|
آپ کا نام سید محمد تاج الدینﺭﺿ
اور پیار سے چراغ دین کہلاتے تھے۔ عرف عام میں باباتاج الدینﺭﺿ
کہلائے ۔ایسے تو بڑے دادا (یعنی بابا تاج الدینﺭﺿ
) کے ہزار سے بھی زیادہ نام ہیں لیکن اس سمند میں سے ایک قطرہ پیس کرنے جررت کی ہے۔ آپ کےچند القاب یہ ہیں۔
-
تاج الاولیاء
-
تاج ملت و الدین
-
تاج الدین
-
تاج محی الدین
-
تاج معین الدین
-
تاج العارفین
-
تاج الملوک
-
سراج السالکین
-
شہنشا ہ ہفت اقلیم ۔
شہنشاہ ہفت اقلیم بڑے دادا تاج الاولیاء کا ایسا لقب ہے جو تشریح و توضیح کا طلب ہے۔ ا س کی مختصر تشریح یو ں ہے کہ تمام عالم کو اللہ تعالیٰ کے نظامِ تکوین میں سات حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ جو سات ( ہفت ) اقلیم کہلاتے ہیں ۔ چنانچہ باعث ِ تکوین کائنات حضور ِ اکرم ﷺ کا وہ نائب جس کے انتظام و اختیار میں ساتوں اقلیم ہوتے ہیں۔ شہنشاہ ِ ہفت اقلیم کہلاتا ہے۔
سراجِ السالکین بڑے دادا تاج الاولیاء کے اس لقب مبارک کا مطلب و تشریح یوں ہے کہ چراغ راہ چلنے والوں کے۔
تاجِ العارفین بڑے دادا تاج الاولیاء کے اس لقب مبارک کا مطلب و تشریح یوں ہے کہ تاج اللہ شناسوں کے۔
اپور
امام حسن عسکری کے
پوتے
ایک روز ارشاد ہوا کہ سوانح حیات قلمبند کرنے کے سلسلہ میں بڑے دادا تاج الاولیاء کے نسب کی ہم کو تصدیق مطلوب تھی ۔ خود بڑے دادا تاج الاولیاء نے ہم سے فرمایا کہ
?میں امام حسن عسکری کا پوتا ہوں?
اپور
ایک روز ارشاد ہو ا کہ حضور بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کے حالات میں ایک کتاب ، ?تاج قطبی ?شائع ہوئی تھی۔ اس میں مصنف نے آپ کا نسب صدیقی لکھا تھا ۔ جب یہ کتاب حضور
ﺭﺿ
کو پیش کی گئی تو آپ نے اس کتاب کو ہاتھ میں لیتے ہی ازراہ کشف فرمایا کہ۔
?اس کتاب میں میرا نسب غلط لکھا گیا ہے، میں صدیقی نہیں امام عسکریﺭﺿ
کا پوتا ہوں ?
سرکار تاج الاولیاءنے تاج قطبی دیکھ کر فرمایا تھا کہ ہم حضرت امام حسن عسکری ﺭﺿ
کی اولاد ہیں۔ حضور ﷺکی زبان مبارک سے حضرت امام ﺭﺿ
کا نام نامی سن کر مریدین کو سرکار کے مکمل نسب نامہ کی تلاش ہوئی ۔ حضرت مولانا عبد الکریم شاہ صاحب تاجی المعروف بابا محمد یوسف شاہ صاحب
ﺭﺿ
نے مثنوی اسرار ِ تاج میں اشارةً یہ ثابت کرنے کی سعی کی ہے کہ حضرت امام حسن عسکری ﺭﺿ
کے پوتے سید عبد اللہ شاہ صاحب
ﺭﺿ
عرب سے مدراس تشریف لائے تھے لیکن یہ بات قادری کو مطمین نہیں کر پاتی تھی ۔ چنانچہ تلاش جاری رہی ۔
حسام الدین صاحب ﺭﺿ
نے تذکرہ تاج الاولیاءشائع کیا ۔ اس میں سرکار کا نسب نامہ نظر سے گزرا اس کے بعد بھی کوشش جاری رکھی چنانچہ اس کوشش کے نتیجے میں سرکار والا نے کرم فرمایا اور میں نے در محبوب الہٰی کی طرف رجوع ہو کر خواجہ حسن ثانی نظامی کی خدمت میں ایک عریضہ پیش کیا اس کا جواب مجھے ٦٦/۰۱/۷۲ کو ملا ۔ اس کی روشنی میں سلسلہءحسب ذکر تاج میں شائع کیا ۔ اور جناب حسام الدین صاحب
ﺭﺿ
کا شائع شدہ نسب نامہ بھی شائع کر دیا۔
اپور
نسب نامہ سرکار تاج الاولیاء
-
حضرت سید محمد بابا تاج الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ
-
حضرت سید بدرالدین شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ
-
حضرت سید حیدر شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ
-
حضرت سید علی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ
-
حضرت سید عبد القادر شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ
-
حضرت سید محی الدین سیاہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ
-
حضرت سید جمال احمد شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ
-
حضرت سید نصیر الدین شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ
-
حضرت سید کمال الدین شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ
-
حضرت سید عماد الدین شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ
-
حضرت سید علاﺅ الدین شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ
-
حضرت سید بہاﺅالدین نقشبندی رحمتہ اللہ علیہ
-
حضرت سید عبد اللہ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ
-
حضرت سید جلال الدین بخاری رحمتہ اللہ علیہ
-
حضرت سید کمال الدین بخاری رحمتہ اللہ علیہ
-
حضرت سید حسین لقب بہ محبوب رحمتہ اللہ علیہ
-
حضرت سید حسین اکبر صاحب رحمة اللہ علیہ
-
حضرت سید عبد اللہ شاہ صاحب رحمة اللہ علیہ
-
حضرت سید فخر الدین شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ
-
حضرت سید محمود رومی بن بلاق رحمتہ اللہ علیہ
-
حضرت سید حسین محمد تقی صاحب رحمتہ اللہ علیہ
-
حضرت سید عبد اللہ شاہ صاحب رحمة اللہ علیہ
-
حضرت سید محمد جامع شاہ صاحب رحمة اللہ علیہ
-
حضرت سید علی اکبر شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ
-
حضرت سید امام حسن عسکری رضی اللہ عنہ
-
حضرت سید امام علی تقی رضی اللہ عنہ
-
حضرت سید امام موسیٰ رضی اللہ عنہ
-
حضرت سید امام موسیٰ کاظم رضی اللہ عنہ
-
حضرت سید امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ
-
حضرت سید امام محمد باقر رضی اللہ عنہ
-
حضرت سید امام زین العابدین رضی اللہ عنہ
-
حضرت سید امام حسین علیہ السلام
-
حضرت سید علی مرتضیٰ مشکل کشا کرم اللہ وجہ عنہ ،
-
سید سرکارِ دوعالم احمد مجتبٰی محمد مصطفےٰ ﷺ
اپور
حسن عسکری ﺭﺿ
کی اولاد میں فضیل مہدی عبد اللہ عرب ، ہندوستان تشریف لائے اور جنوبی ہند کے ساحلی علاقے کولار مدر اس میں قیام کیا۔ حضرت فضیل مہدی عبد اللہ کے دو صاحبزادے حسن مہدی جلال الدین اور حسن مہدی رکن الدین سفر میں ان کے ساتھ تھے۔ بابا تاج الدینﺭﺿ ﺭﺿ ﺭﺿ
حسن مہدی جلال الدین کی اولاد میں سے ہیں۔
یہاں آپ کے اجداد میں کئی صاحب ِ کرامت بزرگ گزرے۔ اس لئے آپﺭﺿ ﺭﺿ
کا خاندان پیر زادگان کو لارکے نام سے مشہورہوا۔ اس زمانہ کے صاحب ِ اقتدار بادشاہ نے آپ کے بزرگوں کی درگاہوں کے لئے جاگیریںبھی نذر کیں ۔ یہاں پر ایک درگاہ سیدانی بی اماں صاحبہ
ﺭﺿ
کی بہت مشہورہے آپ کی سونے کی تربت ہے اور پانی کا چراغ جلتا ہے نمبر بے اپنی جاگیر سے دست بردار ہو کر فوج میں ملازم ہو کر صوبیدار میجر ہو کر ریٹائر ہوئے آپ پدک صوبیدار کے نام سے مشہور تھے ۔ آپ کے صاحبزادے خواجہ سید علی صاحب نے بھی فوج میں ملازمت کی اور صوبیدار رہے۔ آپ کے صاحبزادے سید حیدر شاہ صاحب تھے ۔ اور ایک صاحبزادی سیدانی اماں صاحبہ
ﺭﺿ
تھیں ۔ سیدانی اماں صاحبہ ﺭﺿ
کی مخقہ واقعہ بھی پیش کرنا بے جا نہ ہو گا۔ آپ کے والد بزرگوار کسی سرکاری کام سے دورہ پر گئے ہوئے تھے۔ اسی دوران سیدانی اماں صاحبہﺭﺿ
کا انتقال ہو گیا چونکہ محترمہ کے والد صاحب کے فوری پہنچنے کا امکان نہ تھا اس لیے آپ کی تدفین کر دی گئی۔ لیکن اس خیال سے کہ والد صاحب نے آخری بار چہرہ مبارک نہیں دیکھا تین روز کے لئے میت زمین کے سپرد کی گئی ۔ تدفین کے بعد جب لوگ واپس ہونے لگے تو ان میں سے بعض حضرات نے قبر کی جانب پلٹ کر دیکھا تو قبر پر پھولو ں کی تعداد بڑھتی ہوئی نظر آئی۔ اور جب چالیس قدم جا کر سب فاتحہ کے لئے رکے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ قبر پر پھولوں کا چبوترہ سا بن گیا ہے۔ تدفین کے دوسرے روز ان کے والد صاحب دورہ سے تشریف لائے اور ان کے اصرار پر تیسرے روز دیدار کے لئے قبر مبارک کھولی گئی تو قبر کے اندر بھی پھول موجود تھے انہیں ہٹاکر چہرہ مبارک دکھایا گیا ۔ تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے آپ آرام فرما رہی ہیں ۔ آپ کی پیشانی مبارک پر پسینہ کے قطرہ بھی موجود تھے اور قبر مبارک خوشبو سے معطر تھی ۔ آپ کا مزار مبارک بلاری میں مرجع خلائق ہے۔
حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء کے دادا بزرگوار حضرت سید حیدر شاہ صاحب ﺭﺿ
بسلسلہ ملازمت کا مٹی (ناگپور) جو سابق صوبہ سی ۔ پی میں واقع ہے تشریف لائے اور یہیں سکونت اختیار کر لی۔ آپ نے اپنے صاحبزادہ سید بدر الدین شاہ صاحب کی شادی حضرت سید میراں شاہ صاحب صوبیدار میجر پلٹن نمبر ۲۳ کی صاحبزادی مریم بی صاحبہ
ﺭﺿ
سے کی۔ ننھیالی عزیزوں میں آپ کی خالہ امیر بی صاحبہ ﺭﺿ
کے صرف ایک صاحبزادہ عبدالجبار صاحب
ﺭﺿ
تھے جو سرکار کے وصال کے بعد درگاہ حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کے سجادہ نشین مقر ر کئے گئے ۔ یہ حضرت تا حیات دربار کے پائیں میں بیٹھے تھے۔
اپور
تاج الاولیاءحضرت بابا تاج الدین ناگپوری ﺭﺿ
کی والدہ ماجدہ نے حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کی پیدائش سے قبل ایک خواب دیکھا جس میں آپ کی ولادت کی بشارت دی گئی تھی انھوں نے دیکھا کہ ایک وسیع وسبط میدان ہے اس میدان میں ہزاروں شہر آباد ہیں اور مخلوق خدا
بے حدو حساب ہے جس میں ہر مذہب و ملت کے لوگ آباد ہیں سردی کا موسم ہے چاند کی چودھویں تاریخ ہے اور چاند خوب چمک رہا ہے۔ ہر شخص چاندنی کے حسن سے سرشار اور
پر کیف ہے۔ حضرت تاج الاولیائﺭﺿ
کی والدہ ماجدہ نے دیکھا کہ چاند آسمان سے ٹوٹا اور ان کی گود میں اتر آیا۔ اسی سال آپ کی ولادت باسعادت عمل میں آئی۔
اپور
حضرت بابا سید محمد تاج الدین بمقام کامٹی ، محلہ گورے بازار اپنے مکان میں ۷۲ جنوری ۱٦۸۱ئ مطابق ۵۱ رجب المرجب ۷۷۲۱ ھ بروزدوشنبہ کو یہ سعادت سعید تولد ہوئے۔ آپ نے پیدائش کے وقت ہی اپنی کرامت سب پر ظاہر کی عام بچوں کی طرح پیداہوتے ہی نہیں روئے۔ بلکہ آنکھ بھی بند رکھی۔ جس کی وجہ سے آپ کے عزیزوں کو خیال ہو اکہ شاید بچہ بےجان پیدا ہوا ہے۔ لیکن تجربہ کار خواتین نے نبض دیکھی تو وہ جاری تھی ۔ اس لئے اس وقت کے رواج کے مطابق تانبے کے پیسے کو گرم کر کے آپ کی پریشانی پر داغا گیا۔ تب آپ نے آنکھیں کھولیں۔ ا ور بجائے رونے کے سب کی جانب مسکر اکر دیکھا۔ حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کے نانا حضور فرماتے تھے کہ بڑے دادا تاج الاولیاء کی والدہ محترمہ جب پیدا ہوئی تھیں ان کی بھی یہی کیفیت تھی۔ ان کو ٹوٹکے کے طور پر گھوڑے پر ڈالا گیا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے سانس لی اور آنکھیں کھولی تھیں۔ اس لئے ان کا نام مریم بی بی عرفیت گھوڑن بی بی رکھا گیا تھا۔
اپور
حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کے نہ کوئی حقیقی بھائی تھے نہ بہن آ پ اپنے والدین کے اکلوتے فرزند تھے ۔ جب آپ کی عمر ایک سال کی ہوئی تو والد بزرگوار جو رنگون کے سفر پر تھے انتقال ہو گیا ۔ چنانچہ آپ کی والدہ محترمہ عدت گزارنے کے بعد اپنے والد بزرگوار سید میراں شاہ صاحبﺭﺿ
کے گھر چلی گئیں ۔ نانا حضور کے گھر حضرت بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کی پرورش ہوتی رہی جب آپ کی عمر (۹) سال ہوئی تو والدہ محترمہ بھی عالم جاویدانی سد ھار گئیں ۔ مابعد حضرت کی نانی صاحبہ نے آپ کی پرورش و پرواخت فرمائی ۔ آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کو اپنے ابا حضور کے ذریعہ چھ سال کی عمر میں مدرسہ میں داخل کرایا۔ جہاں آپ نے حضرت مولوی اکرام الحسن صاحب اور حضرت مولوی اکرام الحق صاحب سے تعلیم حاصل کی ۔ اور عربی کے علاوہ فارسی ، اردو، انگریزی کی تعلیم بھی حاصل کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہی کامٹی کے ایک کامل بزرگ حضرت عبداللہ شاہ صاحبﺭﺿ
ایک روز آپ کے مدرسہ میں پہنچے اور معلم صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا ،
?تو انہیں کیا پڑھاتا ہے یہ تو علم لدنی کا مالک ہے ?
پھرحضر ت بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کی طرف دیکھ کر محبت سے فرمایا،? کم کھاﺅ ، کم بولو ، کم سوﺅ، اور قرآن شریف کی تلاوت کرو۔ بلکہ تلاوت کے وقت یہ سمجھو کہ تم پر قرآن کا نزول ہو رہا ہے ?اس کے بعد اپنی جھولی سے ایک چھوہارا نکالا اور اس کو چبا کر آدھا حصہ آپ کو عطا کیا ا س کے نوش فرماتے ہی حضرت باباصاحبﺭﺿ
کی حالت بدل گئی ایک خاص کیفیت میں آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ تین دن تک یہی عالم رہا۔
حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
میں عام بچوں کی طرح شوخی و شرارت کا شائبہ بھی نظر نہیں آتا تھا۔ آپ بالکل خاموش طبع واقع ہوئے تھے۔ آپ کی کسی ہم جماعت سے دوستی تھی اور نہ کھیل کود میں دلچسپی ۔ آپ کے نانا حضور نے آ پ کا یہ حال دیکھ کر دل بہلانے کیلئے آپ کو چند کبوتر خرید کر دیئے ۔ جن کی دیکھ بھال میں آپ دل بہلاتے تھے۔ جب آپ ذرا بڑے ہوئے نانا حضور ہی نے آپ کی سواری کے لئے ایک گھوڑا خرید کر دیا اس کے علاوہ حضرت باباصاحبﺭﺿ
کے پاس ایک وائلین (باجہ) تھا جو آپ کو ورثہ میں ملا تھا۔ جسے آپ کبھی کبھی بجایا کرتے ۔ زیادہ وقت آپ اپنی تعلیم اور مذہبی کتب کے پڑھنے میں گزار تے تھے۔
آپ کو شروع ہی سے تنہا ئی پسند تھی۔آپ بے حد کم گو ،سلیم الطبع اور بے حد رحم دل تھے۔ اکثر تنہائی میں آپ مو لا نا رومﺭﺿ
اور حافظ شیرازی
ﺭﺿ
کے اشعار گنگنا یا کر تے تھے۔خصوصی طور پرحافظ شیرازی کا مندر جہ ذیل شعرورد زبان رہتا تھا۔
مے خوروم، مصحف بسوز و آتش اندر کعبہ زن
ساکن بت خانہ با ش و مر دم آزادی کمن
یعنی شراب پی ، کتاب کو جلا دے ، کعبہ کو ڈھا دے ، اور بت خانہ میں بیٹھ لیکن مخلو ق خدا کو تکلیف نہ دے۔ ان پر ظلم و ستم نہ کر۔ (ان کی دل آزاری نہ کر) مخلوق خدا کی دل آزاری کا گناہ ان سب گناہوںسے زیا دہ ہے۔ حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کی عملی زندگی بالکل اس شعر کی شرح تھی۔ آپ کا حاصل زندگی یہی رہا ساری زندگی آپ نے مخلوق خدا کی خد مت کی ۔ کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ آپ نے کسی کا دل دکھا یا ہو۔ جس بچے کا بچپن میں یہ عمل رہا ہو اس کا عا لم شباب میں کیا حال ہو گا۔
حضرت باباصاحب ﺭﺿ
کے مدرسہ میں داخل ہو نے کے بعد ہی کا مٹی کے بزرگ نے پیشگوئی کر دی تھی۔ کہ یہ بچہ علم لد نی کا مالک ہے۔ ظاہر ہے کہ سر کا ر بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
نے ۳۱،۲۱ سال کی عمر میں ظاہری تعلیم کیا حاصل کی ہو گی۔ با طنی تعلیم ہی تھی کہ آ پ دینی و دنیا وی مسائل میں ہر مسئلہ کو حل کر دیتے تھے۔اس کے بعد دنیا نے بھی دیکھا کہ آپ کی خد مت میں ما در ذات ولی ہے۔ایام طفولیت ہی میں آپ بالکل تنہا ئی پسند رہے ہیں۔آپ کی گو شہ نشینی میں انوار تجلیات غیبی کا ظہور رجال الغیب سے ملا قاتیں اور بات چیت ، لہو و لعب سے بے اعتنائی اور ذکر و فکر کی محویت، یہ ساری باتیں عالم شباب کی غیر مر ئی حقیقتوں کی طرف رہنمائی کر تی تھیں۔
علم با طن:
حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوی ﺭﺿ
نے بھی ظاہری تعلیم حاصل نہیں کی تھی ایک روز آپ حضرت شیخ خواجگی
ﺭﺿ
کی خد مت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا ?میں نے علم حاصل نہیں کیا خصوصاً علم فقہہ میں مجھے بالکل درک نہیں ہے۔ اس لئے مجھے کیا کر نا چاہیئے؟?
حضرت خواجگیﺭﺿ
نے فر ما یا? تم علم با طن حاصلﺭﺿ
کر نے میں مشغول رہو کہ اس راہ میں تمام اصول فروغ ہیں اور فروع اصول ہیں۔ یہ حاصل ہوئے تو تمہارے لئے آئندہ کوئی مشکل نہ رہے گی اللہ تعالیٰ کے کرم سے آپ
ﺭﺿ
اس مر تبے پر پہنچ گئے اور دنیا نے دیکھا کہ دنیا وی تمام عالم کے ما ہر آپ کی خد مت میں حاضر ہو کر مستفیض ہو تے تھے۔
ریا ضت:
پندر ہ سال کی عمرہی میں آپ عر بی ،اردو، فارسی اور انگریزی علوم سے فارغ ہو کر سید میراں شاہ صاحب
ﺭﺿ
کے مکان سے لا پتہ ہو گئے۔ آپ کے نا نا حضور نے آپ کی بہت تلاش کی اخبارات میں اشتہارات دیئے۔ انعام مقرر کیا لیکن حضور کا کہیں بھی پتہ نہ چلا آخر تھک ہار کر اللہ کے سپر د کر کے خاموش بیٹھ گئے۔ آپ کو حضرت باباصاحب
ﺭﺿ
سے اس قدر محبت تھی کہ ان کی جدائی بر داشت نہ ہوئی اور چند سال بعد آپ کا بھی انتقال ہو گیا۔
حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
نے گھر سے نکلنے کے بعد یہ زمانہ جنگلوں میں خصوصی
ر یا ضت میں گزارا ۔ یہ مقام گونڈوانہ کہلا تا ہے۔ یہاں کے با شندوں میں جا دو گروں کی کثرت تھی۔ بلکہ وہ خطہ ہی جا دو گروں کا خطہ کہلا تا تھا۔ آپ کے وہاں قیام سے ان
با شندوں کے جا دو کے اثرات ختم ہو گئے یہی ان کا ذریعہ معاش تھا جس کی وجہ سے وہ بہت پریشان ہو گئے اور اپنے گرو ہ سے آکر اپنے کا روبار کے نہ چلنے کی شکا یت کی۔ گر و ہ نے ان کے حالات سن کرا نہیں بتا یا کہ ہمارے علا قہ میں ایک بزرگ آیا ہے۔ اور وہ الٹا لٹک کر ریا ضت کر رہا ہے۔ جب تک اس کا قیام ہمارے علا قہ میں رہے گا ہمارے جا دو بے اثر رہیں گے۔ یہ سن کر ان لو گوں نے حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
پر ہی جا دو کر نا شروع کیا تا کہ وہ یہاں سے چلے جائیں۔ جب فرداًفرداً جا دو کا حضرت پر کوئی اثر نہ ہوا تو انہوں نے ایک پنچایت مقرر کی اور ایک دن مقرر کر کے اجتماعی حیثیت سے جا دو شروع کیا۔ اللہ کے کرم سے اس کا بھی کوئی اثر نہ ہوا۔ بلکہ یہ اجتماعی جا دو کا الٹا اثر انہیں لو گوں پر ہوا۔ کوئی ہاتھ سے، کوئی پیر سے، کوئی بینائی سے ،کوئی زبان سے، بیکار ہو گیا تب تو وہ سب بے حد پریشان ہوئے اور ان سب کو اللہ تعالیٰ نے اب یہ سمجھ عطا کی کہ یہ تو بہت بڑے ولی اللہ معلوم ہو تے ہیں۔اس لئے کہ ہمارے اجتماعی جا دو کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوا۔بلکہ الٹا ہم لوگوں کو نقصان پہنچا۔ چنانچہ یہ سب لوگ حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کی خد مت میں اس درخت کے پاس پہنچے جہاں سر کار تاج الا ولیاءالٹے لٹک کر ریا ضت کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ جیسے ہی یہ تمام لوگ جن میں وہ مندور جنہیں جا دو کر نے کی سزا ملی تھی شا مل تھے۔ درخت کے پاس پہنچے تو تمام اپنی اصلی حالت میں آگئے (یعنی سب تندرست ہو گئے) اور سب قد م بوس ہو گئے چونکہ سر کار اس وقت بھی ریا ضت الہٰی میں مصروف تھے۔ اس لئے یہ لوگ واپس آگئے۔ لیکن اپنے دو آدمیوں کی ڈیوٹی لگا دی کہ یہ لوگ حضور کی خد مت میں حاضر رہیں ۔ جیسے ہی سر کار درخت سے نیچے آئیں گے۔ اس کی اطلاع پورے قبیلہ کو کر دیں گے۔ تا کہ سب لوگ حاضر ہو کر سر کار سے اپنے کئے کی معافی طلب کریں۔ اور سر کار کی امکانی خد مت کریں۔
سر کار مستقل دوسال تک اسی طرح ریاضت الہٰی میں مشغول رہے۔ دوسال بعد جب آپ درخت سے نیچے تشریف لائے تو ان دو حضرات نے جن کی با ری باری ڈیوٹی ہو تی تھی۔ فوراً جا کر اپنے قبیلے کے لو گوں کو اطلاع دی ۔ قبیلہ کے تمام لوگ جن میں عورتیں بچے،بوڑھے،جوان سب شامل تھے۔ جن کی تعداد تقریباً ڈیڑھ لاکھ تھی۔
وقفہ وقفہ سے اسی طرح تین حاضر خد مت ہوئے اور سر کار سے معافی کے خواستگار ہوئے ۔ حضور نے ان سب کو دعاﺅں کے ساتھ معاف کیا۔ یہ تمام لوگ بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کے دست حق پر مشرف بہ اسلام ہوئے اور بیعت حاصل کی۔ اور چنددنوں تک سر کار کی بے حد خدمت کی۔ یہ لوگ سی ۔پی کے علا قہ میں گونڈ کہلا تے ہیں۔ ثعلب مصری اور جنگل کی جڑی بوٹیاں بھی فروخت کر تے ہیں۔ اس زمانہ میں ان لوگوں سے جب دریافت کیا جا تا تھا کہ تمہارے مر شد کون ہیں تو وہ سر کار تاج اا و لیاءکا اسم گرامی بتا تے تھے۔
اپور
جب آپ کا مٹی تشریف لا ئے تو آپ کی عمر شریف ۷۱ سترہ سال ہو چکی تھی۔نا نا حضور تو آپ کے غم میں انتقال فر ما چکے تھے۔ آپ کے ما موں سید عبدالرحمن صاحب آپ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔آپ کا حال تو کچھ ایسا ہو گیا تھا (یاد الہٰی میں) کہ آپ بالکل تنہائی پسند ہوگئے تھے۔اکثر بے معنی الفاظ استعمال کر تے تھے۔
اسی دوران ۹۷۸۱ءمیں کنہان ندی میں پانی بڑھ جا نے سے کا مٹی میں سیلاب آگیا اور تقریباً آدھی آبادی تباہی کی چپےٹ میں آگئی۔بہت سے مکان بہہ گئے۔اس میں بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کے نا نا کا مکان بھی تھا۔ یہ طغیانی سید عبدالرحمن صاحب کا تمام اثاثہ بھی بہا لے گئی۔جس کی وجہ سے عبدالرحمن صاحب بے حد پریشان ہو گئے۔سر کار نے انہیں تسلی دی اور مشورہ دیا کہ ہم دونوں ملا ز مت کر لیتے ہیں۔انشاءاللہ سب بہتر ہو جائیگا۔اورآپنے ان کیلئے دعا کی انہیں محکمہ جنگلات میں داروغہ کے عہدہ پر ملا ز مت مل گئی۔اس وقت بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کی عمر ۸۱ سال تھی۔ان کے ما موں صاحب نے انہیں فوج میں بھر تی ہو نے کی صلاح دی مگر نا نی کی محبت آڑے آئی اور آ پ فوج میں جا تے جا تے رک گئے۔دو سال تک آپ مزید ملازمت سے دور رہے۔
اپور
لیکن ۱۸۸۱ءمیں جب آپ کی عمر ۰۲ سال تھی آپ فوج میں بھر تی ہوگئے۔ اس کیلئے آپ نے بڑی مشکل سے نا نی صاحبہ کو راضی کیا۔ آ پ کا اونچا قد،مضبوط جسم اور عمدہ صحت فوج میں بھر تی ہو نے کیلئے معاون ثابت ہوئی۔
حضرت بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
۱۸۸۱ءمیں ناگپور کی رجمنٹ نمبر ۸میں نا ئک مقرر ہوئے جو مدراسی پلٹن کہلا تی تھی۔ دوران ملا ز مت بھی آپ کے شغل واشغال (ریا ضت الہٰی) میں فرق نہیںآیا۔ ڈیوٹی کے اوقات کے بعد آپ کو عبادت الہٰی ہی میں مصروف دیکھا گیا۔ اور رات میںبلند آواز سے حافظ شیرازی
ﺭﺿ
اور مو لا نا روم ﺭﺿ
کے اشعار بھی پڑھتے سنا گیا ۔ آپ کے افسران آپ کی سادہ زندگی اور راست گوئی کی وجہ سے بے حد مہربان تھے۔
ایک امریکی افسر مسٹر بنیس کو بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
نے قر آن شریف کی تعلیم دی۔یہیں ایک دوسرے فوجی افسرمسٹر ولیم نے بڑے دادا تاج الاولیاء سے روحانی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں وہ کلکتہ چلے گئے۔ اور بقیہ زندگی ایک قبرستان میں گزار دی۔ فوج کے ساتھ بڑے دادا تاج الاولیاء نے کئی ممالک کا سفر کیا۔
آپ نمازکے اس قدر پابند تھے کہ نماز کے مقابلہ میں کسی چیز کی پر واہ نہیں کر تے تھے۔ فوج کی ملاز مت کے دوران بھی باباصاحب
ﺭﺿ
ہمیشہ نماز اور ریاضت میں پابندی کر تے تھے۔ اور اس میں کبھی نا غہ نہیںہو نے دیتے تھے۔ ان کی روز مرہ کی زندگی میں ایک نظم تھا۔
کئی سال آپنے کا مٹی میں گزار ے تین سال بعد آپ کی رجمنٹ کے دو حصے کر دیئے گئے۔ ایک حصہ کا مٹی میں رہا اور دوسرا حصہ سا گر چھاﺅنی روانہ کر دیا گیا۔ ساگر والے حصہ میں آپ بھی شامل کر لئے گئے یہ ۴۸۸۱ءمیں ہوا۔ آپ نے اپنی نا نی صاحبہ اور دیگر عزیزوں کی رہائش کا انتظام کیا اور سا گر (سی۔پی) روانہ ہو گئے یہاں بھی آپ کی عبادت ریاضت،شغل و اشغال اسی طرح جاری رہے۔ ملا ز مت سے چھٹی لیکر ایک مر تبہ آپ نا نی صاحبہ
ﺭﺿ
کی خد مت میں بھی تشریف لائے تھے۔ چند روز قیام فر ما کر واپس تشریف لے گئے۔ اب حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
کی عبادت و ریاضت اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔
تاج الدین بابا ﺭﺿ
فوج میں بھر تی ہو نے کے بعد سا گر ڈ پومیں تعینات کئے گئے تھے۔ رات کے ۹ بجے گنتی سے فارغ ہو کر بابا داﺅد مکی
ﺭﺿ
کے مزار پر تشریف لے جا تے ۔ وہاں صبح تک مراقبہ اور مشاہدہ میں مصروف رہتے اور صبح سویرے پریڈ کے وقت ڈپو میں پہنچ جا تے یہ مشغلہ پورے ۲ دو سال تک جاری رہا۔ دو سال بعد بھی ہفتہ میں ایک دو بار ان کے یہاں حاضری ضرور دیا کر تے تھے۔ جب تک سا گر میں رہے اس معمول میں فرق نہیں آیا۔
کا مٹی میں بابا تاج الدینﺭﺿ
کی نا نی کو جب اس بات کی خبر ملی کہ نواسہ راتوں کو غائب رہتا ہے تو خیال آیا کہ شاید آپ بری صحبتوں کا شکار ہو کر بے راہ رو ہو گئے ہیں۔ یہ سوچ کر
نا نی صاحبہ نے اس خبر کو سچ پا یا کہ نواسہ رات کو کہیں جا تا ہے۔ ایک رات کہیں با ہر رہ کر صبح بڑے دادا تاج الاولیاء گھر آئے تو نا نی نے ناشتہ سامنے رکھا۔ بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ بھوک نہیں ہے۔ اس جواب سے نا نی مزید فکر مند ہوئیں اور پکا ارادہ کر لیا کہ رات کو نواسے کا تعاقب کر کے دیکھیں گیں کہ وہ کہاں جا تا ہے۔
رات کو جب بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
ویرانے کی طرف روانہ ہوئے ،نا نی بھی نظر بچا کر چپکے چپکے پیچھے ہولیں۔ دیکھا کہ نوا سہ ایک مزار کے اندر داخل ہوا۔ چند ے انتظار کے بعد اندر جا کر دیکھا تو بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
ذکر و فکر میں مشغول تھے۔ نواسے کو عبادت و ریاضت میں حددرجہ مستغرق دیکھ کر نا نی صاحبہﺭﺿ
کے دل کا بوجھ اتر گیا۔ انہوں نے بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کو بہت دعائیں دیں اور خاموشی سے واپس چلی آئیں۔
بابا صا حب ﺭﺿ
صبح کو نا نی کے پاس آئے تو ان کے ہا توں میں چھوٹے چھوٹے پتھر تھے۔نانی صاحبہﺭﺿ
نے ناشتہ پیش کیا تو بابا صا حب نے پتھر دیکھاتے ہوئے کہا:
?نانی !میں تو یہ لڈو پیڑے کھاتا ہوں?
یہ کہہ کر بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
نے پتھر وں کو یوں کھا نا شروع کیا جیسے کوئی مٹھائی کھا تا ہے۔
نو اسے کی یہ کیفیت دیکھ کر نا نی کو کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی۔
اپور
جو خد شات لیکر آئی تھیں۔ اس کے بر عکس پا یا۔حضور بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
نے نا نی صاحبہ
ﺭﺿ
کو اطمینان دلا یا ۔چنانچہ وہ حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء ﺭﺿ
کو اللہ کے سپرد کر کے کا مٹی روانہ ہو گئیں۔ حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء
ﺭﺿ
ملا ز مت کے اوقات کے بعد جو بھی موقعہ ملتا اپنے شیخ کی خدمت اور رات کو حضرت داﺅد مکی
ﺭﺿ
کے مزار مبارک پر گزار تے ۔ ایک عرصہ کے بعد ایک مبارک رات آپ کے پاس مقبولیت کا پیغام لیکر آئی اس وقت آپ ذکر سے گذر کر مذکور سے مشرف ہوئے۔
اللہ اللہ بانگ ہست دیا صدا بے مسمیٰ اسم کے با شدرد!!
اسم میجوئی مسمیٰ رانجو !! بے مسمیٰ اسم کے با شد نکو
(مو لینا روم ﺭﺿ
)
اور غیب سے آواز آئی؛
،?مانگ کیا مانگتا ہے ?
یہ آواز یں کئی بار سنیں ۔اس کے جواب میں آپنے فر ما یا:
?اے خدا ، اے میرے اللہ ! تجھ سے تجھی کو |