|
مریم بی اماں کی پیدائش ہندوستان کے قصبہ کا جلیشور تعلقہ مرتضیٰ پورضلع اکولہ میں۸ا اپریل
١٨٨٥ء مطابق ۲ رجب المرجب
١٣٠٢ھ بروز شنبہ کو با سعاد ت سعید تولد ہوئی ان کے تین بھائی اور ایک بہن تھی۔ والد کا نا م عزیزالدین اور والدہ کا نام عا ئشہ بی بی تھا۔ مریم بی نے قدرے قرآن کی تعلیم حا صل کی تھی۔لیکن ذوق عبادت وریاضت خوب پایا تھا۔ان کا اکثر وقت غوروفکراور خلو ت نشینی میں گزرتا تھا۔شادی کے بعد گھریلو مصروفیات اور ذمہ داریوں کے با وجودان معمو لات میں کوئی فرق نہیں پڑا۔آپ شادی کے بعد بہت تھوڑے دن اپنے سسرال رہنے پائی تھیںکہ ان کے بھائی جناب قطب الدین صاحب نے اپنے گھر لا رکھا۔ مریم بی کا خا ندان ایک فقیر دوست خا ندان تھا۔ درویشوں اور فقیروں کی خدمت میں حا ضری دینا ، ان کی خدمت کرنا اس خاندان کے لوگوں کا شیوہ تھا۔
اپور
یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب مریم بی کے بھائی غلام محی الدین صاحب کامٹی میں ملازمت کر رہے تھے اور مریم بی بھیان دنوں کامٹی میں ان کے ساتھ رہٍتی تھیں۔جناب غلام محی الدین صاحب کو پتہ چلا کہ کامٹی میں ایک صاحب کمال اور روشن ضمیر بزرگ وارد ہوئے ہیں۔ان بزرگ میں درویشی اور فقیری کے اوصاف دیکھ کر ایک دن غلام محی الدین صاحب نے بزرگ سے درخواست کی :?حضرت کیاہی اچھاہو اگر آپ ہمارے گھرچند دنوں مہمان رہ کر غریب خا نہ کو رونق بخشیںاور ہمیںاپنی کا موقع فراہم کریں۔ہم اسے اپنی خوش بختی تصور کریں گے۔?
بزرگ نے درخواست قبول کر لی۔ایک دن جب گھر کے سب لوگ بزرگ کی خدمت میںحا ضر ہوئے تو انہوں نے مریم بی کی والدہ یعنی عائشہ بی بی سے مخاطب ہو کر کہا:
?بی بی اﷲ تعالے نے تمہیں دو لعل عطا کےے ہیں۔ اور یہ ان میں سے ایک ہے۔?
بزرگ کا اشارہ مریم بی کی طرف تھا۔
اپور
ان بزرگ نے مریم بی کو مخاطب کیا:
?بیٹی !آفتاب ولایت ناگپور کے افق سے ضیاءپاشی کر رہا ہے۔جاﺅ اور اپنی روح اور جسم کو اس سے منور کر لو۔ناگپور کا پاگل خا نہ اس وقت شہنشاہ ہفت اقلیم بابا تاج الدین کا پایہ تخت ہے۔ان کی خدمت
میں جاﺅ ممشیت نے تمہاری قسمت میںبڑے دادا تاج الاولیاء کا فیض لکھا ہے?۔
مریم بی فور ناگپور کے پاگل خانے میںحاضرہو ئیںجہاںان دنوںبابا تاج الدین رہتے تھے۔مریم بی جیسے ہی وہاں پہنچیں،بڑے دادا تاج الاولیاء اٹھ کھڑے ہوئے۔اور ان کے قریب آکر کہا۔
?میںتیرا مدت سے اتنظار کر رہا تھا?۔
یہ کہ کر بڑے دادا تاج الاولیاء نے مریم بی کے دونوں ہاتھوں کی چوڑیاں توڑڈالیں۔
? روزانہ آیاکر ?۔
اپور
محترمہ مریم بی نے حضرت بڑے دادا تاج الاولیاء کی ہدایات پر اس طر ح عمل کیا کہ روزانہ پاگل خانے آتیں اور پھا ٹک کے باہر ایک مخصوص جگہ پر کھڑے ہو کر بابا صا حب کی طرف متوجہ رہتیں ۔رفتہ رفتہ اس شغل
میں اتنی محویت اور استغراق پیدا ہوا کہ کھانے پینے اور کپڑوں کا ہوش تک جانے لگا۔
ایک سال گزرگیا۔اس دوران بابا تاج الدین ﺭﺿ
پاگل خانے سے شکردرہ اور پھر ایک ماہ بعد واکی تشریف لے گئے۔مریم بی بھی وا کی تشریف لے گئیں اور قصبہ پاٹن ساﺅرنگی میں قیام کیا۔یہاںبھی وہ ہرروز حضور بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کی خدمت میںحاضر ہوتیںجوان پر نہایت شفقت ومحبت کی نظر رکھتے تھے یہ زمانہ بھی تقر یبا ایک سال پرمحیط ہے مستقل دو سال کی ریاضت کے بعد ایک روز باباتاج الدین
ﺭﺿ
مریم بی کو لیکر کہنان ندی کے اطراف میں پہنچے اور ایک ویران او ر بے آباد جگہ جو جنگلی جانوروں کی گزرگا ہ تھی،وہاں پہنچ کر رک گئے اور مریم بی کو حکم دیا۔
?یہاںبیٹھ جا اور بلا ا جا زت نہ اٹھنا?۔
یہ سننا تھا کہ دل میںکسی قسم کی جھجک،خو ف یا ڈر لائے بغیر مریم صاحبہ وہا ں بیٹھ گئیں اور سامان خوردونوش تک کے متعلق نہ سوچا۔ مریم صاحبہ کو وہاں چھو ڑکر بابا تاج الدین
ﺭﺿ
واپس چلے آئے۔
اپور
اس واقعہ کو ایک ہفتہ گز رگیا۔باباصاحبﺭﺿ
کے خدام اور عقیدت مند اس دوران سخت حیران وپریشان ر ہے کیوں کہ باباصاحبﺭﺿ
نے ایک ہفتہ مطلق نہ کچھ کھایا نہ پیا۔ ایک ہفتے بعد باباصاحبﺭﺿ
باہر تشریف لائے اور بلند آواز سے پکا رنا شروع کیا۔
?لچھن واکوڑیا الچھن واکوڑیا?
آپ کی آوازپر ایک کسان واکوڑیا نامی حاضر ہواحضور نے اسے حکم دیا تیرے کھیت کے قریب ایک اما ں رہتی ہیں۔انہیں روٹی لے جاکردے اور ان کی خدمت کیا کر مجاہدہ پر غور فرمائیے خطر ناک جنگل میں بٹھا یا اور پھر ایک ہفتہ کے بعد خبرلی۔
و اکو ڑیا نے فوراََ کھا ناتیارکرو ایااور ساتھ ے کراماں صا حبہ کی تلاش میں نکلا۔کانی دیر تلاش کے بعد اس نے جھاڑیوں کے جھنڈ میں اماں صاحبہ کو چادر اوڑھے لیٹے پایا۔اس نے کئی آواز یں دیں لیکن اماں مریم صاحبہ کے جسم میں کوئی جنبش نہیںہوئی اور وہ بدستور آنکھیں بند کئے چادر اوڑھے لیٹی رہیں۔آخر میں واکوڑیا نے کہا:
?میں بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
کے حکم پر آپ کے لئے کھانالا یاہوں?۔
مریم اماںصاحبہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھیں ، نہایت تعظیم سے کھانالیا اور بڑی مشکل سے تھوڑا ساکھایا۔ لوگ کہتے ہیں کہ جس وقت واکوڑیا کھانا لے کر اماں صاحبہ کی تلاش میں گیا ہے اس کے کافی دیر بعدبڑے دادا تاج الاولیاء نے کھانا منگوایا اور ایک ہفتے کے بعد پہلا لقمہ منہ میں ڈالا۔واکوڑیا فورقریبی نالے سے پانی لے آیا۔اماں صاحبہ جب کھانے سے فارغ ہو ئیںتو واکوڑیانے اماں صاحبہﺭﺿ
سے دست بستہ عرض کی۔
? حضورﺭﺿ
کا حکم ہے کہ میں آپ کی خد مت کروں لہذا یہ مقام خطرناک ہے آپ میری باڑی میں چلیںوہاں آپ کے لے? جھو نپڑا بنا دیتا ہوں۔?
یہ اصرار شدید اماں صاحبہ نے قبول فرمایا اور واکوڑیا کے کھےت میں تشریف لے گے
اپور
مریم اماں صاحبہ فر ماتی تھیں کہ:
? میری برسو ں کی ریاضت کو حضور نے ازراہ عناےت وشفقت دنو ںمیں طے کرایاکیونکہ عورت ذات اور دبلی پتلی تھیں۔اس لئے حضور نے میرے حال پر خاص رحمت کی نظر رکھی۔ اور جلد ہی مجھ پر باب ولایت کھول دیا اور اپنی قر بت میں رہنے کے لئے ارشاد فرمایا۔
اپور
چراغ الدین سے دوسرا چراغ روشن
مریم اماںصاحبہ کے لئے ایک جگہ مقرر کر دی گی? اور واکی شریف میں ایک چراغ سے دوسرا چراغ روشن ہو گیا۔تاج الاولیا?بابا تاج الدینﺭﺿ
کے فےض کی تقسےم اب مریم اماں صاحبہ کے ذرےعے بھی ہونے لگی۔بڑے دادا تاج الاولیاء ہزاروں کی تعداد
میںلوگو ں کو اماں صاحبہ کے پاس جانے کا حکم دیتے اور لوگ ان کے دربار سے بامراد لوٹتے۔ حاضرین نے یہ بات محسوس کے کی کہ جو بات حضرت بابا تاج الدین
ﺭﺿ
اپنی نشست گاہ پر فر ماتے اس با ت کا اظہار اماں صاحبہ اپنی قیام گاہ پر کر دےتی تھیں۔یہاںکبھی کبھی حضور بڑے دادا تاج الاولیاء قبلہ
ﺭﺿ
بھی تشریف لے آتے تھے۔اور اماں صاحبہﺭﺿ
کو اپنے ہمراہ لیکر گھو منے جآیا کرتے تھے گھوم کر جب آپ اپنے ڈےرے کی طرف واپس ہوتے تو اماں صاحبہﺭﺿ
اپنے مقام پر ٹھہر جاتےں۔
اماں صاحبہﺭﺿ
پر بابا تاج الدینﺭﺿ
کی نظر عناےت
باباتاج الدین ا ماںمریم صاحبہ پر جو نظرعنا یت ر کھتے تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگآیا جا سکتاہے کہ بڑے دادا تاج الاولیاء نے تنبیہ کر دی تھی کہ ان کے پاس حاضری دےنے سے پہلے اماںصاحبہ کی خدمت
میں حاضری دی جئے۔لوگوں نے اکثر دیکھا کہ دروےش اور فقرا?جو دربار تاج الاولیا?میں بڑے دادا تاج الاولیاء کے دیدار کے لئے حاضرہوئے ان سے بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
اس وقت تک نہ ملے جب تک انہوں نے اماں صاحبہ کے ہاں حاضری نہ دی۔لوگوںنے یہ بات بھی مشاہدہ کی کہ باباصاحب مریم اماں صاحبہ کی کسی بات کو رد
نہیںفرماتے تھے۔حضور جب واکی شریف سے شکردرہ تشریف لئے تو اماںصاحبہﺭﺿ
کو بھی ساتھ لے آئے۔آپ سے بھی بے شمار کرامات ظہور میں آئےں۔
اپور
اسم مبارک اور خطابات
بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
اماںصاحبہ کو احتراماًاپنی والدہ کے نام پر مریم بی کہ کر پکارتے تھے اور فرمایا کہ:
? وہ تو مےری ماںہے۔?
زمانہ ریاضت میں بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
نے اماں صاحبہ کا نام? بھائی عبدالرحیم? رکھا تھا اور بعد میں گاہے بگاہے اسی نام سے آوازدیتے تھے۔سرکار تاج الاولیا?نے اماں صاحبہ کو مندرجہ ذیل خطابات سے بھی نوازا۔میراآفتاب عبدالرحےم میرا ماہتاب عبدالرحےم ۔سرکار تاج الاولیا اماں صاحبہ کے لئے فرماتے ہیں:
?دیکھو جی میرے عبدالرحےم کو سارا مےخانہ پی کر بھی ھل من مزےدھل من مزید کہتاہے اور باہوش ہے۔
اپور
ایک روزسرکار بڑے دادا تاج الاولیاءﺭﺿ
اماں صاحبہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا:
?یہ لو تمہاری کنگھی اور یہ تمہاری کنجی?
حضور یہ فرماکر لوٹے ہی تھے کہ آپ اپنی حقےقت کی طرف رجوع ہوگئیں۔اور ۲۷
شوال ١٣٣٧ھ مطابق
۲۵ جولائی
١٩١٩ ء بروز جمعہ کو شکردرہ میں آپ کا وصال ہوا۔سسرکار باباصاحبﺭﺿ
کے حکم سے آپ کا جنازہ مبارک کامٹی روانہ ہوا اور یہاں گاڑھے گھاٹ پرآپ کی تدفین ہوئی۔اِّنالِلِّہ ِواّنااِلیہ راجعون۔جس وقت آپ کا وصال ہوااس وقت آپ کی عمر مبارک تقریباَہجری کے مطابق ۳۵سال ۳مہینے، ۲۵دن تھی اور انگریزی کے مطابق ۳۴سال ،۳مہینے اور سات دن تھی۔
اپور
ےوم وصال پر شا ندارعرس ہوتا ہے۔عرس کا انتظام تاج آباد شریف سے ہوتاہے۔ ایک بار چہلم کے بعد قوالی شروع ہؤی تو آپ کی قبر
شریف وجد میں تھی اور لوگ یہ گمان کر رہے تھے کہ قبر شق ہو جا ئے گی۔حضرت بابا ےو سف شاہﺭﺿ
فرماتے تھے کہ اماں صاحبہ کی فا تحہ کا اہتمام حسب الحکم بڑے دادا تاج الاولیاء ایک بار ہماری نگرانی
میں ہوا۔یہ پہلا عرس ہوا۔مخلو ق بکثرت موجود تھی۔محفل سماع گرم تھی قوال یہ کہہ رہے تھے:
?پھر کیوں نہ میںاترؤں سکھی مےری چندریا صابر نے رنگی ہے?
دفعتاًاماں صاحبہ کا مزار وجد میں آیا۔مجمع پر خوف،ہراس ،حےرت اور تعجب طاری ہوا۔ہم نے حکم
دیا کہ مزار شریف کہ چاروں طرف چادر سے پردہ کیا جئے اور بڑے دادا تاج الاولیاء کا عطیہ ایک جبہ ہمارے پاس تھا وہ مزار شریف پر ڈال دیاتو وہ کیفیت رفع ہو ی یہ واقعہ مشہور ہے خواص وعام میں۔
آپ کی کرامتیں
اپور
سید ضیا?الحق صاحب بیان کر تے ہیں کہ میں سی پی میں سب ا نسپکٹر تھا۔ بڑے دادا تاج الاولیاء کے دربارمیں حاضر ہوتا تھاتو اماں صاحبہ کی زیارت سے بھی مشرف ہوتا تھا۔پہلی مرتبہ اماں صاحبہ کے یہاں حاضر ہوا تو دیکھا کہ اماںصاحبہ دو شالہ پہنے ہوے پھولوںکے ہار گلے میں ڈالے بےٹھی تھیں۔میرے ساتھ عبدالعزےز عرف نانا
میں تھے۔ اماں صاحبہ نے
ایک ہار ان کو دیاانھوں نے ادب سے چوما گلے سے لگآیا۔رومال میں لپیٹ کر جیب میں رکھا،دوسراہار اماں صاحبہ نے مجھے عنایت کیا۔میں نے اس کو زمین پر ڈال دیا۔باسی پھولوںکے مستعملہ ہار کی جو عزت عبدالعزےزصاحب نے کی تھی وہ بجائے خود میرے نزدیک مضحکہ خےز تھی
میں بھلا پھر ایسے ہار کی کیا عزت کرتا۔اماں صاحبہ عبدالعزےز صاحب کی خےرو عافےت دریافت کر تی رہیں۔
میں دل میںخیال کر رہا تھا کہ
ایک جوان عورت دنیاداری کی باتےں کر رہی ہے مگر لوگ ہیں کہ ٓٓاس کا ادب داحترام کر تے ہیں ولیہ سمجھتے ہیں۔ دفعتا اما ں صا حبہ نے میری طرف دیکھا میری ان کی نظریںچار ہونا تھاکہ میری آنکھوں سے آنسوﺅں کاچشمہ پھوٹ نکلا۔آنسو سے لپی ہوئی زمین پر پڑکر پھیل پھیل کر ساری زمین تر بتر ہوئی جارہی تھی ہحکپیاں بندھ گیئں،رنگ زر د ہو گیا ، جسم پر رعشہ طاری ہو گیا۔میری یہ حالات دیکھ کر عبدالعز یزصاحب نے اماں صاحبہ سے کہا یہ سب انسپکٹر پولیس ہیں آداب سے ناواقف ہیں آپ معاف فرمائیں۔اماں صاحبہ نے پھر میری طرف دیکھا آنکھیں چار ہوتے ہی آنسو خود بخود تھم گئے طبیعت بحا ل ہو گئی عبدالعزیز نے رخصت طلب کی۔اماں صاحبہ نے دعاﺅں کے ساتھ اجازت دی۔میںبھی آنے کو چلاآیا مگراب میرا جی چاہتاتھا کہ اماں صا حبہ کے قدموں سے جد انہ ہوں ۔عبدالعزیز صاحب سے معلوم ہوا کہ ا ب اماں آرام فرمائیں گیں۔کسی سے ملاقا ت نہ ہو گی شام کو بر آمد ہونںگی مگر دل نہ مانامیںجاکراماں صاحبہ کی قیام گاہ کے مو دب کھڑا ہو گیا۔دن گزر گیاشام ہونے کو آئی امان صاحبہ بر آمد ہوئیں۔آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا :
?دیوانے نہیں ہوجاتے۔
اپور
ایک دفعہ میں ملا زمت سے معطل ہوگیاسپرنٹنڈنٹ پولیس نے برخا ستگی کی تجویزکی۔ میں باباکی خدمت میں حاضرہوا۔مجمع تھا میں نے پشت پر کھڑے ہوئے عرض کیا:
?میںاپیل کر دوں?۔
فرمایا: ?ہو?۔
میں نے پھرعرض کیا: ?منظور ہو جائے گا؟?
فرمایا: ?ہو?۔
اس کے بعد میں اماں صاحبہ کی خدمت میں حاضر ہوا،بغیر کچھ سنے آپ نے بڑے دادا تاج الاولیاء کے حکم کی تشریح اس طرح بیان فرمائی۔
?ریل کے تختے کی حجت زر زر کر تے،
پچمڑی جاتے اپیل کر تے،
صاحب کی آنکھوں سے انکھیاں لڑائے کھڑے رہتے،
وہ کچھ کہنا تو نہیںمانتے،
صبح نہیں تو شام اپیل منظور ھو جاتا?۔
میں پچمڑی پہنچا انسپکٹر جزل پو لیس کے سامنے اپیل کیا۔صبح صبح پیشی ہوئی صاحب نے کہاہم کچھ نہیں کر سکتے ۔البتہ تم توجوان ہو تمھار ی ز ندگی خراب نہ ہواس خیال سے ہم یہ کرسکتے ہیں کہ تمھیں سب انسپکٹرکی بجا ئیہیڈکا نسٹبل بنادیں بتاﺅ تمہیں یہ تجویز منظور ہے۔ ?میں نے کہا نہیں ۔? صاحب بہادر نے کہاتم خود سوچو اورہمیں جواب دو۔میں نے کہاسوچ لیا۔ہرگزمنظورنہیں۔ صاحب نے جھبخھلا کر حکم سنایاکہ:اپیل نا منظور۔ مےر ے پاﺅں تلے سے زمین نکل گئی۔ بڑے دادا تاج الاولیاء اور اماں صا حبہ کو جی ہی جی میںبرابھلاکہناشروع کیا۔ دونوںنے اپیل منظور ہونے کا حکم دیاتھا۔ اماں صاحب نے صاف صاف فرمادیا تھاکہ صاحب کچھ کہتا ہے تو نہیں مانتے۔ اگر انہوں نے منع نہ کیا ہوتاتو میں ہید کانسٹبلی منظور کر لیتا۔ چند روز بعد پھر سب انسپکٹر ہو جاتا۔انہی خیالات میں پریشان غلطاں پیچاںصاحب کے کمرے سے باہر نکلا۔دوست احباب پوچھنے لگے۔ میںنے ماجرا کہہ سنآیا۔سب نے کہا تم نے برا کیا۔ صاحب کا کہنا نہ مانا۔مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔میں بیل گاڑی میں اسٹیشن پہنچا۔ٹکٹ لیا،ٹرین آی? تو میں اس میں سوار ہونے کو جگہ تلاش کر رہا تھا۔اچانک
ایک پولیس افسر نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوے کہا آپ کا نام ہے ضیا?الحق؟ میں نے کہا جی ہاں۔پولیس افسر: آپ ٹرین میں سوارنہ ہوں میرے ساتھ چلیں۔میں گھبرا گیا۔خیال ہوا کہ اب مجھ پرکوی? مقدمہ چلآیا جاے گا۔ میں نے کہا میں ٹکٹ لے چکا ہوں۔مجھے جانا ہے۔پولیس افسرنے کہا۔میں تعمیل حکم پر مجبور ہوں۔ ٹکٹ واپس ہو جاے گا۔ آپ پولیس کے ساتھ ڈاک کی لاری میں کچمپری صاحب کے پاس جا?یںگے۔مجبورا ن مجھے ٹکٹ واپس کرنا پڑا۔اور پولیس کے ساتھ روانہ ہوکر صاحب بہادر کے دفتر میںصاضر ہونا پڑا۔وہاںدفتر والے دوست احباب نے مبارکباد دی۔میںنے تفصیل پوچھی تو کہا کچھ معلوم نہیںصرف اتنا معلوم ہے کہ آپ کو بر خا ستگی کاحکم سنانے کے بعد تےن فےصلے برخاستگی کے لکھے گے? ٹا?پ ہوے دستخط میںبھیجے گئے۔مگر ہر دفعہ صاحب نے چاک کر کے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیئے۔ آخر میں حکم
دیا کہ ضیائالحق کو پیش کرو اس سے امید ہوتی ہے کہ شاید صاحب بہادر کا خیال اچھا ہو گیا ہے۔تم جاﺅ حاضر ہو جاﺅ۔اس مرتبہ ضد نہ کرنا،میں اندر گیا،سلام کیا۔صاحب بہادر نے کہا ضدی لڑکے ہم نے تم کو سب انسپکٹری پر بحال کیا جاﺅ میںسلام کر کے واپس ہوا تو شام کا وقت تھا۔اور ان الفاظ کی صداقت کا نقشہ میری آنکھوں مین پھر رہا تھاجو اماں صاحبہ نے فرمائے تھے۔
?صبح نہیں توشام اپیل منظور ہو جاتا
اپور
تاج الاولیاءکے فیض یافتہ بچے
میرے آقا مولا کے فرمان کے مطابق : ?سوا لاکھ ولی بناﺅ ں گا? ?۔ یقینا آپ نے سوا لاکھ ولی میں سے بہت سے بنا دےئے ہیںاور قیا مت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ سب کا علم تو میرے بڑے سرکار بڑے دادا ہی کو ہو گا۔ بڑے دادا نے جس پر بھی نظر ڈال دی وہ کندن ہو گیا۔چو نکہ بڑے دادا پر اوےسی نسبت غالب تھی اس لئے آج بھی یہ رنگ ونسبت ان کے بہت سے بچوں میں ہے۔وےسے ہر حاضر ہونے والے کا اپنا معاملہ تھااور ہے۔اس نے اگر دنیا چاہی اسے بھر پور دنیا ملی۔اور جس نے آخرت مانگی اس کو آخرت کا سامان ملا اور جس نے اللہ اور اس کے رسول محمدﷺکو چاہا، میرے بڑے دادا نے اسے ولی اللہ بنا دیا۔ اس کورب تک رسائی کرا دی ۔جن بزرگو ںنے بڑے دادا سے فیض حاصل کیا۔ ان مین بعض نے بغیر مرید بنائے،خلافتےںدیںاور بعض نے بغیر مرید بنائے لاکھوںکو فیض پہنچایا اور یہ سلسلہ آج تک جاری وساری ہے۔پیر اور مرید کے تعلق سے میرے بڑے دادا کایک فرمان پہلے بھی عرض کر چکا ہوںاور پھر اس بات کو دہراتاہوں:
?مرید بیعت ہونے کے بعد،تین دن کے اندر سرکار رسالت مآبﷺمیںحاضر نہ ہو تو سمجھ لے کہ مرید، مرید نہیں۔اسی سے پےر کا حال بھی سمجھ میں آجائےگا۔?
بڑے دادا کے فےض یافتہ حضرات،خواتین اور دےگر مزاہب کے افراد کے اسماءگرامی پیش کر رہا ہوں۔ان میں جن کے حالات زندگی مستند طو ر پر جس طرح بھی حاصل ہو سکے وہ بیان کئے جا رہے ہیں۔ یہ واضح کر دوں کہ ویسے توبڑے دادا کا ہر بچہ اپنی جگہ آفتاب ہے۔ لیکن جو ?سوا لاکھ ولی ?بنانے کا فرمایا ہے،جس میں سے بہت سے بنا دیئے اور باقی بنائےں گے۔ان میں سب سے زیادہ مقام،قرب اور نسبت بڑے دادا نے اماں بی بی مریم تاجی
ﺭﺿ
پھر حضرت یوسف شاہ تاجی کو عطا فرمایا ۔ بڑے دادا کی خدمت میں مادر زاد ولی بھی تھے۔دیگر سلاسل کے خلفاءبھی، خواتین بھی اور دیگر مزاہب کے افراد بھی فیض سے نوازے گئے۔یہ بڑے دادا کے اس قول کے مطابق ہے:
?طالب کو اس کی طلب کے مطابق تعلیم دیتا ہوں ?
اور یہ سلسلہ قیامت باری رہے گا۔
اپور
|