|
|
 |
| حضورﺭﺿ
کا سراپا |
|
حضرت بابا تاج الدین ﺭﺿ
کا قد6 فٹ 9 انچ تھا اس لئے لاکھوں کے مجمع میں بھی حضورﺭﺿ
نہایت بلند و بالا نظر آتے تھے ۔ آپ کی پیشانی مبارک فراخ تھی جو ہمیشہ تاباں رہتی تھی ۔ رنگ گندمی مائل برسیاہی تھا۔ رخ مبارک کھڑا اور گردن صراحی دار تھی۔ آپ کے ہاتھ لمبے اور مضبوط تھے۔ پیر بھی کافی لمبے اور مضبوط تھے۔ جسم چھریر اتھا رخ مبارک پر داڑھی تھی۔ اکثر ننگے پیر رہتے تھے ۔ سر پر کوئی چیز نہیں پہنتے تھے۔ لب و لہجہ مدراسی تھا۔ گفتگو میں ظرافت کی چاشنی تھی۔
|
|
|
|
حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کو جو شخص جس طرح خطاب کرتے آپ بھی اسی طرح خطاب فرماتے ۔ بابا کہنے والوں کو آپ بھی بابافرماتے بھائی کہنے والوں کو آپ بھی بھائی فرماتے ۔ اپور
قارئین صرف حضور ﺭﺿ
کے اخلاق، ہمدردی اور محبت کا حال ہی لکھتا چلا جاﺅں تو اس کے لئے کئی کتابوں کی ضرورت ہوگی۔ حضور
ﺭﺿ
سے جب ماموں صاحب ﺭﺿ
نے فرمایا تھا کہ اگر حکم ہو تو ایک کاتب کو بٹھادوں تاکہ وہ روزانہ کے واقعات لکھتا رہے ۔ اس پر میرے سرکار نے فرمایا تھا کہ کاغذ، قلم کہاں سے لائیگا۔ اس پر سے اندازہ کر لیجئے سرکار کے صرف اخلاق پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ اس لئے مختصر تحریر پر ہی اکتفا کرتا ہوں تاکہ اور واقعات بھی مختصر اً لکھ سکوں۔ اپور
آپ ﺭﺿ
سبک خرام تیز رو تھے ۔ آنکھیں بند کئے ، مراقبے اور استغراق کی کیفیت میں چلتے ، راستہ کتنا ہی خطرناک ہو کبھی آپ
ﺭﺿ
کو کسی پتھر سے ٹھوکر لگی اور نہ کوئی کانٹا چبھا۔ جبکہ کانٹے پاﺅں تلے بچھ جاتے تھے ۔ جنگلوں کے درند سے قدمبوس ہوتے ۔ آ پ
ﺭﺿ
کے ساتھ جو لوگ ہوئے انہیں بھی کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچی ۔ آپ ﺭﺿ
کی رفتار سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ کے پیر زمین پر نہیں بلکہ آ پ
ﺭﺿ
معلق چل رہے ہیں۔ بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کے فیض یافتہ بزرگ عبد العزیز صاحبﺭﺿ
عرف نانا میاں کا بیان ہے۔ ایک روز میں حضور
ﺭﺿ
کے ساتھ جنگل میں چل رہا تھا کافی مجمع بھی ساتھ تھا۔ خدام چھتری کا آپ ﺭﺿ
پر سایہ کئے چل رہے تھے۔ یعقوب نامی خادم نے مجھے بھی اس خدمت کا موقعہ دیا میں نے چلتے ہوئے حضور
ﺭﺿ
کو غور سے دیکھا تو آپﺭﺿ
بالکل مستغرق تھے ۔ معلوم نہیں کون چل رہا تھا؟
راستہ کی طرف حضورﺭﺿ
بالکل نہیں دیکھ رہے تھے ۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ حضور ﺭﺿ
زمین پر نہیں بلکہ معلق چل رہے ہیں ۔ چلتے چلتے حضور
ﺭﺿ
ایک بڑے پتھر کے قریب رکے جو زمین میں گڑا ہوا تھا۔ دفعتہ سرکار وہاں کھڑے ہوگئے اور فرمایا ایسے رہتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں ۔ آپ
ﺭﺿ
تیز رفتار تھے ۔ آپﺭﺿ
ہزاروں کے اجتماع میں قد آور حضرات کے درمیان بھی دور سے نظر آجاتے تھے۔ (یعنی ان سب سے بلند و بالا نظر آتے ۔ یہ آپﺭﺿ
کی سرداری کی علامت تھی آپ کی نشست اسم محمد ﷺ کا طغرا تھی۔ محمدی مشرب فقراءنشست و برخاست میں اس امر کا خاص اہتمام رکھتے ہیں۔ ہر لحظہ آپ کے قدم اعلیٰ سے اعلیٰ کی جانب سر گر م سفر تھے۔ اپور
ایک روز مغرب کے وقت میں (حضرت امجدعلی تاجی ) حضور ﺭﺿ
کی خدمت سے واپس آرہا تھا۔ پھاٹک (گیٹ ) سے کافی دور پر ایک صاحب ملے اور دریافت کیا۔ آپ کہاں سے آرہے ہیں۔ میں نے جواب دیا حضر ت بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کی خدمت سے آرہا ہوں۔ میری عمر اس وقت بہت کم تھی انہوں نے دوسرا سوال کیا آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ آپ بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کے پاس سے آرہے ہیں۔ میں جواب نہ دے سکا تب انہوں نے کہا اپنے دونوں ہاتھ سونگھو ۔ جیسے ہی میں نے اپنے ہاتھ سونگھے تو ان میں سے مشک وغیرہ کی خوشبو آرہی تھی۔ ان صاحب نے فورا ً ہی میرے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنے پورے جسم پر مل لئے جس وقت وہ اپنے کپڑوں پر میرے ہاتھ مل رہے تھے خوشبو دور دور تک پھیل رہی تھی ۔ میں نے بھی اپنے کپڑوں کو دونوں ہاتھوں سے مسل کر ان کپڑوں کو صندوق میں محفوظ کر لیا۔ برسوں ان کپڑوں میں خوشبو رہی لیکن وہ حضر ت پھر دوبارہ مجھ سے نہیں ملے ۔ اپور
میرے پاس دربار تاج الاولیاءﺭﺿ
میں جو تبرکات محفوظ ہیں ان میں ایک رومال ہے جس سے حضور بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کا پسینہ مبارک آخری ایام میں خشک کیا گیا تھا ۔ اس میں مشک
و غیرہ کی خوشبو آج بھی موجود ہے ان سب تبرکات کی پہلے سال میں ایک مرتبہ اور اب عقیدت مندوں کے اصرا ر کی وجہ سے دو مرتبہ زیارت کرائی جاتی ہے۔ ایک مرتبہ زیارت کے موقعہ پر ایک محترمہ تشریف لائی تھیں جو کافی عمر کی تھیں ۔ ا س ضعیفی میں بھی وہ حسین تھیں۔ انور عادل صاحب ، اختر عادل صاحب کے بنگلہ پر ان کا قیام تھا۔ ان بزرگہ نے جب رومال کی زیارت کی تو زاروقطار رونے لگیں۔ زیارت سے فارغ ہونے کے بعد ان سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا۔ میرا قیام بمبئی میں تھا ۔ بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کی کرامات کی شہرت سنتی تھی مجھے سانس کی شکایت ہو گئی۔ تو میں نے اپنے گھر میں بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
سے عرض کی آپ کی کرامات کا بہت شہرہ ہے۔ میری یہ بیماری جاتی رہے تو میں آپ کی خدمت میں حاضری دوں گی چونکہ میں پردہ کی سخت پابند تھی اس لئے فوراًخیال آیا کہ بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کی خدمت میں تو بے شمار لوگ ہوتے ہیں میں ان کے درمیان کیسے جاسکوں گی۔ تو حاضری کی بھی شرط لگا دی کہ حاضر ضرور ہوں گی۔ لیکن قدمبوسی کا شرف اس وقت حاصل کروں گی جب آپ تنہا ہوں گے یہ ناممکن تھا۔ ان کے بقول دوسرے ہی روز ان کے کرم سے شفا ہو گئی۔ چند روز بعد حسب وعدہ میں ناگپور روانہ ہوئی۔ ان دنوں سرکارﺭﺿ
کا قیام شکردرہ میں تھا۔ پتہ معلوم کر کے پہنچی ۔ جب اندر گئی تو سرکار تنہا تھے قدمبوسی کا شرف حاصل کیا۔ سرکار نے ایک پیر آگے کر کے حکم دیا اسے دباﺅ پیر دباتی رہی ۔ لیکن اسی دوران ایک صاحب آکر کھڑے ہوگئے سرکار نے انہیں اشارہ کیا جسے میں نہ سمجھ سکی ۔ لیکن انہوں نے سرکار کو بیٹری پیش کی آپ نے ایک دوکش لیکر وہ بیٹری مجھے عطا کی میں نے اسے بجھا کر اپنے دوپٹہ میں باندھ لیا۔ اسی دوران دوسرا پیر دبانے کا اشارہ فرمایا۔ میں بہت ہی نفاست پسند تھی جب میں پیر دبارہی تھی تو میرے ہاتھ بدن سے چپک رہے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ شاید کسی نے بد ن میں تیل لگا یا ہو۔ یہ سوچا کہ بعد میں صابن سے ہاتھ دھو لوں گی۔ کافی دیر کے بعد اجازت مل گئی۔ باہر آکر ہاتھ دھونے کا پروگرام تھا صابن کی تلاش میں دوکان کی طرف جارہی تھی کہ برقعہ صحیح کرنے میں ہاتھ جو ناک کے قریب گیا تو اس میں مشک و عنبر کی خوشبو تھی۔ اب جو میں نے دونوں ہاتھ سونگھے تو خوشبو سے معطر تھے ۔ کئی روز تک خوشبو باقی رہی ۔ اس رومال میں وہی خوشبو ہے واہیں میں نے یہ محسوس کر لیاتھا کہ بدن پر تیل نہیں ہے بلکہ پسینہ ہے اور یہ خوشبو پسینہ کی ہے۔ یہ رومال پلاسٹک کی ڈبیہ میں ہے یہ دیکھ کروہ ایک چاندی کی کٹوری بناکر لائیں اور اس میں وہ ڈبیہ رکھوائی۔
رونے کی وجہ یہ بتائی بیٹری مجھ سے کہیں گم ہوگئی کاش میں اسے کھالیتی اس کے بعد اکثر ٢٦ءویں شریف میں اور سالانہ عرس اور سرکار کے یوم ولادت میں برابر شریک ہوتی
ر ہیں۔ اپور
آپ کے جسم اطہر میں یہ خوشبو کیوں نہ ہو آپ حسنی و حسینی سادات ہیں سرکار دو عالم ﷺ کے لاڈلے۔ اور پیامبر زہرہ ﺭﺿ
ہیں ۔ آپ کے اوصاف کا بیان کرنا ایسا ہی ہے جیسے سور ج کو چراغ دکھانا۔
سرکار دو عالم ﷺ کے متعلق ابی عبداللہ عطﺭﺿ
نے کہا ہے۔
بطیب رسول اللہ طاب شیمھا
فما للمسئلک وا لکا فور والصندل الرطب
ترجمہ : بوجہ خوشبو رسول اللہ ﷺ کے خوشبودار ہوگئی ہو ااس کی پس نہیں ہے۔ ایسی خوشبو مشک اور کافور اور صندل رطب ہیں۔
حضرت شبلی ﺭﺿ
ایک صاف باطن اور اہل دل علماءمیں سے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ مدینہ کی پاک مٹی میں ایک خاص خوشبو ہے جو مشک و عنبر میں نہیں پائی جاتی اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے اس لئے کہ جہاں پر حبیب ِ خدا ﷺ کے سانسوں کی ہوا پہنچی ہو وہاں مشک و عنبر کی کیا حقیقت ہے۔
سرکار ِدوعالم ﷺ کو حضرت انس ﺭﺿ
کی والدہ سے بہت محبت تھی یہ آپ کی رشتہ کی خالہ ہوتی تھیں یعنی محرمات میں تھیں ۔ آپ جب کبھی دوپہر میں ان کے گھر تشریف لے جاتے تو وہیں آرام فرماتے تھے ۔ حضرت ام سلیم کا یہ معمول تھا کہ آپ کے جسد اطہر سے پسینہ پونچھ پونچھ کر ایک شیشی میں جمع کر لیتی تھیں ایک روز سرکار دو عالمنے دیکھ لیا اور دریافت فرمایا: ?تم اس کا کیا کروگی۔? انہوں نے عرض کیا ? سرکار اسکو ہم بطور خوشبو استعمال کرتے ہیں۔ ? (مسلم جلد دوم)
حضرت بابا سید محمد تاج الدین حسنی و حسینی ﺭﺿ
سادات ہیں ا س کا ذکر آچکا ہے۔ سرکار دو عالم ﷺ کے لاڈلے اور پیامبر زہرہ ﺭﺿ
ہیں ۔ مشک سے ہاتھ مس ہو جائے تو ہاتھ میں خوشبو ہو جاتی ہے۔ یہ تو سرکار دو عالم ﷺ کی آل کا مسئلہ ہے وہی خوشبو ان کی آل کا مسئلہ ہے۔ وہی خوشبو ان کی آل میں پیدا ہوتو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ اپور
بابا تاج الدین ﺭﺿ
وقت اور معمول کے پابند نہ تھے۔ واکی کا زمانہ قیام ہو یا شکردرہ کا دورِ سکونت ۔ لوگ دیکھتے کہ بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
ابھی ندی کے کنارے بیٹھے ہوئے ہیں تو کچھ دیربعد جنگل میں کسی درخت کے نیچے تشریف فرماہیں۔
شکردرہ میں صبح چار بجے بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ ﺭﺿ ﺭﺿ
کی خدمت میں چائے پیش کی جاتی اور اس وقت سے لوگ آپ کے گرد جمع ہونا شروع ہوجاتے۔ بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کبھی چائے پی لیتے ، کبھی کسی کو دے دیتے ۔ کبھی کچھ پی کر باقی حاضرین کو عنایت کر دی جاتی۔ دن نکلنے کے بعد بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
اکثر محل سے باہر نکلتے ۔ شکردرہ محل کے باہر دکان دار، راجا کے نوکر اور زائرین اپنے اپنے کاموں میں مشغول رہتے لیکن ان کی منتظر نظریں وقفے وقفے سے محل کے دروازے کی طرف اٹھ جاتیں اور جوں ہی بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
محل سے باہر آتے ، ایک شور بلند ہوتا کہ بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
آرہے ہیں۔ مٹھائی والے مٹھائی لے کر دوڑتے ۔ پھول والے گجرے اٹھا کر بھاگتے اور زائرین بابا کے پیچھے پیچھے چل پڑتے ۔ محبین پھول نچھاور کرتے رہتے ۔ کوئی بڑھ کر گجرا گلے میں ڈال دیتا ۔ بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
چلتے چلتے کسی مقام پر بیٹھ بھی جاتے ۔ لوگ پھول اور مٹھائی پیش کرتے ، کوئی نذر پیش کرتا۔ باباصاحب بڑ بڑاتے ہوئے سائلین کو جواب دیتے رہتے ۔ ہجوم کی وجہ سے بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کا شفقت بھرا لہجہ کبھی کبھی پیار بھری ڈانٹ میں تبدیل ہو جاتا۔ خفا ہو کر مار بھی دیتے لیکن فدائین پیچھا نہیں چھوڑتے تھے۔
بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کبھی شہر کی طرف جاتے اور کبھی جنگل کا رخ کرتے۔ جنگل کی طرف پیدل بھی چل دیتے لیکن اکثر سواری پر جاتے تھے۔ سواری کے لئے بیل گاڑی یا تانگہ ساتھ ہوتا تھا۔ لیکن زیادہ تر تانگے میں سفر کرتے تھے۔ بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
محل سے نکل کر جب دور تک پیدل چلے جاتے تو لوگ کوشش کرتے کہ کسی طرح باباصاحب تانگہ میں سوار ہوجائیں ۔ ایسا بھی ہوتا کہ بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
خود سواری طلب کرتے۔ ہیرا لعل نامی کوچوان تانگہ حاضر کرتا۔ تانگے کے گھوڑے کا نام باباصاحب نے بہادر رکھا تھا۔ بڑے دادا تاج الاولیاء تانگے میں سوار ہو جاتے تو ایک پہلوان سامنے اور ایک پائیدان پر بیٹھ کر ساتھ جاتے تھے۔ بہادر ، گھوڑا بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کے اشارے کا منتظر رہتا تھا۔ جوں ہی بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کی زبان سے نکلتا ?بڑھاﺅ? گھوڑا خود ہی سرپٹ دوڑنے لگتا ۔ کوچوان کو باگیں کھینچنے اور دائیں بائیںاشارہ دینے کی اجازت نہ تھی ۔ بہادر ازخود سڑکوں اور جنگلوں کے راستوں پر دوڑتا رہتا۔ جیسے ہی تانگہ شکردرہ سے نکلتا، زیارت و قدم بوسی کے لئے لوگوں کا ہجوم ہو جاتا ۔ اور ہجوم کے اکثر لوگ تانگے کے ساتھ دوڑتے رہتے۔ باباصاحبﺭﺿ
شہر کا گشت کرتے ، کسی کسی جگہ گاڑی رکوا کر لوگوں سے ملاقات کرتے تھے۔ ہر جگہ رکنے میں کوئی رمز پوشیدہ ہوتا تھا۔ اکثر دور سے آئے ہوئے لوگ جو باباصاحب
ﺭﺿ
سے ملاقات کے متمنی ہوتے تھے اور ملاقات کاموقع حاصل نہیں ہو پاتا تھا، بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
ان سے ملتے تھے۔ ایسا بھی ہوتا کہ کہیں رک کر مصیبت زدوں اور پریشان حالوں کو تسلی دیتے۔
بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
پیدل جنگل کا رخ کرتے تو لوگ کھانا اور چائے لے کر ساتھ جاتے۔ باباصاحب
ﺭﺿ
اکثر دوپہر کا کھانا جنگل میں کھاتے تھے۔ کبھی خود طلب کرتے اور کبھی وقت ہونے پرلوگ پیش کرتے۔ ہر شخص اپنا توشے دان کھول کر بڑے دادا تاج الاولیاء کے سامنے پیش کرتا۔ بڑے دادا تاج الاولیاء کسی توشے دان میں سے کچھ کھالیتے اور باقی کھانا زائرین میں تقسیم ہو جاتا۔
دال ، چاول ، مچھلی آپ کی مرغوب غذا تھی ۔ اس سلسلہ میں آپ کبھی کبھی یہ شعر پڑھتے
دال چاول پیٹر کا پھول
یہ نہ کھایا تو مٹی دھول ۔
شروع میںآپ مدراسی ناس استعمال فرماتے تھے بعد میں اس عاد ت کو ترک کر دیا بیٹری آپ شوق سے پیتے تھے۔ گلاب جامن،مونگ پھلی اور چنے شوق سے نوش فرماتے تھے۔
جنگل میںکئی کئی دن قیام رہتا ۔ کبھی کسی گاﺅںمیں چلے جاتے اور کبھی گاﺅں سے باہرہی رہتے ۔ لوگ جنگل میںبھی بڑے دادا تاج الاولیاء کے ساتھ مقیم رہتے۔ دربار تاج الاولیائﺭﺿ
کے آداب میں یہ بات شامل تھی کہ کوئی بغیر اجازت واپس نہیںجاتا تھا۔ بعض لوگوں کو ملاقات کے بعد ہی جانے کی اجازت مل جاتی اور بعض ہفتوںوہاں رہتے ۔ حاضرین دربار موسم کی سختیاںاور مسافرت کے دن برداشت کرتے لیکن جانے کانام نہیںلیتے تھے۔ اپور
حضرت فرید خان صاحب فضﺭﺿ
فرماتے ہیں۔ حضور ﺭﺿ
جن دنوں واکی شریف کے جنگل میںقیام فرماتھے۔ میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ بنگلہ میں تشریف فرماتھے ۔ میں دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ دو قوال اپنا کلام سنا رہے تھے اور سرکار سکون سے سن رہے تھے۔ اس مصرع کی تکرار جاری تھی ۔ ? بھر بھر جام پلادے ساقی ? قوال معمولی سا تھا مگر قوالی کیفیات غیر معمولی تھیں مجھ پر خاص اثر تھا میں نے اپنے دل میںکہا ? بابا
ﺭﺿ
کا میخانہ تمام دنیا پر کھلا ہوا ہے۔ ساری دنیا فیضیاب ہو رہی ہے۔ کاش مجھے بھی کوئی جام عطا ہوتا۔ یہ خیال میرے دل میں آنا تھا۔ کہ سرکار نے خادم کو حکم فرمایا
? ایک گلاس پانی دو ?۔
خادم نے پانی کا گلاس حاضرکیاآپ نے ایک دو گھونٹ پی کر گلاس میری طرف بڑھایا میں گلاس لینے کو بڑھا مگر دل میں کہا ?جذب نہیں سلوک چاہتا ہوں آپ نے ہاتھ واپس کھینچ لیا۔ اور خود پینے لگے ۔ میںنے شرمندہ ہوکر پھر دل میںجام طلب کیا آپ نے گلاس پھر میری طرف بڑھا دیا۔ لیکن میںنے وہی دل میں کہا ?جذب نہیںسلوک ? پھر آپ نے ہاتھ کھینچ لیا۔ اسی طرح تیسری مرتبہ گلاس میری طرف بڑھایا مگر بدقسمتی نے میرا ساتھ نہ چھوڑا وہ خیال سوار رہا یہ خیال آتے ہی حضور
ﺭﺿ
نے گلاس کو زمین پر زور سے دے مارا ۔ قوالوں کو ڈانٹا ، ڈھولک کے ٹھوکر ماری اور جذبی کیفیت میں جنگل کی طرف نکل گئے اور مجھ پر وہ مثل صادق آئی۔
تہی دستانِ قسمت راچہ سو داز رہبر کامل
کہ خضر از آبِ حیواں تشنہ سی آر و سکندرا
حضر ت نظام الدین محبوب الہٰی ﺭﺿ
فوائد الفواد کے صفحہ نمبر ۷۲۱ میں فرماتے ہیں ?سماع مرد کے واسطے کسوٹی ہے۔ اور ایک جگہ مصنف حضرت امیر علاءسنجری نے لکھا ہے کہ ایک حاضری میں ، میں نے حضرت محبوب الہٰی
ﺭﺿ
سے عرض کیا۔ یہ دل شکستہ خود اپنے کام میں حیران ہے کہ طاعت اور درد جیسے کہ چاہیںمجھ سے نہیںہو سکتے اور ادمشغولی درویشاں کا کیاذکرہے۔
لیکن جب راگ سنتا ہوں۔ رقت ور احت تمام حاصل ہوتی ہے اور مخدوم کے سر کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس وقت دل ہوائے نفس ِدنیا اور اہل دنیا سے فارغ و خالی ہوجاتا ہے اور کچھ خبر نہیں رہتی۔
سرکار محبوب الہٰی ﺭﺿ
نے دوبارہ دریافت فرمایا۔ ? کیادل علائق دنیوی سے خالی ہو جاتا ہے۔ میںنے عرض کیا ۔ہاں۔ آپ نے یہ سن کرارشاد فرمایا ?سماع دو قسم پر منقسم ہے۔ ہاجم اور غیر ہاجم ، ہاجم اس کو کہتے ہیں کہ اول سماع میںہجوم ہو،مثلاًآوازخوش یا کوئی بیت دلکش سے جنبش آوے۔ اس حال کو ہاجم کہتے ہیں اور اس کی شرح نہیں ہو سکتی۔
غیر ہاجم یہ ہے کہ جب سماع اثر کرے اور وجد آئے ۔ اس شعر وغیرہ کو جس سے وجدہو کسی جگہ پر تحمیل کرے ۔ حضرت حق کے اوصاف پر یا اپنے پیر کے اخلاق حمیدہ پر۔
سرکارِمحبوب الہٰی نے دولفظوں میں سماع کی تعریف فرماد ی ہے۔ کہ سماع مرد کی کسوٹی ہے۔
اپور
حضور ﺭﺿ
سماع کا شوق رکھتے تھے ۔ خوش الحانی آپ کو مطبوع تھی ۔ بزم میلاد حکماً منعقد ہوا کرتی تھیں۔ قوالوں اور گانے والوں کوسرکار حاضری کا موقعہ دیتے ۔ اس طرح ان کی دل دہی اور پرورش ہوتی۔ آپ
ﺭﺿ
جب شہر سے باہر جنگل میں نکل جاتے تو مجمع کیساتھ قوال بھی پیچھے اپنا کلام سناتے چلتے ۔ آپﺭﺿ
کے ساتھ بچے بوڑھے، جوان ،اور عورتیں بھی ہوتیں۔
ایک روز بارش ہورہی تھی۔ مجمع ساتھ تھا۔ آپ ایک جنگل میں چل رہے تھے اور سب سے آگے تھے قوال کچھ دور تھے یہ کلام پڑھ رہے تھے۔
آدمی پہلے محبت میں بگڑے تو بنے
جب ملے خاک میںدانہ تو شگوفہ نکلے
حضور یہ شعر سن کر پلٹے اور رک کر فرمایا۔
?ہو! حضرت ۔جیسے ہم بگڑے ?
ایک مرتبہ اسی طرح قوال مندرجہ ذیل شعر پڑھ رہا تھا۔
عشق کیا شے ہے کسی کامل سے پوچھا چاہئے
کس طرح جاتا ہے دل بے دل سے پوچھا چاہئے
چونکہ کبھی کبھی آپ مزا ح بھی فرماتے تھے ۔ اس لئے مندرجہ بالا ءشعر کے جواب میں آ پ نے فرمایا؛
?یوں پڑھو۔ کس طرح جاتا ہے دل مرچوں سے پوچھا جائے۔?
کبھی کبھی آپ خود یہ بول پڑھتے ؛
? بڑھیا ہو گئی لڑکپن چھوڑ دے ?
ایک مرتبہ قوالی ہو رہی تھی ایک شخص کیفیت کی حالت بنا کر ہو حق کرتا ہوا مجمع سے نکلا اور حضورﺭﺿ
کے قدموں میں گرا۔ حضورﺭﺿ
نے فرمایا؛
? حضرت بخار چڑھانا اچھا نہیںہوتا ?
اس نے ادب سے عرض کیا؛
? حضور ﺭﺿ
کی قدمبوسی اس بہانے سے کرنی تھی۔ ?
ایک موقعہ پر ایک صاحب نے عرض کیا ۔ بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
حال کس طرح آتا ہے؟ وہ صاحب ٹوپی پہنے ہوئے تھے ۔ آپ نے ان کی ترکی ٹوپی اتار کر زمین پر الٹ کر رکھ دی ۔جیسے ہی ٹوپی رکھی ۔ وہ بھی الٹ گئے ۔ خوب اچھلے ، کودے لوٹ پوٹ ہوتے رہے۔
جب سرکار نے ٹوپی سیدھی کی وہ فوراً سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ۔ سرکار نے فرمایا ۔
?سمجھ گئے حال کیسے آتا ہے۔ اپور
جوتے کی تاثیر
ایک صاحب ہنگن گھاٹ میں ملے انہوں نے کہاکہ ایک مر تبہ کا واقعہ ہے کہ ہم لوگ سر کار بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کی خد مت میں حاضر ہوئے۔ سر کار کے پاس ایک اور صاحب جو ڑی جو تہ لا ئے۔ سر کار بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
نے پہن کر ایک میری طرف پھینک دیا اور دوسرا دوسرے کی طرف پھینک دیا۔ اب صاحب ! اس جو تے سے بڑا کام چلتا ہے،کیسا ہی آسیب ہو یا کسی پر جن کا اثر ہو،بس میں جانتا ہوں،دو چار جو تے رسید کئے ،جن صاحب کا کو سوں پتہ نہیں رہ سکتا ہے۔
سبحان اللہ! بزرگوں کے جو تو ںمیں کیا اثر ہے؟ اپور
اپنے آخر ی لمحات میں بڑے دادا تاج الاولیاء قبلہ ﺭﺿ
نے مہارا جہ راگھوجی راﺅ بھونسلے سے فر ما یا تھا۔ میرابستر تیرے گھر سے لا کھوں برس تک نہیں اٹھ سکتا۔اس لئے را جہ صاحب کے محل میں حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کا چلہ شریف ہے۔جہاں آج بھی وہی سماں نظر آتا ہے۔ جو بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کی حیات میں تھا۔ یہاں زائرین اور متعقدین کی بڑی خد مت کی جا تی ہے۔
|
|
|