|
|
 |
| طے الارض |
|
زماں و مکاںکے فاصلوں کا سمٹ جانا۔ دور دراز مقامات پر چشم زدن میں پہنچ جانا ۔ دوسروں کو بھی پہنچا دینا۔ دور کی چیزوں کو اپنے پاس بلا لینا کرامت ہے۔ جو طے الارض کہلاتا ہے ۔
اولیاءاللہ کے ساتھ یہ روایت ہمیشہ سے وابستہ چلی آتی ہے کہ وہ آنِ واحد میں جہاں چاہیں پہنچ سکتے ہیں۔ زمان و مکاں کے فاصلے سمٹ کر ، لپٹ کر چشم ِ زدن میں طے ہو جاتے ہیں۔
یہ کرامت معراج کے واقعہ کی صداقت پر دلیل بن کر مادہ پرستوں کے سامنے آتی ہے تو یہ حاضر کی اس کرامت کو دیکھ کر عہد ِ گزشتہ کے معجزات کی تصدیق پر از خودمجبور ہو جاتے ہیں۔
زمانہ? حال میں تاج الاولیاءبابا تاج الدین رضی اللہ عنہ کی ذاتِ گرامی سے وہ سب کرامتیں علی الاعلان سر زد ہوئیں جو تمام اولیاءاللہ سے فرداًفرداً سرزد ہوئی تھیں ، اس سے حضور کی جامعیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے پلک جھپکنے میں دور دراز مقامات پر آپ کا پہنچ جانا ، کبھی دفعتاً اپنی جگہ سے غائب ہو جانا، کبھی جگہ پر موجود ہوتے ہوئے دوسری جگہ پہنچ کر ملاقاتیں کرنا، حکم دینا، مشکل کشائی کرنا در بارِ تاج الاولیاءﺭﺿ
کی مشہور عالم خصوصیت اور روز مرہ کی بات ہے ۔ آپ کا ارشاد ہے:
?ہم اپنے نام کے ساتھ رہتے ہیں ?
اندازہ کیجئے، آپ کتنے نام لیوا ہوں گے ؟ صحیح تعداد کا علم اللہ ہی کو ہے۔جس کا فرمان ہو کہ سوا لاکھ ولی بناﺅنگا ۔ تو مریدین و معتقدین کا کیا شمار ہو سکتا ہے؟ پھر بیک وقت کہاں اپنے نام کے ساتھ ہوں گے؟
|
|
ہیرا لال بھائی کوچوان جو سرکار کے تانگہ پر راجہ صاحب کی طرف سے مقرر تھے۔ ان سے بھی کچھ حالات معلوم کر کے قلمبند کروں۔ چنانچہ میں ان سے ملا ۔ انہوں نے جو خصوصی واقعہ بتایا ہے وہ پیش کر رہا ہوں۔ ایک روز سرکار تانگہ میں تشریف فرماتھے ۔ اور مہاراج باغ کی سیر ہو رہی تھی ۔ اچانک سرکار نے بہت زور سے فرمایا:
? بڑھا رے گاڑی کابل قندھار کو ?
حضورﺭﺿ
کی زبان سے یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ سارامنظر بدل گیا ۔ اب ہمارا تانگہ مہاراج باغ میں نہیں تھا۔ بلکہ ایک عجیب وغریب شہر میں چل رہا تھا۔ ایک مقام پر پہنچ کر بابا جی بھگوان نے گاڑی روکنے کا حکم فرمایا۔ جہاں گاڑی رکی اس کے سامنے ایک کمرہ تھا ۔ اس کمرہ سے تین آدمی نکل کر آئے اور حضور
ﺭﺿ
کی قدمبوسی کی ۔ سرکار نے ان سے کچھ باتیں بھی کیں۔ جسے میں نہ سمجھ سکا ۔ اس کے بعد فرمایا:
? بڑھارے گاڑی ۔?
اگلے ہی لمحہ ہم مہاراج باغ میں تھے۔ اس واقعہ کی تصدیق حضرت عین اللہ شاہ صاحبﺭﺿ
( جن کا مزار اناﺅ بھارت میں ہے ) نے کی اور ہیرالال بھائی نے بھی حضرت کو پہچان کر بتایا کہ جو تین آدمی مکان سے نکلے تھے ان میں سے ایک یہ ہیں ۔ دیکھا آپ نے یہ شان مہاراج باغ میں عقیدت مندوں کے درمیان تانگہ چل رہا ہے اور کابل بھی پہنچ گئے ہیں۔
اپور
سید جان شاہ صاحب، ساکن سوات بنیر خاندانی سیادت اور آبائی ولایت کی نسبتوں سے مشرف ہوتے ہوئے خود بھی زاہد مرتاض تھے ۔ افغانستان کی پہاڑیوں میں چلہ کشی کر رہے تھے کہ ایک درویش ان کے پاس آئے اور کہنے لگے:
? یہاں پہاڑیوں میں کیا بھٹک رہا ہے ؟ چل واکی تاج الدین ﺭﺿ
کے یہاں ، وہاں سب کچھ ملے گا۔ ?
سید صاحب اس درویش سے بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی غرض سے ان کے ساتھ ساتھ چلے ۔ کچھ دور چل کر وہ غائب ہوگئے تو انھیں خیال ہوا کہ شاید یہ درویش خود ہی تاج الدین
ﺭﺿ
تھے یا پھر میرے بزرگوں میں سے کسی نے آکر میری رہنمائی فرمائی ہے۔
غرضیکہ سید صاحب واکی تشریف لائے اور حضورﺭﺿ
کو دیکھتے ہی پہنچان لیا کہ یہی وہ درویش ہیں جو افغانستان کی پہاڑیوں میں مجھ سے ملے تھے۔
الکریم اذا وعدوفا
حضور ﺭﺿ
نے سید صاحب کو الطاف کریمانہ سے نواز ا۔ سید صاحب چندے واکی میں مقیم رہے، پھر کلیر شریف چلے گئے ۔ اس کے بعد جن دنوں حضورﺭﺿ
شکردرہ میں رونق افروز تھے پھر حاضر ہوئے۔ بڑے دادا تاج الاولیاء سے آپکا راز و نیاز خاص تھا۔ اپور
بڑے دادا تاج الاولیاء حج میں
رڑیاں کے رہنے والے ،ایک معمر حاجی صاحب عرفات میں کنکریاں پھینک رہے تھے ۔ انھوں نے دیکھا کہ ایک بزرگ سبز جبہ پہنے ، دونوںہاتھ باندھے اس انداز سے کھڑے ہیں کہ ان کا دل گواہی دینے لگا کہ یہ ضرور کوئی درویش کامل ہیں ۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں ان کے پیچھے کھڑا ہو گیا ۔ کچھ دیر بعد وہ چلنے لگے تو میں نے قدمبوس ہونا چاہا مگر آپ نے مدراسی لہجہ میں فرمایا:
?یہاں نکور ے ، نارنگی کے ناگپور کے قریب واکی ہے وہاں ?
سفرِ حج سے واپسی کے بعد حاجی صاحب ناگپور آئے، وہاں سے واکی کا پتہ چلایا ۔ اتفاقاً ان کو احمدخاں صاحب، نواب پورہ والے مل گئے ۔ انھوں نے کہا کہ جس بزرگ کی تلاش میں آپ ہیں وہ ہمارے باباصاحبﺭﺿ
ہیں۔ آپ ناگپور سے حال ہی میں واکی تشریف لے گئے ہیں۔ یہ سن کر حاجی صاحب بہت خوش ہوئے احمد خاں صاحب نے ان کو اتوار ہ اسٹیشن سے ریل میں سوار کر دیا۔ یہ واکی اسٹیشن سے واکی موضع کی طرف روانہ ہورہے تھے، ادھر بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
نے حاضرین سے فرمایا:
? چلو حاجی ملاقات کو آرہے ہیں?
اور اسٹیشن پر تشریف لے آئے ۔ انھوں نے دیکھتے ہی حضورﺭﺿ
کو پہچان لیا، قدمبوس ہوئے تو فرمایا:
?یہیں رہتے ?
چنانچہ تاحکم ِ ثانی آپ مقیم دربار رہے۔
اپور
ایک ضعیف شخص مدراس سے حضور ﺭﺿ
میں اس غرض سے حاضر ہوئے کہ بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
مجھے مکہ معظمہ پہنچادیں تو میں حج کر ؤں ۔ حاضر ہوکر خد مت میں عر ض کی کہ حضور
ﺭﺿ
آپ کے پاس راجہ اور نواب آتے ہیں کسی سے مجھے اتنی رقم دلا دو کہ میں حج کر ؤں۔ حضور
ﺭﺿ
نے اطمینان دلا یا ۔ جب حج کا وقت قریب آیا تو مدراسی صاحب بہت بے چین ہوئے اور حضور
ﺭﺿ
میں عرض کی کہ کل سے حج شروع ہو جائے گا۔اور آپ نے مجھے مکہ تک نہیں پہنچا یا ۔ دوسرے دن حضور
ﺭﺿ
بدستور گھومنے نکلے تو یہ ضعیف بھی اپنا معروضہ لئے حضور ﺭﺿ
کے ہمرا ہ ہو گئے۔تھوڑی دور جانے کے بعد حضور
ﺭﺿ
نے ضعیف کا ہا تھ پکڑا اور تھوڑی دور چل کر ضعیف کو بیٹھنے کا حکم دیا ضعیف وہیں بیٹھ گئے اور تھوڑی دیر بعد نیند آگئی ۔ دیکھتے کیا ہیں کہ یہ مکہ میں حاجیوں کےساتھ حج کر رہے ہیں۔ غرض کہ ان حضرت نے اسی مقا م پر پڑے پڑے کُل رسومات حج ادا کئے اور ہفتہ عشرے کے بعد جب حضور
ﺭﺿ
وہاں پہنچے اور ضعیف سے فر ما یا:
? کیا یہیں پڑا رہے گا ۔?
چنانچہ یہ اُٹھے اور مستا نہ وار حضور ﺭﺿ
کے ہمرا ہ ہو گئے۔
اُن کی عنایتوں سے نہیں ہے یہ کچھ بعید
گودل نہیں ہے در خور جائے قیام غوث ﺭﺿ
ناظرین ۔ یہ بات میںنے(امجدعلی شاہ تاجی) خود ان کی زبانی سُنی ہے یہ صاحب بعد میں "نانا"کے نام سے مشہور ہوئے اور آخر دم تک تا ج آباد شریف میں رہے مندرجہ ذیل واقعہ خباب عبد الحسن صاحب فروٹ مرچنٹ نے ۳۲ِ اپریل ۹۴۹۱ءکو سنا یا ۔ اپور
ایک صاحب حضرت بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
قبلہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اورفر ما یا حضور ﺭﺿ
میں اجمیرشریف جانا چا ہتا ہوں ۔ حضور
ﺭﺿ
نے جواب دیا ۔
? اجمیر یہیںہے ۔ کہاں جاتا ہے ?
حضور ﺭﺿ
نے جُوں ہی اُن کے ہا تھ پر ہا تھ رکھا منظر بدل گیا ۔ دیکھتا کیاہے کہ وہ اجمیرشریف کی گلیوں میں گھوم رہا ہے ۔ حضور
ﺭﺿ
نے ہاتھ چھوڑا تو پھر وہ وہیں موجود ہے ۔نہ وہ منظر ہے نہ اجمیر ۔
دریائے فیضِ عام کے چشمے ہیں جا بہ جا
سیراب ہو رہاہے ہر ایک تشنہ کام غوثﺭﺿ اپور
حاجی سر دار خان ، قلعہ ناگپورمیں رہتے تھے ۳ِ جون ۹۴ ۹۱ءبعمر اسّی سال مولف تاج مراری کے سامنے ایک مشہورعا م واقعہ کی عینی شہادت اداکی۔ واقعہ یہ تھاکہ بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
مکہ معظمہ میں اکیس ۱۲دن رہے ۔ حالانکہ آ پ اس زمانے میں ناگپورپاگل خانے میں موجودتھے۔ اس واقعہ کی تفصیل حسبِ ذیل ہے۔
حاجی سر دار خاں کا ایک ہا تھ با لکل خشک ہوچکا تھا جس میں بڑی جلن بڑا درد رہتا تھا۔ حضور بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کی شہرت ہر چہار طرف عالم میں پھیل رہی تھی اور دُوردُور سے لوگ فیض یاب ہو رہے تھے۔ حاجی سر دار خاں کو بھی ان کے خسُر بابا
ﺭﺿ
کی خدمت میں لے گئے ۔ اتنے میں ایک حاجی صاحب حضورﺭﺿ
کا نام دریا فت کر تے ہوئے پاگل خانے میں آئے ہم لوگوںنے اُن سے حاضر ہونے کا سبب پوچھا تو کہا میں مکہ معظمہ سے حج کر کے آیا ہوں ۔مکہ معظمہ میں تا ج الدینﺭﺿ
اکیس دن تک میرے ساتھ رہے اور مجھے پتہ دیا تھا کہ میں ناگپور پاگل خانے میںرہتا ہوں ۔ یہ بات پاگل خانے کے ڈاکٹر کاشی نا تھ رؤ کو جب معلوم ہوئی تو اسکو حیرت ہوئی کیونکہ وہ حضورﺭﺿ
کو برابر پاگل خانے میںدیکھتا رہاتھا مگر اعجازی کارناموں سے واقف تھا ، آنکھوںسے آنسو جاری ہوگئے ۔ اورلوگوں کے سامنے حضور
ﺭﺿ
کی تعریفیں بیا ن کرنے لگا ۔ دفعتہ حضورﺭﺿ
اپنے کمرے سے باہر تشریف لائے ۔ ڈاکٹرکے پاس آکرمدراسی لہجے میں فرمانے لگے ۔
"لمبی نکوکر ورے، لمبی نکو کرورے"
یعنی اس بات کو طو ل نہ دو۔ اُس کے بعد حضور ، سر دار خاں کی طرف متوجہ ہوئے۔
اور خود اپنی انگلی پکڑ کر فر مانے لگے۔
" بڑی جلن رے، بڑا درد رے"
جیسے جیسے یہ فر ماتے جارہے تھے ، میرے ہا تھ کےدرد اورجلن میں کمی ہوتی جارہی تھی تا آنکہ ادھر حضور
ﺭﺿ
نے ایک جھٹکے کے ساتھ اُنگلی چھوڑی اُدھر میرے ہا تھ کا درد اور جلن کافور ہو گیا ۔ وہ ہا تھ جو سوکھ گیا تھا معا ً کام کرنے لگا ۔ حضور
ﺭﺿ
نے خود بخود نام لیتے ہوئے فر ما یا:
"حاجی سر دار خاں جا کر ؤ"
جاکر ؤ ، یہ حکم جن لوگوں کو تھا وہ جا کر پھرحاضرہو تے تھے ، شرف نیاز حاصل کرنے کا انہیں موقع ملتا تھا۔ اپور
بڑے دادا تاج الاولیاء کوٹری میں
سید ضیا ءالحق صاحب ایڈوکیٹ سندھ میں وکالت کر رہے تھے، میں حیدر آباد میں ان کے پاس مقیم تھا ۔ وہ عدم حصولی کی شکایت کر تے رہے ۔ میں نے کہا کوئی مانع ہو گا ۔ اسکو دُورکر دو، جواب دیا کہ معلوم ہونا چاہیے۔ میں نے کہا کہ اگربتا یا جائے تو کیاضمانت ہے کہ آپ اسکو مان بھی جائیں۔ وعدہ کیا کہ صحیح بات ہو گی تو ضرورتسلیم کی جائے گی ۔ مجھے جوعلم دیا گیا تھا اُن پر ظاہر کر دیا ۔ انہوں نے کہا کہ سچ ہے ،یہ راز وہ ہے جومیرے اور میرے خداکے سوائے کسی کومعلوم نہیں تھا ۔ مگر اس واقعہ کے فورا ً بعد ہی ان میں تغیررونما ہوا ، گریاطاری ہوا، ہچکیاں بند ھ گئیں، تمام رات روتے روتے گزاری، دفتر کا وقت ہوا، موکل آئے ، مگرکیفیت فروع نہ ہوئی۔ کسی دوسرے وکیل کو فائلیں دے دیں ۔ خودکورٹ بھی نہ جاسکے ۔ میں ان کو حیدر آباد سے کوٹری لے آیا ۔ وہاں مولا نا اسمٰعیل رزی تھے۔ ایک اسکول کی خالی عمارت میں قیام ہوا ، تین پلنگ بچھے، میرے دائیں ہا تھ کی طرف رزی صاحب کا پلنگ تھا ، بائیں طرف ضیاءالحق صاحب کا پلنگ تھا۔ اُن پر بدستورگریہ طاری تھا ، اسی حالت میں کہنے لگے یہ زمانہ جوآپ سے دُوری میں گزرا اس میں مجھے حضور بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کی زیارت نہیں ہوئی ۔ حضرت قبلہ و کعبہ کا بھی دیدار نصیب نہیں ہوا۔
میں نے کہا آپ دیکھتے نہیں وہ تو سامنے ہی ہیں۔میرے کہتے ہی وہ اپنے پلنگ سے اُٹھے اوردیرتک زمین بوس ہو تے رہے ۔ پھر سر اُٹھا یا اور فر ما یا ، الحمد ُ للہ، بڑے دنوں میں زیا رت نصیب ہوئی۔
اپور
کوٹری سے میر پور خا ص روانہ ہوا تو وکیل صاحب بھی سا تھ ہوگئے ۔میر پور خاص میں قیام الدین میرے ایک مخلص دوست تھے اُن کا سب گھر داخل ِ سلسلہ ہے ، اُن کے گھر قیام ہوا۔ رات کو کھانے کے بعد میں اور وکیل صاحب ایک ہی کمرے میں سو رہے تھے ، اچانک وکیل صاحب نے مجھے پُکارا ۔ میںنے دریافت کیاکہ کیا بات ہے ؟، جواب دیاکہ حضور بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
مجھے دبا رہے ہیں ، نچوڑ رہے ہیں، میرا بدن ہلکا ہوتا جا رہا ہے ، میرا بدن بالکل غائب ہو گیا ہے ۔ اب میںبا لکل نہیں ہوں ۔ میں نے کہا کہ خاموشی سے دیکھتے رہو، جو کچھ ہورہا ہے اچھا ہے ۔
اس واقعہ کے بعد ضیاءالحق صاحب تقریبا ً ہر شب بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کے دیدار سے مشرف ہو نے لگے اور حیدر آباد چھوڑ کر کراچی تشریف لے آئے۔
اپور
|
|
|
|
|