا رکھ اور صبر کر ?
صبح کو ان کے دل میں اطمینان کی کیفیت پیدا ہوئی اور توجہ سے امتحانات کی تیاری کرنے لگے، آخر دونوں امتحانات میں کامیاب ہوئے-
اپور
حضرت مولانا عبدالرکیم شاہ صاحب ﺭﺿ کے ایک خلیفہ اقبال صاحب کا تاج آباد شریف میں کچھ دن قیام رہا سرکار نے انہیں کچھ نواز بھی دیا تھا- دربا ر میں کچھ ناجائز حرکت دیکھ کر ان کو صدمہ ہوا - ناجائز حرکت کرنے والوں کی انہوں نے پٹائی کر دی-
اس کے بعد سرکار کو خواب میں دیکھا جن لوگوں کی اقبال صاحب نے پٹائی کی تھی ان کے کپڑے سرکار ایک تالاب پر دھو رہے ہیں یہ دوڑے ہوئے سرکار کے قریب پہنچے اور سرکار سے عرض کی - یہ خدمت مجھے سپرد کر دیجئے اس پر شفیع المرنبیسن کے لاڈلے نے فرمایا
?ہمارے بچوں کے گندے کپڑے ہم ہی دھوتے ہیں ?
حضرت مولانا ﺭﺿ کو اقبال صاحب نے پورا واقعہ لکھ کر روانہ کیا- حضرت مولانا ﺭﺿ نے فورا جواب دیا- ہم نے تجھے دربار میں لوگوں کے عیب دیکھنے کے لئے نہیں رکھا فورا دربار سے نکل جاؤ-
محمد فرید خاں صاحب فضا ، حال مقیم کراچی، ایک صاحب زھد و تقوی بزرگ ہیں ۱۰۹۱ءسے حضور تاج الاولیاءبابا تاج الدین علیہ الرحمة کی خدمت میں برابر حاضر ہوتے رہے- آپ اُس وقت ناگپور انجمن اسکول میں ہیڈ ماسٹر تھے-
اپور
یہ ۸۱۹۱ءکا واقعہ ہے، میں لال محل کے سامنے ، سائبان میں پر تکلف فرش بچھا ہوا تھا بڑے دادا تاج الاولیاء زرنگار قالین پر ریشمی عمامہ زیب سر کئے ہوئے تشریف فرما تھے - کم از کم دو ہزار افراد مؤدب صف بستہ چاروں طرف حاضر تھے- سماع ہو رہا تھا، بغرض قدم بوسی میں بھی ذرا آگے بڑثا، مگر حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء کے رعب و داب اور تزک احتشام دیکھ کر میری ہمت نہ ہوئی کہ مزید آگے بڑھوں دور ہی سے تعظیما جھکا اور سلام نیاز عرض کر کے سید احمد صاحب پٹیل کے پاس چلا گیا -
پٹیل صاحب کئی مواضعات کے مالک - اور ایک ممتاز زمیندار تھے، بڑے دادا تاج الاولیاء کے برے فدائی تھے، آخر میں تارک الدنیا ہو کر بڑے دادا تاج الاولیاء کی خدمت میں حاضر ہو گئے تھے، وہ اس زمانے میں اسی بؤلی میں مقیم تھے جہاں حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء یوسف شاہ تاجی ﺭﺿ کو حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء نے بٹھایا تھا -
میرے پہنچتے ہی پٹیل صاحب نے مجھ سے استفسار کیا کہ بڑے دادا تاج الاولیاء کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہوا- میں نے عرص کیا نہیں؟ حضرت کے شاہانہ رعب و جلال کی وجہ سے میری ہمت نہیں پڑی کہ قدم بوسی کا شرف حاصل کرتا- دور ہی سے سلام کرکے چلا آیا پھر کبھی حاضر ہو جاؤ گا-
پٹیل صاحب نے فرمایا کہ بیٹھو ، حضور ابھی تشریف لاتے ہیں، اس بات کو بمشکل پانچ منٹ گذرے ہوں گے کہ مجمع اور ہجوم کی سی آوازیں آنی شروع ہو ئیں- ہم نے آگے بڑھ کر دیکھا تو سب سے آگے حضور اور ان کے پیچھے مجمع چلا آ رہا ہے میں اور پٹیل صاحب باولی کے سہارے کھڑے تھے - حضور سیدھے ہمارے پاس تشریف لائے میں نے قدم بوسی کی، حضور نے فرمایا، چلو ?حضرت جنگل چلتے ہیں ?
اپور
حاجی احمد ڈاما تاجی حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کے ان بچوں میں ہیں جو بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کے نام پر تن من دھن قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں- سرکار تاج الاولیاءکا ان پر خصوصی کرم ہے اس کے باوجود ان کی انکساری کا یہ حال ہے کہ خود کو سرکار کا کمینہ کتا کہتے ہیں- قارئین مندرجہ واقعہ سے اندازہ کریں کہ میرے آقا کا ان پر کتنا کرم ہے - ہری مسجد بھیسم پورہ میں حضرت امام شاہ بخاری ﺭﺿ کا مزار مبارک ہے ڈاما صاحب وہاں پر انے حاضر باش ہیں ۱٦۹۱ءکی ایک حاضری میں ان کے ساتھ ایک خصوصی واقعہ پیش آیا جو ان کی زبانی پیش قارئیں ہے- (قاضی محمد علی تاجی)
۱٦۹۱ء میں ? میں حضرت امام شاہ بخاری ﺭﺿ کے مزار مبارک پر حسب معمول حاضر ہوا- فاتحہ پڑھ کر مزار شریف سے باہر آیا- تو روڈ پر ایک سفید ریش- نورانی چہرہ کے بزرگ کو میری طرف آتے دیکھا وہ بزرگ میرے سامنے آ کر کھرے ہو گئے اور مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا - ?مجھے کچھ دو?
ان کے اس سوال پر میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں تو ایک ماڈرن آدمی ہوں یہ چہرہ اور لباس سے بزرگ معلوم ہوتے ہیں - میں انہیں کیا دے سکتا ہوں- چنانچہ میں نے ان کو مزار مبارک کی طرف ہی رجوع کرنا مناسب سمجھتے ہوئے ان سے عرض کیا آپ اندر جا کر حاضری دیں اور فاتحہ پڑھیں -
اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا ? مجھے اندر جانے کی ضرورت ہے اور نہ فاتحہ پڑھنے کی یہ فرما کر وہ درگاہ کے مجاور کے پاس گئے میں دیکھتا رہا- لوٹ کر پھر میرے پاس آئے اور مجاور کی طرف اشارہ کر کے مجھ سے کہا- نہ وہ مرد ہے اور نہ تو مرد - ان کے یہ الفاظ سن کر مجھے خیال ہوا کہ یہ تو کچھ روحانیت کی بات کر رہے ہیں اس پر میں نے ان سے عرض کیا اگر آپ میں طاقت ہے تو مر د بنا دیجئے- اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا- تم بمبئی اور دیگر جگہ جاتے رہتے ہو اور مجھے کچھ نہیں دیتے، یہ فرماتے ہی ان کی کچھ عجیب کیفیت ہوئی اور مجھ سے فرماتے لگے تمہاری آواز اب مجھے کچھ جانی پہچانی لگ رہی ہے تم بتؤ تم کون ہو یہ سننا تھا کہ مجھ پر ایک کیف طاری ہو گیا اور یہ محسوس ہوا کہ میرے اندر سے کوئی بول رہا ہے اور
لیکن میرے اندر جو قوت پیدا ہو گئی تھی اس کی وجہ سے میں اپنی جگہ اسی طرح کھڑا تھا- یکایک میری زبان سے پھر وہی الفاظ نکلے- اندر جاؤ اور حاضری دے کر فاتحہ پڑھو چنانچہ وہ میرے ہمراہ اندر درگاہ میں گئے اور وہاں فرمایا میں ولی اللہ - میرا بھائی لال شاہ ولی اللہ- میں نے نظام الدین اولیاءمیں حاضری دی- خواجہ غریب نواز ﺭﺿ میں حاضر ہوا- لیکن بابا تاج جو تو نے دیا وہ کسی نے نہیں دیا- یہ فرما کر میرا ہاتھ لے کر چومنا شروع کیا اور پھر منہ میں لے کر چومنا شروع کیا- اس وقت مجھے یہ خیال آیا کہ یہ کہیں ہاتھ چبا نہ لیں- یہ خیال آتے ہی، انہوں نے رو - رو کر فرمایا- تاج بابا اگر آپ نے معاف نہیں کیا تو مہیں کہیں کا نہیں رہوں گا- ان کے یہ الفاظ سننے کے ساتھ ہی سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ نے مجھے ایک ایسی روشنی عطا کی جس سے یہ سمجھ میں آیا کہ سرکار فرما رہے ہیں ہمارے بچے کو نا مرد کہنے والے کو ہم اس طرح نا مرد بنا دیتے ہیں - اسی وقت انہوں نے میرا ہاتھ تو چھوڑ دیا لیکن گڑ گڑا رہے ہے- میں ان کو وہیں در گاہ چھوڑ کر روانہ ہو گیا اس کے بعد ان سے میری ملاقات نہیں ہوئی-
بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کے بچہ کو نا مرد کہنے والے حال آپ نے دیکھا- حقیقت یہی ہے کہ بابا کے ادنی سے ادنی بچے کی سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء اسی طرح نگہبانی فرماتے ہیں - یہ واقعہ تو بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کے سچے بچے غلام کا ہے- میرے آقا تو جھوٹے سچے نام لینے والوں کا بھی کام چلاتے ہیں -
اپور
یہ اللہ والے لوگ اپنے نفسوں کو خوب جان لیتے ہیں - اور اپنی عبادت ریاضت - مجاہدہ سب اسی کے لئے کرتے ہیں - نہ ان کو دوزخ سے غرض اور نہ جنت کی خواہش اسی سلسلہ کا ایک واقعہ پیش ہے-
حضور اپنے بچوں کے اجتماع کو میری پلٹن کہ کر مخاطب کرتے تھے ایک روز اپنی پلٹن سے مخاطب ہو کر فرمایا ?جو جنت میں جانا چاہتا ہے- ہاتھ اٹھائے ہینڈز آپ خوشی میں قریب قریب ساری پلٹن نے ہاتھ اٹھائے اس کے بعد فرمایا ?ہینڈز ڈؤن، ہاتھ نیچے کرو اس کے تھوڑی دیر بعد فرما یا? اچھا ! اب جو ہمارے ساتھ رہنا چاہتا ہے ہاتھ اٹھائے ہینڈز آپ اس مرتبہ صرف ان حضرات ہی نے ہاتھ اٹھائے جن کو سرکار نے فہم عطا کی تھی - یہ مظاہرہ چلتے چلتے ہو رہا تھا جن موخر الذکر غلاموں نے یہ سمجھ کر ہاتھ اٹھایا تھا کے ?دوزخ ہمیں پسند ہے ہمراہ آپ کے? ان کے لئے فرمان ہوا تم ہمارے ساتھ رہو سرکار نبی کریم ﷺ شفیع المرسلین ﷺ ہر عاصی کی شفاعت کر کے ہی روانہ ہوں گے - ہمارے زمانہ میں بھی ان کے مظہر نے ہم پر اسی طرح کی شفقت کا مظاہرہ فرمایا کہ ہر برے کو اپنی آغوش رحمت میں رکھ کر دکھایا- کہ ہم ہیں اس ذات رسالت مآب ﷺ کے مندرجہ ذیل حدیث شریف کے عامل - شفاعی لذہل الکبائر من امتی-
مندرجہ بالا واقعہ سے ہمیں یہ تعلیم ملتی ہے- کہ عبادت، ریاضت ، جنت کے لئے نہیں، بلکہ صرف اور صرف اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے انجام دو- اللہ والے صرف اللہ سے محبت کرتے ہیں -
اپور
میرے سرکار نے فرمایا تھا کہ میں قبر میں ٹھونس ٹھونس کر بھر دوں گا? آپ کے ایک بچے کے آخری لمحات سے چند روز قبل جو سنا اور دیکھا وہ پیش قارئین ہے-
جناب ڈاکٹر محمد بشیر صاحب ﺭﺿ کا قیام ناگپور شریف میں رہا- وہاں کے سرکاری اسپتال میں آپ ڈاکٹر رہے- سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ ایک مرتبہ ان کے مکان پر بھی رونق افروز ہوئے تھے - کراچی میں حضرت قاضی باب ﺭﺿ سے بے حد محبت فرما تے تھے رمضان شریف میں بیمار ہوئے - (میں (قاضی محمد علی تاجی) عیادت کے لئے ان کی خدمت میں گیا- تو آپ نے فرمایا ?پریشان ہونے کی ضرورت نہیں میں ابھی نہیں جاتا? چھ روز بعد پھر ان کی خدمت میں حاضر ہوا- تو مجھے دیکھتے ہی سینہ ٹھونک کر فرمایا - میاں میرا سینہ نور سے مامور ہو گیا ہے- اب بلائیں گے تو چلا جاؤں گا- چنانچہ ۴۲ رمضان المبارک کو آپ کا وصال ہوا - ان ہی بزرگ نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا تھا ?میں فرید خان صاحب فضا ﺭﺿ کو ایک بات کہنا بھول گیا - وہ یہ کہ اللہ عزو جل جب واپس بلاتے ہیں تو ہمارے ان بزرگوں کو جو پہلے پردہ کر چکے ہیں لا کر سامنے کر دیتے ہیں- میں یہ بتانا چاہتا تھا کہ کوئی آئے نہ جاتا جب تک بڑے دادا تاج الاولیاء تشریف نہ لائیں - اللہ اللہ جس آقائے بچوں کی یہ شان ہو اس آقا کے متعلق کیا لکھا جا سکتا ہے- ڈاکٹر صاحب بھی خانقاہ مجدیہ تاجیہ لیاقت آباد میں آرام فرما ہیں -
اپور
ماہ نامہ اردو ڈائجسٹ میں بابا تاج الدین ﺭﺿ سے متعلق واقعات ?تاج الدین ﺭﺿ بابا? کے عنوان سے شائع ہوئے تھے۔ ان واقعات کے راوی خان رشےد صاحب ہیں ۔ ماہ نامہ اردو ڈائجسٹ کے شکرےے کے ساتھ ان واقعات کی تلخےص پیش کی جارہی ہے۔
اپور
نوجوان عثمان اسسٹنٹ اسٹےشن ماسٹر کی حثیت سے ناگ پور تعینات کیا
گیا۔ اس نے جس بنگلے میں قیام کیا وہ آسےب زدہ مشہور تھا۔ لوگوںنے اسے پہلے پیش آنے والے واقعات سنا کر بنگلے میں قیام کے ارادے سے یاد رکھنا چاہا ۔ انگریز اسٹےشن ماسٹر، نورص نے بھی منع کیا ۔ لیکن اس نے ان باتوں پر توجہ نہ دی۔ رات کو بارہ بجے جب عثمان بستر پر لےٹا ہوا تھا، باہر کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی ۔ پھر کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی ۔ اور چےخےں بلد ہوئےں ۔ کچھ ہی دےر گزری تھی کہ بنگلے کے اطاطے میں ایک زور دار قہقہ گونجا ۔ اور کسی کے دوڑنے کی آواز آئی ۔ صبح عثمان کمرے سے باہر نکلا تو یہ دیکھ کر حیران رہ
گیا کہ بر آمدے میں ہلدی میں پکے ہوئے چاول اور مٹی کی ایک ہنڈ یا ٹوٹی پڑی تھی۔ اگلی رات بھی اس سے ملتا جلتا شور سنائی
دیا ۔اور صبح برآمد ے میں ایک انسانی ہاتھ پڑا ہواملا ۔
ان حالات کے باعث عثمان کے اعصاب جواب دے گئے اور اگلی رات اس نے ایک ہوٹل میں گزاری۔ حسبِ عادت صبح عثمان جب چہل قدمی کے لئے نکلا تو ایک جگہ لوگوں کا ہجوم دیکھ رک
گیا سبز پوش بوڑھے کے پےچھے لگاہو اتھا جو منہ ہی منہ میں کچھ بول رہا تھا۔ اس دوران بوڑھا ٹانگے میں سوار ہو کر ایک طرف روانہ ہو
گیا۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہ بزرگ تاج الدین باب ﺭﺿ ہیں۔ عثمان پہلے بھی تاج الدین بابا کا تذکرہ ایک ولی اللہ کی حثیت سے سن چکا تھا۔
اپور
سےر کے دوران عثمان کالج کے قریب سے گزررہا تھا کہ ایک ہم وطن عبدالغفار نے آواز دی۔ وہ ان دنوں قانوں کا طالب علم تھا ۔ اس کے
جیل پور کے دو اور ساتھی فضل الکریم اور عباسی بھی اس کے ساتھ تھے۔
نہیں عثمان کی آمد کا علم ہو تو خوشی میں چائے پر مدعو کر لیا۔
مقبر رہ وقت پر وہ ہاسٹل پہنچ گیا۔ چلو چائے شہر میں پئےں گے۔ ?نے کہا موقع ملا تو تاج الدین بابا سے بھی مل لےں گے۔
سارے راستے اسی نو ع کی گفتگو ہوتی رہی ۔ اسی میں معراج کا مسئلہ چل نکلا فضل الکریم روحانی اور عبدالغفار جسمانی معراج کے قاتل تھے۔ ایک اچھے سے ہوٹل میں چائے پی کر وہ لوگ شکردرہ پہنچے تو وہاں عجےب منظر دیکھا۔ ایک فوٹو گرافر بڑا سا کےمرا تپائی پر جمائے بابا ﺭﺿ کی تصویر لےنا چاہتا تھا۔ اور وہ اس پر رضامند نہ تھے۔ تاہم اس کے اصرار پر کرسی پر بےٹھ گئے مگر وقت پر ہل جاتے تھے۔ فوٹو گرافر افسردگی سے بولا۔بابا! میں تو آپ کی تصویر فروخت کر کے بال بچوں کا
پیٹ پالنے کی فکر میں تھا مگر آپ کو ذرا خیال
نہیں ?۔
? کیا بولا رے کیا بولا !? بابا تڑپ گئے۔ لے اچھا اتار لے مٹی کی تصویر?۔ تصویر کھےنچ لی گئی ، فوٹو گرافر خوش ہو
گیا۔ معاًبابا کی نگاہ ان چاروں پر پڑی تو تےوری پر بل پڑ گئے ۔ اور بولے ،?انگریزی پڑھ کے آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضور?? کو معراج روحانی ہوئی تھی ?۔
چاروں چونک پڑے اور باب ﺭﺿ اپنے حجرے کی طرف دےے۔ اب نہیں باب ﺭﺿ کے سامنے جانے کی ہمت نہ تھی، واپسی کا ارادہ کیا مگر عثمان اور عبدالغفار آگے بڑھے ایک خدمت گار باب ﺭﺿ کے پاﺅں داپنے کی کوشش کر رہا تھا۔ بابا نے اسے منع کر
دیا ۔ اور عبدالغفارکی جانب دیکھ کر بولے لے رے لڑکے تو پےر دبا?۔
عثمان نے بھی شامل ہونا چاہا لیکن بابا ﺭﺿ نے اسے منع کر
دیا۔ عبدالغفار نے پنڈلی کو ہاتھ لگیا تو وہ بے حد سخت تھی۔ بابانے پٹھے اکڑا لئے تھے۔ دومنٹ بعد اس نے ہاتھ روکتے ہوئے کہا ۔ بابا آپ تو پنڈلی اکڑ ائے بیٹھے ہیں پاﺅں کےسے دباﺅں ؟?
تو ڈھےلی کر لے نا ، لگا سائنس کا زور!?
اس میں سائنس کام نہیں آتی ۔ آپ خود پاﺅں ڈھےلا چھوڑ دےجے ۔? وہ پہلے ہنسے اور کچھ دےر خاموش رہنے کے بعد بولے۔ تو اچھا لڑکا ہے بتا کیا چاہتا ہے۔ بابا! پڑ ھ لکھ کے نوکری تو مل جائے گی مگر خدا کےسے ملے ؟ وہ قدرے چونک کر کہنے لگے۔ محنت کرکے بچے پالتے خدا مل جاتا جی۔ فضل الکریم اور عباسی داخل ہوئے تو ہ ادھر متوجہ ہوگئے۔ کےوں رے ! اب بتا حضور ﷺ کو معراج روحانی ہوئی کہ جسمانی؟ دونوں نے کوئی جواب
نہیں دیا ۔ عبدالغفار بولا ۔ بابا غلطی ہوئی ، معاف کردو ۔
وہ خوش نظر آئے پھر ےوں گویا ہوئے ۔ کرسی پر بےٹھو گے۔ فوٹو اترواﺅگے۔ پھر سمجھ میں آجائےگا۔ اچھا اب تم جاﺅ۔
اپور
عثمان عرض مد عانہ کر سکا اور اٹھ کر چلنے ہی والا تھا کہ باب ﺭﺿ کی آواز آئی ۔ اونالائق ! تو کائے کو ڈرتا ہے؟ ڈنڈا رکھ کے سونا۔ وہ آئےں گے۔ ماردےنا ۔ عثمان ان کی طرف متوجہ ہو ا تو ہنس کے بولے ۔ تےری سمجھ میں بھی آجائے گا۔ معراج جسمانی ہوئی کہ روحانی۔
پھر دوسرے لوگوں کی جانب متوجہ ہو گئے اور مخصوص انداز میں بولنے لگے۔ اسی لمحے عثمان کو بنکٹ راﺅ گارڈ اندر کونے میں بےٹھا نظر آیا ۔وہ ٹکٹکی باندھے بابا کو دیکھے جا رہا تھا۔ اس وقت چھ بجے تھے۔ اور بنکٹ راﺅ کو سوا چھ بجے والی گاڑی لے کر بمبئی جانا تھا ۔ لیکن ابھی تک اس نے وردی بھی
نہیں پہنی تھی۔ اور اتنے کم وقت میں وہ اسٹےشن مشکل ہی سے پہنچ سکتا تھا۔ بابا نے بنکٹ راﺅ کو ?سلمان ? کہ کر مخاطب کیا اور آہستہ سے کچھ کہا۔ اس پر وہ مسکردیا لیکن اسی جگہ بےٹھا رہا ۔
یہ چاروں بابا تاج الدین کی روشن ضمیری سے بے حد متاثر ہو کر اٹھے ۔ عثمان کر تو جیسے چپ ہی لگ گئی تھی۔ ڈنڈا رکھ کے سونا ، وہ آئےں گے۔ مردےنا ? بابا کے الفاظ اس کے ذہن میں گونج رہے تھے اور وہ ان کے مفہوم سے بے خبر تھا ۔ پھر سوچنے لگا ، ڈنڈے سے کیا بنے گا۔
راستے میں عثمان نے تفصےل سے آسےبی بنگلے کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے دوستوں کو بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کی ہدایت بتائی کہ ڈنڈا رکھ کر سونا ۔ وہ سب حیران رہ گیئے اور معمہ حل نہ کر سکے۔ پروگرام بنا کہ پہلے اسٹےشن پر چائے پی جائے اور پھر بھوت بنگلہ کی سےر کی جائے عثمان نے کہا ۔ میں بنکٹ راﺅ کے بارے میں سوچ رہا ہوں ۔ اسے سوا چھ بجے پستجر لے کر اٹاری جانا ہے لیکن وہ تو بابا کے پاس بےٹھا ہے اور واپس آتا نظر بھی
نہیں آیا ۔ سوا چھ بجنے میں ایک منٹ باقی ہے۔ ?
فضل الکریم نے بے ساختہ پوچھا۔ یہ وہی گارڈ تو نہیں جو دوہری شخصےت کی وجہ سے مشہور ہے۔ بیک وقت بابا کے پاس رہتا ہے اور ڈےوٹی پر بھی سنتا ہے بڑے دادا تاج الاولیاء کا خص معقد اور فنانی الشےخ ہے۔ ? وہ سےدھے اسٹےشن پہنچے اور پلےٹ فارم پر قدام رکھا ہی تھا کہ اٹاری پسنجر سےٹی دے کر روانہ ہوئی ۔ گارڈ کا ڈبہ سامنے سے گزرا اور وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ بنکٹ راﺅ وردی میں طبوس سبز چھنڈی ہلا رہا ہے۔ پھر اس نے
نہیں سر کی جنےش سے سلام کیا اور دور تک مسکراتا رہا ۔ بنکٹ راﺅ کا اتنے کم وقت میں اسٹےشن پہنچ جانا ان کے لئے معما بن
گیا۔ پےھر ایک سا |