|
حضرت یوسف شاہ تاجی ﺭﺿ نے ایک روز فرمایا ، بڑے دادا تاج الاولیاء رحمتہ اللہ علیہ رات کے پچھلے حصہ میں اکثر تلاوت قرآن فرماتے ، آواز میں اتنی کشش اور اتنا سوز وگداز تھا کہ سننے والوں کو تن بدن کا ہوش
نہیں رہتا ، اےسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے کوئی دل کو کھےنچ رہا ہے ۔
خان بہادر صاحب ایک رات بڑے دادا تاج الاولیاء کی خدمت میں تھے ، رات میں حضور نے قرآن شریف پڑھا ۔ خان بہادر صاحب کا بیان ہے کہ حضور کی آواز دل کو اس طرح برماتی تھی جیسے کوئی چیز دل میں اتر کر دل کو کھرچ رہی ہو اس قدر سوزو گداز ، جذب دردآواز میں تھا کہ اس کی تشریح نا ممکن ہے اور نہ اس کی تاثےر بیان ہو سکتی ہے ۔
اپور
جناب فرےد صاحب فضا بیان کرتے ہیں کہ حضور بڑے دادا تاج الاولیاء ، مناجات میں سعدی علیہ الرحمتہ کے یہ اشعار بھی تعظےما ً دردِ زبان فرماتے
کریما بہ بخشائے بر حال ما کہ ہستم اسےر کمند ہوا
ندا رےم غیر از تو فریاد رس توئی عاصیاں راخطا بخش دبس
اپور
درود شریف اور تلاوت قرآن
حاضر دربار ہونے والوں سے تقریبا ً ہر شخص کو ذکر الہی کی تعلےم وتلقےن فرماتے، اس میں دعا بھی شامل ہوتی ، اکثر یہ جملے زبان سے ادا فرماتے
?اللہ اللہ کرتے اچھے رہتے ?
?مسلمانوں کے لئے دو عمل نہایت ضروری ہیں ، درود شریف اور تلاوت قرآن ? تلاوت قرآن سے ضعیف قوی ہوجاتا ہے ۔
اپور
نماز
حال ہی مولانا عبد الروف خطےب نور مسجد صدر کراچی اپنے عزےزوں کے ساتھ میرے مکان پر آئے، فرمایا، میں مولوی آدمی بزرگوں کا قائل نہ تھا ، مگر بڑے دادا تاج الاولیاء کی خدمت میں جاکر قائل ہونا پڑا ، ناگپور اسٹےشن سے نماز ظہر پڑھے بغیر ہم لوگ جلدی اس لئے چلے کہ کہیں بڑے دادا تاج الاولیاء باہر نہ نکل جائیں ، نماز کا وقت وہاں پہنچ کر بھی رہے گا ، ہم لوگ جیسے ہی حاضر خدمت ہوئے فرمایا
?تاج الدین چڑیا ہے جو اڑجاتا ؟ نماز پرھے بغیر چلے آئے ، جاﺅ پہلے نماز پڑھو?
اپور
مولوی سےد ضیاءالحق اےڈو کےٹ مقےم کراچی کو حضور کی خدمت میں رہنے کی سعادت حاصل ہے ، ان کا بیان ہے کہ ایک رات وہ حضور کے ساتھ جنگل میں پھر رہے تھے ، مجمع پےچھے پےچھے تھا، میں حضور کے ساتھ مودب فاصلے پر چل رہا تھا ، حضور پر رات بھر عجےب وغرےب کےفیات طاری رہیں ، صبح کے قریب میں نے چاہا کہ نماز صبح پڑھوں ، پھر خیال ہوا کہ میں نماز میں لگا تو نہ جانے حضور کہاں چلے جائیں ، آپ کی خدمت سے علےحدہ ہو کر نماز کو جانا گوارہ نہ تھا ، اس مبارک صحبت کا ہر لمحہ میرے لئے عبادت تھا ، اس لئے میں نے طے کیا کہ اگر حضور کو مجھے نماز پڑھوانا ہے تو حکم دیں گے یا اشارہ فرمائےں گے ، حضور چلتے چلتے کھڑے ہوگئے میں نے سمجھا کہ یہ قیام کا اشارہ ہے ، مگر ہو سکتا ہے کہ اتفاقی امر ہو ، اس لئے کوئی دوسرا اشارہ ہونا چاہئےے۔ تھوڑی دور چلنے کے بعد حضور ایک ٹےلہ کے ڈھال پر بےٹھ گئے ۔ میں نے اشارہ تو نہ سمجھا مگر یہ خیال ہوا کہ نماز کی مہلت ملی، ذرا دور جاکر نماز پڑھی ، نہ جانے نماز ہوئی بھی یا
نہیں ، نماز پڑھوانا ہے تو حضور رکوع کا ارشاد فرماتے جو مکمل اشارہ ہے ، اسی خیال کو لئے ہوئے حاضر ہوا تو حضور مجھے دیکھ کر رکوع میں گئے اور رکوع سے کھڑے ہو کر
میری طرف دیکھ کر فرمایا سمع اللہ المن حمدہ ۔ میرے تمام خطرات کا جواب مل گیا ۔
اپور
ایک مرتبہ شکر درہ باﺅ لی کے قریب جہاں حضرت یوسف شاہ تاجی بابا یوسف شاہ تاجی ﺭﺿ کو حضور نے ٹہرآیا تھا حضور بڑے دادا تاج الاولیاء تشریف فرما تھے، مغرب کا وقت ہوگیا ، اذان ہوئی ، حضور نے تمام حاضرین کو حکم
دیا ، جاﺅ اذان ہوگئی ہے ، پھر دوسری بار فرمایا ، جاﺅ اللہ اللہ کر و ، چنانچہ سب نے تعمےل حکم کی ۔
دوسرے ہی دن ایک انجمن قائم ہوئی جو حاضرین دربار کو نماز کی دعوت دےتی تھی ، کچھ لوگوں نے اس دعوت کو رد کیا اور کہا ، ہمیں حضور کا سہارا کافی ہے ۔
دوسرے دن یہ لوگ بغرض قدمبوسی حاضر ہوئے تو حضور نے ان کو مخاطب کر تے ہوئے فرمایا ?ےعنی اعمال خےر وشر کا ذرہ ذرہ محاسبہ میں آئےگا ۔
اپور
ناگپور کے کسی مندر میں ایک بہت بڑی مورتی تھی جس کا وزن ۲۱ من سے زائد تھا جو نہایت مضبوطی سے مجسمہ کی صورت میں فرش سے مستحکم نصب کی گئی تھی ، حضور بڑے دادا تاج الاولیاء نے ایک رات اس کو زمیں سے اکھاڑ کر دور لےجا کر ڈال
دیا ۔ صبح شور غوغا ہوا ، کسی کی سمجھ میں نہ آیا کہ یہ کام کس نے کیا ؟ آکر اس بت کو غاڑی میں ڈال کر لآیا
گیا اور پھر مندر میں نصب کر دیا گیا ۔ دوسری رات پھر بڑے دادا تاج الاولیاء کو دیکھا گیا کہ وہ اس مورت کے بال پکڑے ، گھےسٹے لئے جارہے ہیں اور فرماتے جاتے ہیں ، پھر آگیا ، میں نے تجھے یہاں سے نکا لا تھا ، پھر آگیا ?۔
دیکھنے والے حیران وششد رہ گئے
ہر کہ عاشق گشت حسن ذات را
اوست سید جملہ موجودات را
اپور
مولےناٰ قاضی نور احمد صاحب ضلع چاندہ سے حاضر دربار ہوئے ، یہ اہلحدیث غیر مقلد تھے، حاضر ہونے کا مقصد تصدیق واقعات تھا ۔
بابا کے تضرفات کی ہر طرف عالم میں دھوم تھی، یہ انبیاءعلیہم السلام کو مجبور
محض سمجھنے والے بھال کسی ولی کے تصرفات کا اعتراف کس طرح کر لیتے ، ادھر جن
احباب سے واقعات سنے ، ان کو جھوٹا نہیں جانتے تھے، مجبورا خود بہ نفس ِ نفےس
شکر درہ حاضر دربار ہوئے ، چند روز قیام کیا ، یہاں حاضرین دربار کے احوال کا
معائنہ کیا تو بد عقیدتی اور بھی بڑھی ، نہ خدا کا ذکر ہے نہ رسول کا نام ہے ،
جدھر دیکھئے بابا ہی بابا ورد زبان ہے ، لوگ ہیں کہ بابا کے نام کا وظیفہ پڑھ رہے ہیں ، انھیں حاجت روا اور مشکل کشا اور نہ جانے کیا کیا سمجھ رہے ہیں ؟ ان کی پاﺅں کی خاک کو سرمہ بناتے ہیں ، سلام علیکم کے بجائے قدمبوسی اور سجدہ ریزی ۔ یہ تمام مناظر دور ہی دور سے دیکھتے رہے اور سب کو کافر، مشرک بدعتی قرار دیتے رہے ۔ اتفاق ایک دن بڑے دادا تاج الاولیاء شکر درہ سے باہر بر آمد ہورہے تھے ، دروازہ سے لیکر سڑک تک دور ویہ قطار میں ہزاروں زائرین مودب دست بستہ کھڑے تھے، ان میں کہیں قاضی صاحب بھی تھے، بڑے دادا تاج الاولیاء برآمد ہوئے ، دونوں صفوں کے درمیاں سے سر جھکائے گزر رہے تھے کہ وہاں
سے گزر ہوا جہاں قاضی صاحب کھڑے تھے، چلتے چلتے حضور نے قاضی صاحب کی طرف منہ کیا اور ایک نظر ڈال کرآگے بڑھ گئے قاضی صاحب کھو گئے ، سارا علم غائب ، حواس گم ، عقل رخصت ، عشق بےدار ہوا ، باطن میں ایک شدید تغیر نے انگڑائی لی، جذب طاری ہوگیا ۔
حضرت یوسف شاہ تاجی اپنا مشاہدہ بیان فرماتے ، ان کی نظر میں سوائے بابا کے کوئی چیز باقی
نہیں تھی یا کوئی چیز نہ تھی جو ان کی نظر میں بابا نہ ہو ، نماز کو جذب میں بھی ترک نہ کیا مگر پرھنے کا یہ حال تھا
بسمہ اللہ الرحمٰن الرحیم بابا تاج الدین
الحمد اللہ رب العالمیں بابا تاج الدین
الرّحمٰن الرحیم بابا تاج الدین
مَا لک یوم الدین بابا تاج الدین
ایک نعبدو وایک نستعین بابا تاج الدین
اھد نا صراط المستقیم بابا تاج الدین
صراط الذین انعمت علیھم بابا تاج الدین
غیر المغضوب علیھہ ولا الضالین بابا تاج الدین
مین بابا تاج الدین
اپور
نماز میں رفع ےدےن برابر جاری تھا ، مگر خیال ہوا کہ بڑے دادا تاج الاولیاء کا دربار حنفی ہے ، اس لئے رفع ےدےن ترک کردےنا چاہئےے ، اس خیال پر عمل کرنے سے پہلے حضرت قبلہ ﺭﺿ سے مشورہ کیا انھوں نے فرمایا کہ آپ کے رفع ےدےن پر دربار کے بہت سے لوگوں کو اعتراض بھی ہے ۔ چنانچہ انھوں نے رفع ےدےن ترک کر
دیا اسی دن حضرت یوسف شاہ تاجی کے ساتھ بابا کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرت یوسف شاہ تاجی فرماتے تھے کہ ہم دونوں کے سامنے جاتے ہی حضور نے مجھے فرمایا
فعل رسول پر اعتراض نہیں کرتے ، حضرت!
پھر قاضی کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا
?ہمیشہ کی طرح نماز پڑھتے ، گڑ بڑ نہیں کرتے ، نہیں تو ہڈی تو ڑ دےتا ہوں ?
قاضی صاحب منتبہ ہوئے اور نماز حسب معمول پڑھنا شروع کر دی ۔ چند روز تربیت میں رکھنے کے بعد حضور نے دعاﺅں کے ساتھ ان کو گھر جانے کی اجازت دے دی۔
اپور
تاج الدین نور اللہ
گھر پہنچ کر، حال میں انھوں نے ایک جھنڈا نصب کیا جس پر تحریر تھا
لاٰ الہ اللہ محمد رسول اللہ تاج الدین نور اللہ
دوسری حرکت یہ کی کہ بڑے دادا تاج الاولیاء کا ایک چھوٹا سا فوٹو، ایک چاندی کے
تعویز میں منڈھوا کر ، بازو بند بنا کر ہاتھ پر باندھ لیا اور بڑے دادا تاج الاولیاء کی مناقب خوانی ، علی الاعلان کرنے لگے، قال اللہ قال الرسول یک قلم غائب ، باب صاحب کے گیت ہر وقت گائے جارہے ہیں ، ایک رات خواب میں دیکھا کہ بڑے دادا تاج الاولیاء طلب فرما رہے ہیں ۔
دوسرے دن حاضر دربار ہوئے ، بڑے دادا تاج الاولیاء کی خدمت میں حاضر ہو کر قدمبوسی ہوئے باب نے فرمایا
بازو بند کھول دو
جھنڈا اتار دو
تعمیل حکم کی گئی ۔ اس کے بعد محبت میں غلو تو ضرور باقی رہا مگر اس کا اظہار ممنوع ہونے کی وجہ سے اسرار بن
گیا ۔
اپور
بعد ازاں حضور نے نہایت ہی وجد د کےف کے عالم میں با آواز بلند پڑھنا شروع کیا :۔
بلغ العلے بکمالہ کشف الدجی بجمالہ
حسنت جمیع خصالہ صلو علیہ والہ
بار بار اس کی تکرار فرماتے رہے ، ہر مرتبہ ایک عجیب کیفیت سی ہوتی رہی آپ نے پھر یہ شعر نہایت ہی پر جوش لب ولہجہ میں پڑھا
چہ غم دیوار امت را کہ باشد چوں تو پشیتباں
چہ باک از موج سحرا انرا کہ باشد نوح کشتیاں
بعد ازاں یہ شعر بار بار بآواز بلند پڑھا
مرحبا سید مکی، مدنی العربی
دل وجاں ، با وفدایت چہ عجب خوش لقبی
آپ کی آواز سن کر مجمع بڑھنے لگا تو میں رخصت ہوگیا ۔ میں نے آپ کی اجازت تکبیر سے حج کا ارادہ مراد لیا ، الحمد اللہ ! کہ میں حج کی سعادت سے مشرف ہوا ، اور فاتخذہ وکیلا ً والی آیت ، بس حضرت فرما دینے سے میرے دل کو یہ ہدایت ہوئی کہ میں اپنے رب کو تمام امور میں کار ساز حقیقی سمجھنے لگا ، دنیا وی حکام کی مدح ، خوشامد اور خوشنودی جو بسلسلہ ملازمت ضرور سمجھتا تھا اس سے بےزار ہوگیا ، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدت العمر مجھے کوئی دشواری پیش نہ آئی ۔
اپور
حضرت یوسف شاہ تاجی نے ایک روش فرمایا ، اکثر یہ اشعار التزاما پڑھتے
مرحبا سید مکی مدنی العربی
دل وجاں باو ذرایت چہ عجب خوش لقبی
چہ عجب خوش بقی کے بجائے بابا پڑھتے
چہ عجب بے عجبی.
سعدی علیہ الرحمتہ کا یہ نعیتہ شعر بھی اکثر پڑھتے
چہ غم دیو رامت را کہ باشد چوں تو پشیبتاں
چہ باک از موج بحرآں ارا کہ باشد نوح کشتیاں
اپور
|