Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

ابتدائی حالات

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

حضورﺭﺿ کا سراپا

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

اخلاق حمیدہ

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

نسبت فیضان

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ  کی جامعیت

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

تعلیم و تربیت

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

نظر تاج الاولیاء

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

حیوانات پر تاج الاولیاءکی حکومت

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

طے الارض

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

 انیک روپ میں ایک

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

زندگی عطا کرنا

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

بہ یک نظر دیوانگی

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

امراض کا سلب کرنا

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

احکام شاہی

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

احترام شریعت

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

والیان ریاست اور شہنشاہ ہفت اقلیم

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

مثالی زبان

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

سیاست عالم

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

علات اور وصال کی پیسنگوئی

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ کی شعر و شاعری

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

سرکار تاج الاولیاءکی محبت و شفقت

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

اولاد عطا کرنا

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization
   
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization
   
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

 

بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ کی شعر و شاعری

یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ ایسے لوگ جن کی قوت و فکر و مشاہدہ تیز ہوتی ہیں اور جو حساس طبعیت رکھتے ہیں، اکثر شاعرانہ صلاحیت کے مالک ہوتے ہیں - شاعری ایک ایسا ذریعہ ہے جس کے وسیلے سے طویل مشکل اور گہرے مضامین کو مختصر طور پر اور آسانی سے دوسرے تک پہنچایا جا سکتا ہے- جس بات کے لئے نثری صورت میں کئی صفحات درکار ہوتے ہیں - شعری پیکر میں اسے چند مصرعوں میں ڈھالا جا سکتا ہے-

اولیائے کرام اور صوفیائے عظام کے حالات پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں اکثر حضرات شاعرانہ انداز بیان پر قدرت رکھتے تھے- تاریخ تصوف ایسے کتنے ہی عظیم المرتبت لوگوں کی امین ہے جو عرفان و آگہی کے ساتھ ساتھ اعلی درجہ کے شاعر بھی تھے-

حضرت بابا تاج الدین اولیاء ﺭﺿ نہ صرف شاعرانہ ذوق کے حامل تھے بلکہ شعر گوئی کی صلاحیت بدرجہ کمال ان کے اندر موجود تھی لیکن بے نیازی اور مزاج میں استغراق کی وجہ سے آپ مروجہ طرزوں میں شاعری کی طرف رجوع نہیں ہوئے- جو کچھ بڑے دادا تاج الاولیاء نے کہا اس کو نہ خود ضبط تحریر میں لائے اور نہ ایسے حالات پیدا ہوئے کہ کوئی اور سن کر لکھ لیتا- صرف چند اشعار ریکارڈ میں آسکے- باقی کلام لا علمی اور عدم دستیابی کے اندھیروں میں گم ہو کر رہ گیا- بابا تاج الدین داس ملو کا تخلص کرتے تھے جس کے معنی اللہ کا بندہ ہے-

 

ذیل میں بابا تاج الدین ﺭﺿ کے اشعار، ان کے معنی اور مختصر تشریح پیش کر رہے ہیں تا کہ قارئین کو اشعار کی مغویت سمجھنے میں مدد مل سکے-

(۱)

اجگر کریں نہ چاکری پنچھی کریں نہ کام

داس ملو کا کہہ گئے، سب کے داتا رام

ترجمہ : چو پائے ملازمت نہیں کرتے اور پرندے کاروبار نہیں کرتے پھر بھی رزق ان کو ملتا رہتا ہے- داس ملو کا (بابا تاج الدین ) کا کہنا ہے کہ دوستو! سب کی پرورش کرنے والا اللہ ہے-

(۲)

مائس ہے سب آتما، مائس ہے سب راکھ

بندی کی گنتی نہیں بندی میں سولاکھ

ترجمہ : آدمی سب کا سب رشنی (آتما) ہے اور سب کا سب مٹی (راکھ) بھی ہے- صفر اگر چہ شمار نہیں کیا جاتا لیکن صفر ہی سے گنتی کی قیمت لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے-

تشریح: بڑے دادا تاج الاولیاء آدمی کو محض مٹی (گوشت پوست) سے مرکب تسلیم نہیں کرتے- وہ کہتے ہیں کہ آدمی بظاہر مٹی معلوم ہوتا ہے لیکن مٹی کے ساتھ ساتھ وہ روشنیوں کا مجموعہ بھی ہے- ایسا مجموعہ جو کائنات کی ترجمانی کرتا ہے - مایوس کن بات یہ ہے کہ انسان نے خود کو مظاہر (مٹی) کا پابند بنا رکھا ہے- اگر انسان اپنی ذات (روشنی) سے واقف ہو جائے تو مظاہر (اسپیس) کی گرفت ٹوٹ جاتی ہے اور وہ اپنی مرضی اور اختیار سے مظاہر میں تبدیلی کر سکتا ہے- یہی عرفان نفس ہے -

(۳)

دام ودر کی ریس میں رام کرت گن گائے

پر بھوکی سو گند ہے دشٹ اسے مل جائے

ترجمہ : ظاہر پرست اللہ کی تسبیح اور عبادت کا دکھاوا کرتا ہے - اللہ کی قسم ! اس کو اللہ تو نہیں مل سکتا، البتہ شیطان اسے مل جاتا ہے-

(۴)

تن پاپی، من کا برہ، اجیارے سب کیس

مند کا دیپک نہیں، رشیوں کا سا بھیس

ترجمہ : جسم گناہوں سے آلودہ ہے، دل سیاہ ہو چکا ہے مگر ان چیزوں کو سفید بالوں نے چھپا رکھا ہے- محض اللہ والوں کا حلیہ بنا لینے سے یا ان کے جیسا لباس پہن لینے سے دل کے اندر روشنی نہیں ہو سکتی-

(۵)

سارے بن کی رات میں بن باسی بن جائیں

داس ملو کا ساتھ میں جاگیں اور لہرائیں

ترجمہ : جنگل کی رات میں سہارے آدمی بن جاتے ہیں - داس ملو کا (تاج الدین) ان کے ساتھ جاگتے رہتے ہیں اور خوش گپیاں کرتے رہتے ہیں -

تشریح یہ دو ہا اس زمانے سے تعلق رکھتا ہے جب بڑے دادا تاج الاولیاء رات کو ریاضت و مراقبہ کی غرض سے بابا دؤد مکی ﺭﺿ کے مزار پر جایا کرتے تھے- بڑے دادا تاج الاولیاء کہتے ہیں کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مظاہر بے حس و حرکت ہیں اور ان میں زندگی نہیں ہے لیکن در حقیقت ان میں زندگی کے تمام آثار موجود ہیں - شب بیداری کی وجہ سے موجودات کا باطنی رخ سامنے آجاتا ہے اور تاج الدین ﺭﺿ رات بھر غیبی مشاہدات میں مستفرق رہتے ہیں -

(قاضی بابا سید امجد علی شاہ صاحب تاجی کے قلمی نسخہ سے) سید ضیاءالحق صاحب ﺭﺿ نے حضرت قاضی سید امجد علی شاہ صاحب تاجی سے ان دنوں کا ایک واقعہ سنایا تھا-

جب وہ سی پی میں پولیس کے محکمہ میں سب انسپکٹر تھے ایک رات سرکار کے ہمراہ جنگل میں تھے- اس وقت سرکار ایک بہت بڑے سایہ دار درخت کے نیچے تشریف فرما تھے- درخت کی جڑیں زمین پر آ کر خمدار ہو گئی تھیں- ان جڑوں پر بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ ہاتھ سے تھاپ مار مار کر مندرجہ ذیل شعر پڑھنے لگے-

جگ دو دن کی باجر یا رے سوچ سمجھ کر سودا کر لے

جگ دو دن کی با جر پار نے

یعنی دو دن کا دنیا کا یہ چھوٹا سا بازار ہے اس میں سوچ سمجھ کر سودا کر لے رات کا وقت تھا ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی- بڑے دادا تاج الاولیاء کی آواز میں ناقابل بیان سوز و گداز تھا آواز میں گریہ کی سی بھی کیفیت تھی- حضور کافی دیر تک ان جملوں کو دہراتے رہے جو لوگ آپ کی خدمت میں حاضر تھے ان پر بھی گریہ طاری تھا-

راوی غلام نبی پہلوان : مندرجہ ذیل اشعار بھی سرکار نے پڑھے

(۷)

جدائی تیری کس کو منظور ہے

 زمین سخت ہے آسماں دور ہے

(۸)

اگر دانستم از روز ازل داغ جدائی را

مٹی کر دم بہ دل روشن چراغ آشنائی را

(۹)

سائیں مارے سوٹا فرنگی مارے بان

گولہ سنسناتا رائیپور کے میدان

مندرجہ بالا اشعار سرکار نے حکما گر جی بائی سے بھی سنے

شکردرہ گھوڑ پاگاہ کے سامنے حضور تشریف فرما تھے - کچھ لوگ ناچ کر سرکار کو یہ کلام سنا رہے تھے-

(۱۰)

کیا بانکا وسیلہ مرا محبوب ﷺ خدا ہے

 جس کی ادا دیکھ کے خالق بھی خدا ہے

آپ نے ان سے گھونگرو لے کر خود باندھے اور کیفیت میں رقص فرمایا - اور یہ اشعار پڑھے

(۱۱)

 اللہ کی زبان جو تھی محمد ﷺ کی زبان تھی

جو قول محمد ﷺ تھا وہی قول اللہ تھا

(۱۲)

 میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا

دریا بہا دیئے میں در بے بہا دیئے ہیں

(۱۳)

 سلائے دنیا ہے کوچ کی جا ہر ایک کو خوف دم بدم ہے

نسیم جا گو کمر کو یا بادندھو اٹھؤ بستر کہ رات کم ہے -

 اپور

 
 
 
 

جملہ حقوق بحق © ٢٠٠١ - ٢٠٠۷ امہ تاجیہ® ٹرسٹ
ہر قسم کے جملہ حقوق محفوظ ہیں-

اصول براۓ اخفائے راز - اصول براۓ جملہ حقوق

تریک و تخلیق برعایہ
باحصول اطلاعات و معلومات ربط کیجئے
webmaster@TajBaba.com