|
وصال سے بہت پہلے حضور بڑے دادا تاج الاولیاء نے حضرت باب یوسف شاہ تاجی رحمتہ اللہ علیہ کو موضوع ?بےربٹ? ( جواب تاج آباد کے نام سے مشہور ہے)میں مقےم کر
دیا تھا ، آپ فرماتے تھے کہ ایک دن حضور اس سر زمیں پر تشریف لائے اور اس جگہ سے آپ نے تھوڑی سے مٹی اُٹھا کر جہاں اب مزار ہے ، سنگھا اور فرمایا
?سبحان اللہ ، کیا اچھی مٹی ہے ؟ ?
اپور
حضرت یوسف شاہ تاجی باب یوسف شاہ تاجی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے ایک رات نصف شب بعد حضور شکر درہ راجہ کے شربت محل کی چھت پر رونق افروز تھے، میں مودب فاصلہ پر دم بخود کھڑا تھا ، حضور نے یکبار گی آسمان کی طرف دیکھا اور عجےب بھولے پن کے انداز میں سر پر ہاتھ پھےر کر فرمایا
?اے میرا تاج کہاں ؟ ?
یہ سنتے ہی میرا کلےجہ دھک سے بےٹھ گیا ور سمجھ گیا کہ اب حضور کے وصال کا وقت قریب ہے ، فرمایا ، ابھی دےر ہے ۔
اپور
ماہ ذی القعدہ
١٣٤٣ ھ میں حضور بابا ساھب ایک دن گھومنے کے لئے نکلے اور ڈگوری کے پل پر قیام فرماہوئے ، بے شمار افراد حاضر خدمت تھے اور اپنی اپنی حاجتےں پیش کررہے تھے، حضور نے فرےد الدین صاحب تاجی کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا
?تاج العارفےن سراج السالکےن ، تاج المولک جانتے ہو یہ کون ہے ؟
انھوں نے جواب دیا ، آپ کے سوا کون ہو سکتا ہے ؟
آپ نے فرمایا ?آپ کے سوا کون ہوسکتا ہے ؟
آپ نے فرمایا ?ہو! بابو ?
ایک لمحہ کے بعد پھر فرمایا
?عےد کا چاند دکھ گیا !?
فرےد الدین صاحب تاجی نے عرض کیا کہ رمضان کی عےد ہوچکی ہے ، اب عےد الاضحی ےعنی بقرعےد کا چاند دکھے گا ۔
فرمایا ?ہو بابو ? ۔ اب اس کے بعد چاند نہ دکھے گا ?۔
اپور
داروغہ عزیز الحق جو ناگپور شہر میں سب انسپکٹرپولےس تھے، ان میں بابا کی نظر سے تغیر ہوا اور اب رندانہ ، قلندرانہ زندگی گزار رہے ہیں ان کا بیان ہے کہ بڑے دادا تاج الاولیاء کی علالت کے دوران میں کسی نے عرض کیا ، بابا اچھے ہو جاﺅ تو فرمایا
?اب کیا اچھے ہوں گے ، ہزاروں کنکریاں کھا گئے ?
اپور
مجھے مٹی دیکر جانا
حضرت فرید بابا خان صاحب فضا نے جو انجمن ہائی اسکول میں ہےڈ ماسٹر تھے۔ حےدر آباد دکن کے کسی کالج میں پروفےسر کی آسامی کے لئے درخواست دی تھی یہ واقعہ
١٩٢٥ ہی کا ہے ۔ آپ کو ملاقات کے لئے طلب کیا
گیا ۔ تو سرکار کی خدمت میں اجازت کے لئے حاضر ہوئے افضا صاحب جب بھی ناگپور شریف سے کہیں باہر تشریف لے جاتے تو حضور سے اجازت حاصل کرتے ، حضور سے عرض کے ا۔ فرمایا ?نہیں جاتے ? فرےد صاحب ﺭﺿ نے عرض کیا ۔ یہاں مجھے تنخواہ بہت کم ملتی ہے وہاں یہاں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تنخواہ ملے گی ۔ فرمایا ?پھر بوڑھی اماں کی دیکھ بھال کون کرے
گیا ?۔ اس کے جواب میں فضا صاحب نے عرض کیا ۔ حضور تنخواہ زیادہ ملے گی تو خدمت کےلئے ملازم رکھ لوں گا ?۔ سرکار نے فرمایا ?بڑا ضدی ہے ،
نہیں مانتا اچھا مجھے مٹی دیکر تےن دن بعد چلے جانا ۔ تجھ سے بڑا کام لےنا ہے ۔ تےسرے ہی دن سر کار کا وصال ہوا ۔
اپور
مااہ ذی القعدہ میں حضور کی طبےعت قدرے خراب ہوئی ۔ دو چار دن دست آتے رہے جس کی وجہ سے آپ باہر تشریف نہ لےجا سکے ۔ مہا راجہ سے مقدمہ چل ہی رہا تھا اور ادھر لوگ مہاراجہ کی زمیں سے نکل کر کہیں اور آباد ہونا چاہتے تھے اور ہم لوگ جو کہ چور راستہ پر نزول کی جھونپڑے بنا کر رہتے تھے ۔ نزول دار نے ذرےعہ پولےس ہمارے جھونپڑے کو نکلوانا چاہا ۔ جس پر جناب نواب نیاز الدین خان صاحب نے اپنی چھ یا سات ایکڑ ز میں جو امر دے ڈروڈ پر تھی وہ ہم لوگوں کے رہنے کےت لئے وہی چنانچہ اس زمیں میں سب سے پہلا جھونپڑا میرا تھا ۔ اس کے بعد جناب منشی جمال الدین مرحوم تشریف لائے ۔ اور پھر منشی عبد الرشےد بھی ۔ یہ زمیں بہت ہی پر رونق اور پر فضا معلوم ہوتی تھی ایک دن ہم لوگوں نے اس مقام کا نام رکھنے کی سوچی کسی نے کچھ نام کہا میں نے اس زمیں کا نام تاج آباد تجوےز کیا جس پر سب نے اتفاق کے ا۔ دوسرے دن صبح حضور بڑے دادا تاج الاولیاء قبلہ نے شکر دہ کا وہ گھنٹہ کھولا جو مہاراجہ کے محل کے پہرہ دار وقت پر بجآیا کرتے تھے ۔ اور فرمایا گھنٹہ تاج آباد شریف میں بچے گا ۔ چنانچہ حضور ﺭﺿ بھی اس مقام پر تشریف لائے ۔ جہاں ہم لوگ آباد تھے ہم لوگوں نے پھونس کی مسجد قائم کر رکھی تھی حضور ﺭﺿ مسجد میں بےٹھا گئے اور کھانا طلب کیا ۔ تعمےل میں ہر جھونپڑے سے حضور ﺭﺿ کے لئے کھا نا لآیا
گیا ۔ حضور ﺭﺿ نے کچھ کھآیا اور وہاں سے بےڑپےٹھ کی طرف روانہ ہوئے چلتے ہوئے ایک مےدان میں بےٹھ گئے اور ایک مٹھی مٹی اٹھا کر سونگھی اور فرمایا ?حضرت یہ مٹی بہت اچھی ہے ہمارے لئے یہاں بنگلہ بنا دےجئے تو رہےنگے ، پھر فوری فرمایا نکورے چپ جھونپڑا رہا تو بس ?اب حضور ﺭﺿ کی طبےعت اکثر خراب رہنے لگی تھی ۔ بقرعےد کا چاند ہو چکا تھا عےدےن پر حضور ﺭﺿ شام کے وقت شہر میں نکلتے تھے ۔ خدّام حضور کو قےمتی جُبہ پہناتے حضور اس دن عمامہ بھی باندھتے تھے ۔ اور ناگپور شہر کی ہر گلی میں گھوم کر سب کو اپنے دیدار سے مشرف فرماتے ۔ اس مرتبہ عےد آئی ۔ صبح سے شام تک خدام نے کوشش کی حضور ﺭﺿ نیا جُبّہ زےب تن فرمائےں اور شہر چلےں ۔ لیکن سر کار نے نہ جُبّہ پہنا اور شہر کے لئے نکلے ۔ اس پورے مہےنے میں آپ شہر میں بہت کم نکلے ۔
اپور
محرم کی ٦۱،١٧ تاریخ تھی کہ حضور کو قدرے بُخار ہوا، حضور نے دو ماہ قبل ہی ایسے ارشادات فرمائے تھے کہ سب مریدین وخدام متفکر رہنے لگے تھے۔
محرم میں حضور کا معمول تھا کہ ۰۱ محرم الحرام کو سبز جُبّہ زےب تن فرما کر مےدان کر بلا ? کو جاتے ، اس دن باقاعدہ ااپ کے مریدین وخدام اور مہا راجہ، راگھو صاحب کی سواری نکلتی ےعنی ےعنی مہا راجہ صاحب ہاتھی پر سوار آگے پےچھے ان کے سپاہی گھوڑوں پر سوار نےزے ہاتھوں میں لئے ہوئے نکلتے ، اس کے بعد راجہ صاحب کی سواری گزرتی ، پھر حضور کی سواری گزرتی ، پھر حضور کے مریدین محمد حسین باب صاحب ، خواجہ امےر الدین علی صاحب ، خواجہ قادر محی الدین صاحب کی سواریاں نکلتےں ۔ حضور بڑے دادا تاج الاولیاء کی بگھی کے قریب دو نشان برادر ہوتے ۔
اس مرتبہ بھی ۱۰ محرم الحرام
١٣٤٤ھ کو حضور نے وزیر نشان بر دار کے ہاتھ سے علم لیکر خود اٹھا یا اور بلند آواز سے فرمایا
امام دیں سلطان مدےنہ
شاہوں کے سردار حسین ﺭﺿ
جب آپ نے مندرجہ بالا کلام پڑھنا شروع کیا ۔ اسوقت آپ کی عجےب کےفےت تھی ہر چہار جانب دولہا یا حسین ﺭﺿ یا حسین ﺭﺿ کے نعرہ بلند ہورے تھے ہر شخص قدمبوسی ہورہا تھا ۔ میرے سرکار ﺭﺿ دولت دارےن لٹا رہے تھے آپ کے دست مبارک میں علم دیکھ کر اہل نظر حضرات بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کو خصوصی شان حسین ﺭﺿ میں جلوہ گر دیکھ رہے تھے ۔ حسنی وحسینی رنگ نمآیا ں نظر آرہا تھا ۔
ناگپور شریف میں محرم کا جلوس ہمیشہ خصوصی شان وشوکت سے ہی نکلتا رہا ہے ، لیکن آج اےسا محسوس ہورہا تھا کہ کسی بھی شخص کو حضور ﺭﺿ قدمبوسی سے محروم
نہیں رکھےں گے۔ ہر شخص قدمبوس ہوکر اپنی مردیں پارہا تھا ۔ بقول سرکار
?میرے پاس جس کا جو کچھ ہے۔ اگر وہ زندگی میں حاصل نہ کر سکا تو اس کی قبر میں بھر دوں گا ?۔
حضور شہر کا گشت کر کے کر بلا شریف پہنچے ۔ کچھ دےر وہاں رک کر شکر درہ واپس تشریف لے
دوسرے روز سرکار کے مریدین نے حسین علیہ السلام کی شان میں منقبت ترتےب دیکر اس کا نام گلدستہ رکھا اور وہ سرکار کی خدمت میں پڑھا
گیا ۔ میں (مولف ) نے اس گلدستہ می¬ |