Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

ابتدائی حالات

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

حضورﺭﺿ کا سراپا

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

اخلاق حمیدہ

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

نسبت فیضان

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ  کی جامعیت

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

تعلیم و تربیت

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

نظر تاج الاولیاء

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

حیوانات پر تاج الاولیاءکی حکومت

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

طے الارض

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

 انیک روپ میں ایک

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

زندگی عطا کرنا

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

بہ یک نظر دیوانگی

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

امراض کا سلب کرنا

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

احکام شاہی

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

احترام شریعت

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

والیان ریاست اور شہنشاہ ہفت اقلیم

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

مثالی زبان

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

سیاست عالم

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

علات اور وصال کی پیسنگوئی

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ کی شعر و شاعری

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

سرکار تاج الاولیاءکی محبت و شفقت

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

اولاد عطا کرنا

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization
   
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization
   
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

 

سیاست عالم

جنگ بلقان

فرید صاحب فضا نے بیان کیا تقریبا ١٩٠٩ء کے ابتدائی زمانہ میں واکی شریف میں بڑے دادا تاج الاولیاء مقیم تھے پروفیسر محمد عبدالقوی صاحب لکھنوی کے ساتھ میں حاضر ہوا- بڑے دادا تاج الاولیاء واکی سے سات آٹھ میل دور کسی جنگل میں تھے، ہم وہاں پہنچے - حضور ایک کھیت میں تشریف فرما تھے، چاروں طرف ببول کے درخت تھے، حاضرین درخت کے سایوں میں بیٹھے تھے، بڑے دادا تاج الاولیاء کھیت میں پتھر چن چن کر ڈھیر بنا رہے ھے- ہم دونوں بھی سلام کرنے کے بعد یہی کام کرنے لگے یہاں تک کہ دو ڈثائی فٹ اونچا ڈھیر تیار ہو گیا- اس کے بعد حضور نے ایک لکڑی ہاتھ میں میں لے کر فوجی احکام جاری فرمانا شروع کر دیئے، لکڑی سے اشارہ کرتے تھے اور فرماتے تھے- ?فلاں ڈویژن ادھر مارچ کرو، فلاں ڈویژن ادھر مارچ کرو، فلاں ڈویژن ادھر جاؤ?

?اٹیک - فائر - شوٹ?

اس قسم کے احکام ایک خاص کیفیت میں جاری فرما رہے تھے- اس کے بعد آپ نے فرمایا

?وہ بھاگے یونانی ، یونانی بھاگے، پکڑو پکڑو?

اس کے بعد حضور نے فرمایا ?یونانیوں کی ہم نے کمر توڑ دی، اب کبھی مقابلے میں کھ‍ڑے نہ ہوں گے? اس کے بعد وہ لکڑی جو آپ کے ہاتھ میں تھی،آپ نے پتھر کی بڑی ڈھیری پر یہ کہہ کر نصب کر دی کہ ?یہ ترکی کا جھنڈا ہے ترکوں کی فتح ہوگی?

حضور کے چہرے پر اس وقت بشاشت تھی، مژدئہ فتح سنا رہے تھے

دو تین روز بعد اخباروں میں خبر آ گئی کہ یونانیوں کو شکست فاش ہوئی ، ترکوں کے ہاتھ زبردست مال غنیمت آیا- جنگ بلقان کی فتح ترکوں کو نصیب ہوئی -

 اپور

جنگ میں شرکت

محمد عثمان خاں ، ڈی سی ناگپور کے سر رشتہ دار تھے، ایک مرتبہ ڈی سی نے ان کو طلب کیا اور ایک فائل دیکھا کر پوچھا کہ یہ گھوڑے سوار کا فوٹو دیکھ کر بتاؤ جو میدان جنگ میں فوجوں کی کمان کر رہا ہے، کس کا ہے؟

یہ فوٹو لندن سے دہلی ، وائسرائے کے پاس اور وہاں سے چیف کمشنر کے پاس اور وہاں سے ڈی سی کے پاس بغرض شناخت آیا- سب سے پہلے ڈی سی نے سر رشتہ دار کو فائل دکھا کر پوچھا کہ اس شخص کو تم پہچانتے ہو؟ انھوں نے فضا صاحب کو دکھلایا تو وہ فوٹو دیکھ کر حیران رہ گئے اور کہا یہ تو میرے پیرو مرشد کا فوٹو ہے، تمام ہندو مسلمان ان کو پہچانتے ہیں، دفتر میں جس سے جی چاہے پوچھ لیجئے -

ڈی، سی نے عملہ کو بلا کر تصدیق کی تو سب نے پہچان لیا کہ یہ بڑے دادا تاج الاولیاء ہیں- یہ تصدیق وائسرائے کے یہاں بھیجی گئی اس نے لندن اطلاع دی- اس کے بعد یورپین ممالک سے بڑے بڑے لوگ حاضر ہونے لگے اور آپ کی شہرت یورپ میں ہو گئی-

 اپور

انگریزی ختم

میں نادوتی سے علی گڑھ پہنچا اور مقام طالب نگر نواب بہاؤ عبدالسمیع خاں کی کوٹھی میں میں نے سرکار سے عرض کیا کہ میں جاہ وہ جلال سے تشریف فرما ہیں، کمرے کے سامنے ایک بڑا برآمدہ ہے اس برآمدہ میں برآمدہ کی لمبائی کے برابر ایک میز ہے، اس میز پر انگریزی کے بڑے بڑے حروف اے (A) سے لے کر زیڈ (Z) تک ترتیب وار الگ الگ لکھے ہوئے ہیں، چیمبر لین وزیر اعظم برطانیہ حرف زیڈ پر انگلی رکھے کھرا ہے-

سرکار نے خواب سنتے ہی بر جستہ فرمایا اس کی تعبیر یہ ہے-

?انگریزی ختم?

 اپور

جنگ عظیم ١٩١٤ء ، نیٹو رپ کی فتح

حضرت یوسف شاہ تاجی فرماتے تھے ١٩١٨ء کی جنگ میں حضور حالات جنگ اس طرح بیان فرماتے تھے جیسے خود بہ نفس نفیس جنگ میں شریک ہوں - لوگ ان واقعات کو نوٹ کر تے تھے چند روز بعد یہ تصدیق ہو جاتی تھی- ایک مرتبہ حضور نے عالم جلال میں آ کر ایک پتھر اٹھا کر ایک کولَھو پوش مکان کو یہ کہتے ہوئے مارا

?بڑا اینٹو رپ آیا، فتح نہیں ہوتا?

لوگوں نے ٹائ م نوٹ کیا، انیٹو رپ  ٹھیک اسی دن، اسی وقت ایک بم گرتا ہے اور فتح ہو جاتا ہے ( اس زمانہ کے اخبارات میں تاریخ و وقت دیکھے صد ہا واقعات ان میں درج ملیں گے)

 اپور

تبادلہ تخت و تاج

سید محمد عیسی، تحصیلدار نے خواب میں دیکھا کہ سرکار تاج الاولیاءﺭﺿ ایک بلند چبوترے پر کھڑے ہوئے ہیں، آپ کے سر پر ایک تاج ہے، آپ اس تاج کو آسمان کی طرف پھینک دیتے ہیں ، دوسرا تاج آپ کے سر پر آجاتا ہے، آپ اس کو بھی آسمان کی طرف پھینک دیتے ہیں، تیسرا تاج آپ کے سر پر آجاتا ہے، آپ اس کو بھی آسمان کی طرف پھینک دیتے ہیں- غرض یہ سلسلہ دیر تک جاری رہتا ہے، آخر میں سید محمد عیسی ، تحصیل دار پر آپ کی نظر پڑی، یہ سلام عرض کرتے ہیں، حضور مسکرا دیتے ہیں، آنکھ کھل جاتی ہے-

یہ خواب مجھ سے بیان کیا گیا میں نے حضرت یوسف شاہ تاجی سے تعبیر دریافت کی تو آپ نے تحریر فرمایا

?تحصیل دار صاحب کے خواب کی تعبیر تبادلئہ تخت و تاج ہے?

اس کے چند ماہ بعد جرمنی کی جنگ شروع ہوئی اور ڈنمارک ، ہالینڈ، ناروے، فن لینڈ، بیلجیئم وغیرہ کی سلطنیوں کے تخت و تاج تبدیل ہو کر اس مشاہدہ کی تصدیق ہوئی ملوکیت جگہ جگہ ختم ہو کر رہی-

 اپور

کاغذ کے گھوڑے

حضر عبدالرحمن صاحب کا قیام ڈرگ روڈ میں تھا- ان کا شمار بھی سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کے بچوں میں تھا- ناگپور شریف میں درزی کا کام کیا کرتے تھے- ایک روز ان کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ نے ہجرت کا حکم کچھ اس طرح دیا- ?بابو جہاں کاغذ کے گھوڑے دوڑیں گے وہاں جاؤ? چنانچہ یہ کراچی آئے اور ایک ایسی جگہ قیام کیا جہاں پاکستان بننے کے بعدپریس بنا- جہاں پاکستان کی کرنسی چھپنے لگی اس طرح تیس برس قبل حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ نے پاکستان کی پیشن گوئی بھی کی تھی - حضرت عبدالرحمن صاحب کو بھی سرکار نے کئی تبرکات سے نوازا تھا- آپ سرکار کے عشق میں شبیئہ مبارک کے سامنے رقت کے ساتھ رقص فرماتے تھے-

 اپور

تقسیم ہند کی نشاندہی

امرؤتی میں خواجہ محمد حسین صاحب پولیس سپرٹنڈنٹ تھے ایک روز بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی حضور میں کپتان ہو جاؤں اس کے لئے دعا فرمائیں - سرکار نے فرمایا ? ہو جائے گا? سرکار کا جواب سن کر محمد حسین صاحب خوش ہو گئے اور ہمت کر کے عرض کی سرکار میرا تبادلہ بھی پنجاب ہو جائے - تب سرکار نے فرمایا یہ خلاف قانون ہے لیکن تو ایک چمٹا بنا کر لا تب بولیں گے- خواجہ محمد حسین صاحب سرکار کی دعا سے کپتا ہو گئے اور امرؤتی سے ناگپور آگئے- حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حسب الحکم چمٹا لے کر آئے- اور سرکار کو پیش کیا - سرکار نے اپنے ہاتھ میں لیا ، پھر کندھے پر رکھا - اور گھومتے رہے کبھی ہاتھ میں لیتے کبھی کندھے پر رکھتے- تھوڑی دیر اس طرح کرتے رہے پھر ان کو واپس دے کر فرمایا ? ہو جائے گا مگر دیر لگے گی? اس زمانہ میں سینٹرل پرونس کے افسروں کا تبادلہ پنجاب نہیں ہو سکتا تھا - ١٩٤٧ء میں پاکستان بنا خواجہ محمد حسین صاحب نے ہجرت لکھوا دیا اور پنجاب آ گئے چمٹے کے دو حصے ہوتے ہیں - ہندوستان کے بھی دو حصے ہو گئے-

 اپور

پاکستان کی پیشن گوئی

میں نے خواب میں دیکھا کہ میں کسی بڑے شہر کے باہر سڑک پر ہوں، یہ سڑک خط مستقیم کی صورت میں شہر کے دائرہ کو نصف نصف تقسیم کرتی ہے، اس دوری شکل کے گرد بھی ایک دوری شکل میں سڑک بنی ہوئی ہے، اس سڑک کے دائرہ کو بھی، شہر کی طرح سیدھی سڑک نے دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، میں شہر سے باہر جس سڑک پر ہوں اس پر چھوٹے چھوٹے پتھر تھوڑے تھوڑے فاصلہ سے نصب ہیں جیسا کہ عموما سڑک پر علامتی پتھر نصب ہوتے ہیں مگر میں دیکھتا ہوں کہ ان پتھروں پر جو نہ، سینہ در سیاہی وغیرہ لگا کر ہندوؤں نے ان مورتی نما پتھروں کی لائن سے ذرا ہٹ کر ایک مسجد ہے، جو نئی نئی بنی ہے جہاں مسلمان جمع ہیں ، اس مسجد میں آج ذکر میلاد شریف ہونے والا ہے، مگر بہت سے اہل ہنود ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ یہاں میلاد شریف کا جلسہ نہ ہو، میں نے اعتراض کا سبب پوچھا تو اپنی مورتیوں کی موجودگی کو دلیل میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ زمین مورتی استھان ہے، اس میں مسجد بھی زبردستی بنائی گئی ہے، اس کو ہم آباد نہ ہونے دیں گے میں نے ان سے کہا، مسجد بن چکی، مسمار نہیں ہو سکتی، غیر آباد نہیں رہ سکتی، فساد کی صورت کیوں پیدا کی جاتی ہے؟ انھوں نے کہا ہم اتنی تعداد میں ہیں کہ ایک ایک کنکری بھی اٹھائیں گے تو مسجد کا پتہ بھی نہ چلے گا، میں نے کہا وہ لا تعداد مسلمان شریک جلسہ ہونے کو آ رہے ہیں- انھوں نے دیکھا کہ سڑک کی گولائی کا نصف دائرہ آنے والے مسلمانوں سے بھرا ہوا نظر آتا ہے- اتنے میں کچھ فوجی اور پولیس افسر میرے پاس آئے- اور کہا مسلمانوں کو ختم کر دینے کا یہاں مکمل انتظام موجود ہے، ادھر دیکھو، انھوں نے مسلمانوں کو ختم کر دینے کا یہاں مکمل انتظام موجود ہے، ادھر دیکھو ، انھوں نے سڑک کی بائیں طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا- میں نے دیکھا کہ مسجد کے مقابل ایک پٹرول پمپ جیسی کوئی چیز نصب ہے انھوں نے پھر کہا، یہ پٹرول پمپ نہیں بلکہ زہریلی گیس کی ٹنکی ہے، یہ گیس مسلمانوں پر چھوڑی جائے گی تو سب مر جائیں گے- میں نہ کہا اللہ کے حکم کے بغیر نہ کوئی جی سکتا ہے نہ مر سکتا ہے- یہ سب فضول باتیں ہیں وہ ہنسے اور مجھ سے کہا ، چلئے ! آکر دیکھ لیجئے - اب میں اس پمپ پر تھا، عبدالشکور رابن داس پٹواری جو سلسلہ میں داخل ہے، میرے ساتھ ہے- ایک افسر نے ربڑ کی نلکی جو ٹینکی سے وابستہ تھی، اٹھائی ، پیج گھمایا اور عبدالشکور پر گیس چھوڑی، اس کا منہ نیلا ہو گیا - وہ زمین پر بے ہوش ہو کر گر گیا، کہا گیا کہ وہ مر گیا-

میں نے حضور تاج الدین الاولیاءکو یاد کیا، آپ معا ظاہر ہوئے، میرے دونوں شانوں پر آپ کے دونوں ہاتھ تھے- میں نے مڑ کر دیکھا تو پہچان لیا- حالانکہ اس وقت آپ کے چہرہ پر داڑھی بالکل نہ تھی، نہ داڑھی مونڈھنے کی علامت تھی بلکہ آپ کا روئے مبارک ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی سبزہ آغاز نوجوان کا منہ ہو- آپ نے فرمایا

? جو تم کرو گے وہ ہو گا، جو تم کہو گے وہ ہو گا?

میں نے فورا ربڑ کی نلکی اس افسر کے ہاتھ سے لی اور کہا، مسلمانوں کا ایمان یہ ہے کہ ممیت، اللہ ہے، زہریلی گیس ممیت نہیں ہے، اس لئے وہ زہریلی گیس سے نہیں مر سکتے- یہ کہہ کر میں نے ربڑ کی نلکی سے عبدالشکور پر گیس چھوڑی ، تو وہ اپنی اصلی صورت میں زندہ ہو کر کھڑا ہو گیا - پھر میں نے اس افسر کی طرف مخاطب ہو کر کہا-

مگر چونکہ تمھارا یقین ہے کہ یہ زہریلی گیس ممیت ہے، اس لئے تم اس سے ضرور مر جاؤ گے- یہ کہہ کر میں نے وہی زہریلی گیس ممیت ہے، اس لئے تم اس سے ضرور مر جاؤ گے- یہ کہہ کر میں نے وہی زہریلی گیس اس افسر کے چہرہ پر چھوڑی تو وہ تیورا کر زمین پر گرام منہ نیلا ہو گیا، اور مر گیا-

اتنے میں مسلمان لشکر در لشکر پہنچے ان کے آتے ہی ہندوؤں نے اس علاقہ سے بھاگنا شروع کر دیا - تھوڑی دیر میں ہر طرف مسلمان ہی مسلمان تھے، مسجد میں صلوة و سلام ہو رہا تھا کہ آنکھیں کھل گئیں -

یہ واقعہ حضرت قبلہ و کعبہ ﺭﺿ کو لکھا تو ارشاد ہوا-

?تقسیم ملک اس کی تعبیر ہے ، پاکستان بنے گا ، دشمن کی چال ناکام ہو گی-?

 اپور

جنگ لڑکی

بابو عبدالمید کا مٹی والے، حال مینیجر نیشنل کمرشل بینک کراچی بیان کرتے ہیں کہ یوسف علی صاحب رینجز ساگر کے بچے کے سرمیں گنج ہو گئی تھی- ، انھوں نے اپنے ایک ہندو سپائی کے ساتھ بچے کو بابا کے دربار میں بھیجا- سپاہی نے راستہ میں طے کیا کہ میں خود اپنی ترقی کے لئے بڑے دادا تاج الاولیاء سے عرض کروں گا- جب حاضر داربار ہو تو اپنی ترقی کی خواہش دل میں تھی اور بچے کو بھولے ہوئے کھرا تھا، اچانک بڑے دادا تاج الاولیاء مجمع سے نکل کر اس کے سامنے آئے اور اس کے بچے کے سر پر تھوک دیا-

بچہ اسی دن اچھا ہو گیا اور اس سپاہی کی بھی چند روز بعد ترقی ہو گئی -

اس واقعہ سے متاثر ہو کر یوسف علی صاحب ریجز بھی حاضر دربار ہوئے- ان پر محکمانہ مقدمہ چل رہا تھا مگر حاضر دربار ہوتے ہی ان کو خیال ہوا کہ بڑے دادا تاج الاولیاء اتنے بڑے ولی اللہ ہیں اور ہزاروں مسلمانوں کا خون ٹرکی میں ہو رہا ہے، اللہ سے دعا کریں کہ ترکیوں کو فتح حاصل ہو- یوسف علی بہت عابد و زاہد اور نیک آدمی تھے ، بڑے دادا تاج الاولیاء کے سامنے ان ہی خیالات میں حاضر ہوئے- حضور نے ان کی طرف دیکھا، یہ بے ہوش ہو گئے- ادھر بڑے دادا تاج الاولیاء بھی مراقبہ میں بے خود ہو گئے- یوسف علی صاحب ہوش میں آئے تو مجمع دور جا چکا تھا- یہ گھر چلے آئے-

چند روز بعد ایک شخص ان کے مکان پر حاضر ہوئے اور ان کو اندر سے ہلا کر ایک گلاب کا پھول دیا اور کہا، بڑے دادا تاج الاولیاء نے یہ پھول بطور مبارک باد بھیجا ہے، ٹرکی کو فتح ہو گئی- اب آپ کا وقت ختم ہو چکا ہے، صرف اس خوشخبری سنتے تک آپ کے زندہ رہنے کی دعا اللہ نے قبول کی تھی- اب سفر آخرت کے لئے تیار ہو جائے- یہ کہہ کر وہ شخص غائب ہو گئے-

یوسف علی صاحب کو اسی دن دورہ پر جانا تھا، روانہ ہو گئے، وہاں ان کو دست آنا شروع ہوئے، جب گھر واپس آئے اسی دن انتقال فرمایا-

 اپور

علی برادران اور گاندھی

ایک زمانہ میں روزانہ گاندھی جی حاضر دربار ہوتے اور حضور ہمیشہ ان کو ڈانٹتے مگر وہ پرواہ نہ کرتے حاضری روزانہ جاری رہی-

اسی زمانہ میں محمد علی، شوکت علی ناگپور آئے انھوں نے حاضر ہونے کے بجائے راجہ صاحب کو لکھا کہ بڑے دادا تاج الاولیاء سے ملنے کا وقت مقرر کریں- راجہ صاحب پریشان تھے بڑے دادا تاج الاولیاء بھلا کس کو وقت دینے والے تھے- اتفاقا خود حضور نے فرمایا ?جمعہ کے دن چار بجے ہمارے ساتھ چائے پئیں- چنانچہ راجہ صاحب نے ان کو مطلع کر دیا- جمنعہ کو چائے کا وسیع پیمانے پر انتظام ہوا، حضور ٹھیک وقت پر برآمد ہوئے، چائے طلب کی اور حکم دیا ، حاضرین کو چائے پلؤ، چنانچہ حاضرین کو چائے پلا دی گئی - مولانا شوکت علی، محمد علی وقت مقررہ پر نہ آ سکے تھے- پانچ بجے حضور نے سواری طلب کی، زائرین نے حضور کے گلے میں ہار ڈالے ، گاڑی شہر کی طرف جا رہی تھی کہ سامنے سے علی برادران کی موٹر آئی اور حضور کی گاڑی والے ہیرا کوچوان نے گاڑی روک لی، علی برادران کار سے اترے اور بڑے دادا تاج الاولیاء سے سلام کیا-

حضور نے فرمایا ?بابا سلام علیکم ?

علی برادران نے کہا ?بابا دعا کرو اسلام کی فتح ہو-

حضور نے فرمایا ?بابا دعا کرو اسلام کی فتح ہو?

اس کے بعد حضور نے ہیرا کوچوان سے فرمایا ?کیوں رے ! ان کو ہار دے دوں?

اس نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ ہاں ! بابا دے دو- حضور نے فرمایا? میں کیا دوں گا تو ہی دے دے? یہ سن کر ہیرا نے کچھ ہار اٹھا کر علی برادران کو دے دیئے حضور نے فرمایا ?جاؤ ، پھاٹک دیکھو?

علی برادران اس کا مطلب کچھ نے سمجھے، حضور کی سواری شہر کی طرف روانہ ہو گئی، ادھر نکلی جہاں اس رات کانگریس کا جلسہ ہونے والا تھا، خلافت اور کانگریس کی چل رہی تھی، علی برادران خلافت کے سلسلہ میں جلسہ کرنے والے تھے، گاندھی جی، بڑے دادا تاج الاولیاء کی آمد آمد کا شہرہ سن کر لب راہ آئے اور سلام کیا ، حضور نے فرمایا -

?جاؤ ، آٹھ سو کوے اڑا دیئے?

وہ کچھ بھی نہ سمجھے، رات کو جلسہ ہوا تو آٹھ سو ممبران کٹ کر گاندھی جی کی طرف آ گئے تو ان کی سمجھ میں آ گیا-

علی برادران کو بڑے دادا تاج الاولیاء نے اپنے ہندو کوچوان کے ہاتھ سے جو ہار دلائے تھے اس کا مطلب ہی یہ تھا کہ وہ ہندو سے ہار گئے، پھر جب وہ بمبئی پہنچے اور گرفتار ہو کر داخل جیل ہوئے تو ان کی سمجھ میں آیا? جاؤ پھاٹک دیکھو? کا کیا مطلب ہے؟ یہاں پہنچ کر علی برادران کو احساس ہوا کہ بڑے دادا تاج الاولیاء ولئی کامل ہیں اور ہم نے غلطی کی جو حاضر دربار ہونے میں کوتاہی کی، وقت طلب کیا، پھر وقت پر نہ پہنچے اور پہنچے تو اخلاص نہ تھا، محض لوگوں کے کہنے سننے سے حاضر ہو گئے، نادم ہو کر حضرت قبلہ و کعبہ ﺭﺿ کو خط لکھا، معافی چاہی، پھر علی برادران کی والدہ حاضر ہوئیں تو حضور نے فرمایا-

?محمدعلی، شوکت علی گھاس کو کہتے ہیں? ایک بار محمد علی صاحب سے آپ نے فرمایا

?تمھاری مراد لندن میں ہے?

چنانچہ وہ لندن گئے اور وہاں انتقال ہو گیا-

ایک بار گاندھی جی سے فرمایا

?جھاڑو لے کر پہاڑ پر چڑھ جاؤ?

جھاڑو سے مراد اتحاد باہمی اور پہاڑ پر چڑھ جانے سے مطلب حکومت انگلیشہ پر غالب آنا تھا

 اپور

 

 
 
 

فہرست

  1. جنگ بلقان

  2. جنگ میں شرکت

  3. انگریزی ختم

  4. جنگ عظیم ١٩١٤ء ، نیٹو رپ کی فتح

  5. تبادلہ تخت و تاج

  6. کاغذ کے گھوڑے

  7. تقسیم ہند کی نشاندہی

  8. پاکستان کی پیشن گوئی

  9. جنگ لڑکی

  10. علی برادران اور گاندھی

 
 

جملہ حقوق بحق © ٢٠٠١ - ٢٠٠۷ امہ تاجیہ® ٹرسٹ
ہر قسم کے جملہ حقوق محفوظ ہیں-

اصول براۓ اخفائے راز - اصول براۓ جملہ حقوق

تریک و تخلیق برعایہ
باحصول اطلاعات و معلومات ربط کیجئے
webmaster@TajBaba.com