|
|
 |
| نسبت فیضان |
|
اس بات کا کوئی سراغ نہیں ملتا کہ بابا تاج الدین ﺭﺿ
نے کسی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ معتبر ذرائع بھی اس بات کی تصدیق کر تے ہیں کہ اس عالم رنگ و بو میں آپ کا پیرو مرشدکوئی نہیں تھا۔ آ پ کو پنجتن پاک ﺭﺿ
سے برا ہ ر است نسبت خاص حاصل تھی ۔ پھر بھی دو ہستیاں ایسی ہیںجن سے صرف قر بت اور نسبت ثابت ہے۔ ایک سلسلہ قادریہ کے حضرت عبداللہ شاہ قادری
ﺭﺿ
، دوسرے چشتیہ کے بابا داﺅد مکی ﺭﺿ ۔
حضرت عبداللہ شاہ صاحب ﺭﺿ
وہی بزرگ ہیں۔ جو بڑے دادا تاج الاولیاء کے زمانہ تعلیم میں مکتب آئے تھے اور استاد کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ یہ لڑ کا (بابا تاج الدین) پڑھا پڑھا یا ہے۔ اسے پڑھانے کی ضرورت نہیں۔ حضرت عبداللہ شاہ قادری
ﺭﺿ
کا مزار
کا مٹی اسٹیشن کے پاس ہے۔ نو جوانی کے زمانے میں بابا تاج الدین ﺭﺿ
حضرت عبداللہ شاہ صاحب کی خد مت میں حاضر ہو تے تھے۔ حضرت عبداللہ شاہ کے سجاد ہ نشین کی روایت کے مطابق جب حضرت عبداللہ شاہ صاحب
ﺭﺿ
کے وصال کا وقت قریب آیا تو بابا تاج الدین ﺭﺿ
ان کے پاس آئے۔ اس وقت شر بت بنا کر شاہ صاحب کو پیش کیا گیا۔ انہوں نے چند گھونٹ پی کر باقی بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کو پلا دیا۔
|
| |
|
ایک روز فر ما یا ، بابا کی نسبت ابتداً قادری ہے۔ حضرت عبداللہ شاہ قادریﺭﺿ
جن کا مزار کا مٹی میں ہے۔ بڑے صاحب با طن بزرگ تھے۔ اوائل عمر میں بڑے دادا تاج الاولیاء نے ان سے استفادہ کیا ہے۔ اس نسبت سے سلسلہ قادریہ کی نسبت بھی بڑے دادا تاج الاولیاء کو حاصل ہے۔
شجر یہ قادریہ حسب ذیل ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیمo
یا حضرت تا ج الا ولیاءتاج الملت و الدین شہنشاہ ہفت
اقلیم سید محمد بابا تاج الدین اغثنی و امددنی با ذن اللہ اپور
حضور سر ور کائنات محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم
حضرت علی ﺭﺿ
حضرت سید امام حسین ﺭﺿ
حضرت سید امام زین العابدینﺭﺿ
حضرت سید امام محمد با قرﺭﺿ
حضرت سید امام جعفر صادقﺭﺿ
حضرت سید امام مو سیٰ کا ظم ﺭﺿ
حضرت امام علی رضﺭﺿ
حضرت معروف کر حنی ﺭﺿ
حضرت شیخ صفی الدینﺭﺿ
حضرت جنید بغدادیﺭﺿ
حضرت ابو بکر شبلی ﺭﺿ
حضرت ابو الفر ح یوسف طر طوسیﺭﺿ
حضرت ابو الحسن علی ہنکا ریﺭﺿ
حضرت شیخ عبدالقادر جیلا نی ﺭﺿ
حضرت عبدالعزیز ﺭﺿ
حضرت سید محمد الہتاک ﺭﺿ
ضرت سید شمسس الدینﺭﺿ
حضرت سید شر ف الدینﺭﺿ
حضرت سید زین الدینﺭﺿ
حضرت سید ولی الدینﺭﺿ
حضرت سید نور الدینﺭﺿ
حضرت سید محمود درویش ﺭﺿ
حضرت سید قادریﺭﺿ
حضرت عہد الجلیل ﺭﺿ
حضرت عبداللہ شاہﺭﺿ
حضرت بابا تاج الدین اولیاءﺭﺿ
حضرت سید عبداللہ شاہ ﺭﺿ
نے بابا تاج الدین کو بچپن میں کھجور کھلا ئی تھی اور اپنے وصال کے وقت شر بت پلا یا تھا۔ اپور
حضرت سر ور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم
حضرت علی ﺭﺿ
حضرت حسن بصریﺭﺿ
حضرت عبدالواحد زید ﺭﺿ
حضرت فضیل بن عیاض ﺭﺿ
حضرت ابراہیم ادھم ﺭﺿ
حضرت خواجہ سدید الدین حذیفہ مر عشیﺭﺿ
حضرت ہبیر ة البصری ﺭﺿ
حضرت ممشاد دینوری ﺭﺿ
حضرت ابو اسحاق شامی ﺭﺿ
حضرت ابو احمد ابدال ﺭﺿ
حضرت ابو محمد ابدال
حضرت نا صر الدین ابو یوسفﺭﺿ
حضرت قطب الدین مودود چشتی ﺭﺿ
حضرت حا جی شریف زندنی ﺭﺿ
حضرت خواجہ عثمان ہارونی
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریﺭﺿ
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کا کیﺭﺿ
حضرت بابا فرید الدین گنج شکر ﺭﺿ
حضرت مخدوم علاءالدین صابر کلیری ﺭﺿ
حضرت خواجہ شمس الدین تر ک پانی پتی
حضرت باباداﺅد مکی ﺭﺿ
بطریق اویسیہ حضرت بابا تا ج الدین اولیاءﺭﺿ اپور
ایک روز فر ما یا کہ بتاﺅ بابا کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہے کہ؛
?ہم کو جناب سیدہ فا طمہ زہرا رضی اللہ عنہا نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔?
میں نے عرض کیا، پیش خبیر کیا مجھے حاجت خبر کی ہے۔فرما یا ، کوئی ولی قوس ولایت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتا، جب تک جناب سید ہ ﺭﺿ
تربیت نہ فرمائیں
اور جناب سیدہ کی تو جہ شامل حال ہو تی ہے تو طالب مر تبہ ولا یت پر فائز ہو جا تا ہے ۔اس کی علا مت یہ ہے کہ اس میں عصمت آجا تی ہے۔ یہ قاعدہ ولا یت
جا ری ہے۔ اب سنئے ! بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کو جناب سیدہ ﺭﺿ
نے جو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قوس ولایت میں بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کی تر بیت جناب سیدہ نے فر مائی تو آپ مر تبہ ولا یت پر فائز ہوئے، پھر اس مر تبہ ولا یت سے آپ کو جناب سیدہ ﺭﺿ
نے اتنی ترقی دی کہ آپ کو اپنا پیام رساں بنا کر بھیجا ، عالم خلق میں ما مور فر ما یا ۔ سند عصمت و ولایت دینے کے بعد آپ کو یہ منصب عطا فرمایا گیا۔ بحکم النا ئب المیب کہ آپ جس کو چاہیں، ولا یت کے مر تبہ پر فائز فر ما دیں۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کی نسبت اتنی متعدی تھی کہ نز دیک ودور کے لاکھوں بند گا ن خدا کو مر تبہ ولا یت و عصمت پر فائز کر دیا۔ ایسا تعد یہ دنیا نے کہیں دیکھا نہ سنا
جو من مو ہن سے ملے سو من مو ہن ہوئے
در بار زہرا ﺭﺿ
ایک مر تبہ شکر درہ میں فر قہ ملا میتہ کے فقیرنے ، جن کا لباس اور حالت ایسی تھی کہ جو بھی دیکھے نفرت کرے، قاضی امین الدین صاحب سے در یا فت کیا کہ کیوں جی! یہاں فاطمہ زہرا ﺭﺿ
کا در بار ہے؟
انہوں نے جواب دیا نہیں ، یہاں تو حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء قبلہ ﺭﺿ
رہتے ہیں۔وہ ناگپور تشریف لے گئے ہیں۔ وہ یہ با تیں کر ہی رہے تھے کہ حضور تشریف لائے جو نہی حضور سے آنکھیں چار ہوئیں یہ پلٹے اور قاضی صاحب کے دیکھتے دیکھتے غائب ہو گئے۔ اپور
ایک روز فر ما یا کہ عشرہ محرم میں بابا پرپنجتی نسبت کا غلبہ ہو تا تھا۔ آپ سبز لباس زیب تن فر ما تے تھے اور مجلسیں در بار میں منعقد ہوتی تھیں ۔اکثر یہ مجالس ہم پڑھتے تھے، بابا ہم کو حکم دیتے تھے، ان مجالس میں ہزاروں کا مجمع ہو تاتھا۔حاضرین کیف و مستی میں سر شار ہو تے تھے۔ اپور
ایک روز فر ما یا
نہ تنہا عشق از دید ار خیزد
بساکیں دولت از گفتار خیزد
ہمارے بابا کی نسبت اویسیہ ہے۔ جس طرح حضرت اویس قر نی رضی اللہ عنہ نے آنکھوں سے تا جدار کائنات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کو کبھی نہ دیکھا تھا مگر آپ کا ذکر سن کر نا دیدہ عاشق ہو گئے اور عشق میں کمال صدق اور انتہائی مقام حاصل ہو گیا، تا آنکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دندان مبارک شہید ہو ا اور حضرت اویس قر نی ﺭﺿ
کو یہ واقعہ معلوم ہوا ۔ مگر یہ نہ معلوم ہو سکا کہ کون سا دندان مبارک شہید ہوا، تو آپ نے متابعت و مناسبت محبوب کے خیال سے اپنے تمام دانت شہید کر ڈالے اس نا دیدہ عشق و محبت کا در جہ حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کے نز دیک کیا تھا؟ اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگا یا جا سکتا ہے کہ حضورﷺنے اپنا خر قہ مبارک اپنے مقر بین بار گاہ میں سے کسی کو عطا نہیںفر ما یا جو ہمہ وقت حاضر در بار رہتے تھے۔بلکہ یہ خر قہ مبارک حضرت اویس قر نی ﺭﺿ
کو عنا یت فر ما یا گیا۔جو بظاہر حاضر نہ ہوئے تھے۔
بابا دا ﺅد مکی ﺭﺿ
، خواجہ شمس الدین ترک پانی پتی ﺭﺿ
کے خلیفہ تھے اور خواجہ شمس الدین ترک
ﺭﺿ
کو مخدوم علاءالدین علی احمد صابر کلیری ﺭﺿ
سے خلافت ملی تھی۔ بابا داﺅد مکی مر شد کے حکم پر سا گر آئے اور یہیں وصال فر ما یا۔ ان کا بظاہر کوئی خلیفہ نہیں تھا۔ بابا داﺅد
ﺭﺿ
کے وصال کے کوئی چار سو سال بعد جب بابا تاج الدین ﺭﺿ
فو جی ملا ز مت کے سلسلے میں سا گر گئے تو آپ نے بابا داﺅد مکی کے مزار پر تقریباً دو سال ریا ضت و مر اقبے میں گزارے ۔ روایت کے مطابق یہیں
بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کو چشتیہ نسبت اویسیہ طریقے پر منتقل ہوئی۔ اویسیہ نسبت وہ نسبت یا رابطہ ہے جس کے تحت سالک کو کسی بزرگ کی روح سے فیض حاصل ہو تا ہے۔یعنی ایسا فیض جو مر شد کے جسمانی طور پر سامنے نہ رہتے ہوئے بھی اس سے منتقل ہو۔ یہ وہی نسبت ہے جس کے تحت حضرت اویس ﺭﺿ
کو سر کار دو عالم حضور علیہ الصلوٰة و لسلام سے علوم اور فیوض حاصل ہوئے تھے۔
بابا تاج الدینﺭﺿ
کو حضرت عبداللہ شاہﺭﺿ
کی قر بت حاصل ہوئی تھی۔ اور نسبت چشتیہ بابا داﺅد مکی
ﺭﺿ
کے مزار پر منتقل ہوئی تھی ۔لیکن بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کی تعلیم و تر بیت خود جناب سر ور کائنات ﷺ ، حضرت علی ﺭﺿ
، حضرت اویس قر نی ﺭﺿ
نے کی ہے۔ نیز بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کو ہر سلسلے کے اکا بر اولیاءاللہ کی ارواح سے فیض حاصل ہوا ہے۔ بابا تاج الدین
ﺭﺿ
کے کئی ارشادات میں اویسیہ فیضان کی طرف اشارہ مو جود ہے۔ بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
اپنی ولا یت کے رنگ اور نسبت کو اکثر یہ کہہ کر بھی
ظا ہر کر تے تھے۔ کہ؛
?ہمارا نام تاج محی الدین ، تاج معین الدین ہے۔ ?
اویسیہ نسبت سے بڑی کوئی نسبت نہیں ہے۔ مگر یہ چیز اکتسابی نہیں ہے دہبی ہے۔
? اللہ یجتبی الیہ من یشاءویہدی الیہ من ینیب?۔ یہ آیت تلا وت فر ما کر ارشاد ہوا کہ اس آیت کریمہ میں جذب و سلوک دونوں کا بیان ہے، اور فقرہ اللہ یجتبی الیہ من یشاء کےمعنی یہ ہیں کہ? اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے، اپنی طرف کھینچ لیتا ہے?کیونکہ جذب کے معنی ہیں، اصل کا اپنی فرع کی طرف متوجہ ہو نا۔۔۔دوسرا فقرہ۔ویہدیالیہ من ینیب۔۔کے معنی یہ ہیں، ?اور اللہ اپنی طرف اس کو ہدایت فر ما تا ہے۔? جو انا بت اختیار کرے،یہ سلوک ہے، سلوک کے معنی ہیں، فرع کا اپنی اصل کی طرف متوجہ ہو نا۔ جذب و سلوک کے یہی معنی محمد علی تر مذی ، صاحب تذکرة الاو لیاءنے لکھے ہیں۔
? پس ثابت ہوا کہ سلوک تمام تراکتساب ہے اور جذب تمام تر عطا ئے الہٰی ہے۔ اپور
ایک دن فر ما یا کہ پنجتن پاک ﺭﺿ
سے بابا کو برا ہ ر است نسبت خاص حاصل تھی۔ بابا کے یہ ارشادات بیان فر مائے :۔
۱۔ جس نے ہم کو دیکھا اس نے بڑے سر کار (یعنی سر کار دو عالم ) کو دیکھا۔
۲۔ حضرت علی ﺭﺿ
نے ہم کو آلو کھلا دیا تو ہم ایسے ہو گئے۔
۳۔ جناب سیدہ ﺭﺿ
نے ہم کو پیمبر بنا کر بھیجا۔
اپور
ایک روز فر ما یا کہ امام حسن ﺭﺿ
اور امام حسین ﺭﺿ
سے فدائیت کی نسبت بابا کے تمام حالات میں نما یاں تھیں، ناگپور میں پلیگ شدت سے پیھلا اور لو گوں نے اس بلا سے نجات کیلئے آپ سے استد عا کی تو ایک جلوس مر تب فر ما یا گیا،سب سے آگے حضور
ﺭﺿ
بہ نفس نفیس اپنے ہاتھ میں سبز علم اٹھائے ر وانہ ہوئے اور
? امام دیں سلطان مدینہ شاہوں کے سر دار حسین ؑ?
زبان مبارک پر جاری تھا۔ شہر کے گلی کو چوں میں گشت لگا، پلیگ معاً شہر سے دفع ہو گیا۔ اپور
ایک روزبابایوسف شاہ نے فر ما یامنشی جمال الدین صاحب ہمارے پیر بھائی ہیں۔یہ حضور بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کے خادم خاص ہیں۔ان کے بچے کا انتقال ہو گیا تو حضور بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کی خد مت میں اس غرض سے حاضر ہوئے کہ بچہ زندہ ہو جائے ۔حضورﺭﺿ
سے عرض کیا تو آپ نے توجہ نہ کی۔مگر ان کو اپنی نیاز مندی پر ناز تھا۔ اڑے رہے،کھڑے رہے۔حضور بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فر ما یا۔
?انہیں سمجھا ﺅ،لیجاﺅ یہاں کسی کی نہیں چلتی۔?
گہ چنیں بنا یدو گہ ضدایں
جز کہ حیرانی بنا شد کار دیں
اپور
|
|
|