|
میں (قاضی محمد علی تاجی) اپنے ایک واقعہ سے شروع کرتا ہوں - جن دنوں ہم لوگوں کا قیام گھاٹ کوپر (بمبئی انڈیا) تھا- میں دن بدن کمزور ہوتا جا رہا تھا- خوراک دھیرے دھیرے ختم ہو رہی تھی- نو بت یہاں تک پہنچی کہ آدھا پؤ دہی کی لسی بھی چوبیس گھنٹہ میں ختم نہیں ہوتی تھی- پانی تک قے کے ذریعے نکل جاتا تھا بمبئی جیسی لسی جہاں اعلی سے اعلی ڈاکٹر حکیم موجود تھے- ان کا علاج کرایا گیا لیکن افاقہ کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میں بھی یہ سمجھنے لگا کہ اب میرا زندہ رہنا مشکل ہے ہاتھ پیر بلکہ پورے جسم کے عضو بالکل بے کار ہو گئے تھے- نہ ہاتھ اٹھا سکتا تھا نہ پیر چلا سکتا تھا اسی پریشانی میں سرکار سے عرض کیا اور مجھے غنودگی سی آئی - اس میں میرے آقا تشریف لے آئے اور حکم دیا - ?امرود کھاتے اچھے ہو جاتے- اس کے بعد زبان ہلانے کی طاقت پیدا ہو گئی - والدہ محترمہ سے عرض کیا جو سرکار کی سچی پکی عاشق تھیں لیکن انہوں نے امورد نہیں مگوائے- اور نہ میں نے بڑے دادا تاج الاولیاءسرکار کے حکم کا ذکر کیا- میں سمجھتا ہوں کہ سرکار کا حکم ان تک نہیں پہنچا تھا- وہ تو پاکستان آ کر ایک سال بمشکل تمام یہاں رہیں - ہر وقت یہی رٹ تھی کہ مجھے جلد از جلد دربار ناگپور شریف پہنچا دو - تم لوگ نہ رہنا چاہو تو مجھے اکیلے چھوڑ کر چلے ؤ- اور ان کو سرکار نے بلایا اور اپنے پائیں سی میں جگہ عطا فرمائی- اصل واقعہ سے ہٹ گیا ہوں تھوڑی دیر بعد والد صاحب قبلہ تشریف لائے تو بہت عمدہ قسم کے امرود ساتھ لائے اور مجھ سے دریافت کیا ?میاں امرود کھؤ گے- میں نے خوش ہو کر ہاں میں جواب دیا چنانچہ مجھے ایک امورو دا گیا - جسے کھاتے ہی میرا مرض دور ہو گیا-
اپور
ناگپور بیٹھ کر بمبئی کے مریض کا مرض سلب کرنا
بمبئی سے سرکار کے عقیدت مند ایک تاجر حاضر ہوئے- ان کے والد کی حالت بمبئی میں بہت خراب تھی - لا علاج مرض تھا- تاجر صاحب نے قدم بوسی کی اور اپنے دل ہی میں والد صاحب کی بیماری کا عرض کیا۔ سرکار نے فورا فرمایا ? واپس جاؤ تمہارے والد صاحب اچھے ہو گئے?۔ یہ انہوں نے اپنی تسلی کے لئے بمبئی جوابی تار دیا۔ بمبئی سے جواب آیا کہ فلاں دن فلاں وقت پر اچانک طبیعت ٹھیک ہو گئی ہے - تار میں جو وقت دیا تھا وہ ان تاجر صاحب کی قدم بوسی کا وقت تھا- اپور
ایک صاحب کی اہلیہ کسی موذی مرض میں مبتلا تھیں- ڈاکٹروں اور حکیموں نے جواب دے دیا تو بزرگوں کی طرف رجوع ہوئے۔ اہلیہ کو لے کر اجمیر شریف پہنچے- اسی رات خواب میں دیکھا کہ کوئی بلند آواز سے کہہ رہا ہے ?حضرت تاج الدین ﺭﺿ ناگپور کے پاس جا? چنانچہ فوراً ناگپور روانہ ہو گئے شکردرہ پہنچے تو معلوم ہوا بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ جنگل کی طرف گئے ہیں - یہ لوگ بھی جنگل کی جانب روانہ ہوئے تھوڑی دور ہی چلے ہوں گے ایک بزرگ کو جلال میں اپنی طرف آتا دیکھا- دل میں خیال ہوا کہ ہو سکتا ہے یہ بزرگ ہی بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ ہوں- اس خیال کے آتے ہی بیوی لرزنے لگی اور یہ محسوس ہونے لگا کہ آفتاب سیاہ ہو گیا ہے - یہ دو پہر میں ایک بجے کا وقت تھا - دھوپ تیز تھی اور ہر چیز ساکت نظر آنے لگی- حضور نے دور ہی سے ان کی جانب پتھرپھینکناشروع کئے۔ یہ خوف زدہ ہو کر دوڑ نے لگیں۔حضور بھی ان کے پیچھے دوڑ ے اور ان کو پکڑ کر فرمایا ۔
? اماں ڈرتی کیوں ہے تیرے کو نہیں مارتا- تیری بلا کو مارتا تھا?۔
اسی وقت یہ بالکل صحت مند ہو گئیں - اپور
گڑھے میں پیشاب کر کے جذام دفع کیا
کریم داد خان ریٹائر اسسٹنٹ کلکٹر بھوپال بتاتے ہیں کہ -
ایک دفعہ میں بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ کی خدمت میں حاضر تھا- اس وقت آپ ایک جنگل میں تشریف فرما تھے- دوپہر کا وقت تھا کھانا پیش کیا گیا حضور نے ایک دو لقمے لے کر باقی سب لوگوں میں تقسیم کر واد یا- کچھ دیر آرام کرنے کے بعد اٹھے اور ایک گڑھے میں پیشاب کیا جس میں بارش کا پانی جمع تھا- آپ کی خدمت میں دور ایک جذامی بیٹھا تھا اس کے پاس جا کر اسے حکم دیا۔
? اس پانی میں نہؤ اور اچھے ہو جاؤ? ۔
وہ بے تکلف گڑھے میں کود پڑا ، خوب نہایا جب باہر نکلا تو سب نے دیکھا کہ اس کا بدن کندن کی طرح چمک رہا تھا، جذام غائب تھا-
اپور
شکردرہ شریف کے چوراہے پر بابا جلال الدین ﺭﺿ نے جو راوی سبحان اللہ خان صاحب :-
حضور ﺭﺿ کے فیض یافتہ بچے تھے ایک کنواں کھدوایا تھا جو موجود ہے - اس کے قریب ایک پاگل کوٹھہرایا گیا تھا - اس کے دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھیں اور رسی سے بندھا ہوا تھا- جس وقت سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ ادھر سے گزرنے لگے تو اس پاگل کو سرکار کے سامنے کر دیا گیا -
حضور ﺭﺿ نے اس کو دیکھ کر فرمایا ۔
? کیوں رے سب بیماریاں میرے ڈنڈے سے ڈرتی ہیں - کیا تو نہیں ڈرتا ? ۔
یہ فرما کر حکم دیا کھول دو اس کو چنانچہ حکم کی تعمیل کی گئی - کھولتے ہی وہ بالکل ٹھیک ہو گیا -
اپور
(۱۲) بارہ سال کا مرض غائب
میں (قاضی محمد علی تاجی) جن دنوں نارتھ ناظم آباد میں رہتا تھا۔ میرے پڑوس میں ایک صاحب رہتے تھے- ان کی بہو بارہ سال سے بیمار تھیں ہر دوسرے تیسرے روز دورے پڑتے تھے- کسی کے علاج سے کوئی فائدہ نہ ہوا - عاملوں سے بھی تعویذ وغیرہ لیئے لیکن اس کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا- ان کے گھر کی عورتیں میرے گھر آ گئیں اور تفصیل بتائی- میری اہلیہ سے میں نے کہا کہ سرکار کا پانی انہیں دے دو- وہ پیتی رہیں انشاءاللہ تعالیٰ ٹھیک ہو جائیں گی- چنانچہ بوتل میں ان کو پانی دے دیا گیا- ایک ہفتہ میں وہ تندرست ہو گئیں- ان کے شوہر اب بھی پانی لے جاتے ہیں- ان کے گھر میں ہر مرض کا یہی علاج ہے- وہ محترمہ ہر وقت پانی ساتھ رکھتی ہیں -
اب پانی کی وضاحت کر دوں۔ میرے پاس جو میرے آقا کے تبرکات ہیں۔ اس میں ایک گلاس بھی ہے جس سے سرکار نے اکثر پانی پیا ہے- سرکار کے یوم ولادت پر وہ گلاس نکالا جاتا ہے اس میں پانی بھر کر فاتحہ میں رکھتا ہوں- بعد میں ایک تھرماس میں محفوظ کر لیتا ہوں ۔پورے سال مریضوں کو اس تھرماس سے پانی دیتا رہتا ہوں سرکار کرم فرما دیتے ہیں - سرکار کے لب سے لگے ہوئے گلاس کے پانی کی یہ تاثیر ہے -
اپور
لڑکی کا مرض ختم
ایک صاحب حضور ﺭﺿ میں حاضر ہو کر اپنی لڑکی کے لئے دل ہی دل میں
حضور ﺭﺿ سے عرض کرنے لگے کہ میری لڑکی اب تب کی حالت میں ہے میں آپ کے کرم کا امیدوار ہوں- ابھی ان کی عرض ختم نہ ہوئی تھی کہ ان کی طرف دیکھا اور آنکھیں بند کر کے تھوڑی دیر سکوت فرمایا اور تھوڑی دیر کے بعد آنکھیں کھولیں - اور سائل کی طرف دیکھ کر فرمایا-
?جا کر آ بابا بچی اچھی ہو گئی? ۔
یہ خوشی خوشی اپنے گھر آیا دیکھا کہ بچی کھانا کھا رہی ہے اور گھر کے تمام لوگ خوش
ہیں - یہ دیکھ کر بیوی سے دریافت کیا کہ ماجرا کیا ہے-بیوی نے کہا کہ تھوڑی دیر پہلے ایک فقیر صاحب باہر تشریف لائے اور خیرات مانگی میں پیسہ لے کر باہر گئی اور خیرات دینے لگی تو مجھے دیکھ کر فرمایا۔
? تو غمگین کیوں ہے?-
یہ سن کر میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے- اور میں نے کہا میری لڑکی قریب المرگ ہے تمام ڈاکٹر اور حکیم جواب دے چکے ہیں یہ سن کر فقیر نے کہا میں لڑکی کو دیکھنا چاہتا ہوں چنانچہ اندر آ کر لڑکی کے قریب ایک دو (۲) منٹ بیٹھے اور لڑکی کے بدن پر ہاتھ پھیر کر فرمایا۔
? اچھی ہو جائے گی? ۔
وہ ابھی تھوڑی دیر ہوئی تشریف لے گئے اور ادھر بچی بیٹھی اور کھانا طلب کیا جو کھا رہی ہے یہ سن کر اس شخص نے اپنی لڑکی کو گلے سے لگا یا اور پاگل خانہ کا ماجرا کہہ سنایا -
اپور
مسمی گوندیا میونسپل محرر کا لڑکا اندر نامی اپنی بد کرداریوں کی وجہ مرض جلندھرمیں مبتلا ہو گیا- ڈاکٹروں حکماءنے ہاتھ اٹھا لئے تھے- زیست کی کوئی امید باقی نہ تھی- ایسی ابتر حالت میں گوند یا نے اپنے مریض لڑکے اندر کو شکر درہ
حضور ﺭﺿ کے قدموں میں لا حاضر کیا - دو تین دن بعد حضور ﺭﺿ اس مریض اندر کے پاس خود تشریف لے گئے - اور بیٹھ گئے- چائے طلب فرمائی خادموں نے پیش کی- ایک دو گھونٹ چائے پی کر اس مریض لڑکے کی جانب بڑھا دیا - اور حکم دیا
?چائے پی لے ?
وہ قریب المرگ بے ہوش کیا تعمیل کرتا - کوئی جواب نہ دیا - حضور ﺭﺿ نے مکرر ارشاد فرمایا آخر جلال میں آکر اس قریب المرگ اندر کے منہ سے گلاس لگا دیا گیا - اب قدرت کا تماشا اور
حضور ﺭﺿ کا تصرف نظر آ رہا تھا- کہ بے حس اندر غٹ غٹ کرتا پوری چاءکا گلاس ختم کر گیا۔ اس طرف چاءختم اور اس جانب مرض جلندھر ختم ۔پانچ منٹ کے بعد لڑکا اٹھ بیٹھا اور ا ایک ہفتے بعد صحت یاب ہوکر اپنے وطن کو سدھارا-
اپور
۷٦۰ جیر بانو ٹیرس پارسی کالونی وادر بمبئی ان کی لڑکی ۱۹۴۱ءکو بمبئی میں پیدا ہوئی ۷ سال تک لڑکی کی نہ زبان تھی نہ پیر یہ نومبر
۱۹۴۹ءمیں تاج آباد شریف کو بغرض نیاز و نذر آئے ان کو حضور ﺭﺿ کے قدیم نام لیوا دادا بھائی گزدرنے میرا پتہ دیا تھا۔ کہ تاج آباد جانے پر وہ مجھ ملیں دربار کی حاضری سے فارغ ہونے کے بعد میرے پاس آئے اور حسب ذیل واقعہ کا اظہار کیا -
?میری لڑکی عمر سات (۷) سال ہونے تک بھی نہ زبان سے کچھ بولتی تھی اور نہ چل سکتی تھی- اور یری بیوی اس کی فکر میں شب و روز ایک کر رہی تھی- لڑکی کی صحت کے لئے میں نے سینکڑوں روپیہ خرچ کیا - لیکن کہیں بھی صحت نصیب نہ ہوئی - اور مجبور ہو کر تمام علاج بند کر دیئے تھوڑے دن گزرے ہوں گے کہ کسی نے دادا بھائی گزدر کا پتہ دیا کہ تم ان کے پاس جاؤ اس لیئے کہ گزدر صاحب حضرت بابا تاج الدین ﺭﺿ ناگپوری کے سچے بھگت ہیں اور ناگپور ہمیشہ جاتے آتے ہیں یہ سن کر میں نے یہ خیال کیا کہ بمبئی اور اطراف بمبئی کی تمام درگاہیں چھان لیں کوئی فائدہ نہ ہوا تو اب ناگپور میں کیا ہو گا لیکن ماں کی مامتا نہ مانی ایک دن میری بیوی بچی کو لے کر دادا بھائی گزدر کے پاس گئی اور کل کیفیت کا اظہار کیا جس پر سیٹھ دادا بھائی صاحب نے حضور ﺭﺿ بڑے دادا تاج الاولیاء کے یہاں کا صندل و پانی دیا اور کہا آپ لوگ حضور کی کوئی بھی منت مان لیں کہ ہماری لڑکی اچھی ہو گی تو دربار میں جا کر حسب حیثیت پھول و چادر وغیرہ چڑھائیں گے- میری بیوی نے منت مان لی- اور دادا سیٹھ نے ان کو وقت بھی بتا دیا تھا- کہ اتنے وقت میں تمہاری لڑکی حضور کی دعا کی برکت سے صحت یاب ہو گی- چنانچہ ایسا ہی ہوا- یہ لڑکی جو اب آپ کے سامنے ہے صحتیاب ہے اور میں اس کی منت لے کر تاج آباد شریف حاضر ہوں- چنانچہ وہ لڑکی آج تندرست اور صحیح سلامت ہے اور اسکول میں پڑھنے جاتی ہے-
متھرا پرشاد، امرؤتی والے
اپور
دال ، کھانا کھلاتے اچھے ہو جاتے
متھرا داس گپتا امرؤ تی (بار) کے باشندہ تھے - ان کی موٹر سروس چلتی تھی سرکار تاج الاولیاءکے خاص بچوں میں آپ کا بھی شمار ہوتا ہے- میں نے دیھا کہ بابا کے بڑے فدائی ہیں دوران عرس میں مسلمانوں کو اپنے ہاتھ سے شربت پلا رہے ہیں، جھوٹے گلاس اپنے ہاتھ میں لیتے، ان کو دھوتے اور پھر پیش کرتے پانی کی سبیل پر سب سے زیادہ سرگرمی اور تندہی سے وہ کام کر رہے تھے، اس زمانہ میں وہ آستانئہ عالیہ کے اسٹور کے انچارج بھی تھے، اور حضرت یوسف شاہ تاجی تاج کمیٹی کے صدر تھے-
متھرا داس بے جذبے میں کہہ رہے تھے کہ آج ہندو بھائی مجھ سے کہتے ہیں کہ تم مسلمانوں کے جھوٹے برتن اپنے ہاتھ میں لیتے ہو، برہمن ہو کر تمھیں شرم نہیں آتی- میں ان بھائیوں کو کس طرح سمجھؤں کہ میرا دھرم کیا ہے؟ میرے دھرم میں بابا تاج الدین پر ماتما ہیں وہی ایشور ہیں وہی کرشن مہاراج ہیں، وہی رام چندر ہیں، وہی بجرنگ بلی ہیں، سب کچھ وہی ہیں اور یہی دھرم دوسرے بھائیوں کا تھا مگر وہ سب سمجھتے ہیں کہ بڑے دادا تاج الاولیاء کا انتقال ہو گیا- اس لئے اب وہ دھرمی ہندو بنتے جا رہے ہیں، مگر میں تو بڑے دادا تاج الاولیاء کو امر سمجھتا ہوں، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہیں، اس لئے میرے برتؤ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی- میں جیسا ان کا ادنی داس اس وقت تھا آج بھی ہوں اور ہمیشہ رہوں گا- اس کے بعد انھوں نے کہا بڑے دادا تاج الاولیاء کی غلامی پر پہلے بھی بہت سے ہندو بھائی مجھے طعنہ دیتے تھے، خود میرے گھر والے کہتے تھے کہ تیرا دھرم بھرشت ہو گیا- یہ لعنت ملامت اس وقت اور بھی زیادہ ہو گئی جب میرا داماد مرض الموت میں گرفتار تھا خود میری بیوی نے مجھ سے کہا، تم نے اپنا دھرم بھی خراب کیا اور دنیا بھی خراب کیا اور دنیا بھی خراب ہونے والی ہے، ایک بیٹی ہے وہ بھی صبح و شام میں رانڈ ہونے والی ہے- آخر تمھارے بابا کس دن کام آئیں گے؟ تم ان کی بری بری کرامتیں بکھانا کرتے ہو، اپنے داماد کو تو موت سے بچؤ-
بیوی کی بات میرے دل میں تیر کی طرح لگی- میں نے کہا داماد کو بس میں رکھ کر ناگپور چلو، ڈاکٹروں نے کہا وہ چند ساعت کا مہمان ہے، خود ہی مر جائے گا، اس کے مارنے کی جلدی ہے تو ضرور لے جاؤ، برادری والوں نے بہت سمجھا، مگر میں نے کہا کچھ بھی ہو، یہ مر بھی جائے تو بڑے دادا تاج الاولیاء سے زندہ کرا کے مانوں گا ورنہ پھر تم لوگوں کو منہ نہ دکھؤں گا- بس سروس گھر کی تھی ، ایک بس میں بستر کر کے مریض کو لٹا دیا، ڈاکٹر پاس بیٹھ گیا، میں اور میرے گھر والے بھی بیٹھ گئے - ناگپور پہنچے ، شکردرہ کے باہر سب ٹھیرے، میں سیدھا بڑے دادا تاج الاولیاء کی خدمت میں حاضر ہوا، جاتے ہی عرض کیا -
? بابا میں اپنے داماد کو جو مر رہا ہے لایا ہوں، یا تو اچھا ہو جائے ورنہ آپ کا منہ یہاں بھی کالا وہاں بھی کالا?
میری گستاخانہ بات سن کر بابا نے ایک ہاتھ سے میرا ہاتھ پکڑا، دورا ہاتھ مجھے مارنے کو اٹھا کر فرمایا کیا کہا؟ میں نے پھر کہا ?بابا مارو چاہے چھوڑو، بات یہی ہے جو میں نے کہی، میرے عزت و آبرو آپ کے ہاتھ میں ہے- یہ سن کر بڑے دادا تاج الاولیاء نے ہاتھ جھٹک کر فرمایا -
?جا، دال بھات کھلا، اچھا ہو جاتا ہے?
میں بھاگا ہوا آیا، دال بھات تیار کرآیا اور اس کو کھلآیا ۔ یہ بتانے کی ضرورت
نہیں کہ ڈاکٹر میری ان تمام باتوں کو دیوانہ پن سمجھ رہے تھے ۔ اُن کا خیال تھا کہ پےچش کے مرےض کو اس آخری اسٹےچ پرجب پانی بھی ہضم
نہیں ہورہا تھا دال بھات کھلانا کون سی عقلمندی ہے ؟ مگر میں نے کچھ پرواہ نہ کی ، دال بھات اس کو کھلآیا ، کھاتے ہی اس کو نےند آئی ، شام کو آنکھ کھلی تو پھر اس نے دال بھات طلب کیا ، پھر
دیا ، رات بھر آرام سے سوتا رہا ۔ غرضیکہ تےسرے دن وہ ضوار تھی۔ میں لآیا گیا تھا ۔ مرنے والا تھا ۔ تندرست ہو کر اپنے پاﺅں سے چل کر بابا کے پاﺅں میں آپڑا ، اور اس طرح میرے گھر والوں کا کفر ٹوٹا۔
خدا کے فضل سے وہ آج تک زندہ ہے ، پےچش کی شکاےت اےسی گئی جیسے کبھی ہوئی نہ تھی۔
اپور
راوی حضرت ذہےن شاہ تاجی
میری اہلیہ صاحبہ نے اپنی بچپن کی بےماری کا واقعہ بیان کیا کہ وہ ایک مرتبہ سخت علیل ہوئےں ، ان کی دادی صاحبہ نے خیال کیا کہ انھیں حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء کے پاس حاضر کیا جائے چنانچہ اہلیہ صاحبہ کو حضور باباصاحب کے قدموں پر لےجا کر ڈال
دیا گیا ۔ باب صاحب قبلہ نے اس کے سر پردستِ شفقت پھر کر ارشاد فرمایا :۔
?ابھی نہیں مرتے ، دال کھانا کھاتے اور ٹھنڈا پانی پیتے اور زندہ رہتے ?۔
اسی طرح کئی بار ارشاد فرمایا ۔ سب لوگ خوشی خوشی واپس ہوئے اور کچھ ہی دنوں میں انھیں صحت کلی حاصل ہوگئی ۔
اپور
جس سال سلور جوبلی ہوئی تھی (شہنشاہ برطانیہ کی ، میں ناگپور شریف عرس میں حاضر ہوا تھا ، دوران ِ عُرس میں ایک جلسہ عام ہوا تھا ، حضرت یوسف شاہ تاجی ﺭﺿ نے بیان فرمایا تھا ، اور بھی مقررین تھے، ان میں متھرا پر شاد امراوتی
والے بھی تھے۔ اس میں انھوں نے ایک انگریز کا واقعہ بیان کیا جو غالبا ناگپور میں اُس وقت ڈپٹی کلکٹر تھے۔ وہ کہتے تھے کہ میں ذیابیطیس میں مبتلا تھا ۔ ولایت میں بہت کچھ علاج کرآیا مگر فائدہ نہ ہوا ۔ اتفاق سے میرا تقرر ہندو ستان میں ہوا اور میں ناگپور آگیا ۔ یہاں جو انگریز پہلے سے موجود تھے وہ سب کے سب بڑے دادا تاج الاولیاء سے عقیدت رکھتے تھے اور جو حالات میں نے باب صاحب کے ان سے سنے ، اگر میں کسی ایسے شخص سے سنتا جو انگریز نہ ہوتا تو کبھی بھی ےقےن نہ کرتا ۔ مگر مجھے اپنے انگریز دوستوںپر اعتماد تھا اس لئے ےقےن پےدا ہوا اور خیال آیا کہ میں بھی کسی وقت حاضر ہو کر اپنی صحت کے لئے دعا کراﺅں ۔
اس وقت سر کار کھدان کے قریب ناگ پھنی کے جنگل میں ایک پےڑ کے ساتھ تشریف فرما تھے ۔ ڈپٹی کلکٹر نے ہیٹ زمیں پر کھ کر سلام کیا ۔ سرکار نے قریب ہی سے ایک گھانس کا بڑا پتہ توڑ کر اسکو عطا کر
دیا ۔ اس نے وہاں موجود باب کے بچوںسے دریافت کیا کہ اسے کیا کرنا چاہئےے۔ ان لوگوں نے بتآیا کہ اسے کھالےں ۔ اس نے آدھا اسی وقت چبا کر کھالیا ۔ اور آدھا سونے کے
تعویز میں بند کر کے بازو پر باندھ لیا ، اس دن سے آج تک وہ شکاےت پھر مجھے کبھی
نہیں ہوئی ۔
اپور
|