بیگم صاحبہ جاورہ
جس زمانہ میں سرکار کا قیام شکر درہ میں تھا ۔ ایک دن بیگم صاحبہ اپنی صاحبزادی کے ہمراہ تشریف لائیں ۔ سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اپنے ہمراہ اعلیٰ قسم کے کھانے ، مٹھائیاں ، خوشبو اور عمدہ لباس تھالوں میں سجا کر لائی تھیں ۔ سرکار میں پیش کئے تو سرکار نے فرمایا ?سو کھا نریل ، تازہ چنے ،اور نئے گڑ میں بڑا مزا آتا ہے ? بیگم صاحبہ سرکار کے الفاظ سن کر بے حد پریشان ہوگئیں ۔ کہ شاید ان چیزوں کی تیاری میں کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہے یا مجھ سے کوئی بے ادبی ہوئی ہے ۔ اسی پریشانی میں روانہ ہو رہی تھیں اور یہ سوچ رہی تھی ۔ کہ بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کے قریبی تعلق والے سے دریافت کروں ۔ شاید وہ کچھ تشریح کردیں ۔ کہ حضرت قادر اولیاءوحیا نگرم والوں سے ملاقات ہوگئی ۔ ان کو سارا ماجرہ سنآیا تو بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کے اس شےر نے تشریح کی ۔
سوکھے ناریل سے مطلب ہے ، نئے گڑ سے مطلب رسول اللہ ﷺ اور تازہ چنوں سے مراد خود حضرت بابا سید تاج الدین ﺭﺿ ۔ بیگم صاحبہ نے جب یہ تشریح سنی زارو قطار رونے لگیں ۔ اور روتے روتے حضرت قادر اولیاءکو بتآیا کہ میں اسی مسئلہ کو حل کرنے کے لئے حاضر ہوئی تھی۔ اب میں توحید کے اس راز کو سمجھ چکی ہوں ۔
اپور
مہا راجہ سر کرشن پر شاد
مہا راجہ سر کرشن پرشاد حاضر دربار ہوئے ۔ ان کے صاحبزادے سخت بیمار تھے ، علاج ومعالجہ کی کمی نہ تھی ، مگر مرض بڑھتا ہی
گیا ۔ مجبورا حاضر دربار ہوئے اور طالب دعا ہوئے حضور نے فرمایا
?بےمار ہو تو دعا کروں ، وہ تو اچھا ہے?
انھوں نے تار سے خیریت دریافت کی تو معلوم ہوا کہ وہ بالکل صحت یاب ہوگیا ہے ۔
اپور
مہا راجہ سر کرشن پرشاد اس واقعہ سے بہت متاثر ہوئے ، بڑے دادا تاج الاولیاء کے بہت معتقد ہوگئے ، دوسری مرتبہ پھر حاضر ہوئے تو ایک فرمان بھی لائے جس میں نظام دکن نے حضور کی خدمت میں کچھ جاگیر نذر کی تھی ، حضور نے فرمان چاک کر
دیا اور فرمایا ۔ نظام دکن کا دماغ خراب ہوگیا ہے جو زمین کے مالک کو زمین نذر کرتا ہے اس سے کہو ہم نے تم کو زمین دے رکھی ہے ?۔
اپور
بڑے دادا تاج الاولیاء اور جے پور مہاراج
سید محمد عیسیٰ تحصیلدار نادوتی ریاست جے پور بہار کے رہنے والے تھے ، ان کے چچا ڈاکٹر عبد الحلیم جے پور کے مہا راجہ سوائی مادھو سنگھ کے طبیب خاص تھے اور محلات کے ڈاکٹر تھے ، نہایت عابد، زاہد، خدا ترس ، اور پرہیزگار انسان تھے ۔ مہاراجہ پر ایک خاص قسم کا دورہ پڑتا تھا ۔ اس کا علاج مشہور معروف ، بہتر سے بہتر ڈاکٹروں اور حکیموں نے کیا مگر کوئی فائدہ
نہیں ہوا ۔ مہا راجہ کے کوئی راج کنور نہیں تھا ، اس بےماری کے دوران مہا راجہ نے اپنا جانشین مان سنگھ ایسردہ والوں کو منتخب کر لیا تھا ، دوسری چھوٹی ریاست جھلائے والے یہاپنا حق سمجھتے تھے کہ جانشین ان کی اولاد ہو ۔ کسی نے مہا راجہ کو سمجھآیا کہ آپ پر جھلائے والوں نے جادو کر
دیا ہے ، کچھ پتلے ہیں ان کو ہلآیا جاتا ہے ، جب آپ پر یہ دورہ پڑتا ہے ۔
مہاراجہ نے ڈاکٹر عبد الحلیم صاحب کو بلا کر مشورہ کیا کہ کوئی کامل فقیر ہی اس جادو کو دور کر سکتا ہے ۔ تمھاری نظر میں کوئی آدمی ہوتو بلواﺅ۔ انھوں نے کہا کہ تلاش کے لئے آدمی بھیجتا ہوں۔ مہا راجہ نے کہا آدمی خاص بھروسہ کا ہونا چاہئے۔ انھوں نے سید محمد عیسیٰ اپنے بھتیجے کا نام لیا جو اس وقت تحصیل نوائی میں نائب تحصیلدار تھے۔ مہاراجہ نے اس تجویز کو پسند کیا ۔سید محمد عیسیٰ کو بلوا کر خفائے راز کی ہدایت کے ساتھ فقیر کامل کی تلاش میں روانہ کر
دیا گیا ۔ سیدھے اجمیر شریف پہنچے ۔ رات کو درگاہ معلیٰ میں حاضر رہے ۔ صبح اسٹےشن پہنچے ۔ ٹکٹ کی کھڑکی پر سوچ میں کھڑے تھے کہ کہاں جاﺅں۔ ٹکٹ کلکٹر نے کہا آپ کو ناگپور کا ٹکٹ چاہئیے۔ انھوں نے کہا ہاں ۔ ناگپور کا ٹکٹ مل
گیا روانہ ہوئے ۔ ناگپور پہنچے ، یہاں بڑے دادا تاج الاولیاء کا ذکر بچہ بچہ کی زبان پر تھا ۔ شکر درہ حاضر ہوئے۔ مخلوق کا ہجوم تھا ۔ لوگون سے حالات پوچھے ۔ کسی نے کہا میں دس دن سے مشتاق زیارت ہوں ۔ موقع
نہیں ملا ۔ کسی نے کہا ایک ہفتہ سے پڑا ہوں زیارت نہیں ہوئی ۔ یہ حال دیکھ کر سخت مایوسی ہوئی کہ میں انتظار کب کر سکتا ہوں ؟ مہا راجہ کا کام ہے جلد از جلد انجام دینا لازم ہے ۔ یہ بھی خیال ہے کہ افسوس یہاں پہنچ کہ بھی بڑے دادا تاج الاولیاء کی زیارت نصیب نہ ہوئی ۔ یہ ان ہی خیالات میں غلطاں پیچاں تھے کہ اچانک شکر درہ کے صدر دروازہ سے چپراسی نے آواز دی ۔
?سید محمد تحصیل دار جے پور حاضر ہیں کیا ؟
تیسری آواز پر یہ دوڑے اور چپراسی کے ساتھ ساتھ ان کے بنگلے کے پاس پہنچے ، چپراسی نے بنگلہ کی چک اٹھا کر ان کو اندر جانے کو کہا ۔ یہ اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ بنگلہ میں نہایت مکلف فرش ہے ، فرش پر چاندنی اور چاندنی پر بڑا قالین ، گاﺅ تکیہ ہے ، مگر بڑے دادا تاج الاولیاء ان سب چیزوں کو ایک طرف سے الٹے ہوئے زمین پر دونوں ٹانگوں کو دونوں ہاتھوں سے دبائے سر جھکائے بیٹھے ہیں ، آنکھیں بند ہیں ، سامنے رگھو راﺅ راجہ دست بستہ مودب کھڑے تھے ، ایک انگریز ٹوپ زمین پر ڈالے دست بستہ کھڑا تھا ، ایک سیٹھ بمبئی والے مودب کھڑے تھے، سب دم بخود چپ چاپ تھے۔ بنگلہ میں کیڑے کے چلنے کی آواز بھی نہ تھی ۔ وہ کہتے تھے کہ مجھ پر کمرے میں قدم رکھتے ہی رعشہ طاری ہوگیا ، جسم کانپنے لگا ، سر خود جھک
گیا ، زمیں بوس ہوا ، کبھی راجہ مہاراجہ کے دربار میں میرا یہ حال نہ ہوا تھا جو وہاں ہوا ، میں نے زمیں سے سر اٹھآیا ۔ بڑے دادا تاج الاولیاء نے اسی استغراقی حال میں فرمایا ۔
?تمھارا راجہ ظل اللہ ہے اس پر سحر نہیں ہوسکتا ?
?مرض الموت میں مبتلا ہے ?
سید محمد عیسیٰ نے اپنے دل میں کہا کہ کہ پھر کسی فقیر یا جادو گر کی تلاش بیکار ہے ، مجھے واپس جے پور چلا جانا چاہئے ۔تو بڑے دادا تاج الاولیاء نے فرمایا ۔
نہیں تمھارے پاس روپیہ بہت ہے ، خوب گھومو پھر و ، بچیوں کے لئے سامان خریدو، یہ فرمانے کے بعد حضور نے آنکھیں کھولیں تو بمبئی والے سیٹھ نے ایک چاندی کے طشت میں مٹھائی ، پھول ، بسکٹ وغیرہ پیش کئے ۔ حضور بڑے دادا تاج الاولیاء نے وہ طشت مع سامان انگلی سے
میری طرف بڑھا کر فرمایا ، یہ میری طرف سے اپنے چچا ڈاکٹر عبد الحلیم کو بھیج دو اور انھیں لکھ دو کہ موت بہت اچھی چیز ہے ، موت سے نہ گھبرائیں ، وصیت نامہ تیار کردیں ۔
جی میں کہا کہ جے پور جلدی جانا چاہئے تاکہ چچا صاحب سے ملاقات ہوسکے بڑے دادا تاج الاولیاء نے فرمایا ۔ ابھی دیر ہے ?تم گھومو پھرو
?
میں نے قدمبوسی کی اور بنگلہ سے باہر آیا ۔ چاندی کا تھال چپراسی کو انعام میں
دیا اور پھول ، مٹھائی ایک ٹین کے ڈبہ میں بھر کر ڈاک کے ذریعہ چچا کے پاس جے پور بھیج دیئے۔
خط میں سب حال لکھا۔ خود چچا صاحب کے متعلق جو کچھ بڑے دادا تاج الاولیاء نے فرمایا تھا احتیاطن
نہ لکھا کہ انھیں فکر ہوگی ۔ اسی رات کو حضور بڑے دادا تاج الاولیاء نے چچا صاحب کو اپنی زیارت سے مشرف فرمایا اور کہا کہ تمھارے بھتیجے نے ہمارا حکم تم تک
نہیں پہنچآیا ۔ اس لئے ہم خود کہنے آئے ہیں ۔
موت بہت اچھی چیز ہے ، موت سے نہ گھبرائیں ، وصیت نامہ تیار کردیں ?۔ چچا صاحب نے تاریخ اور الفاظ اپنی نوٹ بک میں درج کر لئے ۔ میرا خط پہنچنے پر تاریخ مطابق کی گئی تو با لکل درست نکلی ۔
تحصیل دار صاحب کلکتہ پہنچے انھیں خیال تھا کہ کوئی جادو گر وہاں سے اپنے ساتھ لے جائیں ، تاکہ راجہ صاحب کو تسلی ہو جائے ۔ کالی کے مندر میں گئے ، ایک گھوری سے ملے ، اس نے بڑے جادو گر سے ملآیا ۔ جادو گر نے کہا تمھارا راجہ بے وقوف ہے جو ایک مسلمان کو جادوگر کے پاس بھےجا ہے ، کیا کوئی ہندو اس کے یہاں
نہیں تھا ۔ خیر تمھارا کام ہم سے نہ ہوگا ۔ دھرم تلہ مسجد کے سامنے ایک سفید پوش بزرگ بیٹھے ہیں ان کے پاس جاﺅ تمھارا کام کر سکتے ہیں ۔
یہ دھرم تلہ مسجد کلکتہ کے سامنے گئے تو دیکھا واقعی ایک سفید پوش بزرگ نیچی نظر کئے بیٹھے ہیں ۔ سامنے کچھ شیشیاں رکھی ہیں ، کوئی نیلی ہے ، کوئی پیلی ہے مگر سب خالی ہیں ، وہ کہتے ہیں میں سامنے جاکر مودب کھڑا ہوگیا ۔ انھوں نے نیچی نظر کئے ہوئے کہنا شروع کیا؟
میاں تم سے زیدہ بے وقوف کون ہوگا۔ آفتاب زمانہ بڑے دادا تاج الاولیاء کے دربار میں حاضر ہونے کے بعد بھی جادگروں کی تلاش میں ?۔ ادھر ادھر مارے مارے پھرتے ہو ۔ جاﺅ اپنے گھر جاﺅ۔ روپیہ سامان خریدنے میں خرچ کر ڈالو ، کوئی پوچھنے والا
نہیں ہے ۔ انھوں نے سامان خریدا اور جے پور روانہ ہوگئے جے پور اسٹےشن پر قدم رکھا تھا کہ توپیں سر ہونے لگیں ۔ معلوم ہوا کہ مہاراج صاحب کا انتقال ہوگیا ۔ ماتمی توپیں داغی جارہی ہیں ۔
اپور
|