|
|
 |
| بہ یک نظر دیوانگی |
|
|
تلقین درسِ اہل نظر یک اشارت است
مولیٰنا حکیم شاہ زماں صاحب محلہ شطرنجی ناگپور بڑے جید عالم تھے ، جامعہ ازہر میں مدرس رہ چکے تھے ، پکے اہل ِحدیث تھے، کوئی شخص بابا
ﺭﺿ
کا ذکر کرتا تو سخت گستاخی سے پیش آتے۔ ایک نواب صاحب انکے زیرِعلاج تھے، اوراکثر بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کے یہاں حاضر دربار رہتے تھے،حکیم صاحب کو بھی حاضری کی ترغیب دیتے تھے مگر حکیم صاحب آمادہ نہ ہوتے تھے ۔ ایک دن نواب صاحب حکیم صاحب کے یہاں آئے اور فرمایا ۔ ?چلئے? حکیم صاحب نے پوچھا کہاں ؟ جواب دیا شکردرہ چلیں گے حکیم صاحب نے حسبِ معمول انکار کیا تو نواب صاحب بولے آ پ گاڑی میں بیٹھے رہنا میں اندر جاکر باباصاحب
ﺭﺿ
کی زیارت کر آﺅں گا۔ اس کے بعد ہوا خوری کے لئے کہیں چلیں گے ۔ یہ بات حکیم صاحب نے منظور کر لی، دونوں شکردرہ پہنچے ، حکیم صاحب گاڑی میں بیٹھے رہے ، نواب صاحب اندر گئے اور حکیم صاحب کو خیال ہوا کہ ذرا چل کر دیکھیں آخر کیا ماجرا ہے؟ اندر آئے تو دیکھا ہزاروں کا مجمع ہے اور بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
ایک طرف کو کھڑے ہیں حکیم صاحب نے باباصاحبﺭﺿ
کو دور سے دیکھا کہ وہ آپ کی طرف آرہے ہیں ۔ بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
بہت تیزی سے ان کے قریب آئے اور ان کی طرف دیکھ کریہ اشعار پڑھے :
تواں دربلاغت بہ سحباں رسید نہ در کنہہ بیچوں سحاں رسید
یتیمے کہ نا کردہ قراں درست کتب خانہ چند ملت بشست
ً بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
تو اس کے بعد چلے گئے مگر حکیم صاحب حیرت کے دریا میں غرق، اور سکتے کے عالم میں گم دیر تک کھڑے رہے،ہوش آیا تو بار بار فرماتے تھے،میں بڑے دھوکے میں تھا،بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
اللہ کے بہت بڑے ولی ہیں۔ اس واقعہ کے بعد آپ برابر حاضرِ دربار ہوتے رہے۔ اپور
بھوپال کے ایک شخص حمید الدین صاحب فرماتے ہیں کہ والی ریاست بھوپال کے ایک قریبی عزیز کا واقعہ ہے کہ وہ ناگپور شریف مع اپنے اہل و عیال کے حاضر ہوئے، باورچی بھی ساتھ تھا، یہ خوش نصیب باورچی بھی حاضر تھا، بس ایک نظر پڑنا تھی کہ از خود رفتہ ہو گیا اور آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔ بات چیت بالکل بند ، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ محوِ حیرت ہے لوگوں نے طرح طرح کے خیال ظاہر کیئے ۔ کسی نے کہا بیماری ہو گئی ہے ، کسی نے کہا جن ہے ، غرض اپنی عقل کے مطابق ہر شخص نے رائے زنی کی ۔ آخر کار اس باورچی کو بھوپال لائے مگر حالت میں کوئی تغیر پیدا نہ ہوا۔ اپور
ہدایت اللہ صاحب سرکا ر بابﺭﺿ
کے پاس رہے ہیں فرماتے ہیں کہ ایک روز بابﺭﺿ
کی خدمت میں ایک بہت ہی ضعیف العمر عالم آئے، صورتاً بھی بزرگ معلوم ہوتے تھے ، سرکار بابا
ﺭﺿ
نے ان کو دیکھ کر فرمایا:
? حضرت ان کو پانچ جوتے لگاتے ہیں ۔ ? ?
اردگرد جو خدام تھے متحیر ہوگئے ۔ عالم صاحب نے دونوں ہاتھ باندھ کر اشارہ فرمایا کہ: ? خدا کے لئے ماردو ۔? پس ایک خادم نے آہستہ آہستہ پانچ جوتے ان کی پشت پر مار دیئے ۔
اب مولیٰنا کا رنگ کچھ اور ہی تھا ۔ آپ اچھلنے لگے اور کیفیت اس درجہ کی طاری تھی کہ روکنا محال ہو گیا ، جب ذرا ہوش آیا تو خدام نے دریافت کیا کہ حضرت آپ کوکیا ہو گیا ؟ فرمانے لگے :
?جو راستہ میں ساری عمر طے نہ کر سکا، وہ آن ِ واحد میں طے ہوگیا۔ ? اپور
تحصیل نادوتی ، ریاست جے پور میں ایک دور افتادہ علاقہ ہے،گنگاپور ریلوے اسٹیشن سے ٦۱ میل دور واقع ہے ، یہاں سے کچھ فاصلے پر مہا بیر کا میلہ سالانہ ہوتا ہے، یہاں جینی مند رہے اور جین دھرم والوں کے علاوہ عظیم الشان ہندوﺅں کا اجتماع ہوتا ہے ۔ جینی خوشحال اور متمول قوم ہیں ، ان کی طرف سے وہاں بہت سے کام رفاہِ عام کے جاری ہیں ۔ ان میںسے ایک شفاخانہ بھی ہے۔ اس شفاخانہ میں پنڈت رام لال وید نگرانِ اعلیٰ تھے۔ پنڈت جی سے مجھے مقامی افسران نے ملایا۔ دوران ِتعارف میں محمد عیسیٰ تحصیلدار نے پنڈت جی سے میرے (امجدعلی شاہ تاجی )متعلق بھی کہہ دیا کہ: ? یہ بابا تاج الدین صاحب ناگپوری
ﺭﺿ
کے نام لیوا ہیں۔? میں نے دیکھا بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کا نام لیتے ہی پنڈت جی دست بستہ احتراماً کھڑے ہوئے ، فرطِ محبت میں مجھ سے لپٹ گئے اور سب کے سامنے انھوں نے یہ واقعہ بیان کیا۔
میں کسی کام سے ناگپور گیا تھا ، وہاں بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کے حالات سن کر دیکھنے کا شوق ہوا مگر برہمن پنڈت ہونے کی وجہ سے میرا یہ خیال تھا کہ مسلمانوں نے یونہی ڈھونگ بنار کھا ہوگا، اس ?ملچھ ? قوم میں ایسا مہا تما کہاں سے ہونے لگا۔ ؟ اس قسم کے خیالات لئے ہوئے میں بابا کے دربار میں حاضر ہوا جیسے ہی میرا سامناہوا حضور نے میری طرف دیکھا اور میری یہ کیفیت ہو گئی کہ دنیا سے دل اتر گیا ، تمام خیالات دور ہوگئے ، صرف خدا ہی خدا یاد رہ گیا ۔ کھانا ، پینا ، سونا ، گھر واپس جانا سب بھول گیا ۔ پانچ سال اسی حال میں گذرے کے مسلسل حاضرِ دربار رہا اور تن بدن کا ہوش نہیں تھا، بابا کے درشن کو سب کچھ سمجھتا تھا۔
ایک دفعہ واکی کے جنگل میں بابﺭﺿ
چلے جار ہے تھے ، ایک مجمع پیچھے پیچھے چلا جا رہا تھا ، میں بابا
ﺭﺿ
سے بہت قریب تھا ، اور دل میں فیصلہ کر چکا تھا کہ ساری عمر بابا ﺭﺿ
کے قدموں سے جدا نہ ہوﺅں کہ د فعتاً بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
نے پیچھے مڑ کر فرمایا:
?دیوانے نہیں ہو جاتے گھر جاﺅ مسیحائی کرو?۔
اس حکم کے معاً بعد وہ کیفیت اور سرشاری جاتی رہی ، میں تیس گاﺅں اپنے گھر آیا، طب سے کوئی سروکار مجھے نہ تھا مگر بابا کے حکم کی تعمیل میں علاج معالجہ شروع کر دیا ۔ خدا کی شان ہے کہ جس بیمار کو جو کچھ دے دیا شفا ہوگئی۔ دور دور سے مریض آنے لگے ، رو ز افزوں شہرت ہونے لگی یہاں تک کہ مہابیر کا شفاخانہ میر ی نگرانی میں دے دیا گیا۔ یہ عروج جو مجھے حاصل ہوا بابا
ﺭﺿ
کی جوتیوں کا صدقہ ہے۔
اس واقعہ کے بعد پنڈت جی اکثر مجھ سے ملنے آتے اور جتنی دیر بیٹھتے ، حضورﺭﺿ
کے عجیب و غریب چشم دید حالات بیان کرتے جن کو لکھا جائے توا یک کتاب بن سکتی ہے۔
اپور
مہاراجہ قرولی کے گرد
گنگا پور اور ہنڈول کے وسط میں وزیر پورا ایک قصبہ ہے۔ یہاں سلطان علاﺅالدین خلجی کے زمانہ سے مسلمان آباد ہیں جو خیل دار کہلاتے ہیں ۔ ریاست جے پور کی طرف سے یہاں تحصیل قائم ہے ، میں جس زمانہ میں وہاں تھا پنڈت درگا پر شاد شرما وہاں تحصیل دار تھے۔ وزیر پور میں ایک مسجد ہے جو بس اسٹینڈ کے قریب سڑک کے کنارے پر ہے ، میں نے دیکھا کہ بس اسٹینڈ پر تحصیل دار اور بہت سے لوگ موجود ہیں، بس سے ایک سادھو اترا، لوگوں نے ان کا ادب و احترام کے ساتھ استقبال کیا۔ میں یہ منظر دور سے دیکھ رہا تھا ۔ سادھو کا چہرہ نورانی اورداڑھی اور سر کے کالے بالوں میں چہرہ اور بھی حسین معلوم ہوتا تھا، ماتھے پر قشقہ نہ ہوتا تو ہندو اور مسلمان کی تمیز دشوار ہوجاتی ۔ منشی انوارالحق صاحب میرے پاس تھے وہ بول اٹھے ?صورت تو نورانی ہے کاش مسلمان ہوتے ?۔ یہ سادھو اور پنڈت درگا پرشاد ایک ساتھ میری طرف بڑھے ۔ میں ناگپور سے دو روز پہلے ہی آیا تھا، اس لئے پنڈت درگا پرشاد سادھو نے پوچھا ناگپور سے ان کا کیا تعلق ہے؟ تحصیل دار نے عرض کیا کہ مہاراج یہ بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کے نام لیوا ہیں۔ بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کا نام سنتے ہی سادھو جی مجھ سے بغلگیر ہوئے اور علی الاعلان فرمایا کہ درگا پرشاد میرا بچہ ہے اور مہاراجہ قرولی بھی میرا چیلہ ہے ، مگر میں بابا تاج الدین
ﺭﺿ
کا داس ہوں ، او ر اصرار کے ساتھ مجھے اپنی جائے قیام پر لے گئے۔ وہاں انھوں نے درگا پرشاد، تحصیل دار کے سامنے اپنی پوتھی کھولی جو ہندی کی کوئی کتاب تھی مگر اس میں بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کا فوٹورکھ چھوڑا تھا، وہ فوراً مجھے دکھایا اور تحصیلدار صاحب کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ان لوگوں کو لانے کے لئے پوتھی کھول کر بیٹھ جاتا ہوں ،در اصل اس پوتھی میں بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کا فوٹو رکھ چھوڑا ہے ، اس کی زیارت کرتا ہوں ۔ میں نے کہا بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
سے اس کاغذ پرجس پر فوٹو ہے آپ سے زیادہ قوی نسبت حاصل ہے ، صاحبِ فہم تھے سمجھ گئے ، بات ٹال گئے، کہنے لگے
? ہم نہ مشرک ہیں نہ بت پرست ، ہمیںبڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
نے اللہ اللہ کرنے کا حکم دیا ہے، ہم اسی نام کا وظیفہ شب روز کرتے ہیں اور یہی ورد ہے اوریہی شغل ہے۔?
اس کے بعد انھوں نے بیان کیا کہ میں برہمن ہوں ، ایم اے ایل ایل بی ، پاس کرنے کے بعد ناگپور میں تحصیلدار مقر ر ہو گیا، اپنی بیوی سے مجھے بے حد محبت
تھی ، وہ انتقال کر گئی ، لوگوں نے مجھے دوسری شادی پر مجبور کیا ۔ میں اپنی پہلی بیوی کے مرجانے کے بعد بے حد متاثر ہوا تھا اور سوچتا تھا کہ جب تک مجھے یہ نہ معلوم ہو جائے کہ شادی کرنا مناسب ہے یا نہیں شادی نہیں کروںگا ۔ پنڈتوں کی بات پر پورا یقین نہیں آتا تھا۔ اس زمانہ میں بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کی کرامتوں کا شہر ہ عام تھا، ناگپور کا بچہ بچہ حضور
ﺭﺿ
سے بے پناہ عقیدت رکھتا تھا، میں ان ہندﺅوں کو بھی برا سمجھتا تھا جو مسلمان فقیر کے پاس جاتے تھے، مگر دل اندر سے یہی کہتا تھا کہ چلو دیکھ آئیں، زبان سے کچھ کہیں گے نہیں ، اگر کامل ہیں تو خود بخود جواب دیں گے ، نہیں تو معلوم ہو جائے گا کہ کچھ بھی نہیں ہے ۔ میں نے چپراسی کو لیا ، ایک ٹوکرہ کیلا خرید ا اور بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کے دربار میں حاضرا ہوا ، جیسے ہی میرا سامنا ہوا بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
نے فرمایا :
?آئیے تحصیلدار صاحب ! تاج الدین ﺭﺿ
نے بیوی نہیں کی ، آپ بیوی کر کے کیا کریں گے ?
اس کے بعد فرمایا:
? کیلا کھاﺅ ? ۔
میں نے کیلا اپنے ہاتھ سے چھیل کر پیش کیا تو میرے ہاتھ سے یونہی ساکچھ کھانے کے بعد مجھے حکم دیا کہ:
? کھا جاﺅ? ?
میں برہمن زادہ چھوت چھات کا سختی سے پابند ایک مسلمان کا جھوٹا کیلا آنکھوں دیکھتے کس طرح کھا گیا؟ نہیں کہہ سکتا کیلا کھاتے ہی اکیلاہو گیا ، جذب و مستی طاری ہوگئی ، ہوش غائب ، حواس رخصت ہوئے گھر والوں کو خبر ہوئی تو پکڑ کر لے گئے۔ گرم لوہے سے جسم کو داغا نشانات دکھا کر کہا کہ یہ اس زمانہ کی یادگار موجود ہے مگر مجھے نہ ہوش میں آنا تھا نہ آیا۔ آخر یہ طے ہو اکہ جہاں سے یہ بیماری لگی ہے وہیں لے جاﺅ ، برہمن برادری ہونے کی وجہ سے کسی کو یہ بات منظور نہ تھی مگر جب کوئی تدبیر کار آمد نہ ہوئی تو مجبوراً یہ بھی برہمنوں کو منظور کرنا پڑا۔ بابا
ﺭﺿ
کے دربار میں حاضر ہوتے ہی حکم ہوا کہ:
?زنجیریں کھول دی جائیں یہ اچھا ہے ?۔
زنجیریں کھل گئیں ، میں ہوش میں آگیا ۔ پھر فرمایا:
?اب تم تحصیلدار نہیں رہے ?۔
لوگوںنے عرض کیا: ?حضور دیوانگی کی وجہ سے یہ نوکری پر نہ جاسکے ،نوکری ختم ہوئے عرصہ ہو گیا ۔
حضورﺭﺿ
نے ایک سادہ کاغذ پر اپنے دستِ مبارک سے اپنا نا م لکھ کر مرحمت فرمایا اور کہا:
? لو یہ فرمان ! تحصیلدار تمھارے جوتے اٹھائیں گے، اللہ اللہ کرتے رہو ۔ ?
یہ واقعہ بیان کر کے تحصیلدار صاحب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بابا کا فرمان اس وقت اس جگہ بھی پورا ہو رہا ہے کہ درگاپرشاد تحصیلدار میری کفش برادری کو عزت سمجھتا ہے، مہاراجہ قرولی اور بڑے بڑے لوگ میرے کفش بردار ہیں
اپور
نظر فیض اثر نے دنیا بدل ڈالی
ویلور کے ایک چمڑے کے بیوپاری درِ مولا پر حاضر ہوئے اسی روز مجھ (امجد علی تاج ) سے ملاقات ہوئی۔ (گھر پر تشریف لائے ) میں اس وقت کھانا کھا رہا تھا ۔ آپ کو بھی دعوتِ طعام دی۔ انہوں نے مدراسی لہجہ میں کہا۔?میری خوراک ایک بکرا سالم روزانہ ہے اور چاول جس قدر بھی کھا سکوں ۔ ان چند روٹیوں پو، ہم نا کیا بلاتے پاشاہ? میں نے جواب دیا بکرے کا تو میں اس وقت انتظام نہیں کر سکتا ۔البتہ روٹی چاول آپ جتنے کھانا چاہیں انشاءاللہ پیش کروں گا۔ چنانچہ وہ میرے ساتھ کھانے پر بیٹھ گئے۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد شام تک میرے ساتھ رہے میں نے ان سے بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کی خدمت میں آنے کا سبب دریافت کیا تب آپ نے بتایا میں ویلور کا رہنے والا ہوں۔ وہاں میرا ایک بہت بڑا چمڑے کا کارخانہ ہے ، میری ایک لڑکی تھی جس کا انتقال ہو گیا۔ اس لڑکی سے مجھے بے حد محبت تھی۔ اس کی جدائی کے صدمے نے مجھے اس دربار میں لایا ہے۔ اس کے غم میں میں مثنویٰ مولانا روم پڑھتا تھا ۔ اور زارو قطار روتا تھا ۔ ایک روز خواب میں دیکھا ۔ ایک بزرگ تشریف لائے اور مجھے حکم دیا تو ناگپور حضرت بابا تاج الدین
ﺭﺿ
کی خدمت میں جا ۔تیری مراد یںپوری ہوں گی۔ چنانچہ صبح ہی ریل پر سوار ہو گیا۔ یہاں پہنچنے کے بعد سب سے پہلے آپ سے ملاقات ہوئی۔ سنا ہے کہ بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
نے کئی مردے جلائے ہیں۔ اب میں چاہتا ہوں کہ مجھ میں وہ طاقت پیدا ہو جائے ۔ تاکہ میں بھی مردے جلا سکوں ۔ تب میں گھر جا کر اپنی لڑکی کو زندہ کرونگا۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ میں آپ کے وسیلہ سے سرکار بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
میں حاضر ہونا چاہتا ہوں یہ شام کا وقت مناسب ہے۔ آپ میرے ہمراہ چل کر حاضری کراد یں ۔ میں ان کو ہمراہ لیکر لال محل پہنچا ۔ حضور
ﺭﺿ
سیڑھیوں پر تشریف فرما تھے ۔ میں نے حضور میں ان کو پیش کیا۔ جیسے ہی حضور ﺭﺿ
نے آنکھ اٹھا کر ان کو غور سے دیکھا ۔ ان کی حالت بدل گئی ۔ اور ذکر جہر شروع کر دیا۔ (اللہ ہو کے نعرے لگانے لگے ) اور سرکار کی خدمت میں رہنے لگے ۔ آپ راتوں کو شہر سے باہر ڈگوری سے آگے ایک پل ہے۔ اس پل کے نیچے ذکر کیا کرتے تھے یہ جگہ تاج آباد شریف سے ۴ فرلانگ دور پرہے ۔ میں (امجد علی تاجی) بھی ایک دوبار ان کے پاس گیا۔ آپ راتوں کو ہمیشہ جنگل میں رہتے تھے ۔ دن کو حضرت غوث بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کے لنگر خانہ میں چلے آتے اور لنگر خانہ کاکام کرتے جو پکتا وہ کھاتے ۔ ایک بکر ا کھانے والا شخص صرف ایک پلیٹ دال چاول کھا کر شکم سیر ہوجاتا تھا ۔ آپ ہر شخص کو پاشا ہ کہہ کر مخاطب کرتے ۔ اس لئے آپ کو بھی سب پاشاہ کے لقب سے پکارنے لگے۔ پاشاہ صاحبﺭﺿ
حضور تاج الاولیائﺭﺿ
کی حیات تک شکردرہ ہی میں رہے۔ بعد میں مومن پورہ ناگپور تشریف لے گئے اور وہیں قیام کیا ۔ وہاں آپ کے فیض سے سینکڑوں مردہ دل حضرات مومن کامل بن گئے ۔ مومن پورہ ہی میں آپ کا وصال ہوا۔ اور وہیں قبرستان میںآرا م فرما رہے ہیں۔
اپور
|
|
|
|
|