Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

ابتدائی حالات

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

حضورﺭﺿ کا سراپا

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

اخلاق حمیدہ

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

نسبت فیضان

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ  کی جامعیت

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

تعلیم و تربیت

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

نظر تاج الاولیاء

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

حیوانات پر تاج الاولیاءکی حکومت

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

طے الارض

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

 انیک روپ میں ایک

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

زندگی عطا کرنا

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

بہ یک نظر دیوانگی

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

امراض کا سلب کرنا

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

احکام شاہی

 

Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

احترام شریعت

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

والیان ریاست اور شہنشاہ ہفت اقلیم

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

مثالی زبان

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

سیاست عالم

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

علات اور وصال کی پیسنگوئی

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ کی شعر و شاعری

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

سرکار تاج الاولیاءکی محبت و شفقت

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

اولاد عطا کرنا

 
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization
   
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization
   
Baba Tajuddin Aulia Nagpuri. Taji Sufi Order. Ummah Tajia Organization

 

احکام شاہی

 

 

رپش مبارک

یہ ایک ہندو خاتون تھیں جنھوں نے ایک انگریز سے شادی کر لی تھی ، انکو شوہر ملٹری میں مےجر ڈاکٹر تھا سےراماں سر کا ر بابا کے پاس پاگل خانہ میں حاضر ہوئےں ۔ باب صاھب نے پیشاب کیا اور ایک کنکری اُٹھا کر دی ، جس پر پیشاب کیا تھا ۔ یہ گھر آئےں تو اپنے شوہر کو وہ کنکری دکھائی ۔ اس نے کہا یہ واپس کر آﺅ۔چنانچہ سےر اماں باب صاحب کے پاس حاضر ہوئے تو یہ کنکری واپس کی ۔ حضور نے فرمایا ، اماں اپنے پاس رکھتے ہیں ۔

اب دپکھا تو وہ کنکری ہپرے کی تھی۔

جب اُن کا شوہر مرگیا تو انھوں نے سب کچھ چھوڑ کر فقیری لے لی اور سرکار بابا کی خدمت میںرہنے لگےں ، ایک روز دریا کے فےض جوش پر تھا ، باب صاحب نے دریافت کیا اماں ، کیا چاہتی ہو ، سےر اماں نے عرض کیا کہ باب میں یہ چاہتی ہوں کہ آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہمیشہ رہے ، باب صاحب نے فرمایا ، اےسا ہی ہوگا اور اپنی رےش مبارک پر دست مبارک پھےر کر چند بال نکالے اور سےر اماں سے فرمایا ۔

اماّں لو، اس کو رکھو، یہ اللہ کا نور ہے ۔

حضور بڑے دادا تاج الاولیاء کا وصال ہوگیا توجےمی صاحب نے دیکھا کہ باباصاحب فرما رہے ہیں :۔

?سےر اماّں کے پاس جاﺅ۔?

جےمی صاحب سےر اماّں کے پاس پہنچے اور اکثر آتے جاتے رہے ۔ سےر اماّں کا وقت قریب آیا تو انھوں نے وہ رےشِ مبارک کا تبرک جےمی صاحب کو عطا فرمایا جو اُن کے پاس اب تک موجود ہیں ۔

جےمی صاحب کا بیان ہے کہ آزمائش کے طورپر ، یہ دیکھنے کے لئے کہ یہ واقعی بڑے دادا تاج الاولیاء کے بال ہیں یا نہیں ، ان کو آگ دکھائی لیکن وہ جلے، اسی روز شب میں میں نے دیکھا کہ بڑے دادا تاج الاولیاء تشریف لائے اور فرمایا

?او حضرت میرے اوپر اعتبار نہیں ہے ، میری آزمائش کرتا ہے ?

 اپور

یہ کوٹ اتار دے اور کال پانی جا

پوتےن بھائی جن کا نام ان کے بقول حضور نے یوسف رکھا تھا ۔ یہ حضرت مولانا عبد الکریم شاہ صاحب تاجی ﺭﺿ المعروف باب یوسف تاجی ﺭﺿ کے برادر نسبتی تھے ۔ واکی شریف میں لجھی بائی کے پڑوس میں رہتے تھے لچھی بائی بہت حسین اور جوان تھی اور پوتئےن بھائی بھی خوبصورت جوان تھے ۔ وےسے لچھمی بائی کچھ پاگل سی بھی تھی۔ ایک روز حضور نے پوتئےن بھائی سے فرمایا ہم تجھے آزمائےں گے ۔ چند روش بعد آزمائش شروع ہوئی ۔ لچھمی بائی نے پوتئےن بھائی کو چھےڑنا شروع کیا پرےش ہو کر نہیں نے اسمعٰےل خان صاحب پٹےل خانپور والون سے مشورہ کیا ۔ تو انہوں نے مشورہ دیا کہ کانچکوری لا کر اس کے جسم پر خفیہ طور پر ڈال دو ۔ ( اس میں یہ خاصےت ہوتی ہے کہ اس کا رواں جسم پر جہاں چھو جائے وہاں ناقابل برداشت کھجلی ہوتی ہے ۔ اس کا علاج گائے ۔ بھےنس کا گوبر لگا نا ہے ۔ چنانچہ پوتئےن بھائی نے اس پر عمل کیا ۔ لچھمی بائی کا کھجلی سے اتنا برا حال ہوا کہ اس نے ان کے نام سے پولےس میں رپورٹ کر وادی۔ داروغہ تفتےش کے لئے فورا گھوڑے پر سوار ہو کر آیا ۔ دوران تفتےش پوتئےن بھائی کو خوب زور زور سے گالیاں دےنا شروع کےں ۔ حضور ﺭﺿ نے بھی داروغہ پولےس کی اکڑ پھوں سینی اور سائےں سے فرمایا کہ گھوڑے کا تنگ کھول دے۔ سائےں نے حضور کے حکم پر عمل کیا ۔ تو داروغہ جی اور غضبناک ہوئے اور تفتےش کا پرچہ خود ہی پھاڑ دیا ۔ اور غصہ میں حضور کی خدمت میں آیا سرکار نے اس کو حکم دیا کہ ?یہ کوٹ اتار دے اور کالے پانی جیہ وردی ہم ہی نے تو دی تھی?۔ داروغہ جب تھا نہ واپس پہنچا تو اس کی وردی چھن گئی ۔ ےعنی وہ ملازمت سے برخاست ہوا ۔ اور کسی مقدمہ میں اےسا ماخوذ ہوا کہ اس کو کالی پانی کی سزا بھی ہوئی ۔اس طرح سر کار نے ایک تےر سے کئی نشانے کئے ۔ ےعنی لچھمی بائی کی غلط روش ٹھیک ہوگئی ۔ پوتےئن بھائی کو اس کے چکر میں پھسنے نہیں دیا اور داروغہ کا تمام کھآیا پیا نکال دیا ۔

 اپور

یوسف حسین خان

ریاست جے پور ?ماجی تھانہ میں سب انسپکٹر تھے ، حاضر دربار ہوئے ، ایک زری کا جوتا پیش کیا ، جو خاص طور پر حضور کے لئے بنوآیا گیا تھا ، حضور نے پاﺅں میں ڈالا اور فورا ہی اتار کر حضرت یوسف شاہ تاجی ﺭﺿ کو یہ فرماتے ہوئے عطا کیا

?اس کو پھےلا کر بتاﺅ?

پھر حضور نے یوسف حسین خان صاحب کو تحصیلدار کے لقب سے یاد کیا ۔ انھوں نے عرض کیا میں تحصیلدار نہیں سب انسپکٹر ہوں ?۔ حضور چپ ہوگئے مگر جے پور واپس آتے ہی ان کو تحصیلداری کا موقعہ ملا ، تو ان کی سمجھ میں آیا کہ تحصیل دار کے کیا معنی تھے ؟

 اپور

تحصیل دار ناظم

دوسرے سال بڑی عقیدت کے ساتھ حاضر دربار ہوئے، حضور نے اس مرتبہ ان کو ناظم صاحب کہ کر خطاب کیا ، یہ واپسی پر ناظم ہوگئے ۔ ریاست جے پور میں ناظم کو دیوانی ، فوجداری مال تےنوں شعبوں کے وسےع اختیارات حاصل ہوتے تھے ۔

 اپور

آدھا دیوان

ایک مرتبہ یوسف حسین خاں صاحب جب ناظم کے عہدے پر مامور تھے حاضر ہوئے تو حضور نے فرمایا

?جاﺅ ، تم کو آدھا دیوان کیا ?۔

اس زمانے میں دیوان کا عہدہ ریاست میں صرف ایک تھا ۔ دیوان ریاست کو Revenue Commissioner ( رےو نےو کمشنر) کے ہم منصب سمجھنا چاہئےے ۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ آدھے دیوان کا کیا مطلب ہے ؟کچھ عرصے بعد ریاست کو دو ضلعوں میں تقسےم کر کے دیوان اضلاع شرقی ، دیوان اضلاع غربی کے دو عہدے قائم کئے گئے اور ایک دیوان کی جگہ دو دیوان مقرر کئے گئے ، ایک دیوان ، یوسف حسین خاں بھی تھے ۔

 اپور

اعجازِ مسیحائی

ایک بزرگ عبد الصمد نامی ، بھیکی پور جائس سے حاضر دربار ہوئے ۔ دل میں یہ خواہش تھی کہ مجھے کشف عطا ہو جائے ، ان کو بار یابی کا موقعہ ملا تو زبان دل سے سوال کیا کہ دل کی آنکھیں کھل جائیں ۔ حضورکے ہاتھ میں بےڑی سلگی ہوئی تھی مرحمت کر تے ہوئے فرمایا

?یہ لو کشف ?

انھوں نے کش لیا تو فائدہ مطلوبہ کا ف کشف بن کر ظاہر ہوا ، حضور نے ازراہ کرم تصرف کی قوت بھی عطا فرمائی۔ جس طرح کوئی جغرافیہ کا طالب علم، شہروں کے نام بے تکلف کمال سرعت سے لےتا ہو ، آپ نے بہت سے شہروں کے نام لئے اور فرما یا

?جاﺅ ان مقامات پر ہر مرض میں تمھارے پانی سے شفا ہوتی ہے ?۔

یہ صاحب ، کشف وکرامات لیکر واپس ہوئے ، دنیا خود بخود ان کی طرف متوجہ ہوئی اور اتنی کثرت سے لوگ حاضر ہونے لگے کہ گورنمنٹ کو رےلوے اسٹےشن اور پولےس اسٹےشن وہاں بنوانا پڑے اور دور دور دھوم مچ گئی ، جہاں پانی پہنچا ، کےسا ہی مرض ہو، بحکم الہی شفا ہوتی ، پانی کے برتنوں کی قطار اتنی زیادہ ہوتی تھی کہ کئی کئی قطار میں دور دور تک تختوں کے اسٹےنڈز بنادئےے گئے تھے ان پر برتن رکھے جاتے ااپ جس برتن میں ہاتھ ڈالتے ، وہ پانی اکسےر شفا ہوجاتا ۔

ایک انگریز نے اس زمانہ کے Times میں اپنا مشاہدہ اور تجربہ بیان کیا تھا ۔

?انسان کے ہاتھ میں برقی لہرےں ہوتی ہیں ، ان سے پانی میں وہ اثر پےدا ہوسکتا ہے کہ مرض دور ہوجائے ، مگر یہ دیکھ کر میری حےرت کی انتہا نہ رہی کہ عبد الصمد باب ہزاروں برتنوں میں ہاتھ ڈالتے ہیں اور ہر برتن کا پانی یکساں طور پر مفےد ثابت ہوتا ہے ، حالانکہ پانی کے اتنے کثےر برتنوں میں ہاتھ ڈبونے کے بعد برقی قوت ختم ہوجانی چاہئےے ?۔ الغرض باب عبد الصمد صاحب کی شہرت ہندوستان کے حدود سے گزر کر

ےورپےن ممالک تک پہنچ گئی اور مسےحی دنیا میں بھی آپ کے چھوئے ہوئی پانی کا اعجاز ِ مےسحائی تسلےم کیا جاچکا تھا ۔

 اپور

ہر کمالے راز والے

اے عرصہ تک یہ سلسلہ جاری رہا ، اتفاق سے ایک عورت ایسے وقت میں ، جب کہ عورتےں بے نماز ہوتی ہیں ، عبد الصمد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ آپ نے ازراہِ کشف فرمایا ۔

?ناپاک ہے ، نکال دو ?

یہ عورت پریشان حال ، شکستہ دل ناگپور پہنچی اور شکر درہ سے باہر مولسری کے ایک درخت کے نےچے جا ٹہری ۔ ادھر اپنی ناپاکی کا خیال ، ادھر جاں بلب بےٹے کی زندگی اور موت کا سوال ، مگر چونکیہ ایک بزرگ کے یہاں سے تنبہی ہوچکی تھی، اس لئے جسمانی حاضری کا خیال ترک کیا ، دل سے حاضر دربار ہونا کافی سمجھا ۔

ادھر بڑے دادا تاج الاولیاء نے چپراسی سے فرمایا ۔

?جاﺅ مولسری کے درخت کے نےچے وہ بیٹی ہے ، اس کو بلا لاﺅ ?

چپراسی گیا اور اس کو بُلالیا ، وہ مودب فاصلہ پر کھڑی ہوگئی ۔ حضور نے فرمایا ۔

?قریب آﺅ آماں !

?وہ ایک لےٹا پانی تھا ، گندہ ہوگیا ، تاج الدین سمندر ہے ، یہاں آﺅ اماں ? عورت قدمبوس ہوئی ، حضور نے فرمایا

?گھر جاتے ہیں ، بچہ کھےلتا ملتا ہے ، اچھا رہتا ہے ?

ادھر عورت بامراد واپس گئی ادھر حضور نے جائز کی طرف منہ کر کے فرمایا (عبد الصمد کو معطل کیا )) Abdus Samad Sspended

جیسے ہی حضور کی زبان سے یہ الفاظ نکلے ۔ عبد الڈمد صاحب کو جو کچھ عطا ہوا تھا ۔ سلب ہوگیا ۔ پریشان ہو کر حاضر دربار ہوئے ۔ حضور نے فرمایا پھر ملے گا اللہ اللہ کرو ک۔

سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کے تعلےمی ، واقعات میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ آپ شریعت کی پابندی کی سختی سے تاکےد فرماتے تھے

 اپور

انشاءاللہ کامیابی ہوگی

اسمٰعےل خان صاحب حضرت قاضی بابا ﺭﺿ کی خدمت میں اکثر تشریف لاتے تھے ۔ یہ بزرگ حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کے حاضر باش اور عاشق تھے ۔ ایک روز اپنے ایک عزےز کا واقعہ سنآیا ۔ وہ فرماتے تھے ۔ سرکار مجھے بڑے بھائی کہہ کر مخاطب فرماتے تھے ۔ میرے ایک عزےز بی ۔ اے کے طالبعلم تھے ۔ دو سال سے فےل ہورہے تھے ۔ بالکل دہریا تھے ۔ میں نے کئی بار بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کا ذکر کیا ۔ اور ان سے کہا کہ تم ایک روز سرکار کی خدمت میںچلو ۔ میں عرض کروں گا ۔ تم پاس ہو جاﺅگے ۔ لیکن اےسا شخص جو اللہ کو نہ مانے ۔ وہ بزرگوں کی خدمت میں کس طرح حاضر ہوسکتا تھا ۔ تےسرے سال جب فےل ہوئے تو آنکھیں کھلےں اور بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کی خدمت میں چلنے کے لئے مجھ سے کہا ، تب میں نے ان سے کہا کہ میں لے چلاتا ہوں ۔ تمہیں سرکا ر کے پےر پکڑ تا ہوں گے ۔ جب تک وہ تمہیں خوشخبری نہ سندیں ۔ پےر پکڑتے رہنا ۔ اگر اس کے لئے راضی ہوتو میں چلتا ہوں ۔ وہ راضی ہوگئے ۔ سرکار کی خدمت میں پنچے۔ قدمبوس ہو کر پےر پکڑلئے ۔ میں نے دل میں عرض کیا ۔ سرکار یہ میرا عزےز ہے ۔ مگر اللہ کو بھی نہیں مانتا ۔ اس کی مراد پوری کر دےجئے تو یہ راہ راست پر ااجائے گا ۔ تھوڑی دےر بعد سرکار نے ان کو کھڑا کیا ۔ اور فرمایا ?بول انشاءاللہ تعالیٰ ہم کمیاب ہوگا ? تےن مرتبہ یہ کلمات کہلوا کر جب اللہ کے وجود کو منوالیا۔ تب فرمایا ?بس جاﺅ? تم پاس ہوگئے اللہ کے فضل سے امتحان دیا ۔ اس سال پورے صوبہ میں پہلی پوزےشن حاصل کر کے کامیاب ہوئے ۔ اب بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے ۔ ایک روز میرے ساتھ سر کار کی خدمت میں موجود تھے ۔ میں سر کار کے پےر دبار ہا تھا ۔ ان عزےز نے میرے کان میں فرمایا ۔ باب صاحب سے دریافت کےجئے اللہ کہاں ہے ۔ میں نے غصہ سے کہا ، کیا مجھے مار کھلائے گا ۔ بس یہ بات ختم نہ ہونے پائی تھی کہ سرکار اٹھ بیٹھے اور فرمانے لگے ۔

Look here Mr, Things which you see are called objects under stand! under stand!

یہ الفاظ سن کر میرے عزےز بالکل مومن بن گئے تعلےم حاصل کر کے وکالت شروع کی جو بہت اچھی چلی ۔

 اپور

حقوق العباد ادا کرنے کا حکم

اور مہر مبارک لگا آئی

ایک نواب صاحب کی اٹھارہ لاکھ کی جائےداد کا مقدمہ کورٹ میں چل رہا تھا ۔ یہ کورٹ کے چکروں سے تنگ آکر سر کار باب صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قدمبوس ہو کر سرکار سے عرض کیا کہ کےس کا فےصلہ میرے حق میں ہوجائے تاکہ پوری جائےداد مجھے مل جائے ۔ سرکار نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ کئی روز بعد سرکار تانکہ میں تشریف لے جارہے تھے ۔ نواب صاحب بھی تانگے کے پےچھے دوڑ رہے تھے ۔ راستہ میں ایک ہرےجن کپڑے میں بندھی ہوئی روٹیاں سر پر رکھکر جارہا تا ۔ اس کی نظر جیسے ہی سرکار پر پڑی دوڑ کر سرکار کے قدموں پر جھکا سر کار نے نے روٹی کی پوٹلی اس کے سر سے اٹھالی اورتانگے سے نےچے اتر گئے ۔ قریب ہی ایک املی کا پےڑ تھا ۔ آپ اس کے سیہ میں بےٹھ گئے اس پوٹلی کو کھولا اس میں سے ایک روٹی نکال کر آدھی نوش فرمائی اور آدھی نواب صاحب کو عطا کر کے فرمایا ?پوری کھانے سے ہگنا لگ جاتا ہے ?۔ لاﺅ جی بےٹری پلاﺅ?۔ نواب صاحب نے فورا بےٹری پیش کی اور مقدمہ کے کاغذات بھی حضور کے سامنے پیش کئے ۔ حضور نے اپنی بےٹری کاغذات کے درمیں رگڑ کر فرمایا ?حقدارکا حق دیتے اچھے رہتے ۔ ہم نے اپنی مہر لگا دی ۔ ?نواب صاحب سمجھ گئے ۔ سرکار کا حکم پاتے ہی روانہ ہوگئے ۔ یہ تو سمجھ ہی گئے تھے کہ سرکار کا یہی حکم ہے کہ حقدار کا حق دو ۔ چنانچہ یہ پیشی پر حاضر ہوئے کےس کا فےصلہ سنآیا گیا تو وہ باب صاحب ﺭﺿ کے حکم کے مطابق ہی تھا۔ ےعنی جائےداد کی آدھی آدھی تقسےم کا حکم ہوا ۔ سرکار میں حاضری کا مقصد نواب صاحب یہ لے کر آئے تھے کہ پوری جائےداد مجھے مل جائے گی ۔ لیکن سرکار پر تو یہ روشن تھا کہ اسطرح دوسرے فرےق کا حق مارنا چاہتے ہیں ۔ چنانچہ سرکار نے ان کو بھی راہ راست پر لے آئے ۔ اور تقسےم صحےح ہوگئی ۔

حقوق العباد ادا نہ کرنے والوں کو اس کی سزا دنیا میں ملتی ہے ۔ آخرت میں تو یہ لوگ سخت سزا میں مبتلہ ہوں گے ۔

 اپور

مولانا کو مغز شریعت سمجھا دی

70 دستوں کی سزا

راوسےد ضیاءالحق یوسفی تاجی ﺭﺿ :۔ ایک مولانا صاحب خود کو بہت زبردست مبلغ سمجھتے تھے ۔ ان کا تبلےغی رخ سرکار باب صاحب ﺭﺿ کی طرف ہوا ۔ اور وہ واکی شریف پہنچے مولانا کو مسجد میں ٹہرآیا گیا ۔ یہاں مولانا نے اپنی طرز بیانی سے چند مسجد والوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا ۔ مسجد میں آرام کرنے کے بعد حضور کی خدمت میں پہنچے ۔ اور سلام عرض کیا حضور نے بظاہر اس کا جواب نہیں دیا ۔ دوبارہ السلام علیکم فرمایا اس کی بھی جواب نہ ملا ۔ تےسری مرتبہ آپ نے شرعی جوش میں آکر زور سے السلام علیکم کہا ?رموزِسلطنت خوےش خسروان وانند ?حضور تنہا نہےن تھے اطراف میں بہت غلام بیٹھے ہوئے تھے ۔ ممکن ہے ان میں سے کوئی نہ کوئی مولوی صاحب کے سلام کا جواب دےتا ہو۔ لیکن مولوی صاحب تو بجائے تمام مسلمانوں کے ایک ہی کو سلام کررہے تھے ۔ اور ان سے ہی جواب چاہتے تھے ۔ بھلا اس محافظ شرع متےن کی طرف سے شروع شریعت کو خود نہ سمجھنے والے مبلغ کو کیا جواب ملتا ۔ سوائے اس کے کہ ? جواب جا ہلاں باشد خموشی ? تےسرے سلام کا جواب نہ ملانے پر ایک عدد حکم شرعی حضور کو سنا ہی دیا کہ ااپ فرض کفیہ ترک کررہے ہیں ۔ اس پر بھی سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ نے خموشی اختیار کی مولوی صاحب بہت جھنجلا کر واپس لوٹے ۔ چند قدم ہی چلے تھے کہ بالکل صاف راستہ ہونے کے باوجود ایک پٹخنی کھائی ۔ مولوی صاحب نے ادھر ادھر دیکھا لیکن اےسی کوئی چیز دکھائی نہیں دی جس سے ٹکرا کر مولانا گرے ہوں اپنی عبا وچغہ جھاڑ کر مولانا چلنے لگے پھر چند قدم ہی چلے ہوں گے کہ دوسری اور پھر اٹھ کر چلنے کے بعد تےسری پٹخنی کھائی ۔ مولوی جی کو جب ہوش آیا تو دل میں سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ تےن سلام کا جواب ملا ہے ۔ آپ مسجد پہنچے کچھ دےر اارام کیا ۔ پھر دماگ پر جنون طاری ہوا اور باباصاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ خالی قال اللہ قال رسول اللہ کا زور وہاں کیا کام کرتا جہاں قال اللہ قال رسول اللہ کے جمال کا مشاہدہ کردیا جاسکتا ہو۔ لیکن مولوی صاھب پر استخوان پیش سگاں اندا ختم کا غلبہ تھا۔ سمجھی بوجھی شرع شریف کے عامل نہیں تھے ۔ حضور کو چوتھا سلام کیا ۔ اس کا جواب نہ ملنے پر مولانا نے غصہ میں کہا ۔

?کیا آپ نے شرع شریف کے پرخچے بکھےرنے کا تہیہ کر رکھا ہے ?۔

اسووقت حضور نے مولوی صاھب سے کہا

?ہم ے تجھے ستر دستوں کی سزا دی ?۔

مولوی صاحب پھر بھی نہ سمجھے اور غصہ میں واپس لوٹے ۔ رمضان شریف کے دن تھے ۔ افطار کے وقت مسجد پہنچ گئے۔ ا فطار میں لولوی صاھب کے لئے علاوہ اور چیزوں کے حلوہ بھی آیا ۔ مولوی ساھب نے کچھ حلوہ افطار میں کھآیا اور کچھ سحری کے لئے رکھ لیا ۔ سحری کھانے کے بعد مولوی صاحب نے وہ حلوہ کھآیا ۔حلوہ کھانے کے تھوڑی دےر بعد ہی مولوی صاحب کو دست شروع ہوگئے اور یکے بعد دےگرے ستر دست ہوئے ۔ اس وقت مولوی صاحب کے سمجھ میں آیا کہ یہ سزا انکو حضور بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کی طرف سے ملی ستر دستوں کے بعد مولوی صاحب کی حالت بہت خراب ہوگئی تھی ۔ سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ نے اپنے فرمان کے مطابق کہ کالے تاج الدین کے پاس صابن بہت ہے ?۔ مولوی صاھب کا باطن جو ظاہری علم کے غرور سے مکرر ہوگیا تھا ۔ اسکو دھو کر مولوی صاحب کو سمجھا دیا کہ ے

عاشقاں راشد معرس روئے دوست علم ودیں ہر دو حجاب روئے ادست

عشق آمد عقل و آوارہ شد صبح آمد شمع او بےچا رہ شد

چنانچہ مولوی صاحب اسطرح اپنے غلط تبلےغی خیال سے باز اائے ۔ اور پھر

بگرد کعبہ گردم کہ روئے یا ر من کعبہ شوم طواف مےخانہ ہو سم پائے مستانہ

میرے ہادی بر حق کے پاس معزز قرآن تھا ۔ اس سے میرے سرکار نے اولیاءاللہ کے منکرےن کو قائل کیا اور اس کا مشاہدہ بھی کرا دیا ۔ اور کئی سالک بزرگوں کے خطرات بھی دور فرمانے کے طرےقہ کار بتلائے ۔

 اپور

پاس ہو گیا

انھوں نے بیان کیا میں بند رابن (متھرا) میں سنسکرت پڑھ رہا تھا، مسلسل کئی سال فیل ہو کر دل شکستہ اور مایوس ہو چکا تھا، کہ کہیں سے بڑے دادا تاج الاولیاء کا نام سن لیا، ناگپور حاضر ہوا، بڑے دادا تاج الاولیاء کے درشن کئے، تو فرمایا ?پاس ہو کر آتے ہیں ?

میں پاس ہو گیا- اس کے بعد ہر امتحان سے پہلے حاضر ہوتا اور ہمیشہ یہی ارشاد ہوتا ?پاس ہو کر آتے? یہاں تک کہ پنڈت ہو گیا اور فارغ التحصیل ہو گیا، حاضر خدمت ہوا، دل میں یہ خیال تھا کہ اب کتھا سنانا شروع کروں تا کہ علم بھی حاضر رہے اور آمدنی بھی شروع ہو جائے، د وسرا خیال یہ تھا کہ اس کام کی اجازت ہو جائے تو ناگپور میں کچھ روز کتھا سنا کر روپیہ حاصل کیا جائے، گھر جائیں تو بچوں کے لئے تحفے تحائف لیتے جائیں - جب میں حاضر دربار ہوا تو دیکھا بڑے دادا تاج الاولیاء کے گرد زیارت کرنے والوں کا ہجوم ہے- اس میں میری رسائی آپ تک مشکل تھی-

 اپور

جامن کے پتے

مولوی سےد عبد السلام سب جج ریاست جے پور ملازمت سے پہلے ہائی کورٹ جے پور کے ممتاز ترین وکےل تھے ہزاروں روپے ماہانہ اامدنی تھی ، صاحب خےر تھے ، کنبہ پر ور تھے ، دوستوں پر خوب خرچ کرتے تھے ، سےر و شکار سے دلچسپی تھی ، شعرو شاعری سے خاس ذوق تھا ، شعر اچھا سمجھتے تھے اچھا کہتے تھے ، مجھے ان کا ایک شعر یاد آگیا

ہوشیاری ہے فرےب عاشقی کھانے کا نام

عاشقی ہے بند آنکھیں کر کے لٹ جانے کا نام

سلسلہ نقشبندیہ میں ابتداً بےعت حاصل کی ، پھر سلسلہ تاضیہ میں حضرت قبلہ و کعبہ سے چشتی ، قادری ، تاجی نسبت بھی حاصل کی ، بڑے ذاکر وشاغل آدمی تھے، شےخ کے حکم کی تعمےل کس طرح کی جاتی ہے ، عبد السلام صاھب کے طرز عمل سے طالبوں کو حاصل کرنا چاہئےے۔

ایک دن حضرت یوسف شاہ تاجی ﺭﺿ نے عبد السلام سے فرمایا کہ آپ اگر چہ نہایت کامیاب وکےل ہیں مگر شرعاً وکالت کا پیشہ جائز نہیں ہے ۔ منشائے عالی دریافت کرنے کے بعد انھوں نے اس کامیاب ذرےعہ معاش کو یک قلم ترک کر دیا اور ریاست میں سب جج کا عہدہ قبو ل کر لیا ، تنخواہ جو ملی وہ اس اامدنی کا عشر شےر بھی نہ تھی ، اندوختہ کچھ نہ تھا ، اس لئے زندگی میں سادگی آگئی جو فقیرانہ زندگی سے متوازن تھی ۔

سےد عبد السلام صاحب کے والد مرحوم نواب صاحب ٹونک کے طبیب خاص تھے ، اس لئے بہت سے خاندانی نسخے جو سےنہ بسےنہ چلے آتے تھے، ان کو ورثہ میں ملے تھے انھوںنے دو نسخے حضرت یوسف شاہ تاجی کی خدمت میں یہ کہ کر نذر گزار ے تھے کہ دربار شاہی میں نذر گزارنا اور اس نظر کا شآیان شان ہونا بھی لاذم ہے ، اس لئے اکسےر الاجسام اور کےمیائے عشرت کے دو نسخے مجھے مرحمت فرمادئےے جو میرے پاس ہیں ، غرضیکہ علم طب اور علم کےمیا سے ان کو خاص لگا ﺅ تھا ۔

ایک مرتبہ ان کو حضور باب صاحب کی قدمبوسی کا شوق ہوا ، ناگپور پہنچے حکیم ظفر اتوارہ بازار والے باب کے خادم خاص بھی جے پور ہی کے رہنے والے تھے وہ ان کے عزےز بھی تھے ، ان کے ساتھ حاضر دربار ہوئے ، راستہ میں جامن کے درخت کہیں نظر آئے تو انھوں نے کہا کہ بڑے دادا تاج الاولیاء کے یہاں سے واپسی میں جامن کے پتے حاصل کئے جائیں گے ، کےمیا کے ایک نسخہ میں ان کی ضرورت ہے ، مگر جب یہ حاضر دربار ہو کر قدمبوسی کے لئے جھکے تو حضور نے فرمایا

انکو قدمبوسی ?ےعنی قدمبوسی نہیں ، ہمارے جامن کے پتوں کو ہاتھ لگیا تو ہم ڈپٹی کلکٹر سے کہکر گرفتار کردیتے ہیں ?۔

 اپور

پریشانی دور

حنےف صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے خُسر صاحب بہت تنگدست اور پریشان کنعان ندی کی طرف سے گزار رہے تھے کہ بڑے دادا تاج الاولیاء نے فرمایا

?کےوں پریشان ہے رے ، بہت اچھا رہے گا اور دنیا میں دولت وعزت حاصل کرے گا ? ۔

چنانچہ حضرت باب صاحب کے ارشاد کے مطابق کچھ عرزصے کے مطابق کچھ عرصے بعد وہ کافی دولت مند ہوگئے اور عزےز واقارب میں نہایت معزز خیال کئے جانے لگے ۔

 اپور

قلم کی برکت

ماسٹر حنےف صاحب ، کامٹی شریف کے رہنے والے ہیں ، بیان کرتے ہیں کہ میرے نسبتی برادر محمد شرف الحق صاحب، پروفےسر زمانہ طالب علمی میں حضور کے بہت زیادہ معتقد تھے ، وہ مےٹرک کا امتحان دے کر حضو ر بڑے دادا تاج الاولیاء کی خدمت میںحاضر ہوئے ۔ شرف الحق صاحب کود کہتے ہیں کہ میں بچپن میں بہت شرےراور آوارہ قسم کا لڑکا تھا ، والد صاحب مجھے مارتے پےٹتے رہتے تھے ، پڑھائی کی طرف بالکل توجہ نہ تھی ۔ بڑے دادا تاج الاولیاء قبلہ ﺭﺿ نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا

?آوارہ لڑکوں کے ساتھ گھومتے ہیں، ماں باپ کا کہنا نہیں مانتے ہیں، مار کھاتے ہیں، لکھتے پڑھتے کچھ نہیں ، کامیابی کی امےد لیکر میرے پاس آتے ہیں ۔ لا ، لارے قلم اور کاپی دے ?۔

انھوں نے قلم اور کاپی پیش کی ، باب صاھب نے ایک صفحہ پر یہ جملے تحریر فرمائے ?کابلی کو گرفتار کرو ، کابلی کو قےد کرو، کابلی پر سخت نظر رکھو۔?

اور فرمایا رے جا ، جا?۔

چنانچہ ۴۰ سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود قلم بلیک برڈ اور وہ تحریر ان کے پاس محفوظ ہے ، وہ جو بھی درخواست اس قلم سے تحریر کرتے ہیں ، یا دستخط کرتے ہیں ، ہمیشہ انھیں کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔

 اپور

بیس روپے کی ملازمت

غلام دستگےر صاحب مقےم کامٹی شریف اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء کی خدمت میں حاضر ہوا ، ملازمت کی فکر تھی ، ایک جگہ درخواست بھی دیدی تھی ، مجھے دیکھتے ہی بڑے دادا تاج الاولیاء نے پوچھا

?کتنے روپے کی ملازمت چاہتا ہے ?؟

میں نے عرض کیا کہ بیس روپے کی مل جائے تو ٹھیک ہے ۔ چنانچہ دو دن بعد ہی میں بیس روپے ماہوار پر ملازم ہوگیا ۔

 اپور

علی حسین صاھب تحصیلدار

علی حسین صاحب ناگپور کے علاقہ میں تحصیلدار تھے، رشوت ستانی کے ایک سو سے زائد مقدمات ان پر قائم ہوگئے ، گرفتار ہونے کا اندےشہ ہوا توروپوش ہو کر ناگپور پہنچے ، بڑے دادا تاج الاولیاء سے قدمبوس ہوئے تو ارشاد فرمایا ?ٹھہرو? ( یہ جملہ حاضر دربار رہنے کا حکم ہوتا تھا ) یہ دربار میں فقیرانہ انداز میں رہنے لگے ، داڑھی اور سر کے بال بڑھ گئے ، کپڑے پرانے ہو کر جسم پر پھٹنے لگے ، جب کبھی ان کو جانے کا خیال ہوتا حکم ہوتا ٹہرو?۔

چند ماہ بعد سرکار نے خود ہی حکم دیا ۔

?گھر جاتے ہیں ، اچھے رہتے ہیں ?۔

 اپور

غیر حاضری میں حاضری

یہ گھر پہنچے ، مگر اس وقت کہ رات تھی ، لوگوں کی نگاہوں میں نہ آسکتے تھے ، دروازہ کھٹکا یا کھلا اندر پہنچے ، خیریت دریافت کی ، حےرت کی انتہا نہ رہی کہ وہ گھر سے غیر حاضر رہے ، نہ دفتر سے غیر حاضر تھے ، گھر والوں کے کہنے کو جھٹلا نہ سکے ، صبح ڈرتے ڈرتے دفتر گئے ، عملے نے باقاعدہ سلام کیا ، رجسٹر حاضری آیا تو اس میں حاضری آیا تو اس میں حاضری کا نشان اپنے قلم سے دیکھا ، قبض الوصول تنخواہ پر ہر مہےنے دستخط موجود ، فائلوں پر احکام دستخط بقلم خود موجود ۔

 اپور

بڑے دادا تاج الاولیاء بیرسٹر کے روپ میں

مقدمات کے متعلق معلوم ہوا کہ مسلسل پیشی ہوتی رہی ، مقدمہ باوجود ثبوت &#