|
|
 |
| انیک روپ میں ایک |
|
حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
نے جس صورت میں چا ہا خود کو متشکل کر دکھا یا ۔ کبھی کسی کو اس کے محبو ب کی
شکل میں ۔کبھی کسی کو مطلو ب کی شکل میں ۔ کہیں آپ اولیاﺅں کے روپ
میں تو کبھی بہندوﺅں کے اوتاروں کے روپ میں ظاہر ہوئے۔ کہیں بیرسٹر
بن کر مقدمہ کی پیروی کی تو کہیں جج کی کر سی پر خود نظر آئے ۔
کبھی کسی کو اپنی خدمت میں روکا ، تو اس کی شکل میں اس کے گھر اور
دفتر میں موجود رہے ۔ اس قسم کی کرا مات کا کتا ب و سنت کی روشنی
میں کیا مقا م ہے ؟ دیکھیں (۱) قرآن کی سور ةَ مر یم میں ارشاد
ِباری تعالیٰ ہے ۔ "فتمثل لمھا بشرا سویا ۔" حضرت جبرائیل علیہ
السلام حضرت مر یم علیہا السلام (وہ اس کے سامنے تندرست آدمی کے
روپ میں ظاہر ہوا )کے سامنے بشری شکل میں ظاہر ہوئے۔ حدیثِ احسان
حضرت جبرائیل علیہ السلام کا وحیہ کلبی کی صورت میں آکر ایمان
اسلام اور احسان کے مسائل پر گفتگو کر نا ثابت ہے ۔ بشرکا صورت
ملکی میں اور ملک کا صورت بشری میں تمثل ثابت ہے۔اس میں خصوصی بات
یہ ہے کہ کرامات کی یہ قسم کمال روحانیت پردلالت کر تی ہے ۔ جوروح
الا مین سے مجرد روح ہونے کے باعث ظہور پذیر ہوئی ۔ حضرت تاج
الاولیا ئﺭﺿ
کی اس قسم کی کراما ت کا ظہور اس حقیقت پر گوا ہ ہے کہ آپ جسمانی و عنصری
کثافتوں سے پاک و صاف ہو کر سرا پا انوار اورمجسم روح بن چکے تھے۔
وہ کمال روحانی جو ہرمسلمان کو جنت میںحاصل ہو گی۔ جسے حیات ِطیبہ
کہتے ہیں۔ حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کو یہ حیات طیبہ دنیا میں حاصل تھی۔ حضرت علی کرم اﷲوجہہ فرما تے ہیں کہ
رسول اﷲ ﷺ نے فر ما یا کہ: ”جنت میں ایک با زار ہے ۔ اس میں مَردوں
اورعورتوں کی صورتوں کے سوا ئے کوئی چیز قابلِ خرید و فروخت نہیں ۔
آدمی جب چاہے جس صورت میں چاہے داخل ہوجا تاہے۔ یعنی ہر شکل ہرروپ
میں انسان خودکو نما یا ں کر سکتا ہے ۔ یہ حدیث ترمذی میں ہے ۔ "عن
علی قال، قا ل رسول اﷲﷺ ان فی الجنتہ لسوقا ما فیہا شرا ولا بیع
الدالصور من الرجال والنساءفا اذا اشتہیٰ الرجل سورة دخل فیہا "
دیدکی اپنی جب ہوئی خواہش آپ کو ہر طرح بنا دیکھا |
عیسٰی مسیح
علیہم السلام کی شکل میں
مولےنا اختر علی شاہ یوسفی تاجی بیان کرتے ہیں کہ عےسائےوں کی محفل
میں سرکار یوسف الاولیاءتشریف فرما تھے میں بھی ناگپورشریف میں ان
کے ساتھ حاضر تھا ۔ ان عےسائےوں نے عرض کیا کہ ہم جب سرکار بابا
تاج الاولیاءﺭﺿ
کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے دور سے دیکھا کہ حضرت عیسٰی مسیحؑ علیہم
السلام اور مریم اماں تشریف فرما ہیں اور ہمارے حاضر ہونے پر سرکار
نے فرمایا کہ ”ارے میں ہی تو عیسٰی مسیح ؑ اور ماں مریم ؑ ہوں ۔
اپور
مسلمان مردوں اور عورتوں نے اختر شاہ یوسفی صاحب سے ناگپور ، شکر
درہ اور تاج آباد شریف میں بیان کیا کہ ہم نے اپنے اپنے خیال کے
مطابق بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کو سرکار محمد ﷺ ، مولائے کائنات علی علیہ السلام
ﺭﺿ
، خاتون جنت بی بی فاطمہ زہرﺭﺿ
صاحبزاد گان کو نےن امام حسنےن علیہم السلام کے روپ میں دیکھا ۔
اپور
بزرگانِ دےن کی صورت میں
اسی طرح غوث الثقلےن ﺭﺿ
سرکار خواجہ خواجگان ﺭﺿ
سر کار قطب الاولیاءباب فرےد گنج شکر
ﺭﺿ
نظام الحق والدین محبوب پاک ، علاءالملت والدین مخدوم علاو الدین مخدوم پاک
کی صورتوں میں دیکھا اور آجتک دیکھتے ہیں ۔
اپور
بڑے دادا تاج الاولیاء
بُوعلی شاہ قلندرﺭﺿ
کے روپ میں
کراچی میں ایک نو مسلم بزر گہ مائی نور محمد یﺭﺿ
( مائی نور ی ) کا قیام تھا یہ مائی حضرت بو علی شاہ
ﺭﺿ
قلندر کی حاضر باش رہیں ۔ اور قلندر صاحب
ﺭﺿ
سے اسقدر عشق ہو گیا کہ گھر بار عزےز اوقارب سب کو خےر باد کر کے یہاں تک کہ
مذہب اسلام قبول کر لیا ۔ اور حضرت قلندر صاحب
ﺭﺿ
کی زیارت سے بھی مشرف ہونے لگےں ۔ جب لگن اور عشق اور بڑھا تو ان کی خواہش
ہوئی کہ سرکار قلندر صاحب
ﺭﺿ
خواب کی بجائے بےدار ی میں نظر آئےں اور میںاس طرح سرکار قلندر
ﺭﺿ
کا دیدار کروںچونکہ عشق صادق تھا ۔ حضرت بوعلی شاہ قلندر
ﺭﺿ
نے مائی کو بشارت دی کہ ” تو بےداری میں مجھے دیکھنا چاہتی ہے تو ناگپور جا
تاج الدین ﺭﺿ
کی شکل میں ، میںوہاں موجود ہوں ۔ “ چنانچہ مائی ناگپور پہنچی حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
نے مائی کے دربار پہنچنے سے پیشتر حاضرین سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”چلو رے
ہماری جوگن آرہی ہے “ چنانچہ رکار جائے قیام سے اسٹےشن کی طرف
روانہ ہوئے ۔ اسٹےشن سے تقریبا ایک فرلانگ قبل آپ رک گئے مائی
اسٹےشن سے روانہ ہوئی ۔ جیسے ہی سرکار پر نظر پڑی وہیں سے قدمبوس
ہوتی ہوئی خدمت میں پہنچی۔ سرکار نے اپنی خدمت میں رکھکر نوازا۔
مائی دربار تاج الاولیائﺭﺿ
کھارا در میں سرکار کی ماہانہ نذر نیاز میں شریک ہوتی تھیں ۔ اور حضرت قاضی
بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
جب چادر مبارک سرکار میں پیش کرنے کے لئے ناگپور شریف جاتے تو مائی یہاں سے
روانگی کے وقت ساتھ ہوتےں ۔ جہاز جب نظروں سے اوجھل ہو جاتا تو
واپس ہوتےں ۔ مائی نوری
ﺭﺿ
بالکل نورانی ہوگئی تھیں ۔ نقشبندی سلسلہ میں بےعت ہوگئیں تھی۔ ( ہندوستان
میں) اور اپنے شےخ کی نذر نیاز بہت اہتمام سے کرتی تھیں ۔وصال کے
بعد بھی مائی کو کراچی کے ایک بہت بڑے بزرگ حضرت عبد اللہ شاہ غازی
ﺭﺿ
کے قرب میں جگہ ملی ۔ ( قاضی محمد علی تاجی )
اپور
محبوب کے
سراپا میں
اجمےر شریف عرس حضرت خواجہ غرےب نواز کے موقع پر حضرت بابا یوسف
(یوسف شاہ تاجی) شاہ صاحب
ﺭﺿ
نے ایک رات دو بجے بعد دولت خانہ سے مجھے(بابا ذہین شاہ تاجی) ساتھ لیا ور
فرمایا آﺅ بزرگ سے ملائیں ۔ میں ساتھ ہوگیا ۔ حضرت یوسف شاہ تاجی
نلے بازار میں ایک مکان پر تشریف لے گئے جو سر راہ تھا۔ اس مکان
میں ایک بزرگ لےٹے ہوئے تھے ۔ میں ان کی خدمت میں بار ہا حاضر
ہوچکا تھا ۔ یہ ہر وقت جذب ومستی میں سرشار رہتے ۔ لےٹے ہوئے ہیں
تو جب تک کوئی کروٹ نہ بد لوائے نہ بدلتے ، بیٹھے ہوگئے تو جب تک
کوئی نہ لٹائے لےٹتے نہیں یہی حال کھانے پےنے کا تھا ۔ چائے پلانے
والے چائے کی طشتری منہ سے لگائے رہتے ، زیادہ حصہ زمیں پر گر جاتا
، لب تر ہوتے رہتے، سےنکڑوں پیالیاں اسی طرح انڈےلی جاتی رہتےں مگر
چائے پےنا ختم نہ ہوتا ، چائے بہنے لگتی۔ خصوصا عرس کے زمانہ میں
تو لوگ چاہتے تھے کہ آپ کو چائے پلائی جاتی رہے ، جب تک آپ بس نہ
فرمائےں مگر یہ ممکن نہ ہوا ۔ حضرت یوسف شاہ تاجی کو دیکھتے ہی
بغیر ایک لفظ منہ سے کہے سرو قد اٹھے اور بغلگےر ہوئے اور اشاروں
ہی اشاروں میں کچھ باتےں ہوئےں ۔ چند لمحات زرے ہوں گے کہ حضرت
قبلہ واپس تشریف لے آئے اور فرمایا کہ” یہ بزرگ میرے پےر بھائی ہیں
۔ انھوں نے لندن جاکر بیرسٹری پڑھی تھی۔ وہاں سے واپسی پر بمبئی
میں پریکٹس شروع کرنا تھی ، آفس کے لئے فرنےچر خرےدنا تھا ،
بازارگئے ، فرنےچر خرےدا ۔ بار بر داری کا انتظام در پیش تھا ،
اتفاق سے ان کی نظر اوپر اٹھی ، سامنے جو عمارت تھی اس کی کھڑکی
کھلی ۔ ایک حسین وجمےل لڑکی کا چہرہ نظر آیا ۔ آنکھیں چار ہوتے ہی
دل پر محبت کا وار ہوگیا ۔ لڑکی ہوش میں آئی ، کھڑکی بند کر لی ۔
یہ آنکھوں کی دونوں کھڑکیاں بند کرنا کیا بھولے سب کچھ بھول گئے ،
سودا لےنے آئے تھے سودائی ہوگئے ۔ صبح سے دوپہر ہوگئی ۔ تےسرا پہر
ہوا کہ اس عمارت سے ایک جنازہ نکلا ۔ لڑکی کا انتقال ہوگیا۔ بکری
کو آنکھ ہانڈی میں پہنچادےتی ہے ، آدمی کو آنکھ قبر میں پہنچا دےتی
ہے ۔ آنکھ حق ہے ۔ نہ جانے ان سے کس نے کہہ دیا ؟ مال سوز غم ہائے
نہانی دیکھتے جاﺅ بھڑک اٹھی ہے شمع زندگانی دیکھتے جاﺅ وہ اٹھا شور
ماتم ، آخری دیدار مےت پر اٹھائی جارہی ہے لاش فانی دیکھتے جاﺅ یہ
جنازے کے ساتھ چپ چاپ چلتے رہے ، قبرستان میں پہنچے ، لاش سپرد خاک
کی گئی سب لوگ واپس چلے گئے ،یہ کھڑے دیکھتے رہے ، جب دیکھا کوئی
نہیں دیکھتا دوڑ کر قبر سے لپٹ گئے ، زار زار رونے لگے ۔ آہ فریاد
، نالہ وفغاں ، سوزو درد بےتابی وناشکےبائی ۔ اب تو اس حالت میں دن
گزر گیا ۔ روتے روتے نڈہال ہو کر غشی سی آگئی ۔ دیکھتے کیا ہیں کہ
ایک بزرگ ہیں اور فرمارہے ہیں ۔ ”ناگپور آتے ، ہم سے ملتے ، ہم تاج
الدین ﺭﺿ
ہیں “ یہ تو اپنے دل میں فےصلہ کر گئے تھے کہ عمر بھر قبر پر بےٹھ کر
گزاردوں گا ۔ لیکن اب وہ فےصلہ بدل چکا تھا ۔ یہ اسی حالت میں
روانہ ہوکر ناگپور پہنچے ۔ حضور شکر درہ محل میں چبوترے پر رونق
افروز تھے ۔ تمام حاضرین مودئب کھڑے تھے ۔ حضور
ﺭﺿ
پر نظر پڑی تو پہنچاںگئے کہ یہ وہی بزرگ ہیں جن کو میں نے بشارت میں دیکھا ہے
۔ نظرےں نےچی کئے آگے بڑھے پھر جیسے ہی نظر اٹھائی دیکھا کہ بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
نہیں وہی لڑکی بصد ناز و ادا نظر نواز ہے ۔ یکبار گی ایک چےخ ان کے منہ سے
نکلی اور دوڑ کر قدموں میں جاگرے جب ہوش آیا بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کے قدموں میں پآیا سر کارﺭﺿ
نے حکم دیا : ”جاﺅ ! اجمےر شریف کی خدمت تمہارے سپرد کی “ ”ہر جگہ ہمیں
دیکھتے رہو اچھے رہو گے ۔“ چنانچہ یہ روانہ ہو کر اجمےر شریف اپنی
ڈےوٹی پر پہنچے اور لوگوں کو فےض پہنچا تے رہے وہیں وصال ہوا ۔
اپور
ایک سال تک
گھر و دفتر میں حاضری
قاضی احمد علی شاہ قصبہ نگےنہ میں قرق میں تھے مگر ڈپٹی صاحب کے
نام سے مشہور تھے، تنخواہ کم مگر اخراجات زیادہ، بڑے ٹھاٹ سے رہتے
تھے ، بے دھڑک رشوت لیتے تھے ۔ اتفاق سے ان کا تبادلہ ہوا اور اسی
روز چارج دیکر دوسری جگہ چلے گئے ۔ جو رقم چارج میں دی گئی تھی اس
میں چوبےس روپے کم تھے ۔ ان پر غبن کا مقدمہ شروع ہوگیا ۔ بڑی جدو
جہد کی ، بری نہ ہوسکے ، اپےل کی ضمانت پر چھوڑدےے گئے ، روپیہ
پیسہ جو کچھ پاس تھا ختم ہوگیا ، معطل تھے ، تنخواہ نہیں مل رہی
تھی ، تنگدستی اور مقدمہ بازی سے عاجز آکر اللہ کی طرف متوجہ ہوئے
، اللہ والوں کی تلاش شروع ہوئی ۔ کسی نے کہا کہ میں !ناگپور جاﺅ ،
تاج الدین بابا
ﺭﺿ
کا ڈنکا دنیا میں بج رہا ہے ۔ تم اگر وہاں پہنچے تو کامیابی ےقےنی ہے ۔ بمشکل
تمام ایک طرف کے کرائے کا انتظام ہوا ، یہ حاضر دربار ہو کر قدمبوس
ہوئے تو بابا
ﺭﺿ
نے فرمایا: ”ٹھہرو ! “ ایک سال کامل شکر درہ قیام رہا ، گھر واپس جانے کی
اجاز ت نہ ملی ، نہایت مضطرب اور پریشان تھے۔ مگر جب یہ حضور
ﺭﺿ
کے سامنے جاتے تھے حضورﺭﺿ
فرماتے تھے ، ٹھہرو ایک سال کا مل گزر جانے کے بعد حضور
ﺭﺿ
نے فرمایا : ”گھر جاﺅ ، ہم تمھارے ساتھ ہیں “ گھر پہنچے دروازہ کھٹکٹھا یا ،
تانگے والے کے لئے اہلیہ سے پےسے طلب کئے تو انھوں نے کہا کل جس
چیز کے لئے میں نے آپ سے کہا تھا وہ چیز بھی آپ لائے یا نہیں ؟
قاضی صاحب اس سوال سے متحےر ہوگئے مگر تانگہ والے کو پےسے دےنے کی
جلدی تھی،اس لئے اہلیہ سے کہا یہ باتیں پھر ہو تیں رہیںگی، پہلے
پیسے دے دیجئے۔ غرضیکہ تانگہ والے کو رخصت کرنے کے بعد قاضی صاحب
نے کہا میں تو سال بھر بعد گھر میں آیا ہوں ، یہ آپ کیا کہہ رہی
ہیں کہ میں نے آپ سے کسی چیز کے لانے کا وعدہ کیا تھا ۔ اہلیہ نے
کہا اےسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا دماغ چل گیا ہے ۔ مےری فرمائش
پوری نہ کرنے کا بہانہ کررہے ہیں ۔ آپ کسی ایک دن بھی گھر سے غیر
حاضر نہیں رہے ۔ ضرور ہے کہ شام کو گھر آتے تھے ، کواڑ بند کر لیتے
تھے ، رات بھر اللہ اللہ کرتے تھے صبح کی نماز کے بعد پھر مقدمہ کی
پےروی میں چلے جاتے تھے ۔ آج تےسرا دن ہے کے سال بھر میں پہلی
مرتبہ آپ گھر میں خوش خوش داخل ہوئے ہیں ، بارہ مہےنے معطلی کے
زمانہ کی تنخواہ آپ نے لاکر گھر میں دی ہے ، مقدمہ جےت جانے کی
خوشخبری سنائی ہے ، میں نے اس خوشخبری میں اپنے بندوں کی فرمائش کی
تھی ۔ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ فرمائش پوری کرےں گے مگر آج آپ کہتے
ہیں کہ میں بارہ مہےنے سے ناگپور میں تھا ۔ قاضی صاحب یہ واقعات سن
کر حیران رہ گئے ، ڈرتے ڈرتے دفتر گئے قرق میں کی کرسی پر جا کر
بےٹھ گئے ، دفتر والوں کو کوئی حےرت یا تعجب لا حق نہ دیکھ کر خود
حےرت زدہ رہ گئے ، رجسٹر قبض الوصول دیکھا ، آیام معطلی کی تنخواہ
کی رسےد خود ان کے قلم کی موجود تھی ۔ افسر کے پاس گئے وہ نہایت
نرمی ومحبت سے ملا اور کہا آپ مقدمہ سے نہایت پریشان ہوگئے ہوں گے
۔ کچھ دن آرام کےجئے جس وقت جی چاہے کچھ دےر کے لئے حاضری دے دیا
کےجئے ۔ یہ گھبرا کر یاد الہی میں مشغول ہوگئے ، دنیا سے دل اچاٹ
ہوگیا ، ہر وقت بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کی یاد بے چےن رکھنے لگی ۔ آخر کار ناگپور کے قصد سے دہلی روانہ ہوئے ۔ کیا
دیکھتے ہیں کہ ایک صاحب ان کے ساتھ ہیں اور ایک جانور ان کے پےچھے
ہے ۔ دہلی اسٹےشن کے پلےٹ فارم پر جب پہنچے تو یہی احساس قائم رہا
۔ بڑی عجےب بات ہے کہ ٹکٹ کلکٹر نے ان سے مطالبہ کیا کہ اپنے ساتھی
کا ٹکٹ دو اس جانور کا ٹکٹ پیش کرو۔ انھوں نے کہا میرے ساتھی نہیں
ہیں مگر وہ صاحب جو ساتھ تھے برابر یہی کہتے رہے کہ میں قاضی صاحب
کے ساتھ ہوں۔ قاضی صاحب صاف انکار کرتے رہے اور اپنا ٹکٹ دیکر
مسافر خانے میں آئے ۔ اس کے بعد جب ناگپور پہنچے تو ان کو دیکھتے
ہی بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
نے فرمایا کہ : ”کےوں قاضی ! ہم نے کہہ دیا تھا کہ ہم تےرے ساتھ ہیں ، تونے
دہلی اسٹےشن پر ہمارا ساتھ کےوں چھوڑا“ یہ شرمندہ ہوئے ۔ عر صہ تک
بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کی خدمت میں حاضر رہے ۔ بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کے پردہ فرمانے کے بعد مستقل کلےر شریف حاضر باش رہے ۔ بڑے صاحب معاملہ اور
صاحب نسبت ہوگئے تھے روزانہ حضور بڑے دادا تاج الاولیاء لکی زیارت سے مشرف ہو
تے تھے نگےنہ میں انتقال ہوا ، وہیں آپ مدفون ہیں ۔ وصال کے وقت
حضرت یوسف شاہ تاجی ان کے پاس موجود تھے ۔ وصال سے ایک دن پہلے رو
رو کر فرماتے تھے کہ آج بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کی زیارت نہیں ہوئی ۔ مجھے اپنا انجام اچھا معلوم نہیں ہوتا لیکن وصال کے
وقت اعلان فرمایا کہ حضور بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
تشریف لے آئے اور فرماتے ہیں کہ قاضی تو اےمان کے ساتھ دنیا سے جارہا ہے میں
تجھے لےنے آیا ہوں ۔ لوگو! گواہ رہو کہ میرا خاتمہ اےمان پر ہورہا
ہے ۔ کلمہ طےبہ پڑھا اور اپنی حقےقت کی طرف رجوع ہوئے ۔ ان اللہ
وان الیہ راجعون ۔ اپور
کچہری کے ایک کلرک رام رادھے شکلہ ، جن کی بےوی کو بوجہ کثرت اولاد
بہت نقاہت اور کمزوری تھی اور اس عالم کمزوری میں اس کو حمل قرار
پا گیا۔ زچگی کا وقت قریب ہوا توڈاکٹروں نے انھیں ناگپور ہاسپٹل لے
جانے کا مشورہ دیا اور یہ بھی کہا کہ ان کا اس کےس سے جانبر ہونا
مشکل ہے ۔ یہ سن کر گھر والے بہت پریشان ہوئے ۔ اور ناگپور جانے کا
خیال ظاہر کیا ۔ بےوی نے جواب دیا کہ میں اےسی صورت میں ذرہ برابر
بھی حرکت نہیں کر سکتی ، رےل کا سفر کس طرح طے ہوگا؟ تمام لوگ اس
وقت کا انتظار کرنے لگے کہ ناگپور کب اور کس طرح جائیں ۔ اسی
اثناءمیں بےوی نے اپنے خاوند سے کہا کہ میں ناگپور جانے سے پہلے
اپنے ہاتھوں سے کچھ خےرات کروں گی ۔ چنانچہ خاوند نے کچھ اناج اور
روپیہ اپنی بےوی کو دیدیا اور وہ اسے صبح وشام مساکےن میں کرنے
لگےں ۔ ناگپور جانے میں تےن چار ہفتے باقی تھے تو شام کو ایک بڑھیا
ان کے پاس آئی اور محبت کے لہجہ میں دریافت کیا ”بیٹی ! تو غمگےن
کےوں ہے ؟ بےمار عورت نے کل ماجرا سنادیا ۔ بڑھیا نے تسلی دی اور
کہا ناگپور جانے کی ضرورت نہیں تےرے بغیر آپرےشن کے بچہ ہوگا ۔ تو
اور تےرا بچہ صحےح سلامت رہیں گے اور سر پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ میں
روزانہ تےرے پاس آیا کروں گی ۔ یہ کہ کر بڑھیا چلی گئی اور یہ
دروازہ سے اٹھ کر گھر میں داخل ہوئیںتو کیا دیکھتی ہیں کہ نہ تو ان
میں وہ نقاہت ہے اور نہ پریشانی ۔ یہ دیکھ کر اس نے اپنے خاوند اور
گھر کے دےگرافراد کو بڑھیا کی آمد کا قصہ سنآیا ۔ الغرض بڑھیا
روزانہ آتی رہی ۔ ایک دن شام کو اس بڑھیا نے مرےضہ سے کہا کہ میں
تجھے کل کو ہلدی ایک تہوار کے لئے لے جاﺅں گی ۔ لیکن یہ بات کسی پر
ظاہر نہ کرنا ۔ اس نے اقرار کیا ور بڑھیا قاعدہ کے مطابق شام کو
آئی اور ایک مکان کے دروازے پر بڑھیا نے مرےضہ کو کھڑا کردیا اور
خود غائب ہوگئی ۔ اس مکان میں بجھن اور کےرتن ہورہا تھا ۔ مرےضہ نے
خیال کیا کہ بڑھیا بھجن میں شریک ہوگئی ہوگی جیسے ہی یہ اندر گئےں
تو بڑھیا کو موجود نہ پاکر گر گئےں اور بیہوش ہوگئیں بھگت راج پر
شوتم بابو نے ان کو سنبھالا اور عورتوں نے فورا پانی پلآیا اور
پنکھا جھلنے لگےں ۔ ہوش آیا تو دریافت کیا گیا کہ تم کون ہو؟ اور
یہاں کےسے آئےں ؟مرےضہ نے اس بڑھیا کا تمام واقعہ سنآیا ۔ پر شوتم
بابو سمجھ گئے اور دلا سا دیکر فرمایا کہ تم یہاں آتی رہنا ۔ یہ
گھر اسی بڑھیا کا ہے ۔ اس کے بعد بائی کو کچھ تبرک ( پرشاد ) بھی
عطا کیا ۔ مرےضہ اس مقام کو پہلے ہی سے جانتی تھی لیکن بڑھیا کون
تھی ؟ اسی فکر میں سوگئےں ۔ خواب میں کیا دیکھتی ہیں کہ حضور بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
تشریف لائے اور فرمایا: ”وہ میرا ہی گھر ہے جہاں میں تجھے لے گیا تھا ۔ تو
وہاں جاتی رہنا ۔“ کچھ دنوں بعد زچگی ہوئی اور لڑکا صحےح سلامت
پےدا ہوا جو آج بھی موجود ہے ۔
اپور
گرونانک اور زر تشت کا سراپا
اسی طرح لوگوں نے بیان کیا کہ پارسےوں اور سکھوں کو بھی ان کے
اوتار زرتشت جی اور گرونانک جی کا سراپا دکھآیا ۔
اپور
مولےناٰ اختر علی شاہ یوسفی تاجی بیان کرتے ہیں کہ سرکار یوسف
الاولیاءﺭﺿ
کی موجودگی میں تاج آباد شریف میں کچھ ہندوں نے میرے سامنے بیان کیا کہ ہم
میں سے ہر ایک نے یہ خیال کیا کہ اگر بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
ہم کو ہر ایک کے خیال کے مطابق رام چندر جی ،کرشن، گنیش جی، مہا دےو جی، کے
روپ دکھائےں توہم جانےں کہ وہ بڑے مہاتما ہیں۔ ہر ایک کی حاضری
بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
نے ہمارے خیال کے مطابق دی ۔ جو ہم چاہتے تھے وہ روپ دکھائے اور جب حاضر خدمت
ہوئے تو فرمایا: ”ارے میں ہی تو رام چندر جی ، کرشن گنےش جی، مہا
دےو جی ہوں ۔“ اپور
جناب بہادر پر شاد صاحب پٹواری ایک عالی مرتبت خاندان کے فرد ہیں،
ان کے بھائی ناگپور میں ڈپٹی کمشنر کے عہدہ پر ہیں وہ بیان کرتے
ہیں کہ میں ساگر میں اپنے گھر پر تھا کہ تین سادھو کہیں سے گھومتے
ہوئے وہاں آئے۔ مجھے صحبت ِ فقراءبہت پسند تھی ، میں نے سادھوﺅںسے
ملاقات کی۔ گفتگومیں حضور مہاراج بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کا ذکر آگیا جس کو سن کر سادھوﺅں نے ناک بھویں چڑھائی اور کہا کہ ہم ہندوﺅں
کے یوگ میں کس چیز کی کمی ہے کہ تم ایک مسلمان فقیر کے والہ و شیدا
ہو؟ یہ سن کر میں نے حضور بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کی ایک کرامت کا ذکر کیا کہ آپ ہی کی طرح سادھو نے حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کی شان میں کچھ باتیں کہیں تھیں ، وہ سادھو اور میں شکردرہ پہنچے حضورﺭﺿ
محل کے اندر تھے، ہم دور کھڑے ہو کر،محل کی طرف ٹکٹکی لگائے درشن کا انتظار
کرنے لگے کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں کوئی محل ہے نہ آشرم ، ہم جنگل
میں کبھی ندی کے کنارے ہوتے اور شنکر جی کے درشن کرتے ۔ کبھی رام
چندر جی اور کبھی کرشن کو دیکھتے غرض ایک آنِ واحد میں تمام
اوتاروں کے درشن کئے۔ اتنے میں لوگوں کی آوازیں گونج اٹھیں تو
دیکھا حضور ہم دونوں کے سامنے کھڑے تھے ، بے اختیار حضور کے چرنوں
پر گر پڑے اور اس کے بعد جو کچھ گزری وہ پر بھو ہی جانتے ہیں۔
اپور
ٍ میں یہ باتیں سادھوﺅں سے کر کے اپنے گھر چلا آیا ۔ اسی رات کو
کیا خواب دیکھتا ہوں کہ حضور بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
تشریف لائے اور میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اٹھو! جلدی چائے بناﺅ زہے نصیب
کہ حضورﺭﺿ
اپنے گھر تشریف لائے ہیں ۔ چنانچہ میری بیوی نے چائے بنا کر پیش کی ۔ حضور
ﺭﺿ
نے چائے پی اور فرمایا ” چل رے تیرے کو تیرتھ کرالے آﺅں “ حضور
ﺭﺿ
کے ساتھ گھر سے باہر آیا تو فرمایا ان تینوں سادھوﺅں کو بھی ساتھ لے چلو ۔
چنانچہ ان سادھوﺅں کو بھی ساتھ لے لیا۔ آگے آگے حضورﺭﺿ
تھے ، بیچ میں سادھو اور میں پیچھے تھا۔ بنارس اور گیا جی کے درشن کر چکے تو
حضور ﺭﺿ
نے فرمایا : ” چلو جگنا تھ جی کا بھی درشن کر لیں ۔“ ہم لوگ جگناتھ جی پہنچے
اوردرشن سے فارغ ہو کر بازار میں آئے ۔ ایک سادھو نے مجھ سے کہا کہ
جگنا تھ جی کی نشانی ایک لوٹا دلا۔ میں نے ایک دکان پر لوٹے کی
قیمت دریافت کی، دکاندار نے تین یا چار روپے کہا۔ میں نے دوکاندار
سے کہا کہ جو واجبی دام ہوں، کہدو۔ دوکاندار نے جواب دیا کہ واجبی
دام ہیں ۔ میں نے فوراًقیمت ادا کر دی اور لوٹا لیکر سادھوﺅں کے
حوالے کر دیا۔ بس ! ہم چل ہی رہے تھے کہ میری آنکھ کھل گئی
۔۔۔۔میرے گھر میں عجیب نور تھا، عجیب رونق تھی طبیعت مسرور تھی۔
شام کو سادھوﺅں کے استھان کی طرف چلا تو وہ لوگ وہاں نہ تھے ۔ میں
گھر واپس آیا اور مصمم ارادہ کر لیا کہ شکردرہ ، حضورﺭﺿ
کی خدمت میں حاضر ہوکر سجدہ شکر ادا کرنا چاہیے۔ شکردرہ پہنچا تو میں نے
دیکھا کہ صدر دروازے کے قریب ”ولایتی املی “ کے پیڑ کے نیچے ان
تینوں سادھوﺅں میںسے ایک سادھو اندر بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں ان
سادھوجی کے قریب گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی لوٹا جو میںنے جگنا
تھ جی سے خرید کر اس سادھو کو دیا تھا ، ایک گوشہ میں رکھا ہوا ہے
۔ میرے تعجب کی کوئی حد نہ تھی ۔ میں سوچتا تھا کہ یہ خواب ہے یا
دراصل حضور
ﺭﺿ
نے ہم لوگوں کو تیرتھ کرایا ہے۔ میں نے سادھو کو نمسکار کیا اور تعجب کے ساتھ
سادھو مہاراج سے دریافت کیا کہ آپ یہاں کس لئے آئے اور یہ لوٹا
کہاں سے لائے ؟ سادھو نے مسکرا کر کہا ”بہت جلد بھول گئے ، یہ وہی
لوٹا تو ہے جو آپ نے جگنا تھ جی میں دلایا تھا۔ میں بھی حضور
ﺭﺿ
کی یہ لیلا اور چمتکار دیکھ کر یہاں حاضر ہوا ہوں تاکہ حضور
ﺭﺿ
سے مکتی کا مارگ حاصل کروں۔ یہ سن کر میں دیوانہ وار حضور
ﺭﺿ
کے درشن کرنے دروازے کے اندر داخل ہو ا ۔ میں نے دیکھا کہ حضورﺭﺿ
میری ہی طرف آرہے ہیں ۔ حضورﺭﺿ
قریب آئے تو فرمایا: ” بڑے ساہوکار کے بیٹے ڈھائی روپے کے لوٹے کے اتنے دام
دیدیئے “ میں بے تابانہ حضور بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کے چرنوں میں گر پڑا ۔ اپور
ایک مار واڑی سیٹھ بشیشور کے پہاڑوں میں تیرتھ کو جا رہا تھا ۔ اس
نے دیکھا کہ ایک مسلمان درویش اس کے راستے میں کھڑے ہیں اور پوچھتے
ہیں کہ کہاں جا رہا ہے۔ اس نے کہا بشیشور کے درشن کرنے جاتا ہوں ۔
درویش نے فرمایا: ”بشیشور آجکل ناگپور میں درشن دیتے ہیں۔ میرا نام
بابا تاج الدین ﺭﺿ
ہے ۔ ناگپور آﺅ ملاوں گا۔ “ یہ کہکر ادھر درویش غائب ہوئے ادھر ماڑ واڑی سیٹھ
کے ہوش و حواس غائب ہوگئے، سوائے بابا تاج الدین
ﺭﺿ
کے کچھ یا د نہ رہا۔ اسی دھن میں تیرتھ کا خیال ترک کیا ۔ اور ناگپور کی راہ
لی۔ حاضر دربار ہوا تو دیکھا وہی فقیر جو بشیشور کی پہاڑیوں میںملے
تھے بیٹھے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے بشیشور کا روپ دھارن کر لیا ۔
سیٹھ دوڑ کر قدموں میں گرا۔ حضور
ﺭﺿ
نے نگاہِ کرم فرمائی ۔ دعائیں دیں اور خدمت سپرد فرمائی ۔
اپور
کرشن کے روپ میں
ایک ہندو، بابو راﺅ صاحب کا بیان ہے کہ حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کے درشن کے لئے ہزاروں افراد حاضر ہوتے تھے۔ مجھے بھی میرے دوستوں نے
مجبورکیا کہ اگر بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
انتر یامی ست گروہیں تو مجھے کرشن کے روپ میں درشن دیں۔ چنانچہ اس رات کو میں
نے دیکھا کہ شری کرشن گوپیو ں کے درمیان بانسری بجار ہے ہیں یہ
لیلہ دیکھ کر میں نے ان کے چرنوں پر اپنا سر رکھ دیا اور جب سر
اٹھایا توکرشن مہاراج کی جگہ باباجی
ﺭﺿ
موجود تھے ۔ یہ لیلا دیکھ کر میرے آنند کی کوئی انتہا نہ رہی میںاسی وقت سے
بابا جیﺭﺿ
کا پجاری ہوں اور جب چاہتا ہوں اپنے من موہن بانسری والے باباجی
ﺭﺿ
کا ساکشات درشن کر لیتا ہوں۔ اپور
لاہتی نام کی دودھ والی بیان کرتی ہے کہ میں ہی حضور
ﺭﺿ
کے یہاں دودھ دیا کرتی تھی ۔ اور اسی وجہ سے ہر ایک آدمی میرے ہی پاس سے
دودھ لیا کرتا تھا۔ جناب گارڈ صاحب پیرزادہ ناسک کو بھی میں ہی
دودھ دیا کرتی تھی ۔ میرا کچھ روپیہ ان کی طرف رہ گیا تھا۔ گارڈ
صاحب حضورﺭﺿ
کی خدمت میں حاضر ہوئے میں بھی موجود تھی حضور
ﺭﺿ
نے جب گارڈ صاحب کو دیکھا تو میری طرف مخاطب ہو کر فرمانے لگے : ”کیوں ؟ تو
نے ان کو دودھ دینا بند کر دیا “ میں نے جواب دیا گارڈ صاحب کی طرف
میرے کچھ روپے رہ گئے ہیں اس لئے انھوں نے ہی دودھ لینا بند کر دیا
ہے۔ حضور
ﺭﺿ
نے فرمایا : ” تم ان کو دودھ دیا کرو پیسے میں دونگا ۔ چنانچہ دوسرے دن سے
میں انکو دودھ دیتی رہی “ یہاں تک کہ حضور بڑے دادا تاج الاولیاء قبلہ
ﺭﺿ
کا وصال ہو گیا۔ وصال کے تیسرے دن جب کہ میں اپنی نواسی کو صبح پانچ بجے
ضرورت سے فارغ کرانے باہر آئی ۔ ابھی اس کو بٹھایا بھی نہیں تھا کہ
ایک فقیر صاحب آئے اور فرمایا کہ: ”لے مائی ! تیرے دودھ کا روپیہ
جو تو نے تاج الدین ﺭﺿ
کے حکم سے سبحان الدین گارڈ کو دیا ۔ “ یہ سن کر میں نے جواب دیا کہ: ” میں
نے حضورﺭﺿ
کے حکم سے دودھ دیا تھا۔ اب حضور بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کا وصال ہو گیا ہے، میں نے بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کو روپیہ معاف کر دیا ،مجھے روپیہ نہیں چاہیے “۔ بہت دیر حجت و اصرار کے بعد
میں نے کہا اگر تم روپیہ دینا ہی چاہتے ہو تو حضورﺭﺿ
کے یہاں زمین کے لئے چندہ ہو رہا ہے ۔ اس میں دے دو ۔ فقیر نے اصرار کر کے
کہا۔ ” یہ تیرے دودھ کا پیسہ ہے، دامن پھیلاﺅ۔“ میں نے فقیر کے
جلال سے ڈر کر دامن پھیلادیا۔ فقیر اسی روپے دو پیسے دیکر میرے
دیکھتے دیکھتے غائب ہو گئے۔ مجھے خیال ہو اکہ گارڈ صاحب کو دودھ
دینے کے بھید سے کوئی واقف نہ تھا ۔ یہ روپے دینے والے بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
ہی ہیں میں فوراً نواسی کو گھر میں دے کر درگاہ پر آئی اور پریشان حال ، گارڈ
صاحب کے پاس پہنچی اور سارا ماجر ا کہہ سنایا ۔ سید سبحان الدین
صاحب گارڈ نے اپنا حساب دیکھا تو برابر اسی روپے دوپیسے تھے۔
اپور
گیا دین بھائی جن کا نام حضور
ﺭﺿ
نے کمال الدین رکھا تھا۔ آپ کا ایک سلسلہ میں ذکر آچکا ہے۔ پاٹن ساﺅنگی
جوواکی شریف جانے کے لئے اسٹیشن ہے وہاں کے مالدار گو سائیں خاندان
سے تھے۔ کاشی جی، رامیشورم وغیرہ کی تیر تھیں کر کے آگئے تھے ۔ اس
کے بعد حضورﺭﺿ
کی زیارت کا شوق ہوا۔ ان دنوں سرکار پاگل خانہ میں تھے۔ یہ وہاں پہنچے حضورﺭﺿ
کا دیدار ہوتے ہی ان کو میرے بابا
ﺭﺿ
کرشن بھگوان کے روپ میںنظر آئے۔ ان پر سکتہ طاری ہو گیا ۔تھوڑی دیر بعد
سرکار نے فرمایا: ” ہو حضرت اپنے گھر جاﺅ“ جس میں املی کا درخت ہے
چھ ماہ بعد ہم تمہارے گھر آکر تم کو ساتھ لے آئیں گے ۔ پھر تم
ہمارے ساتھ رہنا ۔ وہ اپنے گھر واپس لوٹ گئے۔ ٹھیک چھ ماہ بعد حضور
ﺭﺿ
ان کے گھر تشریف لے گئے ۔ اور ان کو ساتھ لے آئے ۔ اب آپ سچے پکے مومن تھے ۔
حضور
ﺭﺿ
کی ہی خدمت میں رہتے ،ایک روز سرکار ایک جنگل میں تشریف فرماتھے۔ قریب ہی ایک
باﺅلی (کنواں ) تھا۔اس کے ساتھ پانی کی ایک حوضی بنی ہوئی تھی۔ وہ
خالی تھی۔ جنگلی جانورحوضی کے پاس آکر پیاس سے تڑپ رہے تھے۔ سرکار
کی نظر جو پڑی تو بھائی کمال الدین صاحب کو حکم دیا یہ جانور بہت
پیاسے ہیں ان کو پانی پلا۔ آپ فوراً باﺅ لی پر گئے اور پانی نکال
کر حوضی بھر دی جب جانور سیراب ہو گئے ۔ اسوقت حضورﺭﺿ
نے ان سے فرمایا: ” ہم نے تجھ کو ایک حج کا ثواب دیا۔“ اس پر مجھے ( قاضی
امجد علی ) ایک شعر یاد آیا۔
اپور
باباصاحب
بیرسٹر کے روپ میں
جناب فرید صاحب فضاءکا بیان ہے کہ ایک روز حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
واکی شریف سے سات ، آٹھ میل دور ایک کھیت میں آم کے درخت کے نیچے تشریف فرما
تھے۔ فضا ءصاحبﺭﺿ
بھی وہاںپہنچ گئے اور قدمبوسی کرنے کے بعد بیٹھ گئے ایک کنبی (کاشتکار) آیا
اوربڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کے پیر چھو کر بیٹھ گیا ۔ بڑے دادا تاج الاولیاء سرکارﺭﺿ
ﺭﺿ
جدہر جاتے ان کے پیچھے پیچھے ہوتا۔بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
اسے فرماتے: ” جا ، جا اپنا کام کر “ مگروہ نہ جاتا ایک رو ز بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
اس درخت کے نیچے پھر آئے ۔ وہ کنبی بھی ساتھ تھا۔ آپ نے اس سے فرمایا : ” اس
درخت کے نیچے بیٹھ جا۔ اٹھنا نہیں ورنہ مارڈالوں گا “ وہ بیٹھ گیا
۔ تین روز لگا تار بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
اس درخت کے پاس آتے رہے ۔ اور ”بیٹھا رہ ، خبردار یہاں سے ہلنا نہیں “ فر
ماکر چلے جاتے ۔ چوتھے روز جبکہ سرکار اسی درخت کے سایہ میں ایک
چادر اوڑھ کر آرام فرما رہے تھے۔ اس کا ایک بھائی راموں کو تلاش
کرتے کرتے اسی درخت کے قریب آیااور رامن بھائی ،رامن بھائی کہہ کر
پکارنے لگا۔ آواز سن کر راموں اٹھ کر کھڑا ہوا سامنے سے اس کا بھا
ئی ر امن آواز دے رہا تھا۔ دوڑ کر گیا اور بھائی سے لپٹ گیا۔رامن
نے کہا بھائی تم کہاں تھے؟ ہفتہ بھر سے تلاش کر رہا ہوں۔ اب یہا ں
کا پتہ ملا تو آیا ہوں ۔مقدمہ کا فیصلہ اپنے حق میں ہو گیا ہے۔
اپنی تمام زمین جائداد جو رہن تھی وہ سب ہمیں مل گئی “ اس نے خوشی
میں دریافت کیا کیسے جیت گئے ؟کوئی امید تو نہ تھی ۔ ساہوکار بڑا
آدمی ہے ، کیس بھی صحیح طور سے لڑ نہیں رہے تھے ۔ اس لئے ہمارے پاس
تو وکیل کو دینے کےلئے پیسے بھی نہیں تھے ۔ تب اس نے کہا ایک
بیرسٹر صاحب بہادر کوٹ پتلون پہنے ہمارے گھر آئے۔ اور پوچھا بھائی
تمہارا کوئی مقدمہ ہے ؟ میں نے کہا ” ہاں‘ ‘ تب انہوں نے مجھ سے
کاغذات طلب کیے ۔ ان کی بات کا مجھ پر ایسا اثر ہو اکہ میں نے
کاغذات دے دیئے۔ کاغذات لیکر انہوں نے کہا: ” ہم تمہارے مقدمہ کی
پیروی بغیر فیس کے کریں گے۔ پرسوں صبح آٹھ بجے کورٹ میں ہمارا
انتظار کرنا “۔ یہ کہہ کر وہ چلے گئے ۔ مقررہ تاریخ پر کورٹ پہنچا۔
کچھ دیر بعد وہی بیرسٹر صاحب تشریف لائے۔ ڈی۔ سی بھی آگئے تھے۔
چنانچہ ہمارا مقدمہ پیش ہوا۔ سب سے پہلے مجھے آواز پڑی ۔ میں اندر
داخل ہوا تو بیرسٹر صاحب نے تقریر شروع کی ۔ اور آدھے گھنٹہ تک
بولتے رہے۔ ڈی۔ سی ۔ پر آپ کی تقریر کا ایسا اثر ہواکہ اس نے مقدمہ
کا فیصلہ ہمارے حق میں کر دیا اس طرح ساہو کار کا دعویٰ مسترد ہو
گیا ۔ نقل حکم لینے کے لئے دوسرے دن کی تاریخ ملی ۔ نقل حکم لیکر
اور اس سے پیشتر بھی ہم تم کو تلاش کرتے رہے لیکن تم آج ملے ہو ۔
بیرسڑ صاحب مقدمہ کی پیروی کے بعد چلے گئے ۔ ان کو بہت تلاش کیا
وکیلوں سے دریافت کیا مگر ان کا پتہ نہیں چلا۔ بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
چادر اوڑھے یہ سب گفتگو سن رہے تھے جب پورا واقعہ وہ کسان بیان کر چکا تو آپ
نے منہ سے چادر ہٹائی اور فرمایا: ” کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے۔ “ اس
کنبی نے آپ کو دیکھ کر پہچان لیا ۔ اور اپنی زبان میں بلند آواز سے
کہا ۔ یہی تو ہیںوہ بیرسٹر صاحب ۔ تب آپ نے فرمایا: ” میںتو کہیں
نہیں گیا ، یہیںہوں “۔
اپور
|
|
|
|
|