|
|
 |
| اخلاق حمیدہ |
|
حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
انتہائی در جہ رحم دل اور غریب پر ور تھے۔ ہر ایک کے ساتھ
ہمدر دی اور حاجت روائی آپ کا شعار تھا ۔ جو تعلیم آپ عام لو گوں کو دیتے اس پر آپ خو د بھی عمل کرتے مثلاً آپ کی تعلیم میں خصوصی طور پر کم کھا نے کی تلقین ہوتی آپ نے بھی کبھی شکم سیر ہو کر نہیں کھا یا۔ کم سو نے کیلئے لو گوں سے فر ما تے اس کے بھی آپ عامل تھے۔ دن رات میں چند ساعتوں سے زیا دہ آپنے کبھی آرام نہیں کیا۔ کوئی سائل آپ کے در سے کبھی خالی نہ لوٹا۔ ہر سائل سے آپ میٹھی زبان میں گفتگو فر ما کر اس کی تسلی فر ما تے۔ ہر قوم کے فر د سے آپ شفقت سے ملتے۔ دور دور سے لو گو ں کو بلا کر ہر قسم کی نعمتوں سے نواز تے۔ جذب و جلا ل میں بھی محبت و عنا یت کا ظہور ہو تا گنہگاروں ،یتیموں،محتاجوں، عاجزوں پر آپ بہت زیا دہ شفقت فر ما تے۔ رات دن حاجت مند اور پریشان حال آتے رہتے۔ بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
اپنے مخصوص انداز میں انہیں تسلی دیتے اور مشکل کے حل کی طرف اشارہ فر ما تے۔ بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کی ہستی لو گوں کے لئے لطف و محبت اور کرم نوازی کا ایسا ذریعہ تھی جس کے آگے انہیں ایسا اطمینان مل جا تا جو کسی مادی ذریعے سے ملنا ممکن نہیں۔ دل کے بوجھ یوں دور ہو جاتے جیسے کسی انجانے ہاتھ نے غم کے پہاڑ سینے پر سے ہٹا دیئے ہوں۔
آخری زمانے میں جب بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کی صحت گر گئی تھی اور کمزوری کی و جہ سے بیٹھنا مشکل ہو گیا تھا۔ اس وقت بھی لوگوں کے معاملات سننے اور جواب دینے میں دل چسپی لیتے رہے۔ حالت جلال ہو یا جمال کبھی کسی کو بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کی ذات سے تکلیف نہیں پہنچتی ۔ با ر ہا دیکھا گیا کہ لوگ رنجیدہ آئے اور خوش و خرم واپس گئے۔ بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
بعض اوقات ہجوم میں گھر جا تے تو بلند آواز سے فر ما تے تم سب جاﺅ تمہارے کام ہو گئے۔ لوگ مطمئن واپس جا تے اور اللہ تعالیٰ ان کے کام بنا دیتا۔
باباصاحب کے پاس زما نے کے ستائے ہوئے بھی آتے،حالات کے مارے بھی آپ کے درکارخ کر تے،خطا کار بھی احساس گناہ لے کر حاضر ہو تے، ایسے لوگ بھی در بار تاج
الا ولیاءﺭﺿ
میں آتے جو امارت کے با و جود پریشان حال ہو تے اور ایسے بھی فر یاد کناں ہو تے جن پر غر بت ایک بوجھ بن گئی ہو تی۔ بڑے دادا تاج الاولیاء بلا امتیاز امیرو غریب ، خطا کار و پاک باز سب کی غرض و فر یاد سنتے۔ ایک بار ایک طوائف چھمی جان اپنا کلام سنا رہی تھی جب وہ یہ شعر پڑھنے لگیں
اچھے رہیں نزدیک برے جائیںکدھر کو
اے رحمت خدا! تجھے ایسا نہ چاہیئے
یہ سنکر اس پر حضور بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
نے فر ما یا؛
? نہیں! ایسا پڑھ ?
اچھے ادھر کو جائیں، آئیں برے ادھر کو
اے رحمت خدا، تجھے ایسا ہی چاہئیے۔
قائرئیں اس مصر ع کا مطلب سمجھ گئے ہوں گے۔خصوصی طور پر گنہگاروں کی طرف آپ زیا دہ تو جہ فر ما تے ۔ آپ کی توجہ سے ہزاروں لو گ تائب ہو ئے۔ اور راہ مستقیم پائی گھنٹوں آپ پر جلالی کیفیت رہتی مگر اس دوران میں بھی کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔سر کار کے سالک درویش ہو نے کا اس سے زیا دہ اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔ یہ بات عام لوگ جانتے ہیں۔ کہ مجذوب سے اکثر نقصان ہی ہو تا ہے۔ کوئی شخص جب اپنا دکھ، درد لیکر آپ کی خدمت میں حاضر ہو تا ۔ تو اس کا دکھ درد سر کار اپنے پر طاری کر کے اس کے دکھ درد کو دور فر ما دیتے۔
|
|
اپور
|
|
آپ نے خلق خدا کی خاطر بڑی بڑی تکالیف بر داشت کیں۔ ایسا بھی ہو ا کہ آپ ﺭﺿ
کو اگر کسی نے برا بھلا کہا تو خدام نے اس کا برا منا کر آپ سے عرض کیا حضور
ﺭﺿ
اس شخص کے لئے بددعا کر دیجئے۔ اس کے جواب میں آپ نے ارشاد فر ما یا ۔
? نکو! حضرت ہمارا در باردعا کا ہے۔ بد دعا کا نہیں ۔ ?
ایسے لو گوں نے بھی آپ سے فیض پا یا۔ آپ ﺭﺿ
نے کبھی کسی کی دل آزادی نہیں کی آپ ?رحمت اللعالمین? کے گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ اس لئے آپ
ﺭﺿ
کا در بار تمام عالم کیلئے
با عث رحمت تھا۔ آج بھی وہی شان ہے۔ آپ کی حیات طیبہ میںکروڑوں افراد نے فیض
پا یا اور وہی سلسلہ آج بھی ہے۔ بلا امتیاز مذہب و ملت لوگ حاضر ہو تے ہیں اور فیض
پا تے ہیں۔د یرینہ حاضر باش اور نیا حاضر ہو نے والا یہی سمجھتا ہے کہ حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
مجھ سے زیا دہ کسی سے محبت نہیں کر تے ۔
آپ کا فیض ہر آن جا ری تھا اور ہر شخص بقدر استعداد سیراب ہو تا رہا کوئی بھی آپ کے در بار سے محروم نہیں گیا۔ آج بھی آپ کے در بار میں ہزاروں افراد حاضر ہوتے ہیں۔ فیض کا در یا جاری ہے۔ اپور
آپ کے فیض یا فتہ حضرات دنیا کے گو شہ گو شہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کو بھی دیکھکر آپ کی محبت ، شفقت اور اخلاق کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ آپ کی حیات ظاہری میں اور آج بھی حاضرین در بار نے یہی دیکھا کہ مقام عشق میں شاہ و گدا کا ایک رتبہ ہے۔
سر کا ر کے اخلاق حمیدہ کا ایک واقعہ جو حضرت قاضی بابا سید امجد علی شاہ صاحب
ﺭﺿ
تا جی کے قلمی نسخہ سے ملا ہے۔ گیا دین بھائی جن کا شمار سر کار کے بہت ہی چہیتے بچوں میں ہو تا ہے گیا دین بھائی نے اپنے پورے کنبہ کو (سر کارکی خد مت میں آنے کے بعد) ایسا تیج دیا تھا کہ ان کے بھائی ان سے ملنے تاج آباد شریف تشریف لائے۔ گیا دین بھائی سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ لیکن وہ انہیں نہیںدیکھ سکے۔ تلاش کر تے کر تے تھک کر واپس ہو گئے۔
ایک روز گیا دین بھائی سر کار کے ہمراہ دھوپ میں چل چل کر تھک گئے۔ اور گر می کی تپش سے ایک جگہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ سر کار نے جیسے ہی دیکھا چھتری اپنے ہاتھ میں لی اور ان پر چھتری کا سا یہ کر کے اسوقت تک بیٹھے رہے۔ جب تک انہیں ہو ش نہیں آیا جب انہیں ہوش آیا تو سر کار کی اس قدر شفقت دیکھ کر قد موں میں گر گئے اور رو رو کر عرض کی میرے ماں باپ آپ پر قر بان اپنے اس غلام کے لئے اسقدر کیوں تکلیف فر مائی چھتری سرکار سے لی اور پھر سر کار کے ہمراہ رہے۔
حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
نے کروڑوں انسانوں کی حاجت روائی کے ساتھ عام انسانی اخلاق کے معیاری نمونے بھی ہم لو گوں کی تعلیم کیلئے قائم کئے۔ اپور
ایک چیچک رو، یک چشم نہا یت ہی بد صورت آد می جس کی شکل سے لوگ نفرت کر تے تھے۔ سر کار کی خد مت میں حاضر ہوا آپ نے اس کو اپنا ?قوال? بنا لیا، وہ گا نا بجا نا بالکل نہیں جانتاتھا۔ صرف آپ کی توجہ سے گا نے لگا۔ جب آپ فر ما تے وہ گا تا اسے اتنے پیسے ملنے لگے کہ اس کی عسرت دور ہو گئی۔ اپور
ایک لڑ کا بالکل معزور تھا۔ ہا تھ پیر ہی سے نہیں بلکہ زبان سے بھی بول نہیں سکتا تھا والدین نے اس کا بہت علا ج کرا یا۔ مگر وہ ٹھیک نہیں ہوا۔ مجبوراً اسکو شکر درہ چھوڑ کر چلے گئے۔ کچھ دیر بعد حضور محل سے بر آمد ہوئے اور اس معذور کے پاس پہنچ کر کھا نا طلب فر ما یا خادموں نے کھا نا پیش کیا۔ کھا نا پیش کر نے والوں میں حضرت مو لا نا عبدالکریم شاہ صاحب تا جی
ﺭﺿ
بھی تھے سر کار نے اپنے دست مبارک سے ایک ایک لقمہ کر کے آدھے گھنٹہ تک کھلا یا ور پانی بھی پلا یا اور ایک شخص کو اس کی خد مت کے لئے حکم فر ما یا۔ اس بر تاﺅ سے نتیجہ یہ نکلا کہ در بار میں حاضر ہو نے والا ہر شخص اس کی خد مت کر تا اور اس کی خد مت کیلئے جن صاحب کو مقرر کیا تھا۔ ان کی بھی خد مت کر تا جب تک وہ لڑ کا زندہ رہا اس کی خد مت جاری رہی کبھی وہ بھو کا پیا سا نہ رہا۔ اپور
ایک صاحب مفلسی کی وجہ سے حاضر در بار ہوئے اور ایک درخت کے نیچے قیام کیا۔ رات کو جب حضور
ﺭﺿ
کی خد مت میں کھا نا پیش کیا گیا۔ تو فر ما یا ?پہلے ہمارے مہمان کو کھلاﺅ ۔ جو فلاں درخت کے نیچے بیٹھا ہے۔? خدام کھا نا لیکر ان کے پاس پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ دو روز سے بھو کے ہیں ۔ دور دراز مقام سے آئے ہیں۔ افلاس و نا داری کا شکار ہیں۔چنانچہ انہوں نے شکم میر ہو کر کھا نا کھا یا ۔ سر کار میں حاضر ہو کر قد مبوس ہوئے اور سر کار کے کرم سے ان کا افلاس دور ہو گیا۔ اپور
ایک مر تبہ حضور پاٹن ساﺅنگی قصبہ کی گلیوں سے گزر رہے تھے۔ صد ہا حضرات آپ کے ساتھ تھے۔ آپ ایک ٹو ٹے ہوئے مکان میں داخل ہو گئے اس مکان میں ایک بوڑھا اور ایک بڑھیا جوارپیس رہے تھے۔ مگر ضعف و نا توانائی کی وجہ سے چکی چلا نا دشوار ہو رہا تھا۔حضور
ﺭﺿ
نے ان دونوں کو ہٹا یا اور خود پوری جوار پیس کر آٹا جمع کر کے ان کے حوالہ کیا اور روانہ ہو گئے۔
مفلسوں ،نا داروں، غریبوں،مریضوں،اپاہجوں کی خد مت میں آپ ہمہ وقت مشغول رہتے تھے۔ مگر اس مصروفیت کے عالم میں آپ کی توجہ اور کس کس عالم میں کام کر تی رہتی تھی۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہو سکتا ہے۔ اپور
ایک مہتر انی (خاکر وبن) کو خواہش ہوئی کہ میں بھی حضور بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کو اپنے ہاتھ سے کھا نا پکا کر پیش کروں۔ لیکن یہ خوف بھی کہ راجہ کے محل میں میرا کھا نالے جا نا اپنی مو ت کو دعوت دینا ہے۔ لیکن خواہش اور محبت خوف پر غالب آئے۔ اس غریب نے گھر کو بالکل دھو دھا کر خود نہا نے کے بعد پاک صاف کپڑے پہن کر کھا نا تیار کیا۔ اور محل کے قریب پہنچ کر کھا نے کا ڈبہ (نیا تو شہ دان) ایک امرود کے پیٹرکی ڈال سے باندھ کر اس پیٹر سے بہت دور ایک جگہ چھپ کر بیٹھ گئی۔ حسب معمول حضورﺭﺿ
نے کھا نا طلب کیا (حضور تو برائے نام ایک دو لقمہ نوش فر ما تے تھے۔ لیکن یہ حکم احکام سب حاضرین کے لئے ہو تے۔ جو کھا نا بھی ساتھ لیکر چلتے مگر سر کار کے حکم کے منتظر ہو تے) سب نے اپنے اپنے تو شے پیش کیئے لیکن حضور
ﺭﺿ
نے فر ما یا۔ یہ نہیںکھا تے جو جھاڑ سے بند ھا ہے وہ کھا نا لا ﺅ۔ خا د موں نے ادھر ادھر دیکھا لیکن قریب کے کسی پیٹر پر کوئی تو شہ دان نظر نہیں آیا۔ حاضر ہو کر کھا نے کیلئے عرض کیا۔ لیکن سر کار نے کسی بھی تو شہ دان کو ہاتھ نہیں لگا یا۔ بلکہ پھر یہی فر ما یا
?وہ کھا نا لا ﺅ?
لیکن پھر بھی کوئی خادم اس پیٹر تک نہ پہنچ سکا۔ تب حضور ﺭﺿ
خود اپنی جگہ سے اٹھے اور اس پیٹر کے پاس پہنچ کر تو شہ دان کھو لا اور دو چار لقمہ نو ش فر ما ئے۔ تمام حاضرین نے بھی کھا نے تنا ول فرمائے۔ سر کار جب وہاں سے اٹھ کر تیزی سے روانہ ہو گئے۔ تو وہ مہترانی آئی اور اپنا توشہ د ان اٹھا یا۔ خادم حضرات نے جب در یافت کیا تو اس نے سا را قصہ جھوم جھوم کر سنا یا۔ اپور
کشف والے بزر گوں سے عیب و صواب پوشیدہ نہیں رہتا مگر بڑے دادا تاج الاولیاء نے کشف کو عیب اور نکتہ چینی میں کبھی استعمال نہیں فر ما یا،بلکہ ہمیشہ عیب پوشی آپ کا طریقہ رہا، علوم ظہور میں بھی آپ خطا کاروں سے در گزر فر ما تے۔
آپ ﺭﺿ
کے در بار میں ایک حلوائی تھا اس کے یہاں چوری ہو گئی۔ مگر چور کو چوری کے بعد خیال آیا کہ مجھ سے غلطی ہوئی،نادم ہو کر آپ کی خد مت میں حاضر ہوا۔ آپﺭﺿ
نے دیکھتے ہی فر ما یا
? بھاگ جا ?
وہ چلا گیا،اس کے بعد حلوائی نے حاضر ہو کر فر یاد کی کہ ?حضور میں لٹ گیا?۔ارشاد ہوا:
?ارے جا! دو تھال میں سا را۔۔۔۔۔ہے جا دوکان کھول?۔
اس نے واپس آکر دیکھا تو دوکان میں کچھ با قی نہیں صرف دو تھال چرونجی کے دانے کے بھرے ہوئے مو جود ہیں۔ وہ ان کو بیچتے بیچتے مال دار ہو گیا۔ یہ حلوائی حضور کے وصال کے بعدنا معلوم کہاں چلا گیا۔
اپور
|
|
|