|
|
 |
| بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کی جامعیت |
|
بابا (سید نا حضرت محمد بابا تاج الدینﺭﺿ
) کو پنجتن پاک سے اویسی نسبت حاصل ہے۔ اور ہر سلسلہ کے بزرگ سے براہ راست فیض اخذ کیا ہے۔ جس سلسلہ کا طالب حاضر در بار ہوا اس کو اسی سلسلہ کے انوارو بر کات سے ما لا مال فر ما یا۔ قادری کو قادری ،چشتی کو چشتی ، نقشبندنی کو نقشبندی، سہر وردی کو سہر وردی مشہور ہوئے۔ یہ بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کی جا میعت اور کلیت کی روشن دلیل ہے۔
|
| |
|
ایک روز فر ما یا کہ بابا کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہے کہ ؛
?میرا نام تا ج محی الدین ہے?
میں نے مودب استفادہ کی درخواست کی، توار شاد ہو اکہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ نے ?ہمعات? میں لکھا ہے کہ ہر دور میں ایک بزرگ ، اس امت میں ایسا ظاہر ہو تا ہے جو دین کو زندہ کر تا ہے۔ اس کی علا مت یہ ہے کہ وہ اس عالم میں ہر قسم کا تصرف کر نے پر قادر ہو تا ہے۔ مر دے کو زندہ کر نا،مغیبات سے اطلاع دینا، مریضوں کو اچھا کر نا،
نامرادوں کو مرادیں دینا، اور ہر قسم کے خوارق عادات اس سے بے شمار سر زدہو تے ہیں۔ جب اس قسم کے بزرگ کا ظہور ہو تا ہے۔ تو یہی قطب مدار عالم ہو تا ہے۔پچھلے اقطاب کی دعوتیں منسوخ ہو جا تی ہیں، اور وہ تمام سلا سل جو پہلے سے چلے آتے ہیں، مر دہ ہو جا تے ہیں۔اور یہ بزرگ جس سلسلہ کو چا ہے پھر سے زندہ کرتا ہےتمام سلاسل اس کی رو حانیت سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ یہ ہر سلسلہ کا ?محی الدین? ہو تا ہے، اور جب تک کہ اسی شان کا دوسرا بزرگ ظاہر نہ ہو۔اس کی حکو مت تمام عالم میں جا ری و ساری رہتی ہے۔ اسی طرح شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عر بی ﺭﺿ
نے? فتو حات المکیہ ? میں بیان فر ما یا ہے جب قطب مدار عالم کا ظہور ہو تا ہے تو سابقہ اقطاب کی حکو مت دعوت اور تاثیر منسوخ ہو جا تی ہے۔
پھرحضرت یوسف تاجی نے فر ما یا جاننے والے جانتے ہیں کہ بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کی شان کا بزرگ اس وقت تک ظاہر نہیں ہوا،آئیندہ کا علم اللہ کو ہے۔خاتم الاولیا ءہیں۔ خاتم الاولیاءکے یہ معنی ہیں کہ اب کوئی شخص مر تبہ ولا یت پر اس وقت تک فائز نہیں ہو سکتا، جب تک کہ حضور سے اس کو نسبت حاصل نہ ہو اور حضور کی روحانیت اس کی مدد نہ فر مائے، اور یہ بھی ظاہر ہے کہ بقول حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
ﺭﺿ
اور حضرت شیخ اکبر ﺭﺿ
، یہ دور حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کی حکو مت کا دور ہے۔ اور آپ ہر سلسلہ کے تاج محی الدین ہیں۔ اسی وجہ سے آپ میں وہ جا میعت ہے کہ جس سلسلہ کا سالک حا ضر در بار ہو ا، آپ نے اسی سلسلہ کے انوارو بر کات سے اس کو سر فراز فر ما یا۔ چشتی کو چشتی ،قادری کو قادری، سہروردی کو سہروردی، نقشبندی کو نقشبندی مشہور ہوئے۔ اپور
حضور اپنا نام اکثر ? تاج محی الدین ، تاج معین الدین? بھی فر ما تے تھے۔ صوفی محبت شاہ صاحب جو آجکل حیدر آبادسندھ، گاڑی کھا تے میں مطب کرتے ہیں، بیان کرتے تھے کہ میں ایک عرصہ تک درگاہ ِ خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ میں معتکف رہا اور حضور
ﺭﺿ
سے مجھے ایک خصوصی نسبت حاصل تھی۔ میرا ایک مرید ناگپور سی پی کے علاقے سے آیا اوروہاں مجھے اپنے ساتھ چلنے کو کہا۔ میں نے منظور کر لیا ۔ وہاں پہنچ کر میں نے قیام کیا ہی تھا کہ حاضرین میں سے کسی نے بڑے دادا تاج الاولیاء کا ذکر چھیڑ کر کہاکہ? آپ ان کے علاقہ میں آئے تو وہاں حاضری دینا بھی ضروری ہے۔ ?
بدقسمتی سے میں نے کہہ دیا کہ ہم خواجہ صاحب ﺭﺿ
کے نام لیوا ہیں ، ہمیں بڑے دادا تاج الاولیاء سے کیا لینا ہے ؟ بات آئی گئی ہو گئی ۔ ہم نمازِعشاءسے فارغ ہو کر سورہے ۔ کیا دیکھتے ہیںکہ اجمیرشریف کی خانقاہ ِعالیہ کا سماع خانہ ہے۔ وہاں دربارِشاہی منعقد ہے، صدر مقام پر ایک تخت بچھا ہوا ہے، اس پر بابا تاج الدین
ﺭﺿ
بیٹھے ہوئے ہیں۔ رعب و جلال شاہانہ آپ کے چہرے سے ٹپک رہا ہے۔ اتنے میں دیکھتا ہوں کہ حضور غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ تشریف لائے، ایک طشت میں تاج ِزر نگار ہے، وہ تاج ِ زر نگاربابا کی طرف بڑھایا ۔بابانے وہ تاج اپنے سرِمبارک پر رکھتے ہوئے میری طرف دیکھا اور فرمایا۔
?کیوں محبت شاہ ! یہی ہیں تیرے معین الدین ؟?
حضور غریب نواز ﺭﺿ
نے تنبیہ آمیز نظر سے مجھے دیکھا، گھبرا کر میری آنکھیں کھل گئیں اور ایسامعلوم ہوا کہ سکون و اطمینان ، محبت و عقیدت کی سب کیفیتیں ایک دم سلب ہوگئیں۔بے چینی ،اضطراب اور وحشت طاری ہوئی ۔ میزبا ن سے ہم نے کہا ، جلد سے جلد ہم کو بابا کے دربار میں لے چلو۔ ابھی رات باقی تھی، بیل گاڑی کا انتظام ہوا، ناگپور پہنچے ۔ دربار میں حاضری کا موقعہ ملا۔ ہمیںدیکھتے ہی بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
نے فرمایا۔
? یہاں دماغ لے کر نہیں آتے ?۔
میں نے دل ہی دل میں معافی چاہی ، حضورﺭﺿ
نے حاضرِخدمت رہنے کا حکم دیا۔ عرصہ تک سعادت ِ قدمبوسی اور دولت ِ تربیت حاصل کی بات سمجھ میں آگئی ۔اپور
ایک روز فرمایا کہ حضور بڑے دادا تاج الاولیاء نے ایک روز فرمایا؛
?تاج الدین کسی سے کم نہیں ہے?
یہ جملے حضور ایسے مواقع پر فرماتے جب بزرگانِ دین کا تذکرہ ہوتا یا محفلِ سماع میں کسی بزرگ کی منقبت سنائی جاتی ۔ مثلاً ایک بار خواجہ خواجگان حضورغریب نواز
ﺭﺿ
کاذکر آگیا توبڑے دادا تاج الاولیاء نے بڑے جوش و خروش سے فرمایا۔
?معین الدین بہت بڑے آدمی ہیں?
یہ جملے آپ نے بہت پر جلال لب و لہجہ میں کئی بار دہرائے، آخر میں فرمایا۔
? مگر حضرت ! یہ تاج الدین بھی کسی سے کم نہیں ہے۔اپور
بلور ، مدراس کے رہنے والے بہادر جنگ نامی ایک بہت بڑے سوداگر تھے۔ سلسلہ ءنقشبندیہ میں کسی بزرگ سے بیعت تھے اور اوراد، اشغال، ذکر فکر اور مراقبہ کا اہتمام رکھتے تھے۔ ایک رات بعدنمازِعشامراقب بیٹھے تو دیکھا کہ ایک بزرگ نمودار ہوتے ہیں اور ایک تلوار انکی طرف بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں۔
? بہادر جنگ! یہ تلوار لو،تمھاری تلوار بیکار ہے،کاٹھ کی ہے۔?
یہ فرما کر وہ بزرگ غائب ہوگئے ۔ ان کو ہوش آیا تو طبیعت اچاٹ ، نسبت غائب دل پر وحشت کی عجیب و غریب حالت طاری ہوئی ۔ اتفاق سے تجارتی کاروبار کے سلسلہ میں انکو بمبئی جانا پڑا۔ وہاں کے ایک سیٹھ نے ان کو رات کے کھانے میں مدعو کیا ۔ یہ وہاں پہنچے تو کمرے میں قدم رکھتے ہی ایک چیخ ماری اور بے ہو ش ہو گئے۔
میزبان پریشان ، ملازمین حواس باختہ کہ یہ کیا ہوا؟بڑی جدو جہد کے بعد ہوش آیا تو پہلا سوال میزبان سے یہ کیا کہ یہ فوٹو کس کا ہے جو کمرے میں آویزاں ہے؟ میزبان نے جواب دیاکہ یہ ہمارے بابا تاج الدین صاحب کا فوٹو ہے۔ بہادر جنگ نے کہا یہ کہاںہیں ؟ میزبان نے کہا کہ ناگپور سی ۔پی ، تعجب ہے کہ آپ ان کو نہیں جانتے ؟
بہادر جنگ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ پہلی ٹرین سے ناگپور چلا جاﺅں ، یہ عورت میرے لئے نہایت مبارک اور کامیاب ثابت ہوئی کہ میں جس بزرگ کی تلاش میں تھا ان کا پتہ چل گیا ۔ اس کے بعد اپنا تمام حال انھوں نے سیٹھ صاحب کو سنایا جو مراقبہ میں معلوم ہوا تھا۔ اس کے بعد جو کیفیت دل پر گزررہی تھی، بیان کی ، سیٹھ صاحب نے تسلی دی اور تھوڑا بہت کھانا کھلاناچاہا مگر یہ نہ مانے ، اور ہدایت کی کہ میرے ملازمین سے کہہ دیا جائے کہ وہ جائیں اور کاروبار جانے ، اب میراانتظار نہ کریں ۔ سیٹھ صاحب نے کہا ہوٹل سے سامان اسباب تجارتی تو ملازمین سنبھال لیں گے، مگر آپ دن میں دوبار کپڑے تبدیل کرنے کے عادی ہیں ۔ کپڑوں کے بکس تو ساتھ لے لیجئے ۔ انھوں نے جواب دیا کہ ضرورت نہیں ۔ اور پہلی ٹرین سے ناگپور روانہ ہوگئے۔
ناگپور پہنچ کر حضور بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
ندی کے کنارے تشریف فرما تھے ، زائرین آپ کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھے انھیں میں بہادر جنگ کھڑے ہوئے تھے۔ حضور
ﺭﺿ
نے انگلی سے زمین پر ایک تلوار بنائی اسی طرح اور بلند آواز میں فرمایا ۔
?بہادر جنگ! یہ تلوار لو ،تمہاری تلوار بیکار ہے، کاٹھ کی ہے?۔
بہادر جنگ ہجوم سے آگے نکلے ، بڑھ کر قدمبوسی کی اور دفعتاً گل اس
نظر کے زخم و سیدوں سے مل گیا یہ بھی لہو لگا کے شہیدوں میں مل گیا
نین چھپائے ناچھپیں پٹ گھونگٹ کی اوٹ چتر نار اور سودا کریں لاکھ
میںچوٹ چند روز بعد یہ بہت بڑے سوداگر،ایک بڑے سودائی کی صورت میں
کامٹی ہریجن مندر میں نظر آئے ۔ دن میں دوبارکپڑے بدلنے والے خوش
پوش انسان کے بدن پر وہ لباس زیب تن تھا، جس میں الٹا سیدھا کچھ
بھی نہیں ۔ سراپا وارفتگی ، مکمل بے خودی ، مجسم جذب ، مندر کے ایک
کونے میںدن رات پڑے رہنا، نہ کسی سے کوئی کام نہ کوئی کلام۔
اپور
فرید صاحب فضا ءنے ایک جبہ بنا کر باباصاحب ﺭﺿ
کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ نے قبول فرمایا، زیب تن کیا ۔ اس کے چند روز بعد فرید صاحب اجمیر شریف حاضر ہوئے ۔ وہاں حضرت کلو پاشا کی قطبیت کا ڈنکا بج رہا تھا۔ یہ ان کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے بادشاہ نے ان کو دیکھتے ہی کہا ؛ ?کیوں ہمیں جبہ نہیں پہنایا؟?
انھوں نے جبہ تیار کرایا اور قلاقند ، جو بادشاہ کو بہت مرغوب تھی ، دونے میں ساتھ لے گئے ۔ آپ نے جبہ پہن لیا اور قلاقند کا دونہ دونوں ہاتھوں میں لیکر منہ سے لگایا اور جتنا منہ میں آیا کھا کر دونہ ان کی طرف بڑھایا ۔ فضا صاحب کہتے ہیں کہ میں لینے کو آگے بڑھا تو ہاتھ کھینچ لیا اور فرمایا ؛ ? نہیں ، نہیں ، نہیں ،نہیں ?۔
اس کے بعد پھر دونے کو منہ سے لگایا اور بڑی محبت سے فرمایا ?لے لے ?۔ میں آگے بڑھا تو پھر ? ? نہیں نہیں ?کہتے ہوئے ہاتھ کھینچ لیا۔ تیسری دفعہ بھی بالکل یہی صورت پیش آئی۔ البتہ اس مرتبہ آپ نے ? نہیں نہیں?کہتے ہوئے دونے کو زمین پر پھینک دیا۔اپور
میں کچھ بھی نہ سمجھ سکا کہ خود ہی دو نہ کیوں دیناچاہتے تھے خود ہی ?نہیں ? ? کہہ کہہ کر ہاتھ کیوں کھینچ لیتے تھے۔ رات عالم ِ خواب میںمیں نے دیکھا کہ ایک لق دق دشت میں ہوں ہرطرف ریت ہی ریت ہے، کہیںکسی طرف کوئی درخت دکھائی دیتا ہے نہ آدمی کی صورت نظر آتی ہے۔ میں ننگے سر، ننگے پاﺅں اس صحرا میں چلا جارہا ہوں ، اچانک کلو پاشا نمودار ہوئے۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ آپ یہاں کہاں؟ جواباً فرمایا۔ چوک بنار ہا ہوں، خانہ پری کر رہا ہوں بادشاہ کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی لکڑی تھی، اس لکڑی سے انھوں نے ریت پر مربع کی شکل میں چار لکیریں کھینچیں اور مجھ سے فرمایا۔ اس میں بیٹھ جاﺅ ۔ میں نے حکم کی تعمیل کی۔ دفعتاًایک کلاہ میرے سر پر خود بخودآگیا ، اور کلو پاشا کی لکڑی استرے میں تبدیل ہوگئی۔ بادشاہ نے کہا ٹوپی اتاردو تاکہ میں تمہارا سر مونڈ دوں۔ میںنے ٹوپی سر سے اتار دی اور کلو پاشا نے مونڈ نے کیلئے استرا سر پر رکھا۔ اچانک ایک رعب دار آواز سنائی دی۔
? ٹھہرو ! ٹھہرو !! ?
کیا دیکھتا ہوں کہ حضور تاج الاولیاءﺭﺿ
تشریف لارہے ہیں ۔ آتے ہی پہلے کلو پاشا کوڈانٹا ؛
? تم کس کے حکم سے یہ کام کر رہے ہو؟کیا مجھ سے تم نے دریافت کر لیا تھا ؟ ?
اس کے بعد مجھ سے فرمایا کہ؛
? تم کس کی اجازت سے یہاں آئے، اس خانہ سے باہر آجاﺅ?
صبح میںکلو پاشا کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ بادشاہ نے دور ہی سے فرمایا۔
?جاﺅ ، جاﺅ ، بڑے کا ہاتھ سر پر ہے۔?
اس واقعہ سے ناظرین اندازہ کر سکتے ہیں کہ حضور تاج الاولیائﺭﺿ
کے احکام ، اقطاب پر بھی جاری ہوتے تھے۔ یہ آپ کے قطب ِ مدارِعالم ہونے کی یہی ثبوت ہے۔اپور
ایک رات حضور ﺭﺿ
جنگل میں رونق افروز تھے۔ چودھویں کا چاند آسمان پر چمک رہا تھا۔ مجمع حضور
ﺭﺿ
سے بہت دور رہ گیا تھا۔ حضوﺭﺿ
رایک اونچے ٹیلے پر چڑھے ، چاند کی طرف دیکھااور فرمایا ۔
?جیسے بارہ سری کا سورج رے ?
سید ضیاءالحق ساتھ تھے ۔ ان پر ایک رعب ، جلال طاری ہوا ، ذرا دو ر کھڑے ہوگئے ۔ حضور نے فرمایا۔
? حی القیوم میرا نام ہے۔ ?
کئی بار حضور ﺭﺿ
نے اس جملے کو دوہرایا ۔اپور
واکی شریف میں ذوالحجہ کی چودھویں شب کو 9 بجے حضور ﺭﺿ
اپنی پلٹن (بچوں ) کے ہمرا ہ جن میں خدا بخش بھائی اور مارواڑی چاروب کش موجود تھے۔حضور بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
ایک نالے کے کنارے کھڑے ہوگئے۔ چودھویں کا چاند اپنی پوری تابانیوں کے ساتھ نالے کے پانی میں جھلمل جھلمل کر رہا تھا۔ آ پ نے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا ? دیکھوہم کتاب پڑھتے ہیں۔ نانا جان ( سرکاردو عالم ﷺ)نے ایسا ہی تو کیا تھا؟ انگشت شہادت اٹھا کر یہ شعر پڑھا ۔
ایک اشارہ میں کیا چاند کا دل دو ٹکڑے
عاشق اس آن کو بر چھی کی انی کہتے ہیں ۔
اس آن کو برچھی کی انی کہتے ہیں ۔ زور دار لہجہ میں کہہ کر انگشت شہادت سے اشار ہ کیا۔ چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔ تمام حاضرین نے دیکھا ۔چند لمحوں بعد دونوں ٹکڑے آپس میں مل گئے۔ خدا بخش بھائی تاجیﺭﺿ
۔مارواڑی جاروب کش صاحب کے علاوہ عبد المجید صاحب فائنس منیجر بائر فارماکو کے والد صاحب بھی اس اجتماع میں موجود تھے۔
بگوش ِ معنی ٰ زحق شنیدم منم محمد منم محمد۔اپور
ڈاکٹر کا شی ناتھ راﺅ صاحب نے مکہ سے آئے ہوئے حاجی صاحب اور ہم لوگوں کے سامنے حضورﺭﺿ
کی کئی کرامتوں کا اظہار کیا ان میں سے ایک مجھے یاد ہے وہ یہ کہ ایک حضور
ﺭﺿ
ڈاکٹر کاشی ناتھ راﺅ کے کمرے میں تشریف لائے ۔ اس وقت آپ کے چہرے سے ایک عجیب جلال نمایاں تھا ۔ جس کو دیکھ کر ڈاکٹر صاحب گھبرائے کہ حضورﺭﺿ
اب تک اپنے کمرے میں تھے اور کمرہ باہر سے بند تھا، یہاں کیسے آگئے ۔ سوچ ہی رہے تھے کہ ڈاکٹر صاحب کے کمرے کی دیوار سے آواز آئی ۔ السلام علیکم حضورﺭﺿ
نے جواب دیا و علیکم السلام ساتھ ہی دیوار سے ہاتھ نمودار ہوا۔ حضورﺭﺿ
نے مصافحہ کیا۔ مصافحہ کرتے ہی ہاتھ غائب ہو گیااور ادھر حضورﺭﺿ
غائب ہو گئے۔ یہ حالت دیکھ کر ڈاکٹر صاحب فوراًحضور
ﺭﺿ
کے کمرے میں آئے دروازہ کھول کر دیکھا تو حضور ﺭﺿ
مراقبہ میں بیٹھے ہیں۔اپور
جناب محمد ابراہیم خان صاحب فناسی پی برار (بھارت) کے ہر دلعزیز،مخلص لیڈر اور سچے پکے ہمدرد رہے۔آپ ضلع ناگپور مسلم لیگ کے صدر ۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے کونسلر ، رکن مجلس عاملہ مسلم لیگ اور دیگر کئی عہدوں پر فائز رہے ۔ سرکار باباتاج الدین
ﺭﺿ
سے آپ کو بے حد عقیدت ہے۔ آپ کے ایک پوتے کی پیدائش سے قبل گھر کے افراد نے دربار میں حاضر ہو کر منت مانی تھی کہ لڑکا ہو گا تو اسے یہاں چھوڑ دیں گے وہ بچہ اب جوان ہے پورے طور جذبی کیفیت ہے اس بچہ کو دربار تو نہ چھوڑ سکے۔ کراچی میں جناب فنا صاحب کے ساتھ ہے۔ جناب فنا صاحب کے بقول اس پر ذرا سی بھی سختی ہم سب کے لئے تکلیف کا باعث بنتی ہے۔ سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
اپنا خصوصی کرم فرمائیں ۔
شہر ناگپور کے جس محلے میں رہتا تھا اس کا نام ?بڑا لال صاحب? تھا۔ میرے بچپن میں اس محلے میں ایک بزرگ حضرت بد خشانی رحمت اللہ علیہ اپنے مکان ?پیر گھر ? میں قیام فرما تھے۔ ناگپور میں اور اطراف ناگپور میں ان کے سینکڑوں مرید تھے میرے خاندان کے چند بزرگ بھی ان کے مرید تھے۔ جب حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء رحمة اللہ علیہ کی کرامتوں کے چرچے شہر کے لوگوں میں ہونے لگے تو حضرت بد خشانی کے مریدوں نے بھی اپنے پیر سے حضر ت بابا تاج الدین اولیاءﺭﺿ
کی خدمت میں حاضر ہونے کی درخواستیں کیں۔
حضر ت بدخشانی شریعت کے پابند ہونے کی وجہ سے ہمیشہ یہ کہ کر ٹال دیا کرتے تھے کہ میں ایسے شخص سے نہیں ملتا جو شریعت کا پابندنہیں ہے ۔ کئی دنوں تک حضرت بدخشانی اسی طرح اپنے مریدوں کو سمجھاتے رہے۔ آخر ایک دن سینکڑوں کی تعداد میں ان کے مرید اکھٹے ہو کر اپنے پیر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کی خدمت میں حاضر ہونے کی پر زور درخواست کی۔ چنانچہ اس دن پیر صاحب اپنے مریدوںکی درخواست کو رد نہ کر سکے اور ایک جم غفیر کے ساتھ بڑے دادا تاج الاولیاء کی خدمت میں حاضر ہوئے جونہی ایک دوسرے کی نظریں ملیں تو حضرت صاحب نے غیظ و غضب کے عالم میں چیخ کر کہا ؛
? ارے شریعت والا آگیا ہے ارے جلدی لنگی لا ، دیر کی توفتویٰ لگا دے گا۔ ?
واضح رہے کہ اس سے قبل دونوں بزرگوں میں سے کسی نے بھی ایک دوسرے کو نہیں دیکھا تو حضرت بد خشانی بڑے دادا تاج الاولیاء کی زبان مبارک سے یہ جملہ سنتے ہی ان کی ولایت کے قائل ہوگئے۔ ا س کے بعد جب تک حیات رہے پابندی کے ساتھ ہر جمعرات کو بعد نمازِفجر اپنے مریدوں کے ساتھ حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے۔
پر نور ترا چہرہ بابا اس تیرے فنا نے دیکھا ہے۔
تھا تیرے وطن میں اس کا مکان اے بابا تاج الدین ولی ۔ محمد ابراہیم فنا ناگپوری
اپور
عبد المجید صاحب فائننس منیجر بائر فارما لمیٹڈ ۔ سی ۔ پی کامٹی کے باشندہ ہیں ۔ بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
سے آپ کے بزرگوں کو بھی عقیدت رہی ہے۔ آ پ خود بھی بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کے شیدائی ہیں بلکہ میری نظر میں بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کے رجسٹر میں داخل ہیں اس کے وہ بھی اقبالی ہیںلیکن بہت سیدھے سچے مسلمان ہونے کی وجہ سے ظاہر بیں حضرات کے چکر میں بھی آجاتے ہیں۔ لیکن سرکار بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
تنبیہ کر کے بچاتے رہتے ہیں۔ ان ہی ظاہر بیںحضرات کے چکر میں آکر سرکارکی خفگی میںمبتلا ہوگئے تھے۔بال بچے والے آدمی ہیں۔
سرکار نے ڈوری کھینچ لی ملازمت گئی۔ بیوی کا انتقال ہو گیا ۔ بچوںکی پرورش کے لالے پڑ گئے لیکن سرکار کی طرف رجوع ہوکر معافی کی بجائے۔ ادھر ادھر ظاہری حضرات کوٹٹولنے لگے کچھ حاصل نہ ہوا تو بزرگوں کے مزارات کا سہار ا لیا۔ حضر ت لال شہباز قلندرﺭﺿ
کے مزار پر ایک حاضری دی عرض کیا ۔جواب نہ ملا ۔ دوسری یا تیسری حاضری میں حضرت
ﺭﺿ
نے فرمایا؛
?تاج الدین کے معاملہ میں ہم دخل نہیں دے سکتے? ۔
اب آنکھیںکھلیں روزانہ سرکار کی نذر پیش کر کے عرض کرتے رہے۔ ان کے بقول ایک روز تو ایسی سخت ڈانٹ پڑی کہ یہ محسوس ہوا کہ کان کے پردے پھٹ گئے ۔لیکن سمجھ گئے تھے کے غلام کی معافی آقا کے در سے ہی ہو گی اور آقا بھی ایسا ہے کہ جس کے معاملہ میں قلندر
ﺭﺿ
نے بھی جواب دے دیا ہے۔ اب اور تو کوئی صورت نہیں تھی لگے رہے۔ ایک روز ستر ماﺅں سے زیادہ چاہنے والے آقا کو رحم آگیا ۔ فرمایا
?جا قاضی امجد ﺭﺿ
کے پاس جا ? ? ۔
اس روز حضرت قاضی بابا ﺭﺿ
کا عرس خانقاہ امجد یہ ، تاجیہ میں ہورہا تھا یہ حاضر ہوئے۔ سرکار نے کرم فرما دیا ۔ اب اللہ کے فضل سے سرکار کا کرم ہور ہا تھا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ مجید صاحب پر سرکار کی خصوصی نظر ہے اور بارانِ رحمت سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔
ایک جگہ میں عرض کر چکا ہوکہ ان اولیاءاللہ کے مراتب و معاملات کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ یا اللہ جسے وہ نظر عطاکردے وہ سمجھتے ہیں۔اپور
حضرت قاضی بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
٦۵۔ ۵۵۹۱ءمیں حسب معمول چادر شریف لیکر دربار پہنچے تو مسجد تاج آباد شریف کے موذن محمد شفیع صاحب نے یہ واقعہ سنایا۔
شفیع صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خیال پیدا ہوا کہ میں حضرت بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ ﺭﺿ
سے بیعت حاصل کروں ۔ ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ بعد وصال بیعت ہو سکتی ہے۔ یا نہیں انہوں نے کسی مشائخ سے معلومات کی۔ انہوں نے عام معلومات کے تحت کہہ دیا کہ بعد وصال یہ کام ممکن ہی نہیں۔ بیعت ہونا ہی چاہتے ہو تو کسی اور زندہ بزرگ کا ہاتھ تھام لو ۔
غریب موذن صاحب کو یہ با ت سن کر بے حد مایوسی ہوئی۔ اسی صدمہ میں وہ رات کو سوئے تو میرے سرکار حیات الولی ان کے خواب میں تشریف لائے اور سینہ ٹھونک کر فرمایا ۔
? چلتے پھر تو ں کو آج بھی ولی بناتا ہوں کہیں بھٹکنے کی ضرورت نہیں ?
موذن صاحب کی مرجھائی ہوئی دل کی کلی کھل گئی ۔ قاضی باباصاحب ﺭﺿ
کو انہوں نے بتایا اس روز سے میری ظاہری و باطنی تعلیم میرے سرکار فرما رہے ہیں۔ حضرت قاضی بابﺭﺿ
نے اپنی بیاض میں لکھا ہے کہ ان پر نزول بارانِ رحمت بہت زور سے ہو رہا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ نظر سے جو چیز اوجھل ہو جائے اس کے اثرات بھی ظاہرین حضرات پر کم ہو جاتے ہیں۔ ان کے لئے جو رشتہ ظاہری شکل و شباہت سے ہوتا ہے۔ بعد میں قائم نہیں رہتا ۔ وہ ڈر، خوف محبت سب غائب ہو جاتے ہیں ۔ اس کے احکام کی پیروی یا پابندی نہیں کرتے ۔ لیکن جن پر خدا کا خاص فضل ہوتا ہے۔ وہ خدا کو اس کے پیغمبروں کو اور اس کے اولیاءاللہ کو حاضر ناظر سمجھتے ہیں اور اولیاءاللہ کی دائمی حیات کا ثبوت دیتے ہیں ۔
پھر میں یہ عرض کروں گا کہ اس شہنشاہ ہفت اقلیم تاج والے کی بارگاہ کا کیا کہنا ۔ جس نے ایک مرتبہ ایک شخص کے باوا کہہ کر سرکار کو مخاطب کرنے پر فرمایا۔
?میں تو تیری ماں ہوں رے۔?
قربان اس ماں کے یقینا وہ شخص بہت دکھی ہو گا۔ اس لئے میرے آقا نے جوش میں یہ فرمایا کہ تجھے مجھ سے ماں کا پیار ملے گا اورتیرے سب دکھ در د د ور ہو جائیںگے۔اپور
عین اللہ شاہ صاحب
ان کا بیان ہے کہ حضرت بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
نے حضرت بدر الدین شاہ صاحب ﺭﺿ
کو باقاعدہ بیعت فرمایا۔ اور پاگل خانہ میں انہیں سند خلافت عطا کر کے کابل قندھار روانہ کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہاں جا کر سلسلہ کی تبلیغ کرو اور اب تم نہ آنا ہم خود آیا کریںگے۔
حضرت عبد العزیز صاحبﺭﺿ
عرف نانا میاں ﺭﺿ
جن کا ذکر آگے بھی آئیگا۔ مرید ہونے کے خیال سے بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ حضور بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
نے ان کانام مع ولدیت اپنی ران پر تنکے سے تحریر فرمایا۔ وہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ میرا نام مع ولدیت حضرت
ﺭﺿ
کو کیسے معلوم ہو گیا۔ اب عقیدت اور زیادہ بڑھ گئی ( یہ ایک فیشن ایبل نوجوان تھے) اب بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
سے بیعت ہونے کا اور جذبہ بڑھ گیا ۔ اکثر آپ کی خدمت میں رہنے لگے ۔ ایک روز حضور
ﺭﺿ
انتہائی جلال میں تھے ۔ عین اسی وقت حضرت عبدالعزیز صاحب ﺭﺿ
حاضر ہوئے تو حضور ﺭﺿ
نے اپنا دست ِ مبارک ان کی طرف بڑھایا ۔انہوں نے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا ۔ اس وقت حضور
ﺭﺿ
نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
مہ فوق ایدیھان الذین یبا یعونک انم۔ ا یبایقون اللہ یدالل
?یقینا وہ لوگ جو آپ سے بیعت کرتے ہیں اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ۔ خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھ پر ہے? یہ آیت پڑھ کر حضور
ﺭﺿ
نے نانامیاں کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ نانا میاں اس طرح باقاعدہ مرید ہو کر مطمئن ہو گئے۔اپور
ایک صاحب ، حسام الدین نامی تاج آباد شریف میں مجھ سے ملے تھے فرماتے تھے کہ میں رائے پور میں اکسائز انسپکٹر تھا ۔ اس زمانہ میں بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کی شہرت سن کر مجھے خیال آیا کہ میں آپ کا مرید ہو جاﺅں۔ اسی رات خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ باباصاحب
ﺭﺿ
ایک حوض پر وضو کر رہے ہیں ۔ اس پانی کی عجیب تاثیر ہے کہ اعضائے وضو آئینہ کی طرح شفاف ہوجاتے ہیں۔ وضو کرنے کے بعد بڑے دادا تاج الاولیاء نے مجھے سے فرمایا کہ تم بھی وضو کر لو ۔میں نے بھی وضو کیا تو میرے ہاتھ پاﺅں، منہ آئینہ جیسے ہوگئے اس کے بعد حضور
ﺭﺿ
نے اپنا دایاں ہاتھ میری طرف بڑھایا ۔ میں نے دونوں ہاتھوں میں آپ کا دست ِ مبارک تھام لیا۔ آنکھ کھل گئی ۔ میں سمجھا کہ مرید ہونے کا جو خیال آیا تھا اس کی منظوری باباصاحبﺭﺿ
کے یہاں سے ہوگئی ۔ فوراًچھٹی لی اور مرید ہونے کے لئے ناگپور شکردرہ حاضر ہوا۔ اس وقت بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کی سواری نمودار ہوئی۔ آپ تانگہ میں سوار تھے مخلوق کا ہجوم تھا جو آپ کے تانگہ کے پیچھے پیچھے دوڑ رہا تھا ۔ میں نوجوان تھا ،دوڑنے میں سب سے آگے نکل کر تانگے کے قریب جیسے ہی پہنچا بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
نے فرمایا۔
?کیوں دوڑتے ہو ؟حضرت خواب میں ہاتھ ملایا ہے وہ بس ہے ۔اپور
سرکار تاج الدین الاولیاءﺭﺿ
کے متعلق بعض ظاہرین حضرات نے یہ مشہور کر رکھا ہے کہ باباصاحب
ﺭﺿ
مجذوب تھے۔ اس لئے کسی کو بیعت کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ قارئین کو اس سوانح میں کئی واقعات ایسے ملیں گے۔ جس سے انکی تسلی ہو جائے گی۔ میں اپنا ذاتی واقعہ بھی اسی غرض سے پیش کر رہا ہوں۔ میرے آقاو مولا کا حیات ظاہری میں بھی نرالا ہی طریقہ ? بیعت رہا اور آج بھی وہی نرالا طریقہ جاری ہے ۔ سچی طلب رکھنے والے موذن صاحب کاواقعہ موجود ہے۔ مجھ غلام کو تو مادرشکم میں ہی شربت کا گلاس والدہ محترمہ کو عطا کر کے اپنا بنا لیا تھا ۔ اس کے بعد برابر کرم ہوتا رہا ۔ اور سرکار تربیت فرماتے رہے۔ جب میری عمر ۹ یادس سال کی تھی ہم لوگوں کا قیام بمبئی میں تھا ۔ والد صاحب قبلہﺭﺿ
کی طبیعت ناساز تھی ایک روز مجھے اپنے قریب ب | |